Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4263

4263 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: " شَرَى عَلِيٌّ نَفْسَهُ، وَلَبِسَ ثَوْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْبَسَهُ بُرْدَةً، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلُوا يَرْمُونَ عَلِيًّا، وَيَرَوْنَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ لَبِسَ بُرْدَةً، وَجَعَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتَضَوَّرُ، فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ فَقَالُوا: إِنَّكَ لَلَئِيمٌ إِنَّكَ لَتَتَضَوَّرُ، وَكَانَ صَاحِبُكَ لَا يَتَضَوَّرُ وَلَقَدِ اسْتَنْكَرْنَاهُ مِنْكَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ بِزِيَادَةِ أَلْفَاظٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4263 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی جا ن کی بازی لگا دی،اورنبی اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چا در اوڑھ کر ان کی جگہ لیٹ گۓ۔(اس سےقبل)مشر کین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیتیں دیا کر تے تھے۔ (ہجر ت کی رات)رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنی چا در اوڑھا دی تھی ۔جبکہ قر یش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (معا ذاللہ)شہید کر نا چا ہتے تھے۔چنا نچہ ان لو گو ں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمجھتے ہو ئے اذیت دینا شروع کیں،(ان کی ایذ ارسا نیوں کی و جہ سے )حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پیچ و تا ب کھانے لگے (حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی اس کیفیت سے) ا ن کو اند ازہ ہوا کہ یہ (رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں ہیں بلکہ یہ تو)علی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔تب وہ بو لے :تم کمینے ہو ،تم تڑ پ رہے ہو،جبکہ تمہا را سا تھی تو اس طر ح نہیں تٹر پا کر تا تھا ۔اور ہمیں اصل دشمنی اسی سے ہے ۔یہ حد یث صحیح الا سنا د ہے لیکن امام بخا ری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہنے اس کو نقل نہیں کیا ۔ اسی حد یث کو ا بو دا ؤد طیا لسی رحمۃاللہ علیہ ا ور دیگر محدثین رحمۃاللہ علیہ نے بھی ابو عوا نہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روا یت کیا ہے ۔تا ہم اس میں کچھ الفا ظ کا اضا فہ ہے۔

شَرَى عَلِيٌّ نَفْسَهُ، وَلَبِسَ ثَوْبَ النَّبِيِّ ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي بَلْجٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ← زياد بن الخليل التستري ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4263

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4264

4264 - وَقَدْ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ قُنْفُذٍ الْبَزَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: «إِنَّ أَوَّلَ مَنْ شَرَى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ» وَقَالَ عَلِيٌّ عِنْدَ مَبِيتِهِ عَلَى فِرَاشِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِعْرًا [البحر الطويل] وَقِيتُ بِنَفْسِي خَيْرَ مَنْ وَطِئَ الْحَصَا ... وَمَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ وَبِالْحَجَرِ رَسُولَ إِلَهٍ خَافَ أَنْ يَمْكُرُوا بِهِ ... فَنَجَّاهُ ذُو الطَّوْلِ الْإِلَهُ مِنَ الْمَكْرِ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ فِي الْغَارِ آمِنًا ... مُوقًى وَفِي حِفْظِ الْإِلَهِ وَفِي سِتْرٍ وَبِتُّ أُرَاعِيهُمْ وَلَمْ يَتَّهِمُونَنِي ... وَقَدْ وَطَّنْتُ نَفْسِي عَلَى الْقَتْلِ وَالْأَسْرِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4264 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت علی بن حسین رضی اللہ تعالی عنہ فر ما تے ہیں : رضا ئے الہٰی کی خا طر اپنی جا ن کا سو دا کر نے والے سب سے پہلے شخص حضرت علی ابن طا لب رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر لیٹے ہو ئے (درج ذیل )اشعا ر کہے۔میں نے اپنی جان کو اس ذات کے صد قے بچا لیا جو ان سب سے افضل ہے جنہوں نے کنکر یو ں کو روندا اور جنہو ں نے بیت اللہ کا طوا ف کیا اور جنہو ں نے حجراسو د کو چو ما۔ یہ اللہ تعالی کے رسول ﷺ ہیں ، خدشہ یہ تھا کہ مشرکین ان کے خلاف سازشیں کرتے لیکن احسان کرنے والے اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو ان کی سازشوں سے بچا لیا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غار میں محفو ظ مقا م پر پو شید گی میں اللہ تعا لیٰ کی حفا ظت میں بے خو ف ہو کر رات گزاری۔میں نے انجا م پر نگا ہ رکھے ہو ئے رات گزاری اور انہوں نے مجھ پر بد گما نی نہ کی جبکہ میں تو قتل اور قید کے لئے ذہنی طور پرتیا ر تھا۔

«إِنَّ أَوَّلَ مَنْ شَرَى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ» ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← حكيم بن جبير ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← عُبَيْدُ بْنُ قُنْفُذٍ الْبَزَّارُ، ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ ← وقد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4264

