Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4287

4287 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: جَمَعَ عُمَرُ النَّاسَ فَسَأَلَهُمْ مِنْ أَيِّ يَوْمٍ يُكْتَبُ التَّارِيخُ؟ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: «مِنْ يَوْمِ هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ أَرْضَ الشِّرْكِ» فَفَعَلَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4287 - صحيح

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالی عنہ فر ماتے ہیں:حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے لوگو ں کو جمع کر کے پو چھا: تا ر یخ کس دن سے لکھی جائے؟تو حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا :جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کی اور شرک کی زمین کو چھوڑا۔ چنا نچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایسے ہی کیا۔ یہ حد یث صحیح الا سنا د ہے لیکن امام بخاری ر حمۃاللہ علیہ نے اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نےاس کو نقل نہیں کیا۔

جَمَعَ عُمَرُ النَّاسَ فَسَأَلَهُمْ مِنْ أَيِّ يَوْمٍ يُكْتَبُ التَّارِيخُ؟ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبِي رَافِعٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4287

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4288

4288 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا وَرَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ آخَى بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَلَمْ تُؤَاخِ بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ، أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» تَابَعَهُ سَالِمُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ جُمَيْعٍ بِزِيَادَةٍ فِي السِّيَاقِ

حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مد ینہ منو رہ تشر یف لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحا بہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک دو سرے کا بھا ئی بھائی بنا دیا ۔تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ روتے ہوئےحاضر با ر گاہ مصطفی ہوئے اور کہنے لگے :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے تمام صحابہرضی اللہ تعالی عنہ کے در میان مواخا ۃقا ئم فرما دی ہے لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنا یا۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے ارشا د فر مایا :اے علی رضی اللہ تعالی عنہ تو دنیا اور آخرت میں میرا بھا ئی ہے۔ یہ حد یث جمیع بن عمیر سے روا یت کر نےمیں سا لم بن ابو حفصہ نے حکیم بن جبیر کی متا بعت کی ہےاور سند میں کچھ اضافہ ہے

ابْنِ عُمَرَ ← جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ ← حكيم بن جبير ← عَلِيُّ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، ← علي بن قادم ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4288

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4289

4289 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّحْوِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ الْكَاهِلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَآخَى بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَبَيْنَ طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ، وَبَيْنَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ قَدْ آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ فَمَنْ أَخِي؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا تَرْضَى يَا عَلِيُّ أَنْ أَكُونَ أَخَاكَ؟» قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَلْدًا شُجَاعًا، فَقَالَ عَلِيٌّ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4289 - جميع بن عمير أتهم وإسحاق بن بشر الكاهلي هالك

حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ایک دسرے کا بھائی بھائی بنا دیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بھائی بنا دیا، حضرت عمرضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کا بھائی بنا دیا،حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت عبدالر حمن بن عوف کا بھائی بنا دیا، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے عر ض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے تمام صحابہ کو بھائی بھائی بنا دیا، میرا بھائی کون ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اے علی!کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہارا بھائی ’’میں‘‘ہوں؟(حضرت عبد اللہ بن عمر فر ماتے ہیں:حضرت علی بہت طا قتور اور د لیر آدمی تھے۔)حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا:جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تو دنیا اور آخرت میں میرا بھائی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ ← سَالِمُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ الْكَاهِلِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4289

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4290

4290 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، الْعَدْلُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَرْبٍ، وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو الْجُرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ الْبَصْرِيُّ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ مِنَّا إِذَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَكَانَ لَهُ بِهَا عَرِيفٌ نَزَلَ عَلَى عَرِيفِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بِهَا عَرِيفُ نَزَلَ الصُّفَّةَ، فَقَدِمْتُ فَنَزَلَتِ الصُّفَّةَ، فَكَانَ يَجْرِي عَلَيْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ يَوْمٍ مُدٌّ مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ، وَيَكْسُونَا الْخُنُفَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ صَلَاةِ النَّهَارِ، فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ أَهْلُ الصُّفَّةِ يَمِينًا وَشِمَالًا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحْرَقَ بُطُونَنَا التَّمْرُ، وَتَخَرَّقَتْ عَنَّا الْخُنُفُ، فَمَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مِنْبَرِهِ فَصَعِدَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ الشِّدَّةَ مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ حَتَّى، قَالَ: «وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ وَعَلَى صَاحِبِي بِضْعَ عَشْرَةَ وَمَا لِي وَلَهُ طَعَامٌ إِلَّا الْبَرِيرَ» قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي حَرْبٍ: وَأَيُّ شَيْءٍ الْبَرِيرُ؟ قَالَ: طَعَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرُ الْأَرَاكِ «فَقَدِمْنَا عَلَى إِخْوَانِنَا هَؤُلَاءِ مِنَ الْأَنْصَارِ وَعِظَمُ طَعَامِهِمُ التَّمْرُ فَوَاسَوْنَا فِيهِ، وَاللَّهِ لَوْ أَجِدُ لَكُمُ الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ لَأَشْبَعْتُكُمْ مِنْهُ، وَلَكِنْ عَسَى أَنْ تُدْرِكُوا زَمَانًا حَتَّى يُغْدَى عَلَى أَحَدِكُمْ بِجَفْنَةٍ وَيُرَاحُ عَلَيْهِ بِأُخْرَى» قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَحْنُ الْيَوْمَ خَيْرٌ أَمْ ذَاكَ الْيَوْمَ؟ قَالَ: «بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ، أَنْتُمُ الْيَوْمَ مُتَحَابُّونَ، وَأَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» أُرَاهُ، قَالَ: «مُتَبَاغِضُونَ» هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي سَهْلٍ الْقَطَّانِ، وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَلَى الِاخْتِصَارِ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4290 - صحيح

