المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4263
4263 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: " شَرَى عَلِيٌّ نَفْسَهُ، وَلَبِسَ ثَوْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْبَسَهُ بُرْدَةً، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلُوا يَرْمُونَ عَلِيًّا، وَيَرَوْنَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ لَبِسَ بُرْدَةً، وَجَعَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتَضَوَّرُ، فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ فَقَالُوا: إِنَّكَ لَلَئِيمٌ إِنَّكَ لَتَتَضَوَّرُ، وَكَانَ صَاحِبُكَ لَا يَتَضَوَّرُ وَلَقَدِ اسْتَنْكَرْنَاهُ مِنْكَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ بِزِيَادَةِ أَلْفَاظٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4263 - صحيح
حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی جا ن کی بازی لگا دی،اورنبی اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چا در اوڑھ کر ان کی جگہ لیٹ گۓ۔(اس سےقبل)مشر کین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیتیں دیا کر تے تھے۔ (ہجر ت کی رات)رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنی چا در اوڑھا دی تھی ۔جبکہ قر یش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (معا ذاللہ)شہید کر نا چا ہتے تھے۔چنا نچہ ان لو گو ں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمجھتے ہو ئے اذیت دینا شروع کیں،(ان کی ایذ ارسا نیوں کی و جہ سے )حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پیچ و تا ب کھانے لگے (حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی اس کیفیت سے) ا ن کو اند ازہ ہوا کہ یہ (رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں ہیں بلکہ یہ تو)علی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔تب وہ بو لے :تم کمینے ہو ،تم تڑ پ رہے ہو،جبکہ تمہا را سا تھی تو اس طر ح نہیں تٹر پا کر تا تھا ۔اور ہمیں اصل دشمنی اسی سے ہے ۔یہ حد یث صحیح الا سنا د ہے لیکن امام بخا ری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہنے اس کو نقل نہیں کیا ۔ اسی حد یث کو ا بو دا ؤد طیا لسی رحمۃاللہ علیہ ا ور دیگر محدثین رحمۃاللہ علیہ نے بھی ابو عوا نہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روا یت کیا ہے ۔تا ہم اس میں کچھ الفا ظ کا اضا فہ ہے۔
شَرَى عَلِيٌّ نَفْسَهُ، وَلَبِسَ ثَوْبَ النَّبِيِّ ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي بَلْجٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ← زياد بن الخليل التستري ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4263