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4265

4265 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ الْأَسَدِيُّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ اللَّيْلَةَ الَّتِي أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيتَ عَلَى فِرَاشِهِ، وَخَرَجَ مِنْ مَكَّةَ مُهَاجِرًا، انْطَلَقَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْأَصْنَامِ، فَقَالَ: «اجْلِسْ» فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْكِبِي ثُمَّ قَالَ: «انْهَضْ» فَنَهَضْتُ بِهِ، فَلَمَّا رَأَى ضَعْفِي تَحْتَهُ، قَالَ: اجْلِسْ، فَجَلَسْتُ، فَأَنْزَلْتُهُ عَنِّي، وَجَلَسَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا عَلِيُّ، اصْعَدْ عَلَى مَنْكِبِي» فَصَعِدْتُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ نَهَضَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخُيِّلَ إِلَيَّ أَنِّي لَوْ شِئْتُ نِلْتُ السَّمَاءَ، وَصَعِدْتُ إِلَى الْكَعْبَةِ، وَتَنَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَيْتُ صَنَمَهُمُ الْأَكْبَرَ، وَكَانَ مِنْ نُحَاسٍ مَوَتَّدًا بِأَوْتَادٍ مِنْ حَدِيدٍ إِلَى الْأَرْضِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَالِجْهُ» فَعَالَجْتُهُ فَمَا زِلْتُ أُعَالِجُهُ، وَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيهْ إِيهْ» فَلَمْ أَزَلْ أُعَالِجُهُ حَتَّى اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ، فَقَالَ: «دُقَّهُ» فَدَقَقْتُهُ فَكَسَرْتُهُ وَنَزَلْتُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : جسں رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے بستر پر سو نے کا حکم دیا اور خود ہجرت کر کے تشر یف لے گئے ، اس رات رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہا تھ پکڑا اور مجھے (کعبہ میں مو جو د)بتوں کے پا س لے گئے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں پہنچ کرمجھے فرما یا:بیٹھ جا ؤ۔تو میں کعبہ کی ایک دیوار کے سا تھ بیٹھ گیا،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میر ے میرے کند ھو ں پر چڑھ گئے ، پھر آپ نے مجھے کہا :اٹھو۔ میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔لیکن جب آپ نے میری کمزوری پر تو جہ کی تو فرمایا :بیٹھ جاؤ۔میں بیٹھ گیا۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے کند ھوں سے اتر گئے اور نیچےبیٹھ کر فر مایا:اے علی!میرے کندھوں پر بیٹھ جا ؤ ،میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر چڑھ گیا اور آپ اٹھ کر کھڑے ہو گئے (اس وقت )میں اپنے آپ کو اتنی انچا ئی پر محسوس کر رہا تھا کہ اگر میں چا ہتا تو آ سما ن کو ہا تھ لگا سکتا تھا۔ پھر میں کعبہ پر چڑھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے سے ہٹ گئے تو میں نے ان کا سب سے بڑا بت گرا دیا ، یہ بت تا نبے کابنا ہوا تھا اور لو ہے کی کیلو ں کے سا تھ ز مین سے بند ھا ہوا تھا ۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ : اس کو ہلا ؤ، میں نے اس کو ہلا یا اور پھر مسلسل ہلا تا رہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے رہے :اس کو اور ہلا ؤ اور ہلا ؤ ۔ جب وہ بہت زیا دہ ہلنے لگ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا : اس کو لڑ ھکا دو : میں نے اس کو لڑ ھکا دیا تو وہ ٹو ٹ گیا اور میں کعبہ سے نیچے اتر آیا۔یہ حدیث صیحح الا اسنا د ہے لیکن امام بخا ری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ، ← أَبُو مَرْيَمَ الْأَسَدِيُّ، ← نعيم بن حكيم ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقُرَشِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4265

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4266

4266 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَمَّادِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّرْخَسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، وَمِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: " مَنْ يُهَاجِرُ مَعِي؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4266 - صحيح غريب

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مر وی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرا ئیل سے فر ما یا : میر ے ہمراہ کو ن ہجرت کر ے گا ؟ انہو ں نے کہا : حضرت ابو بکر صد یق رضی اللہ تعالی عنہ ۔ اس حدیث کی سند اور متن دو نو ں صحیح ہیں لیکن امام بخا ری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةَ وَمِسْعَرٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّرْخَسِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَمَّادِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4266

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4267

4267 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: لَمَّا تَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، حَمَلَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ جَمِيعَ مَالِهِ خَمْسَةَ أَلْفٍ أَوْ سِتَّةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَتَانِي جَدِّي أَبُو قُحَافَةَ وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا وَاللَّهِ قَدْ فَجَعَكُمْ بِمَالِهِ مَعَ نَفْسِهِ، فَقُلْتُ: كَلَّا يَا أَبَتِ، قَدْ تَرَكَ لَنَا خَيْرًا كَثِيرًا، فَعَمَدْتُ إِلَى أَحْجَارٍ فَجَعَلْتُهُنَّ فِي كَوَّةِ الْبَيْتِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَجْعَلُ أَمْوَالَهُ فِيهَا، وَغُطِّيَتْ عَلَى الْأَحْجَارِ بِثَوْبٍ، ثُمَّ جِئْتُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَوَضَعْتُهَا عَلَى الثَّوْبِ، فَقَالَ: أَمَّا إِذَا تَرَكَ هَذَا فَنِعْمَ، قَالَتْ: «وَوَاللَّهِ مَا تَرَكَ قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4267 - على شرط مسلم

حضرت اسما ء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ فر ما تی ہیں: جب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کے ہمراہ مکہ سے مد ینہ کا سفر ا ختیا ر کیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ اپنا تما م ما ل جو کہ پا نچ یا چھ ہزار دراہم تھے ، اپنے سا تھ لے گئے ، بعد میں میرے دادا ابو قحا فہ میر ے پا س آ ئے ، یہ ان دنوں نا بینا ہو چکے تھے ، یہ بو لے : اس نے تو اپنی جا ن کے سا تھ ساتھ اپنے ما ل کے ذر یعے بھی تمہیں مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے ، میں نے کہا : ہر گز نہیں ۔ابا جا ن !وہ تو ہما رے لئے بہت سا را ما ل چھوڑ کر گئے ہیں۔تو میں نے کچھ پتھر کمرے کے ایک کو نے میں جمع کر کے ان کے اوپر کپڑا ڈال کر ان کو ڈھا نپ دیا ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ بھی ا پنا ما ل اسی طرح رکھا کر تے تھے پھر میں نے ان ( ابو قحا فہ )کا ہا تھ پکڑکر اس کپڑے پر لگا یا تو وہ بو لے : اگر وہ اتنا مال چھو ڑ کر گیا ہے تب تو ٹھیک ہے ۔ حا لا نکہ خدا کی قسم انہو ں نے تھو ڑا یا زیا دہ کچھ بھی ما ل نہیں چھو ڑا تھا ۔یہ حد یث اما م مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیا ر کے مطا بق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔0

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4267

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4268

4268 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أُنَبَّأْ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: ذَكَرَ رِجَالٌ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَكَأَنَّهُمْ فَضَلُّوا عُمَرَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَلَيْلَةٌ مِنْ أَبِي بَكْرٍ خَيْرٌ مِنْ آلِ عُمَرَ، وَلَيَوْمٌ مِنْ أَبِي بَكْرٍ خَيْرٌ مِنْ آلِ عُمَرَ، لَقَدْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَنْطَلِقَ إِلَى الْغَارِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَجَعَلَ يَمْشِي سَاعَةً بَيْنَ يَدَيْهِ، وَسَاعَةً خَلْفَهُ حَتَّى فَطِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا لَكَ تَمْشِي سَاعَةً بَيْنَ يَدَيْ وَسَاعَةً خَلْفِي؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَذَكُرُ الطَّلَبَ فَأَمْشِي خَلْفَكَ، ثُمَّ أَذَكَرُ الرَّصْدَ، فَأَمْشِي بَيْنَ يَدَيْكَ، فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، لَوْ كَانَ شَيْءٌ أَحْبَبْتَ أَنْ يَكُونَ بِكَ دُونِي؟» قَالَ: نَعَمْ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا كَانَتْ لِتَكُونَ مِنْ مُلِمَّةٍ إِلَّا أَنْ تَكُونَ بِي دُونَكَ، فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَى الْغَارِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَكَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَتَّى أَسْتَبْرِئَ لَكَ الْغَارَ، فَدَخَلَ وَاسْتَبْرَأَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي أَعْلَاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَسْتَبْرِئِ الْحُجْرَةَ، فَقَالَ: مَكَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَتَّى أَسْتَبْرِئَ الْحُجْرَةَ، فَدَخَلَ وَاسْتَبْرَأَ، ثُمَّ قَالَ: انْزِلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَنَزَلَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لِتِلْكَ اللَّيْلَةُ خَيْرٌ مِنْ آلِ عُمَرَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، لَوْلَا إِرْسَالٌ فِيهِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4268 - صحيح مرسل