حضرت طلحہ بصر ی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ہم میں ایک آدمی تھا ،اس کی جان پہچا ن والا ایک آدمی مد ینہ میں رہتا تھا۔ یہ جب مد ینہ میں آتاتو اپنے اس دوست کے پا س ٹھہرتا،اور اگر وہ (گھر) نہ ہوتا تو صفہ میں آجاتا،میں بھی صفہ میں ٹھہر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے روزانہ کھجو ر یں آتیں،دو آد میوں کے لئے ایک مد ہوتا،اور ہمیں کھدر کے کپڑے پہنایا کر تے تھے ۔ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دن کی ایک نماز پڑ ھا ئی،جب آپ نے سلام پھیرا تو دائیں با ئیں سے اہل صفہ ندا ئیں دینے لگے :یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجوروں نے تو ہمارے معدے جلا دیے ہیں۔ اور ہمارے کھدر کے کپڑے بوسیدہ ہو چکے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ منبر پر تشر یف لائے اور ا للہ تعا لیٰ کی حمد وثنا ء کے بعد ان تکا لیف کا ذکر فر ما یا جو ان کے سا تھیو ں کو پیش آئی تھیں،آپ نے فر مایا :میں اور میرے سا تھیوں نے دس سے زیادہ دن ایسے گزارے ہیں کہ ہما رے پاس کھانے کے لئے بر یرکے سوا کچھ نہ تھا (داؤدابن ہند)کہتے ہیں :میں نے ابو حرب سے پو چھا:’’بریر‘‘کیا چیز ہوتی ہے انہو ں نے کہا پیلو کے در خت کے پھل ۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طعام تھا۔(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فر ما یا )پھر ہم اپنے بھا ئیوں کے پاس آئے تو ان کا کھا نا کھجور ہمیں بہت پسند آیا۔تو انہو ں نے اس میں ہما ری مدد کی۔ خدا کی قسم !تمہارے لئے میرے پاس گوشت اور روٹی ہو تی تو میں تمہیں وہ پیٹ بھر کر کھلا تا ۔ لیکن قر یب ہے کہ تم ایسا زما نہ پاؤ گے کہ تم میں سے ہر ایک بڑے پیا لے کے سا تھ نا شتہ کرے گا اور شا م کے وقت در وسرا پیا لہ حاضر ہو گا ۔ (روای)کہتے ہیں :صحا بہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم اس دن سے بہتر ہو ں گے یا آج بہتر ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر ما یا :تم آج بہتر ہو ، آج تم ایک دوسرے سے محبت کر تے ہو،اور اس دن تم ایک دو سرے کی گر د نیں مارو گے ۔(راوی کہتے ہیں)میرا خیا ل ہے کہ آپ نے یہ بھی فرما یا تھا :تم ایک دوسرے سے بغض ر کھنے لگ جاؤ گے۔نوٹ:یہ مذ کو رہ الفاظابو سہل القظان کی روا یت کی ہیں جبکہ یحیی بن یحیی کی روا یت اس سے مختصر ہے۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخا ری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا۔

طلحة البصري ← أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْجُرَشِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← أَبِي حَرْبٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، الْعَدْلُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4290

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4291

4291 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، ثنا مُجَاهِدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ أَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافَ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ إِلَى أَهْلٍ وَلَا مَالٍ، وَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي إِلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ، وَأَشَدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى ظَهْرِ طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ فِيهِ، فَمَرَّ بِي أَبُو بَكْرٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا أَسْأَلُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعْنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ عُمَرُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى مَا أَسْأَلُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعْنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآنِي، وَقَالَ: «أَبَا هُرَيْرَةَ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «الْحَقْ» وَمَضَى، فَاتَّبَعْتُهُ، وَدَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ، فَأَذِنَ لِي، فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ، فَقَالَ: «مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا اللَّبَنُ؟» قِيلَ: أَهْدَاهُ لَنَا فُلَانٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبَا هُرَيْرَةَ» فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ، قَالَ: «الْحَقْ أَهْلَ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ فَهُمْ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ، لَا يَأْوُونَ عَلَى أَهْلٍ، وَلَا عَلَى مَالٍ» إِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِمْ، وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا، وَإِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَأَصَابَ مِنْهَا، وَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا، فَسَاءَنِي ذَلِكَ، وَقُلْتُ: مَا هَذَا الْقَدَحُ بَيْنَ أَهْلِ الصُّفَّةِ وَأَنَا رَسُولُهُ إِلَيْهِمْ، فَيَأْمُرُنِي أَنْ أُدَوِّرُهُ عَلَيْهِمْ، فَمَا عَسَى أَنْ يُصِيبَنِي مِنْهُ وَقَدْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يُصِيبَنِي مِنْهُ مَا يُغْنِينِي؟ وَلَمْ يَكُنْ بُدٌّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ، وَطَاعَةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ، فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ وَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ، قَالَ: «أَبَا هِرٍّ خُذِ الْقَدَحَ فَأَعْطِهِمْ» فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ فَجَعَلْتُ أُنَاوِلُهُ الرَّجُلَ فَيَشْرَبُ حَتَّى يُرْوَى، ثُمَّ يَرُدَّهُ وَأُنَاوِلُهُ الْآخَرَ فَيَشْرَبُ حَتَّى انْتَهَيْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رُوِيَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيَّ فَتَبَسَّمَ، وَقَالَ: «يَا أَبَا هِرٍّ» ، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «اقْعُدْ فَاشْرَبْ» فَشَرِبْتُ، ثُمَّ قَالَ: «اشْرَبْ» فَشَرِبْتُ، ثُمَّ قَالَ: «اشْرَبْ» فَشَرِبْتُ، فَلَمْ أَزَلْ أَشْرَبُ وَيَقُولُ: «اشْرَبْ» حَتَّى قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا فَأَخَذَ الْقَدَحَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَسَمَّى، ثُمَّ شَرِبَ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4291 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو ہر یرہرضی اللہ تعالی عنہ فر ماتے ہیں :اہل صفہ اسلام کے مہما ن لوگ تھے،یہ ما ل و دولت اور رشتہ دار یو ں کی طرف مائل نہ تھے ۔اور اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ میں بھوک کی و جہ سے زمین پر لیٹا رہتا تھا اور بھو ک کی شدت کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر با ندھ لیتا تھا ۔ ایک دن میں اس راستے میں بیٹھ گیا جس راستے سے لو گ ( مسجد سے) با ہرنکلا کر تے تھے ۔میرے پاس سے حضرت ابو بکررضی اللہ تعالی عنہ گز رے تو میں نے ان قر آن پاک کی ایک آیت کا مطلب پو چھا ۔ میرے اس سوا ل کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ وہ مجھے اپنے سا تھ چلنے کو کہیں گے، لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا ۔ پھر حضرت عمر فا روقرضی اللہ تعالی عنہ گذ رے ،میں نے ان سے بھی قر آن کر یم کی ایک آیت کے با رے میں پو چھا ،ان سے بھی سوال کر نے کا مقصد بھی صرف یہی تھا کہ یہ مجھے اپنے سا تھ چلنے کو کہیں گے، لیکن انہو ں نے بھی ایسا نہ کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گز رےتو مجھے دیکھ کر مسکرا دئیے،اور فر ما یا:اےابو ہر یر ہ !میں نے کہا :لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے فرمایا:میرے سا تھ چلو، پھر آپ چل دئیے اور میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا،چلتے چلتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر پہنچ گئے ،میں نے اجا زت ما نگی تو مجھے بھی (اندر آنے کی) اجازت مل گئی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے د یکھاکہ ایک پیا لے میں دودھ مو جود ہے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریا فت کیا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوبتا یا گیاکہ فلا ں آدمی کی جا نب سے تحفہ آیا ہے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اے ابو ہریرہ!میں نے کہا:لبیک یا رسولاللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اہل صفہ کو بلا لاؤ،یہ اسلام کے مہمان لوگ ہیں ،یہ اہل و عیال اور مال کے پیچھے سر گرداں نہیں پھرتے ۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کوئی صد قہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(سارے کا سارا صد قہ)ان کی طرف بھیج دیا کر تے تھے۔اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں ر کھتے تھے ،اور جب کبھی آپ کے پاس کوئی ہد یہ (تحفہ)آتا تو ان کے ساتھ ساتھ خود بھی شریک ہوتے ۔(خیر) مجھے اس وقت یہ با ت بہت نا گو ار گز ری اور میں نے سوچا کہ یہ ایک پیا لہ اہل صفہ میں کیسے پورا آئے گا؟ جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ان کی طرف بھیجا گیا ہو ں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے یہ حکم بھی دیں گے کہ یہ پیا لہ ان تمام تک پہنچانا ہے۔ لگتا نہیں تھاکہ اس میں سے میرے لئے بھی کچھ بچے گا لیکن مجھے امید تھی کہ مجھے اس میں سے اتنا تو مل ہی جائے گا جو میرے لئے کافی ہو گا۔ اور اللہ تعا لیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطا عت کے سوا کوئی چا رہ بھی نہ تھا، چنا چہ میں ان کے پاس گیا اور ان کو بلا لایا۔ جب وہ سب لوگ آکر اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فر مایا: ابو ہریرہ! یہ پیا لہ پکڑو اور ان کو دو ، میں نے پکڑ لیا اور ایک ایک آدمی کو دینا شروع کیا،وہ دودھ پی پی کر سیراب ہو جا تا پھر واپس کر دیتا۔پھر میں دوسرے کو د ے د یتا وہ بھی پیٹ بھر کر پیتا (اور واپس کر دیتا )حتی کہ یہ پیا لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گیا اور وہ تمام لوگ سیر ہو چکے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا لہ پکڑ کر میرے سا منے رکھا ، پھر میری جانب سر اٹھا کر مسکرا دیے اور فر مایا :اے ابو ہریرہ !میں نے کہا : لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر ما یا : بیٹھ جاؤ،اور پیؤ،میں نے پیا ،آپصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےپھر فر ما یا :پیؤ،میں نے پھر پیا،آپصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فر ماتے رہے اور میں پیتا رہا حتی کہ میں نے کہا :اس ذات کی قسم!جس نے آپ کو حق کے سا تھ بھیجا ہے اب تو کو ئی گنجا ئش نہیں ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پیا لہ پکڑا اور اللہ تعا لیٰ کی حمد و ثناءکی اور بسم اللہ پڑھ کر پی لیا۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم ر حمۃاللہ علیہ کے معیا ر کے مطا بق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اس کو اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4291