حضرت محمد بن سیر ین رضی اللہ تعالی عنہ فرما تے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلا فت میں کچھ لو گو ں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ پر فضلیت دینا شروع کر دی ۔ اس با ت کی خبر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ تک پہنچ گئی ۔ تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فر ما یا : خدا کی قسم !ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کی صرف ایک رات ، عمر کی تمام زند گی سے اور ابوبکررضی اللہ تعالی عنہ کاصرف ایک دن،عمر کی پو ری ز ند گی سے افضل ہے۔رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار کی جا نب روانہ ہو ئے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمر اہ تھے ۔تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کبھی حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آ گے چلتے اور کبھی پیچھے چلتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بھا نپ لیا ۔ اور فرما یا :اے ابو بکر !تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم کبھی آگے چلتے ہو اور کبھی پیچھے چلتے ہو ؟ عر ض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مجھے خیا ل آتا ہے کہ آپ کا طا لب ہو ں تو آپ پیچھے چلتا ہو ں اور جب را ستہ کی نا ہموا ری کے با رے میں سو چتا ہوں تو آپ کے آگے چلنے لگتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر ما یا : اے ابو بکر ! اگر میں کسی چیز کے با رے میں چا ہو ں کہ وہ صرف تجھے ملے ،مجھے نہ ملے ( تو وہ کیا ہو سکتی ہے ؟) عر ض کی : جی ہا ں ۔ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے سا تھ بھیجا ہے کو ئی بھی حا د ثہ یا سخت تکلیف اگر آئے تو میں چا ہو ں گا کہ وہ صرف مجھ تک محد ود رہے اور وہ آپ تک نہ پہنچے ۔ جب یہ دونوں غا ر تک پہنچ گئے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی : یا ر سو لصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ با ہر ہی ٹھر یئے ۔ پہلے میں غا ر کی صفا ئی کر لو ں ۔ پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے اند ر جا کر اس کو صا ف کیا اور با ہر نکل آئے ۔ پھر ان کو یا د آیا کہ غا ر میں ایک سورا خ با قی رہ گیا ہے ۔ تو عر ض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ یہیں ٹھر یئے ۔ میں اس سورا خ کو بھی بند کر لوں۔ پھر انہوں نے اندر جا کر اس کو بند کیا اور عرض کی : یا رسو لصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر تشر یف لے آ یئے ، تب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اند ر تشر یف لے آیئے، تب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر تشر یف لے گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فر ما یا : اس ذا ت کی قسم جس کے قبضہ قد رت میں میر ی جا ن ہے ’’ ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کی وہ رات ، عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی سا ری زند گی (کی تما م نیکیو ں ) سے افضل ہے ۔اگر اس حد یث میں ارسا ل نہ ہو تو یہ حد یث اما م بخا ری رحمۃاللہ علیہ اور اما م مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیا ر کے مطا بق صحیح الا سنا د ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← أبو بكر بن إسحاق أنبا موسى بن الحسن بن عباد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4268

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4269

4269 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ بْنِ جَبَلَةَ التَّيْمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ الْمُشَاوِرِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ يَقُولُ: جَاءَتْنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ دِيَةً، لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِمَنْ قَتَلَهُمَا أَوْ أَسَرَهُمَا، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ، أَقْبَلَ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا سُرَاقَةُ، إِنِّي رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ، أُرَاهَا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ، قَالَ سُرَاقَةُ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ، فَقُلْتُ لَهُمْ: إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ فُلَانًا وَفُلَانًا انْطَلِقُوا بُغَاةً، قَالَ: ثُمَّ مَا لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ إِلَّا سَاعَةً حَتَّى قُمْتُ فَدَخَلْتُ بَيْتِي، فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تُخْرِجَ إِلَيَّ فَرَسِي وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ فَتَحْبِسَهَا عَلَيَّ، وَأَخَذْتُ رُمْحِي فَخَرَجْتُ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ فَخَطَطْتُ بِزُجِّهِ إِلَى الْأَرْضِ، وَحَفَفْتُ عَالِيَةَ الرُّمْحِ حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي، فَرَكِبْتُهَا فَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي حَتَّى رَأَيْتُ أَسْوَدَتَهُمَا، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُمْ حَيْثُ أَسْمَعَهُمُ الصَّوْتُ عَثَرَتْ بِي فَرَسِي، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، فَقُمْتُ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي إِلَى كِنَانَتِي، فَاسْتَخْرَجْتُ الْأَزْلَامَ، فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا، فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُمْ فَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ، فَرَكِبْتُ فَرَسِي فَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي حَتَّى إِذَا دَنَوْتُ مِنْهُمْ «سَمِعْتُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يَلْتَفِتُ» وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الِالْتِفَاتَ، فَسَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَتَا الرُّكْبَتَيْنِ، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، ثُمَّ زَجَرَتْهَا، فَنَهَضْتُ فَلَمْ تَكَدْ تُخْرِجُ يَدَيْهَا، فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً إِذَا لِأَثَرِ يَدَيْهَا عَنَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ، - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَعْنِي الدُّخَانَ الَّذِي يَكُونُ مِنْ غَيْرِ نَارٍ - ثُمَّ أَخْرَجْتُ الْأَزْلَامَ، فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا، فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُمَا، فَنَادَيْتُهُمَا بِالْأَمَانِ فَوَقَفَا، فَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتُهُمَا فَوَقَعَ فِي نَفْسِي حِينَ لَقِيتُ مِنَ الْحَبْسِ عَلَيْهِمْ أَنْ سَيَظْهَرَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَةَ، وَأَخْبَرْتُهُمْ مِنْ أَخْبَارِ سَفَرِهِمْ، وَمَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهُمُ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ فَلَمْ يَرْزَءُونِي شَيْئًا، وَلَمْ يَسْأَلُونِي إِلَّا أَنْ قَالُوا: أَخْفِ عَنَّا، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ مُوَادَعَةٍ آمَنُ بِهِ، «فَأَمَرَ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ» فَكَتَبَ لِي فِي رُقْعَةٍ مِنْ أُدُمٍ ثُمَّ مَضِيَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4269 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت سرا قہ بن جعشم رضی اللہ تعالی عنہ فر ما تے ہیں : ہما رے پا س کفا ر قر یش کے صد قے آ ئے اور انہو ں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کے قتل پر یا ان کو گر فتا ر کرنے پر انعا م مقرر کیا ۔میں قبیلہ بنی مد لج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک آ دمی میری طرف متو جہ ہو کر بو لا : اے سر قہ ! میں نے ابھی سا حل کے پا س کچھ لو گو ں کو د یکھا ہے ، میرا خیا ل ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ا ور اس کے سا تھی ہیں۔ سرا قہ نے کہا : کیا تھجے یقین ہے کہ وہ واقعی وہی لو گ تھے ؟ اس نے کہا : نہیں ( میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا کہ ) وہ وہی ہیں ، البتہ میں نے فلا ں فلاں آدمی کو دیکھا ہے وہ با غی ہو کر بھا گ گئے ہیں ۔ حضرت سرا قہ رضی اللہ تعالی عنہ فر ما تے ہیں : میں ایک لمحے کے بعد اس مجلس سے نکل آیا اور اپنے گھر آگیا ۔ اپنی لو نڈ ی سے کہا کہ میرا گھو ڑا نکا لے ( یہ ٹیلے کے پیچھے ہو تا تھا) اور اس کو میرے لئے تیا ر کر کے رکھے۔ میں ا پنے گھر کے پچھو اڑے سے نکلا ، اپنے نیزے کے پچھلے حصے کے لو ہے کو ز مین پر گھسیتا ہوا ،اس کے اوپر وا لے حصے کو ہا تھ میں پکڑے ہوئے اپنا نیزہ ہمراہ لے کر اپنے گھو ڑے تک پہنچا ،اور اس پر سوا ر ہو کر ان کی جا نب چل نکلا ۔ مجھے دور سے ان کا وجو د دکھا ئی دیا ۔ پھر جب میں ان کے اتنا قر یب ہوا کہ میں ان کی گفتگو سن سکتا تھا تو میرا گھوڑا پھسل کر او ند ھا ہو گیا ۔اور میں اس سے گر گیا ۔ پھر میں اٹھا ،تر کش سے تیر نکا لے اور پا نسہ ڈالا۔ تو جوا ب یہ آیا کہ ان کو نقصا ن نہ پہنچا یا جا ئے لیکن یہ جوا ب مجھے منظور نہ تھا ۔ میں نے پا نسے کا جوا ب ٹھکرا دیا اور دو با رہ گھو ڑے پر سوا ر ہو کر ان کی جا نب بڑ ھا ، جب میں ان کے قر یب پہنچا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قر اءت کی آواز سنا ئی دی، آپ ادھر ادھر نہیں دیکھ رہے تھے ۔ لیکن ا بو بکر کی تو جہ بد ستور چا روں جا نب تھی ۔ اچا نک میرے گھو ڑ ے کی اگلی ٹا نگیں گھنٹو ں تک زمین میں دھنس گیئں اور میں اس سے گر گیا ۔ میں نے گھو ڑے کو بہت ڈا نٹا ، وہ اٹھنے کی کو شش تو کر تا رہا اس کی ٹا نگیں بڑ ی مشکل کے سا تھ با ہر نکلیں ، جب وہ صحیح طور پر کھڑا ہو گیا تو اس کی ٹا نگوں پر آسما ن پر پھیلنے وا لے با د لو ں جیسے ا ثرات تھے ۔ عبد ا للہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں : یعنی وہ دھواں سا تھا جو آ گ کے بغیر ہو تا ہے ۔ میں نے پھر تیر نکا ل کر پا نسہ ڈا لا اب کی با ری بھی و ہی جو اب آیا کہ مجھے ان کو نقصان نہیں پہنچا نا چا ہے ، لیکن یہ جوا ب مجھے پسند نہیں تھا ۔ پھر میں نے ان کو اما ن کے لئے آ وا ز دی تو وہ کھڑے ہو گئے ۔ میں گھو ڑے پر سوا ر ہو کر ان کے قر یب آ گیا تو ان پر قا بو نہ پا سکنے کی وجہ سے میرے دل یہ با ت را سخ ہو گئی کہ عنقر یب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معا ملہ غا لب آ جا ئے گا ۔ تو میں نے آ پ سے کہا : آپ کی قو م نے آپ کے با رے میں ا نعا م کا اعلا ن کر رکھا ہے اور میں نے ان لو گوں کی بھا گ ڈوڑ اور ان کے ارادوں کے با رے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آ گا ہ کیا اور میں نے کچھ ما ل و متا ع بھی پیش کیا ۔ لیکن انہو ں نے مجھ سے کو ئی چیز بھی قبو ل نہ کی اور نہ ہی مجھ سے کچھ پو چھا سوا ئے اس کے کہ مجھے اپنا معا ملہ صیغہ راز میں رکھنے کا حکم دیا ۔ میں نے ر سو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے در خوا ست کی جا تے جا تے مجھے کو ئی نصیحت لکھ دیں جو مجھے امن دے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کے غلا م حضرت عا مر بن فہیر ہ کو حکم دیا تو ا نہو ں نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر مجھے تحر یر لکھ کر دے دی پھر وہ چلے گئے ۔یہ حد یث اما م بخا ری رحمۃاللہ علیہ اور اما م مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیا ر کے مطا بق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، ← عبد الله بن معاذ الصنعاني ← مُوسَى بْنُ الْمُشَاوِرِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ بْنِ جَبَلَةَ التَّيْمِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4269

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4270

4270 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْحَمْرَاءَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْحَزْوَرَةِ، يَقُولُ: «وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4270 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبد اللہ بن عدی بن ا لحمر اء الز ہر ی رضی اللہ تعالی عنہ فرما تے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حز ورہ ( پا نی اور گڑ ھے وااالی ز مین ) میں اپنی سوا ری پر ( سر زمین مکہ کو مخا طب کر کے )یہ ارشا د فر ما تے سنا ہے ¬’’خدا کی قسم ! تو اللہ تعا لیٰ کی تما م ز مین سے افضل جگہ ہے اور تو اللہ تعا لیٰ کی پو ری زمین سے ز یا دہ اللہ تعا لیٰ کو محبوب ہے اگر مجھے تجھ سے نکلنے پر مجبور نہ کیا جا تا تو میں تجھ سے نہ نکلتا ۔ یہ حد یث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیا ر کے مطا بق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْحَزْوَرَةِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْحَمْرَاءَ الزُّهْرِيِّ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4270