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4292

4292 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «لَقَدْ كَانَ أَصْحَابُ الصُّفَّةِ سَبْعِينَ رَجُلًا مَا لِهُمْ أَرْدِيَةٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "، قَالَ الْحَاكِمُ: «تَأَمَّلْتُ هَذِهِ الْأَخْبَارَ الْوَارِدَةَ فِي أَهْلِ الصُّفَّةِ فَوَجَدْتُهُمْ مِنْ أَكَابِرِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَعًا وَتَوَكُّلًا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمُلَازَمَةً لِخِدْمَةِ اللَّهِ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اخْتَارَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَهُمْ مَا اخْتَارَهُ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَسْكَنَةِ، وَالْفَقْرِ، وَالتَّضَرُّعِ لِعِبَادَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَتَرْكِ الدُّنْيَا لِأَهْلِهَا، وَهُمُ الطَّائِفَةُ الْمُنْتَمِيَةُ إِلَيْهُمُ الصُّوفِيَّةُ قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ، فَمَنْ جَرَى عَلَى سُنَّتِهِمْ وَصَبْرِهِمْ عَلَى تَرْكِ الدُّنْيَا وَالْأُنْسِ بِالْفَقْرِ، وَتَرْكِ التَّعَرُّضِ لِلسُّؤَالِ فَهُمْ فِي كُلِّ عَصْرٍ بِأَهْلِ الصُّفَّةِ مُقْتَدُونَ وَعَلَى خَالِقِهِمْ مُتَوَكِّلُونَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4292 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرما تے ہیں: اصحاب صفہ ۷۰تھے ،ان کے پاس باعث زنیت کو ئی چیز نہ تھی۔یہ حدیث امام بخا ری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطا بق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ فائد ہ:امام حاکم کہتے ہیں:اہل صفہ کے متعلق واردان احا دیث میں،میں نے غور کیا تو اکا بر صحابی کرام رضی اللہ تعالی عنہ کو پر ہیز گا ر اور صرف اللہ تعا لیٰ کی ذات پر بھروسہ کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خد مت میں حاضر رہنے والا پایا،اور اللہ تعا لیٰ نے بھی ان کو وہی فقر و فاقہ ،وہی مسکنت اور عبادت الہی کے لئے گر یہ زاری عطا فر مائی اور دنیا کو اہل دنیا کے سپرد کر دینے کا وہی جذ بہ عطا فر ما یا جو اس نے اپنے پیا رے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فر مایا تھا۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جو ہر زما نہ میں صو فیا ء کہلا ئے ۔اور جو آدمی بھی ان کے طر یقہ کار پر عمل پیرا ہو کر ترک دنیا پر صبر اختیار کرے،فاقہ مستی کے ساتھ لگاؤ قائم کرے اور اہل دنیا سے سوال ترک کرے ،تو ہر زمانہ میں ایسے لوگ اہل صفہ کے پیرو کار کہلا ئیں گے اور اپنے پیدا کر نے والے پر بھروسہ کر نے والے قرار پا ئیں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العبدي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4292

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4293

4293 - وَقَدْ حَدَّثَنَا شَيْخُ التَّصَوُّفِ فِي عَصْرِهِ أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْجُرَيْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ التُّسْتَرِيَّ يَقُولُ: " لَمَّا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الدُّنْيَا سَبْعَةُ أَصْنَافٍ مِنَ النَّاسِ: الْمُلُوكُ، وَالْمُزَارِعُونَ، وَأَصْحَابُ الْمَوَاشِي، وَالتُّجَّارُ، وَالصُّنَّاعُ، وَالْأُجَرَاءُ، وَالضُّعَفَاءُ، وَالْفُقَرَاءُ لَمْ يَأْمُرْ أَحَدًا مِنْهُمْ أَنْ يَنْتَقِلَ مِمَّا هُوَ فِيهِ، وَلَكِنْ أَمَرَهُمْ بِالْعِلْمِ وَالْيَقِينِ وَالتَّقْوَى وَالتَّوَكُّلِ فِي جَمِيعِ مَا كَانُوا فِيهِ "، قَالَ سَهْلٌ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ: " وَيَنْبَغِي لِلْعَاقِلِ أَنْ يَقُولَ: مَا يَنْبَغِي لِي بَعْدَ عِلْمِي بِأَنِّي عَبْدُكَ أَنْ أَرْجُوَ وأُؤَمِّلَ غَيْرَكَ، وَلَا أَتَوَهُّمْ عَلَيْكَ إِذْ خَلَقْتَنِي وَصَوَّرْتَنِي عَبْدًا لَكَ أَنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي أَوْ تُوَلِّي أُمُورِي غَيْرَكَ " قَالَ الْحَاكِمُ: «وَقَدْ وَصَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الطَّائِفَةَ بِمَا خَصَّهُمُ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ مِنْ بَيْنِ الطَّوَائِفِ بِصِفَاتٍ فَمَنْ وُجِدَتْ فِيهِ تِلْكَ الصِّفَاتُ اسْتَحَقَّ بِهَا اسْمَ التَّصَوُّفِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4293 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رضی اللہ تعالی عنہ فر ماتے ہیں:جب اللہ تعا لیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی معبوث فر مایا :، اس وقت زما نہ میں سات قسم کے لوگ موجود تھے۔ بادشاہ،کھیتوں میں کام کر نے والے، مزارع، جانور وغیرہ پالنے والے ،تاجر ،کاریگر ، مز دور،ضعیف اور فقراء۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے کسی کو بھی اپنی موجودہ حقیقت بدلنے کا حکم نہیں دیا۔البتہ ا ن سب کو اپنی اپنی حثییت میں رہتے ہوئے علم،یقین،تقوی،اور تو کل اللہ کا حکم دیا۔تو حضرت سہل رحمۃاللہ علیہ فر ماتے ہیں:ایک عقل مند آدمی کویوں کہنا چا ہیے’’جب میں یہ جانتا ہوں کہ میں صرف تیرا بندہ ہوں تو میرے لئے یہ منا سب نہیں کہ تیرے سوا کسی اور سے امید یں لگاؤں۔اور جب تونے میری تخلیق کی ہے اور مجھے اپنا بندہ بنایا ہے تو میرے لئے یہ بھی منا سب نہیں کہ میں تیرے بارے میں وہم کروں کہ تو مجھے میرے حال پر چھوڑدے گایا تو میرے معاملات اپنے سوا کسی اور کے سپرد کرے گا۔امام حاکم کہتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے دیگر گروہوں میں اس جماعت کو جن اوصاف کے ساتھ خاص کیا ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کی وہ صفات بیان کر دی ہیں چنانچہ جس میں یہ صفات پائی جائیں گی ،اس پر تصوف کا اطلاق کرنا درست ہوگا۔

سَهْلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التُّسْتَرِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ الْجُرَيْرِيُّ، ← شَيْخُ التَّصَوُّفِ فِي عَصْرِهِ أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ، ← وقد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4293

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4294

4294 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ بْنُ السَّمَّاكِ حَقًّا بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ الزِّبْرِقَانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خِيَارُ أُمَّتِي فِيمَا أَنْبَأَنِي الْمَلَأُ الْأَعْلَى، قَوْمٌ يَضْحَكُونَ جَهْرًا فِي سَعَةِ رَحْمَةِ رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ، وَيَبْكُونَ سِرًّا مِنْ خَوْفِ شِدَّةِ عَذَابِ رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ، يَذْكُرُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ فِي الْبُيُوتِ الطَّيِّبَةِ - الْمَسَاجِدِ - وَيَدْعُونَهُ بِأَلْسِنَتِهِمْ رَغَبًا وَرَهَبًا، وَيَسْأَلُونَهُ بِأَيْدِيهِمْ خَفْضًا وَرَفْعًا، وَيُقْبِلُونَ بِقُلُوبِهِمْ عَوْدًا وَبَدْءًا، فَمُئونَتُهُمْ عَلَى النَّاسِ خَفِيفَةً، وَعَلَى أَنْفُسِهِمْ ثَقِيلَةً يَدِبُّونَ فِي الْأَرْضِ حُفَاةً عَلَى أَقْدَامِهِمْ كَدَبِيبِ النَّمْلِ، بِلَا مَرَحٍ وَلَا بَذَخٍ، يَمْشُونَ بِالسَّكِينَةِ، وَيَتَقَرَّبُونَ بِالْوَسِيلَةِ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيُقَرِّبُونَ الْقُرْبَانِ، وَيَلْبَسُونَ الْخُلْقَانِ، عَلَيْهِمْ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى شُهُودٌ حَاضِرَةٌ، وَعَيْنٌ حَافِظَةٌ يَتَوَسَّمُونَ الْعِبَادَ، وَيَتَفَكَّرُونَ فِي الْبِلَادِ أَرْوَاحُهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَقُلُوبُهُمْ فِي الْآخِرَةِ، لَيْسَ لَهُمْ هَمٌّ إِلَّا إِمَامُهُمْ أَعَدُّوا الْجِهَازَ لِقُبُورِهِمْ، وَالْجَوَازَ لِسَبِيلِهِمْ وَالِاسْتِعْدَادَ لِمُقَامِهِمْ» ، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {ذَلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ} [إبراهيم: 14] " قَالَ الْحَاكِمُ: " فَمَنْ وُفِّقَ لِاسْتِعْمَالِ هَذَا الْوَصْفِ مِنْ مُتَصَوِّفَةِ زَمَانِنَا فَطُوبَاهُ، فَهُوَ الْمُقَفِّي لِهَدْيِ مَنْ تَقَدَّمَهُ، وَالصُّوفِيَّةُ: طَائِفَةٌ مِنْ طَوَائِفِ الْمُسْلِمِينَ، فَمِنْهُمْ أَخْيَارٌ، وَمِنْهُمْ أَشْرَارٌ لَا كَمَا يَتَوَهَّمُهُ رَعَاعُ النَّاسِ وَعَوَامُّهُمْ، وَلَوْ عَلِمُوا مَحَلَّ الطَّبَقَةِ الْأُولَى مِنْهُمْ مِنَ الْإِسْلَامِ، وَقُرْبِهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَمْسَكُوا عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْوَقِيعَةِ فِيهِمْ «،» فَأَمَّا أَهْلُ الصُّفَّةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ أَسَامِيَهُمْ فِي الْأَخْبَارِ الْمَنْقُولَةِ إِلَيْنَا مُتَفَرِّقَةٌ، وَلَوْ ذَكَرْتُ كُلَّ حَدِيثٍ مِنْهَا بِحَدِيثِهِ وَسِيَاقَةَ مَتْنِهِ لَطَالَ بِهِ الْكِتَابُ، وَلَمْ يَجِئْ بَعْضُ أَسَانِيدِهَا عَلَى شَرْطِي فِي هَذَا الْكِتَابِ، فَذَكَرْتُ الْأَسَامِيَ مِنْ تِلْكَ الْأَخْبَارِ عَلَى سَبِيلِ الِاخْتِصَارِ، وَهُمْ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْفَارِسِيُّ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَأَبُو الْيَقْظَانِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ الْهُذَلِيُّ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ عَمْرِو بْنِ ثَعْلَبَةَ، وَقَدْ كَانَ الْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ تَبَنَّاهُ، فَقِيلَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيُّ، وَخَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ، وَبِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ، وَصُهَيْبُ بْنُ سِنَانِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخُو عُمَرَ، وَأَبُو كَبْشَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو مَرْثَدٍ كَنَّازُ بْنُ حُصَيْنٍ الْعَدَوِيُّ، وَصَفْوَانُ بْنُ بَيْضَاءَ، وَأَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرٍ، وَسَالِمُ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَعُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ، وَمَسْعُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الْقَارِيُّ وَعُمَيْرُ بْنُ عَوْفٍ مَوْلَى سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَعُوَيْمُ بْنُ سَاعِدَةَ، وَأَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، وَسَالِمُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ ثَابِتٍ، وَكَانَ أَحَدُ الْبَكَّائِينَ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَفِيهِ نَزَلَتْ: {وَأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا} [التوبة: 92] ، وَأَبُو الْبِشْرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو، وَخُبَيْبُ بْنُ يَسَافٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ، وَأَبُو ذَرٍّ جُنْدُبُ بْنُ جُنَادَةَ الْغِفَارِيُّ، وَعُتْبَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الْهُذَلِيُّ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِمَّنْ يَأْوِي إِلَيْهِمْ، وَيَبِيتُ مَعَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ، وَكَانَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ أَيْضًا مِمَّنْ يَأْوِي إِلَيْهِمْ وَيَبِيتُ مَعَهُمْ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ عُوَيْمِرُ بْنُ عَامِرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْجُهَنِيُّ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيُّ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيُّ، وَثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمُعَاذُ بْنُ الْحَارِثِ الْقَارِيُّ، وَالسَّائِبُ بْنُ خَلَّادٍ، وَثَابِتُ بْنُ وَدِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ، قَالَ الْحَاكِمُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " عَلَّقْتُ هَذِهِ الْأَسَامِيَ مِنْ أَخْبَارٍ كَثِيرَةٍ مُتَفَرِّقَةٍ فِيهَا ذِكْرُ أَهْلِ الصُّفَّةِ وَالنَّازِلِينَ مَعَهُمُ الْمَسْجِدَ، فَمِنْهُمْ مَنْ تَقَدَّمَتْ هِجْرَتُهُ مِثْلُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَسَلْمَانُ، وَبِلَالٌ، وَصُهَيْبٌ، وَالْمِقْدَادُ، وَغَيْرُهُمْ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأَخَّرَتُ هِجْرَتُهُ فَسَكَنَ الْمَسْجِدَ فِي جُمْلَةِ أَهْلِ الصُّفَّةِ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَسْلَمَ عَامَ الْفَتْحِ، ثُمَّ وَرَدَ مَعَهُ وَقَعَدَ فِي أَهْلِ الصُّفَّةِ إِذْ لَمْ يأوِ بِالْمَدِينَةِ إِلَى أَهْلٍ وَلَا مَالٍ وَلَا يُعَدُّ فِي الْمُهَاجِرِينَ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ» وَإِنَّ مِمَّا أَرْجُو مِنْ فَضْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ كُلَّ مَنْ جَرَى عَلَى سُنَّتِهِمْ فِي التَّوَكُّلِ وَالْفَقْرِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَنَّهُ مِنْهُمْ، وَمِمَّنْ يُحْشَرُ مَعَهُمْ، وَإِنَّ كُلَّ مَنْ أَحَبَّهُمْ، وَإِنْ كَانَ يَرْجِعُ إِلَى دُنْيَا وَثَرْوَةٍ فَمَرْجُوٌّ لَهُ ذَلِكَ أَيْضًا لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ قَوْمًا حُشِرَ مَعَهُمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4294 - هذا حديث عجيب منكر