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4271

4271 - أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: " لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: {إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ} [البقرة: 156] أُخْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَهْلِكَنَّ، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ} [الحج: 40] ، عَرَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ تعالی عنہ فر ما تے ہیں کہ جب رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکر مہ نکلے تو حضرت ا بو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا :انا للہ وانا الیہ را جعون، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نکا ل دیا گیا ہے اب یہ لو گ ضرور ہلا ک ہو ں گے ۔ تو یہ آیت نا زل ہو ئی : ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ ﴾ [الحج: 39]’’ پر وا نگی عطا ہو ئی ا نہیں جن سے کا فر لڑ تے ہیں اس بنا ءپر کہ ان پر ظلم ہوا اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قا در ہے جو اپنے گھروں سے نا حق نکا لے گئے ‘‘۔(تر جمہ کنز الا یما ن ، اما م احمد رضا ) تب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ سمجھ گئے تھے کہ عنقر ب جہا د ( کا حکم نا زل ) ہو گا ۔ یہ حد یث امام بخا ری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیا ر کے مطا بق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

إِلَيْهِ رَاجِعُونَ} [البقرة: أُخْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ لَيَهْلِكَنَّ، ← لِلَّهِ ← أَبُو بَکْرٍ ← لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ مَكَّةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4271

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4272

4272 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَارِ مُهَاجِرًا وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، مُرْدِفُهُ أَبُو بَكْرٍ وَخَلْفَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُرَيْقِطٍ اللَّيْثِيُّ فَسَلَكَ بِهِمَا أَسْفَلَ مِنْ مَكَّةَ، ثُمَّ مَضَى بِهِمَا حَتَّى هَبَطَ بِهِمَا عَلَى السَّاحِلِ أَسْفَلَ مِنْ عُسْفَانَ، ثُمَّ اسْتَجَازَ بِهِمَا عَلَى أَسْفَلَ أَمَجَ، ثُمَّ عَارَضَ الطَّرِيقَ بَعْدَ أَنْ أَجَازَ قُدَيْدًا، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا الْحِجَازَ، ثُمَّ أَجَازَ بِهِمَا ثَنِيَّةَ الْمِرَارِ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا الْحَفْيَاءَ، ثُمَّ أَجَازَ بِهِمَا مُدْلِجَةَ لِقْفٍ، ثُمَّ اسْتَبْطَنَ بِهِمَا مُدْلِجَةَ مَجَاحٍ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا مَذْحِجَ، ثُمَّ بِبَطْنِ مَذْحِجَ مِنْ ذِي الْغُصْنِ، ثُمَّ بِبَطْنِ ذِي كَشْدٍ، ثُمَّ أَخَذَ الْجُبَاجِبَ، ثُمَّ سَلَكَ ذِي سَلْمٍ مِنْ بَطْنٍ أَعْلَى مُدْلِجَةَ، ثُمَّ أَخَذَ الْقَاحَةِ ثُمَّ هَبَطَ الْعَرْجِ، ثُمَّ سَلَكَ ثَنِيَّةَ الْغَائِرِ، عَنْ يَمِينِ رُكُوبِهِ، ثُمَّ هَبَطَ بَطْنَ رِيمٍ فَقَدِمَ قُبَاءَ عَلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4272 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

ام المو منین حضرت عا ئشہ رضی اللہ تعالی عنہ فر ما تی ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ا بو بکر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عا مر بن فہیرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی معیت میں غا رسے نکل کر ہجرت کا سفر آ گے بڑ ھا یا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے اور حضرت عبد اللہ بن ار یقط لیثی رضی اللہ تعالی عنہ پیچھے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہمراہ مکہ کے نشیبی علا قے سے روا نہ ہوئے اور چلتے چلتے عسفا ن کے سا حل پر جا نکلے ۔ پھر امج سے گز ر تے ہوئے قد ید سے آگے نکل کر یہ را ستہ چھو ڑ دیا اور حجا ز کا رخ کیا اور ثنیتہ المرار سے ہو تے ہو ئے حفیا ء پہنچے ، پھر ثقف ، صحا ح ، مذ حج اور ذی الغض سے ہوتے ہوئے ذی کشد آ ئے ، پھر جبا جب ، ذی سلم ، قا حہ سے ہو تے ہوئے عرج میں آئے پھر و ہا ں سے دا ئیں جا نب ثنیتہ الغا ئر سے گز ر کر ر یم سے ہو تے ہو ئے قبا ء میں بنی عمر و بن عوف کے پا س پہنچے ۔ یہ حد یث امام بخا ری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیا ر کے مطا بق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، مُرْدِفُهُ أَبُو بَكْرٍ ← «لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ مِنَ الْغَارِ مُهَاجِرًا وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ← مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4272

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4273

4273 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، ثنا إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ: لَمَّا انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ مُسْتَخْفِينَ مَرَّا بِعَبْدٍ يَرْعَى غَنَمًا، فَاسْتَسْقَيَاهُ مِنَ اللَّبَنِ، فَقَالَ: مَا عِنْدِي شَاةٌ تُحْلَبُ غَيْرَ أَنَّ هَا هُنَا عَنَاقًا حَمَلَتْ أَوَّلَ الشِّتَاءِ، وَقَدِ أَخْدَجَتْ وَمَا بَقِيَ لَهَا لَبَنٌ، فَقَالَ: «ادْعُ بِهَا» فَدَعَا بِهَا، فَاعْتَقَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ ضَرْعَهَا، وَدَعَا حَتَّى أَنْزَلَتْ، قَالَ: وَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمِجَنٍّ فَحَلَبَ أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ حَلَبَ فَسَقَى الرَّاعِيَ، ثُمَّ حَلَبَ فَشَرِبَ، فَقَالَ الرَّاعِي: بِاللَّهِ مَنْ أَنْتَ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِثْلَكَ قَطُّ، قَالَ: «أَوَ تُرَاكَ تَكْتُمُ عَلَيَّ حَتَّى أُخْبِرَكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَإِنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي تَزْعُمُ قُرَيْشٌ أَنَّهُ صَابِئٌ، قَالَ: «إِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ ذَلِكَ» قَالَ: فَأَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مَا جِئْتَ بِهِ حَقٌّ، وَأَنَّهُ لَا يَفْعَلُ مَا فَعَلْتَ إِلَّا نَبِيٌّ، وَأَنَا مُتَّبِعُكَ، قَالَ: «إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَوْمَكَ، فَإِذَا بَلَغَكَ أَنِّي قَدْ ظَهَرْتُ فَأْتِنَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4273 - صحيح

حضرت قیس بن نعما ن رضی اللہ تعالی عنہ فر ما تے ہیں : جب نبی ا کر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ مستخف ہو کر ( مکہ سے) نکلے ۔ ( مستخف اس آ دمی کو کہتے ہیں جس کو اس کی قو م نے حقیر جا نا ہو) تو ان کا گز ر ایک چر وا ہے کے پا س سے ہوا ، وہ بکر یا ں چرا رہا تھا۔ انہوں نے اس سے دودھ ما نگا ،اس نے کہا : اس وقت میرے پا س دودھ دینے صرف یہی بکری ہے اور یہ بھی سر د یو ں کے شر وع میں حا ملہ ہو گئی تھی لیکن اس نے بچہ گر ا دیا تھا، اور اب یہ دودھ نہیں دیتی ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر ما یا : اس کو میرے پا س لا ؤ،وہ اس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا ۔ نبی اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی ٹا نگ کو اپنی ٹا نگ اور ران کے در میا ن دبا لیا اور اس کے تھنو ں پر ہا تھ لگا یا اور دعا ما نگی ، ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہا تھوں اور دعا کی بر کت سے ) اس بکری کا دودھ اتر آیا ۔ ( را وی ) کہتے ہیں:حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ ڈ ھا ل لے آئے ، (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں ) اس کو دوہا ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے پا س بلا یا اور اس کو دوہا ، پھر چر واہے کو بلا یا اور پھر دوہا ۔ سب نے سیر ہو کر دودھ پیا ۔ چر واہا بو لا : تجھے خدا کی قسم ہے کہ تم بتا ؤ کہ تم کون ہو ؟ خدا کی قسم ! میں نے آپ جیسا انسا ن کبھی نہیں د یکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر ما یا : اگر تم میر ی را ز دا ری ر کھو تو میں تمہیں بتا ؤ ں گا (کہ میں کون ہوں) اس نے راز داری بھر لی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر ما یا : بے شک میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں ۔ اس نے کہا : اچھا تم ہی ہو وہ شخص جس کے با رے میں قر یش کا گما ن ہےہے کہ وہ صا بی (ستا رہ ) پر ست ہے ۔ آپصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر ما یا : بے شک وہ لوگ ایسے ہی کہتے ہیں ۔ اس نے کہا : تو میں گوا ہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ نبی ہیں اور میں گو اہی دیتا ہو ں کہ بے شک آپ جوکچھ لائے ہیں سب حق ہے ۔اور جو کما ل آپ نے کر کے دکھا یا ہے یہ نبی کے سوا اور کو ئی نہیں کر سکتا ۔اور بے شک میں آپ کے ہمراہ چلو ں گا ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر ما یا :آج تو تمہا را ہما رے سا تھ جا نا منا سب نہیں ہے ا لبتہ جب تمہیں میرے غلبہ کی خبر مل جا ئے تب ہما رے پا س چلے آنا ۔یہ حد یث صحیح الا سنا د ہے لیکن امام بخا ری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبُو بَكْرٍ مُسْتَخْفِينَ مَرَّا بِعَبْدٍ يَرْعَى غَنَمًا، فَاسْتَسْقَيَاهُ مِنَ اللَّبَنِ، ← لَمَّا انْطَلَقَ النَّبِيُّ ← قَيْسِ بْنِ النُّعْمَانِ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← عُبَیْدُ اللہِ بْنُ اِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4273