حضرت عیا ض بن سلیمان رضی اللہ تعالی عنہ فر ماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فر مایا: فر شتوں نے مجھے بتا یا ہے کہ اس کے مطا بق میری امت میں بہتر ین لوگ وہ ہیں جو لوگوں کے سا منے اللہ تعا لیٰ کی رحمت و سعت پر خوش ہو تے ہیں اور تنہائی میں اپنے رب کے عذاب کی شد ت کے خوف سے روتے ہیں ، صبح و شام پا کیزہ گھر وں(یعنی) مسا جد میں اللہ تعا لیٰ کو یا د کر تے ہیں۔اپنی زبا نو ں کے ساتھ رغبت اور خوف سے اس کو پکا رتے ہیں، اٹھتے۔بیٹھتے اس کی بارگاہ میں دست دعا دراز کر تے ہیں،ابتداءو انتہاء میں اپنے دلوں کے ساتھ اسی کی طرف متوجہ رہتے ہیں، وہ لوگوں پر بوجھ نہیں بنتے،بلکہ وہ اپنا بوجھ اپنے اوپر ہی ڈال کر رکھتے ہیں۔ زمین پر چھو ٹی چھو ٹی چیو نٹیوں کی طر ح عا جز ی اور انکساری کے ساتھ ننگے پاؤں چلتے ہیں،اطمنان کے ساتھ چلتے ہیں،وسیلہ کے ساتھ اللہ تعا لیٰ کا قر ب تلاش کر تے ہیں۔قر آن کر یم کی تلا وت کر تے ہیں قر با نی پیش کر تے ہیں۔بوسیدہ کپڑے پہنتے ہیں،اللہ تعا لیٰ کی طرف سے ان پر (ملائکہ)نگہبان حاضر رہتے ہیں اور وہ حفا ظت کر نے والی نگا ہوں میں ہو تے ہیں۔وہ اپنی فراست سے بندوں کو پہچان لیتے ہیں۔اور بلاد میں غورو فکر کر تے ہیں،ان کی ارواح دنیا میں ہوتی ہیں مگر ان کے دل آخرت (کی یاد)میں ہوتے ہیں۔ان کی خوا ہش صرف یہ ہو تی ہے کہ اپنی قبروں کے لئے سامان تیار کر لیں،اپنے راستے کی تیا ری کر لیں،اور اپنے آپ کو(اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) کھڑ ے ہونے لے لئے تیار کر لیں۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑ ھی’’یہ اس کیلئے ہے جو میرے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کاحکم سنایا ہے اس سے خوف کرے‘‘(تر جمہ کنز الایمان،امام احمد رضا) امام حاکم کہتے ہیں:ہمارے زمانے کے جن متصوفہ(تصوف کے دعو ید اروں)کا ان اوصاف پر عمل ہے،ان کو خو شخبری ہو کیو نکہ وہ گز شتہ(اہل صفہ)کے حقیقی پیرو کار ہیں ’’اور صوفیاء‘‘مسلما نوں کی ایک جما عت کا نام ہے،ان میں اچھے بھی ہیں اور برے بھی،اور اصل بات وہ نہیں ہے جو عوام الناس سمجھتے ہیں۔ اگر پہلے طبقے کے اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی با رگا ہ میں ان کے قر یب کا لوگوں کو پتہ چل جائے تو ان کے متعلق عیب جوئی سے باز آجائیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جو اہل صفہ تھے،ان کے اسمائے گرامی متعدد الگ الگ احادیث کے ذریعے پہنچے ہیں۔ اگر میں وہ تمام احا د یث بیان کر وں اور ان سب کے الگ الگ متن تحریر کروں تو یہ کتاب بہت طویل ہو جائے گی،مز ید برآں یہ کہ ان میں سے بعض کی سند ہماری اس کتاب کے معیا ر کے مطا بق نہیں ہے۔ چنا نچہ ان تمام احا دیث میں سے (اصحا ب صفہ کے) نام مختصر ا ذکر کر رہا ہوں۔حضرت ابو عبد اللہ فارسی رضی اللہ تعالی عنہ۔ حضرت ابو عبیدہ عامر بن عبد اللہ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابو الیقظان عما ر بن یاسررضی اللہ تعالی عنہ ۔حضرت عبداللہ بن مسعود الہذلی رضی اللہ تعالی عنہ۔حضرت مقداد بن عمرو بن ثعلبہ ر ضی اللہ تعالی عنہ(اسود بن یغوث نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹابنا یا تھا،اس وجہ سے ان کو مقدادبن الاسود الکند ی بھی کہا جاتا ہے)۔ حضرت خباب بن الارت رضی اللہ تعالی عنہ۔حضرت بلال بن رہاح ر ضی اللہ تعالی عنہ۔حضرت صہیب بن سنان بن عتبہ بن غز وانرضی اللہ تعالی عنہ۔حضرت زید بن خطاب(آپ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے بھائی ہیں۔ رسول اللہ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو کبثہ رضی اللہ تعالی عنہ۔ حضرت ابو مر ثد کناز بن حصین العدی رضی اللہ تعالی عنہ۔حضرت صفوان بن بیضاءرضی اللہ تعالی عنہ۔ حضرت عبس بن جبر رضی اللہ تعالی عنہ۔ حضرت ابو حذ یفہ بن عتبہ بن ربیعہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم رضی اللہ تعالی عنہ۔ حضرت مسطح بن اثاثہ بن عبادبن عبد المطلب۔حضرت عکا ثہ بن محصن الا سدی ۔ حضرت مسعود بن ربیع القاری رضی اللہ تعالی عنہ۔حضرت سہیل بن عمرو کے آزاد کردہ غلام حضرت عمیر بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ۔ حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ تعالی عنہ۔ حضرت ابو لبابہ بن عبدالمنذررضی اللہ تعالی عنہ۔حضرت سالم بن عمیر ثابت (یہ آہ و بکا کر نے والے صحا بہ میں سے تھے اور انہی کے متعلق یہ آیت نازل ہو ئی تھی ’’ان کی آنکھوں سے آنسو ابلتے ہوں اس غم سے کہ خرچ کا مقدرونہ پایا‘‘(تر جمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا) حضرت ابوالبشر کعب بن عمرو۔ حضرت خبیب بن یساف ر ضی اللہ تعالی عنہ۔حضرت عبداللہ بن ا نیس۔حضرت ابوذر جندب بن جنادہ الغفاری۔حضرت عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ عمو ما ان کے پاس رہتے اور رات بھی ا نہی کے پاس گزارتے تھے ،یو نہی حضرت حذیفہ بن یمان ،رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابوالدرداء عو یمر بن عا مر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عبد اللہ بن زید الجہنیرضی اللہ تعالی عنہ ،حضرت حجاج بن عمر اسلمی،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کر دہ غلام حضرت ثوبان، حضرت معاذ بن حارث القا ریرضی اللہ تعالی عنہ، حضرت سا ئب بن خلا د ثابت بن دو یعہ بھی ان کے پاس آکر ٹھر تے تھے اور رات بھی یہیں گزاراکرتے تھے۔ امام حاکم کہتے ہیں:میں نے یہ مذ کورہ بالا اسماء گرامی متفق احادیث سے اکٹھے کئے ہیں جن میں اہل صفہ اور ان کے ہمراہ مسجد میں ٹھرانے والوں کے نام مو جود ہیں ان میں کچھ ایسے ہیں جنہوں نے پہلے ہجرت کی مثلا حضرت عمار بن یاسررضی اللہ تعالی عنہ،حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ،حضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت مقدادو غیرہ اہم ہیں۔اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جنہو ں نے بعد میں ہجرت کی اور وہ اہل صفہ کے ہمراہ مسجد میں ٹھرے۔ان میں کچھ وہ بھی ہیں جو فتح مکہ والے سال اسلام لائے ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی مد ینہ آکر اہل صفہ میں شریک ہو گئے ۔ کیو نکہ یہ لوگ مد ینہ میں اپنے رشتہ داروں اور اپنے مال کی طرف کچھ دھیا ن نہ دیتے تھے اور ان کا شمار مہا جر ین میں بھی نہیں ہو تا کیو نکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایاہے :فتح مکہ بعد ہجرت نہیں البتہ جہا د اور نیت باقی ہے اور نے شک ہم اللہ تعا لیٰ کے فضل و کرم سے یہ امید رکھتے ہیں کہ قیا مت تک جو آدمی بھی ان کے راستے پر چلے ، توکل اور فقر اختیار کرے گا وہ انہی میں سے شمار ہو گا۔ اور انہی کے ہمراہ ان کا حشر ہو گا۔اور بے شک جو آدمی ان سے محبت کرے گا وہ اگر چہ د نیا اور اس کی دولت کا امید وار ہی کیوں نہ ہواس کیلئے بھی یہی امید رکھتے ہیں کیو نکہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فر مایا:جوآدمی جس قوم سے محبت کرے گا اس کا حشر اسی قوم کے ہمراہ ہو گا۔

عِيَاضِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ← مَكْحُولٌ ← حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ الزِّبْرِقَانُ، ← أَبُو عَمْرِو عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ بْنُ السَّمَّاكِ حَقًّا بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4294

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4295

4295 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " مَا كَانَ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أُنْزِلَ بِالْمَدِينَةِ، وَمَا كَانَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ فَبِمَكَّةَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4295 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فر ماتے ہیں :جن آیات میں’’ یا ایھا الذین آمنو ‘‘(کے الفاظ ہیں)وہ مکہ میں نازل ہو ئیں اور جن میں’’ یایھاالناس ‘‘ کے الفاظ ہیں ،وہ مکہ میں نازل ہوئیں

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِيهِ ← وَكِيعٌ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4295

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4296

4296 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ وَكِيعٌ، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «قَرَأْنَا الْمُفَصَّلَ حِينًا، وَحَجَجْنَا بِمَكَّةَ لَيْسَ فِيهَا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4296 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں:ہم نے مکہ میں حج کے دوران اور اس کے علاوہ مختلف اوقات میں قرآن کر یم کی آخری سات سو ر تیں پڑ ھی ہیں ،ان میں کہیں بھی یا ایھا الذین آمنواکے الفاظ نہیں ہیں ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اورامام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ وَكِيعٌ، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4296