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4274

4274 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْخَزَّازُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ ثَابِتِ بْنِ بَشَّارٍ الْخُزَاعِيُّ، ثنا أَخِي أَيُّوبُ بْنُ الْحَكَمِ، وَسَالِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ جَمِيعًا، عَنْ حِزَامِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ هِشَامِ بْنِ حُبَيْشِ بْنِ خُوَيْلِدٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ مُهَاجِرًا إِلَى الْمَدِينَةِ، وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَمَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، وَدَلِيلُهُمَا اللَّيْثِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُرَيْقِطٍ مَرُّوا عَلَى خَيْمَتِيْ أُمِّ مَعْبَدٍ الْخُزَاعِيَّةِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً بَرْزَةً جَلْدَةً تَحْتَبِي بِفِنَاءِ الْخَيْمَةِ، ثُمَّ تَسْقِي وَتُطْعِمُ، فَسَأَلُوهَا لَحْمًا وَتَمْرًا لِيَشْتَرُوا مِنْهَا، فَلَمْ يُصِيبُوا عِنْدَهَا شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، وَكَانَ الْقَوْمُ مُرْمِلِينَ مُسْنِتِينَ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَاةٍ فِي كَسْرِ الْخَيْمَةِ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ الشَّاةُ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ؟» قَالَتْ: شَاةٌ خَلَّفَهَا الْجَهْدُ عَنِ الْغَنَمِ، قَالَ: «هَلْ بِهَا مِنْ لَبَنٍ؟» قَالَتْ: هِيَ أَجْهَدُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «أَتَأْذَنِينَ لِي أَنْ أَحْلُبَهَا؟» قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنْ رَأَيْتَ بِهَا حَلْبًا فَاحْلُبْهَا، فَدَعَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَسَحَ بِيَدِهِ ضَرْعَهَا، وَسَمَّى اللَّهُ تَعَالَى، وَدَعَا لَهَا فِي شَاتِهَا، فَتَفَاجَّتْ عَلَيْهِ وَدَرَّتْ، فَاجْتَرَّتْ فَدَعَا بِإِنَاءٍ يَرْبِضُ الرَّهْطُ فَحَلَبَ فِيهِ ثَجًّا حَتَّى عَلَاهُ الْبَهَاءُ، ثُمَّ سَقَاهَا حَتَّى رَوِيَتْ وَسَقَى أَصْحَابَهُ حَتَّى رَوَوْا وَشَرِبَ آخِرَهُمْ حَتَّى أَرَاضُوا، ثُمَّ حَلَبَ فِيهِ الثَّانِيَةَ عَلَى هَدَّةٍ حَتَّى مَلَأَ الْإِنَاءَ، ثُمَّ غَادَرَهُ عِنْدَهَا، ثُمَّ بَايَعَهَا وَارْتَحَلُوا عَنْهَا، فَقَلَّ مَا لَبِثَتْ حَتَّى جَاءَهَا زَوْجُهَا أَبُو مَعْبَدٍ لِيَسُوقَ أَعْنُزًا عِجَافًا يَتَسَاوَكْنَ هُزَالًا مُخُّهُنَّ قَلِيلٌ، فَلَمَّا رَأَى أَبُو مَعْبَدٍ اللَّبَنَ أَعْجَبَهُ، قَالَ: مِنْ أَيْنَ لَكِ هَذَا يَا أُمَّ مَعْبَدٍ وَالشَّاءُ عَازِبٌ حَائِلٌ، وَلَا حلوبَ فِي الْبَيْتِ؟ قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّهُ مَرَّ بِنَا رَجُلٌ مُبَارَكٌ مِنْ حَالِهِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: صِفِيهِ لِي يَا أُمَّ مَعْبَدٍ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَجُلًا ظَاهِرَ الْوَضَاءَةِ، أَبْلَجَ الْوَجْهِ، حَسَنَ الْخَلْقِ، لَمْ تَعِبْهُ ثَجْلَةٌ، وَلَمْ تُزْرِيهِ صَعْلَةٌ، وَسِيمٌ قَسِيمٌ، فِي عَيْنَيْهِ دَعِجٌ، وَفِي أَشْفَارِهِ وَطَفٌ، وَفِي صَوْتِهِ صَهَلٌ، وَفِي عُنُقِهِ سَطَعٌ، وَفِي لِحْيَتِهِ كَثَاثَةٌ، أَزَجُّ أَقْرَنُ، إِنْ صَمَتَ فَعَلَيْهِ الْوَقَارُ، وَإِنْ تَكَلَّمَ سَمَاهُ وَعَلَاهُ الْبَهَاءُ، أَجْمَلُ النَّاسِ وَأَبْهَاهُ مِنْ بَعِيدٍ، وَأَحْسَنُهُ وَأَجْمَلُهُ مِنْ قَرِيبٍ، حُلْوُ الْمَنْطِقِ فَصْلًا، لَا نَزْرٌ وَلَا هَذْرٌ، كَأَنَّ مَنْطِقَهُ خَرَزَاتُ نَظْمٍ، يَتَحَدَّرْنَ رَبْعَةٌ لَا تَشْنَأَهُ مِنْ طُولٍ، وَلَا تَقْتَحِمُهُ عَيْنٌ مِنْ قِصَرٍ، غُصْنٌ بَيْنَ غُصْنَيْنِ، فَهُوَ أَنْضَرُ الثَّلَاثَةِ مَنْظَرًا وَأَحْسَنُهُمْ، قَدْرًا لَهُ رُفَقَاءُ يَحُفُّونَ بِهِ، إِنْ قَالَ: سَمِعُوا لِقَوْلِهِ، وَإِنْ أَمَرَ تَبَادَرُوا إِلَى أَمْرِهِ، مَحْفُودٌ مَحْشُودٌ لَا عَابِسٌ وَلَا مُفَنَّدٌ، قَالَ أَبُو مَعْبَدٍ: هَذَا وَاللَّهِ صَاحِبُ قُرَيْشٍ الَّذِي ذُكِرَ لَنَا مِنْ أَمْرِهِ مَا ذُكِرَ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَصْحَبَهُ، وَلَأَفْعَلَنَّ إِنْ وَجَدْتُ إِلَى ذَلِكَ سَبِيلًا، وَأَصْبَحَ صَوْتٌ بِمَكَّةَ عَالِيًا يَسْمَعُونَ الصَّوْتَ، وَلَا يَدْرُونَ مَنْ صَاحِبُهُ وَهُوَ يَقُولُ: [البحر الطويل] جَزَى اللَّهُ رَبُّ النَّاسِ خَيْرَ جَزَائِهِ ... رَفِيقَيْنِ حَلَّا خَيْمَتَيْ أُمِّ مَعْبَدِ هُمَا نَزَلَاهَا بِالْهُدَى وَاهْتَدَتْ بِهِ ... فَقَدْ فَازَ مَنْ أَمْسَى رَفِيقَ مُحَمَّدِ فَيَا لَقُصَيٍّ مَا زَوَى اللَّهُ عَنْكُمُ ... بِهِ مِنْ فَعَالٍ لَا تُجَازَى وَسُؤْدُدِ لِيَهْنِ أَبَا بَكْرٍ سَعَادَةُ جَدِّهِ ... بِصُحْبَتِهِ مَنْ يُسْعِدُ اللَّهُ يَسْعَدِ لِيَهْنِ بَنِي كَعْبٍ مَقَامُ فَتَاتِهِمْ ... وَمَقْعَدُهَا لِلْمُؤْمِنِينَ بِمَرْصَدِ سَلُوا أُخْتَكُمْ عَنْ شَاتِهَا وَإِنَائِهَا ... فَإِنَّكُمُ إِنْ تَسْأَلُوا الشَّاةَ تَشْهَدِ دَعَاهَا بِشَاةٍ حَائِلٍ فَتَحَلَّبَتْ ... عَلَيْهِ صَرِيحًا ضَرَّةَ الشَّاةِ مَزْبَدِ فَغَادَرَهُ رَهْنًا لَدَيْهَا لِحَالِبٍ ... يُرَدِّدُهَا فِي مَصْدَرٍ بَعْدَ مَوْرِدِ . فَلَمَّا سَمِعَ حَسَّانٌ الْهَاتِفَ بِذَلِكَ، شَبَّبَ يُجَاوِبُ الْهَاتِفَ، فَقَالَ: [البحر الطويل] لَقَدْ خَابَ قَوْمٌ زَالَ عَنْهُمْ نَبِيُّهُمْ ... وَقُدِّسَ مَنْ يَسْرِي إِلَيْهِمْ وَيَغْتَدِي تَرَحَّلَ عَنْ قَوْمٍ فَضَلَّتْ عُقُولُهُمْ ... وَحَلَّ عَلَى قَوْمٍ بِنُورٍ مُجَدَّدِ هَدَاهُمْ بِهِ بَعْدَ الضَّلَالَةِ رَبُّهُمْ ... فَأَرْشَدَهُمْ مَنْ يَتْبَعِ الْحَقَّ يَرْشُدِ وَهَلْ يَسْتَوِي ضُلَّالُ قَوْمٍ تَسَفَّهُوا ... عَمًى وَهُدَاةٌ يَهْتَدُونَ بِمُهْتَدِ وَقَدْ نَزَلَتْ مِنْهُ عَلَى أَهْلِ يَثْرِبٍ ... رِكَابُ هُدًى حَلَّتْ عَلَيْهِمْ بِأَسْعَدِ نَبِيٌّ يَرَى مَا لَا يَرَى النَّاسُ حَوْلَهُ ... وَيَتْلُو كِتَابَ اللَّهِ فِي كُلِّ مَشْهَدِ وَإِنْ قَالَ فِي يَوْمٍ مَقَالَةَ غَائِبٍ ... فَتَصْدِيقُهَا فِي الْيَوْمِ أَوْ فِي ضُحَى الْغَدِ « هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَيُسْتَدَلُّ عَلَى صِحَّتِهِ وَصِدْقِ رُوَاتِهِ بِدَلَائِلَ، فَمِنْهَا نُزُولُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْمَتَيْنِ مُتَوَاتِرًا فِي أَخْبَارٍ صَحِيحَةٍ ذَوَاتِ عَدَدٍ، وَمِنْهَا أَنَّ الَّذِينَ سَاقُوا الْحَدِيثَ عَلَى وَجْهِهِ أَهْلُ الْخَيْمَتَيْنِ مِنِ الْأَعَارِيبِ الَّذِينَ لَا يُتَّهَمُونَ بِوَضْعِ الْحَدِيثِ وَالزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ، وَقَدْ أَخَذُوهُ لَفْظًا بَعْدَ لَفْظٍ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، وَأُمِّ مَعْبَدٍ، وَمِنْهَا أَنَّ لَهُ أَسَانِيدَ كَالْأَخْذِ بِالْيَدِ أَخْذِ الْوَلَدِ عَنْ أَبِيهِ، وَالْأَبِ عَنْ جَدِّهِ لَا إِرْسَالٌ وَلَا وَهَنٌ فِي الرُّوَاةِ وَمِنْهَا أَنَّ الْحُرَّ بْنَ الصَّبَّاحِ النَّخَعِيَّ أَخَذَهُ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ كَمَا أَخَذَهُ وَلَدُهُ عَنْهُ، فَأَمَّا الْإِسْنَادُ الَّذِي رَوَيْنَاهُ بِسِيَاقِةِ الْحَدِيثِ عَنِ الْكَعْبِيِّينَ فَإِنَّهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَالٍ لِلْعَرَبِ الْأَعَارِبَةِ وَقَدْ عَلَوْنَا فِي حَدِيثِ الْحُرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ" [ص:12] [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4274 - صحيح