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4297

4297 - مَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَا: " رَأَتْ عَاتِكَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِيمَا يَرَى النَّائِمُ قَبْلَ مَقْدَمِ ضَمْضَمَ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ عَلَى قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ بِثَلَاثِ لَيَالٍ رُؤْيَا، فَأَصْبَحَتْ عَاتِكَةُ فَأَعْظَمَتْهَا، فَبَعَثَتْ إِلَى أَخِيهَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَتْ لَهُ: يَا أَخِي، لَقَدْ رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا أَفْزَعَتْنِي لَيَدْخُلَنَّ عَلَى قَوْمِكَ مِنْهَا شَرٌّ وَبَلَاءٌ، فَقَالَ: وَمَا هِيَ؟ فَقَالَتْ: رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ أَنَّ رَجُلًا أَقْبَلَ عَلَى بَعِيرٍ لَهُ فَوَقَفَ بِالْأَبْطَحِ، فَقَالَ: انْفِرُوا يَا آلَ غَدْرٍ لِمَصَارِعِكُمْ فِي ثَلَاثٍ، فَأَرَى النَّاسَ اجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ أُرَى بَعِيرَهُ دَخَلَ بِهِ الْمَسْجِدَ، وَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، ثُمَّ مَثَلَ بِهِ بَعِيرُهُ، فَإِذَا هُوَ عَلَى رَأْسِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: انْفِرُوا يَا آلَ غَدْرٍ لِمَصَارِعِكُمْ فِي ثَلَاثٍ، ثُمَّ إِنَّ بَعِيرَهُ مَثُلَ بِهِ عَلَى رَأْسِ أَبِي قُبَيْسٍ، فَقَالَ: انْفِرُوا يَا آلَ غَدْرٍ لِمَصَارِعِكُمْ فِي ثَلَاثٍ، ثُمَّ أَخَذَ صَخْرَةً، فَأَرْسَلَهَا مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ، فَأَقْبَلَتْ تَهْوِي حَتَّى إِذَا كَانَتْ فِي أَسْفَلِ الْجَبَلِ، أَرْفَضَتْ فَمَا بَقِيَتْ دَارٌ مِنْ دُورِ قَوْمِكَ، وَلَا بَيْتٍ إِلَّا دَخَلَ فِيهِ بَعْضُهَا، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: وَاللَّهِ، إِنَّ هَذِهِ لَرُؤْيَا فَاكْتُمِيهَا، قَالَتْ: وَأَنْتَ فَاكْتُمْهَا لَئِنْ بَلَغَتْ هَذِهِ قُرَيْشًا لَيُؤْذُونَنَا، فَخَرَجَ الْعَبَّاسُ مِنْ عِنْدِهَا وَلَقِيَ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ، وَكَانَ لَهُ صَدِيقًا فَذَكَرَهَا لَهُ وَاسْتَكْتَمَهُ إِيَّاهَا، فَذَكَرَهَا الْوَلِيدُ لِأَبِيهِ، فَتَحَدَّثَ بِهَا فَفَشَا الْحَدِيثُ، قَالَ الْعَبَّاسُ: وَاللَّهِ، إِنِّي لَغَادٍ إِلَى الْكَعْبَةِ لِأَطُوفَ بِهَا إِذْ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَبُو جَهْلٍ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ يَتَحَدَّثُونَ، عَنْ رُؤْيَا عَاتِكَةَ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: يَا أَبَا الْفَضْلِ، مَتَى حَدَّثَتْ هَذِهِ النَّبِيَّةُ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ، قَالَ: رُؤْيَا رَأَتْهَا عَاتِكَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَمَا رَضِيتُمْ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنْ يَتَنَبَّأَ رِجَالُكُمْ حَتَّى تَنَّبَّأَ نِسَاؤُكُمْ فَسَنَتَرَبَّصُ بِكُمْ هَذِهِ الثَّلَاثَ الَّتِي ذَكَرَتْ عَاتِكَةُ، فَإِنْ كَانَ حَقًّا فَسَيَكُونُ، وَإِلَّا كَتَبْنَا عَلَيْكُمْ كِتَابًا إِنَّكُمْ أَكْذَبُ أَهْلِ بَيْتٍ فِي الْعَرَبِ، فَوَاللَّهِ مَا كَانَ إِلَيْهِ مِنِّي مِنْ كَبِيرٍ إِلَّا أَنِّي أَنْكَرْتُ مَا قَالَتْ، فَقُلْتُ: مَا رَأَتْ شَيْئًا وَلَا سَمِعْتُ بِهَذَا، فَلَمَّا أَمْسَيْتُ لَمْ تَبْقَ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِلَّا أَتَتْنِي، فَقُلْنَ: أَصَبَرْتُمْ لِهَذَا الْفَاسِقِ الْخَبِيثِ أَنْ يَقَعَ فِي رِجَالِكُمْ، ثُمَّ تَنَاوَلَ النِّسَاءَ وَأَنْتَ تَسْمَعُ فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَكَ فِي ذَلِكَ غَيْرَةٌ؟ فَقُلْتُ: قَدْ وَاللَّهِ صَدَقْتُنَّ، وَمَا كَانَ عِنْدِي فِي ذَلِكَ مِنْ غَيْرَةٍ إِلَّا أَنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ مَا قَالَ، فَإِنْ عَادَ لَأَكْفِيَنَّهُ، فَقَعَدْتُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ أَتَعَرَّضُهُ لَيَقُولَ شَيْئًا فَأُشَاتِمُهُ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَمُقْبِلٌ نَحْوَهُ، وَكَانَ رَجُلًا حَدِيدَ الْوَجْهِ، حَدِيدَ الْمَنْظَرِ، حَدِيدَ اللِّسَانِ إِذْ وَلَّى نَحْوَ بَابِ الْمَسْجِدِ يَشْتَدُّ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: اللَّهُمُ الْعَنْهُ كُلَّ هَذَا فَرَقًا مِنْ أَنْ أُشَاتِمَهُ، وَإِذَا هُوَ قَدْ سَمِعَ مَا لَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ ضَمْضَمَ بْنَ عَمْرٍو وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِالْأَبْطَحِ قَدْ حَوَّلَ رَحْلَهُ، وَشَقَّ قَمِيصَهُ، وَجَدَعَ بَعِيرَهُ، يَقُولُ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اللَّطِيمَةُ اللَّطِيمَةُ أَمْوَالُكُمْ مَعَ أَبِي سُفْيَانَ، وَتِجَارَتُكُمْ قَدْ عَرَضَ لَهَا مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ، فَالْغَوْثُ، فَشَغَلَهُ ذَلِكَ عَنِّي، فَلَمْ يَكُنْ إِلَّا الْجِهَازُ حَتَّى خَرَجْنَا، فَأَصَابَ قُرَيْشًا مَا أَصَابَهَا يَوْمَ بَدْرٍ، مِنْ قَتْلِ أَشْرَافِهِمْ، وَأَسَرِّ خِيَارِهِمْ، فَقَالَتْ عَاتِكَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: [البحر الطويل] أَلَمْ تَكُنِ الرُّؤْيَا بِحَقٍّ وَعَابَكُمْ ... بِتَصْدِيقِهَا قَلَّ مِنَ الْقَوْمِ هَارِبُ فَقُلْتُمْ وَلَمْ أَكْذِبْ كَذَبْتِ وَإِنَّمَا ... يُكَذِّبْنَ بِالصِّدْقِ مَنْ هُوَ كَاذِبُ" وَذَكَرَ قِصَّةً طَوِيلَةً [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4297 - حسين ضعيف

حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ تعالی عنہ فر ما تے ہیں :ابن اسحاق اور عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ عاتکہ بنت عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہ نے ضمضم بن عمروالغفاری کے قر یش پر چڑھائی کر نے سے تین دن پہلے خوا ب دیکھا۔جب صبح ہو ئی تو حضرت عاتکہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس خواب کو معمو لی سمجھا اور اپنے بھائی حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہ کو بلوا یا اور کہا:اے میرے بھائی!میں نے رات کو ایک خواب دیکھا ہے ،اس کی وجہ سے میں بہت پر یشا ن ہو ں اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ کی قوم پر آزمائش اور مصیبت نہ آجائے حضرت عباس نے کہا:وہ کیا(خواب)ہے ؟انہو ں نے کہا:میں نے دیکھا ہے کہ ایک آدمی اپن اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور (مقام)ابطح میں کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے غدارو!باہر نکلو،تین دن بعد تمہارے ساتھ جنگ ہو گی ۔میں د یکتھی ہو ں کہ وہ لوگ اس کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں ،پھر میں د یکھتی ہوں کہ اس کا اونٹ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے اور لوگ اس کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں،پھر وہ اونٹ سمیت کعبہ کے اوپر ہو تا ہے اور کہتا ہے :اے غدارو ! تین دن میں تمہارا قتل ہو گا ،اپھر وہ اونٹ سمیت ابو قبیس (پہاڑ) پر ہوتا ہے اور کہتا ہے :اے غدارو !با ہر نکلو ، تین دن میں تمہارا قتل ہو گا۔ پھر اس نے پہاڑ کی چوٹی سے ایک بھاری پتھر گرا دیا،وہ نیچے کی جانب لڑ ھکتا آیا حتی کہ جب وہ پہاڑ کی گہرائ میں پہنچا تو پھٹ گیا تو تمہاری قو م کا کوئی گھر اور کوئی مکان ایسا نہیں ہو گا جس میں اس ذرات نہ پہنچے ہوں۔ حضرت عباس نے کہا:خدا کی قسم یہ خا ص بات ہے ، اس کو چھپا کر رکھنا۔حضرت عاتکہ نے کہا :آپ بھی اس کو پو شیدہ رکھنا ، کیو نکہ اگر اس بات کی خبر قر یش کو ہو گئی تو وہ مجھے تکلیف دیں گے۔حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ وہا ں سے نکلے اور اپنے دوست ولید بن عتبہ کے پاس گئے اوریہ خواب اس کو سنا دیا اور سا تھ اس کو کسی کے سا منے ظا ہر نہ کر نے کی تا کید بھی کر دی، لیکن ولید نے یہ خواب اپنے والد کو بتا دیا ، اور اس کے والد نے جگہ جگہ بیان کر دیا،اس کی وجہ سے یہ بات پھیل گئی ، حضرت عباس نے کہا :میں کل کعبتہ اللہ کا طواف کروں گا ۔ لیکن جب مسجد میں داخل ہوا تو ابو جہل پوری ایک جماعت میں بیٹھا تھا اور ان میں اسی خواب کا تذ کرہ ہو رہا تھا ،ابو جہل نے کہا :اے ابو الفضل ! تم میں یہ عورت کب سے نبی بن گئی ہے؟ میں نے کہا:کیا مطلب؟اس نے کہا:وہی عاتکہ بنت عبد المطلب کی خواب۔اے بنی عبد المطلب! کیا تمہیں اپنے مردوں کا دعوائے نبوت کافی نہ تھا کہااب تمہاری عورتوں نے بھی نبوت کے دعوئے شروع کر دیئے ہیں؟۔ ہم ان تین دونوں کا انتظار کر رہے ہیں،جن کا تذ کرہ عاتکہ نے کیا ہے۔کہ اگر (اس کا یہ خواب ) حق ہو جائےگا ورنہ ہم تمہارے بارے میں یہ فیصلہ لکھ دیں گے کہ پورے عر ب میں تمہارا گھرانہ سب سے زیا دہ جھوٹا ہے (حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:)خدا کی قسم! میرے لئے اس سے بڑھ کر تکلیف دہ کوئی بات نہیں ہو سکتی تھی۔ میں عا تکہ کے خواب سے مکر گیا اور میں نی کہہ دیا کہ نہ اس نے کوئی خواب د یکھا ہے اورنہ میں نے اس سے کوئی بات سنی ہے۔جب شام ہوئی تو بنی عبد المطلب کی تمام عورتیں میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں:تم نےاس فاسق خبیث کی باتیں سن کر بھی صبر کیا ،اس نے تمہارے مر دوں پر طعنہ زنی کی ہے اور تمہاری عو رتوں پر بھی باتیں بنا ئیں اور تم( خا مو ش تما شا ئی بنے) سنتے رہے،تمہارے اندر غیرت نام کی کو ئی چیز نہیں ہے؟ میں نے کہا :خدا کی قسم سچ کہہ رہی ہو،اس معاملے میں واقعی مجھ میں غیرت نہیں تھی (یعنی غیرت تو تھی مگر میں اس پر بگڑ نہیں سکتا تھا )تو سوائے اس کے کہ میں اس بات سے ہی مکر جاتا میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا لیکن اب اس نے دوبارہ ایسی کوئی بات کہی تو میں اس کو بھر پور جواب دو نگا۔چنانچہ میں تیسرے دن ان کا مقابلہ کرنے کی نیت سے بیٹھا ہوا تھا کہ وہ کچھ بو لے تو میں اس کو گالیاں دوں۔ خدا کی قسم! میں تو اس کی طرف متوجہ ہوکر بیٹھا ہواتھا کہ ایک آدمی لو ہے کے چہرے والا، دیکھنے میں نیا اور تیز زبان والا ، مسجد کے دورازےکی جانب تیزی سے بڑھا ،میں نے اپنے دل میں کہا :یا اللہ !اس پر لعنت کر،میں اس سے مقابلہ نہیں کر سکتا اور وہ ضمضم بن عمرو کی آواز سن رہا تھا جو میں نہیں سن رہا تھا۔ وہ اونٹ پر سوار’’ابطح‘‘ میں کھڑا تھا،اس نے اپنا کجاوہ اتارا،اپنی قمیض پھاڑی اوراپنے اونٹ کی ناک کاٹ ڈالی اور بولا:اے گروہ قریش !بازار میں آؤ،بازارمیں آؤ۔ تمہارا مال ابو سفیان کے پاس ہے اور تمہاری تجارت کو محمد اور اس کے ساتھیوں نے روک اکھاہے اور آؤ میری مدد کرو۔تو وہ لوگ اسی سلسلیہ میں مشغول ہو گئے ،اور ہم تیاری کر کے وہاں سے نکل گئے ۔تو اس دن قر یش کو اتنا نقصان پہنچا جتنا جنگ بدر میں پہنچا تھا۔ ان کے بڑے بڑے لوگو ں کو قتل کر دیا گیا اور سرداروںکو گر فتا ر کیا گیا تو حضرت عاتکہ بنت عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا:کیا میرا خواب سچا نہ تھا؟اوراس کی تصدیق نے تمہیں نقصان دیا ،قوم میں سے بہت کم لوگ بھاگ سکے۔تو تم نے کہا:اورمیں تمہارے جھٹلانے سے جھوٹی نہیں ہو گئی، کیو نکہ سچائی کو جھوٹا ہی جھٹلا تا ہے پھر اس کے بعد مفصل قصہ بیان کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4297

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4298

4298 - أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ الْبَجَلِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لَهُ: «مَا كَانَ مَعَنَا إِلَّا فَرَسَانِ فَرَسٌ لِلزُّبَيْرِ، وَفَرَسٌ لِلْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ - يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ -» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ «،» فَإِنَّ أَبَا ثَابِتٍ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ، وَأَبُو صَخْرٍ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ الْبَجَلِيُّ عَمَّارُ الدُّهْنِيُّ، وَكُلُّهُمْ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4298 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں:حضرت علی ابن طالب رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھے بتایا کہ ہمارے پاس(جنگ بدر کے دن) صرف دو گھوڑے تھے ،ایک گھوڑا حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کا تھا اور ایک حضرت مقدادبن اسودرضی اللہ تعالی عنہ کا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیارکے ک مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔اس میں جو ابو ثابت ہیں وہ’’ محمد بن عبید اللہ المد نیی‘‘ ہیں۔اور یہ تمام (محد ثین) کے متفق علیہ راوی ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أبي معاوية البجلى، ← أَبُو صَخْرٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو ثَابِتٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4298

chevron_left Previous
1…705706707…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section