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیا رے صحا بی حضرت ہشا م بن حبیش بن خو یلد رضی اللہ تعالی عنہ فر ما تے ہیں : جب رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے غلا م حضرت عا مر بن فہیر ہ رضی اللہ تعالی عنہ کی معیت میں مکہ سے ہجرت کر کے مد ینہ شر یف کی جا نب روا نہ ہو ئے اور ا ن کے راہ بتا نے والے حضرت عبد اللہ بن اریقط لیثی رضی اللہ تعالی عنہ تھے ۔ یہ لوگ امام معبد خز ا عیہ رضی اللہ تعالی عنہ کے خیمو ں کے پا س سے گز رے ( امام معبد بہت دلیر اور طا قتور خا تون تھیں اور یہ خیمے کے صحن میں چا در لپیٹ کر بیٹھ جا تی تھیں اور یہیں کھا نا و غیر ہ تھا یا کر تی تھیں ) انہو ں نے ( اما م معبد سے) پو چھا : تمہا رے پاس گو شت یا کھجو ر یں وغیر ہ ہو ں تو ہم خر ید نا چا ہتے ہیں ۔ لیکن امام معبد رضی اللہ تعالی عنہ کے پا س بیچنے کے لئے کچھ نہ تھا ۔ کیو نکہ یہ لو گ بہت نا دار اور قحط زدہ تھے ۔ رسول اللہ نے ان کے خیمے کے ایک کو نے میں بکری کھڑی د یکھی تو فر ما یا : اے ام معبد ! یہ بکری یہا ں کیو ں کھڑی ہے ؟ امام معبد رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا : اس میں ریو ڑ کے ہمرا ہ چلنے کی سکت نہ تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پو چھا : کیا یہ دودھ دیت ہے ؟ اس نے بتا یا کہ یہ دودھ دینے سے بھی عا جز ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر ما یا : کیا تم مجھے اس کا دودھ دو ہنے کی اجا زت دیتی ہو ؟ اس نے کہا : حضور ! میرے ماں با پ آپ پر قر با ن ہو ں اگر آپ اس میں دودھ دیکھتے ہیں تو دودہ لیجئے ۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اپنے پا س منگوا کر اس کے تھنو ں پر اپنے دست مبا رک لگا ئے ، اللہ تعا لیٰ کا نا م لیا اور اس کے لئے دعا فر ما ئی ،( نبی اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہا تھو ں اور دعا کی بر کت سے ) بکری نے اپنی ٹا نگیں کھول دیں اور خوب دودھ اتا ر لیا ۔ نبی اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تما م لو گو ں کو بٹھا لیا اور ایک برتن منگوا کر اس میں دودھ دوہا ، حتی کہ وہ برتن بھر گیا ، حضو رصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دودھ امام معبد رضی اللہ تعالی عنہ کو پلا یا ،اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سا تھیو ں نے بھی یہ دودھ پیٹ بھر کر پی لیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبا رہ پھر اس بر تن میں دودھ دوہا حتی کہ بر تن بھر گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ دودھ اس طر ح رہنے دیا ، پھر وہ بکری اس سے خر ید کر و ہیں چھو ڑ دی اور وہا ں سے روانہ ہو گئے ۔ ابھی زیا دہ دیر نہیں گز ری تھی کہ اس کا شو ہر ابو معبد کچھ لا غر بکر یا ں ہا نکتے ہو ئے آ گیا ، وہ بکر یا ں کمز وری کی وجہ سے بہت سست چل ر ہی تھیں ، ان کی ہڈ یو ں کا گو دا کم ہو چکا تھا ۔ جب ابو معبد نے گھر میں دودھ دیکھا تو بہت حیران ہو کر پو چھنے لگا : اےام معبد ! گھر میں تو کو ئی دودھ دینے وا لی بکری نہ تھی ، یہ دودھ کہا ں سے آیا ؟ اس نے کہا : خدا کی قسم ! ایک آ دمی ادھر سے گز را ہے جو بہت بر کت وا لا تھا ، پھر تما م ما جرا سنا دیا ۔ابو معبد نے کہا : تم مجھے اس کے اوصا ف بتا ؤ ، اس نے کہا : میں نے آج جس آدمی کو د یکھا ہے وہ خو بصورت ، ہنس مکھ ، اور روشن چہر ے وا لا تھا اس کا ثجلہ تھکا تا نہیں ہے ( ثجلہ کا مطلب ہے ’’ مو ٹے پیٹ وا لا ہو نا ‘‘ معنی یہ ہو گا کہ اس کا پیٹ اتنا مو ٹا نہیں تھا کہ چلنے میں اس کی و جہ سے تھکا وٹ ہو تی ہو)اس میں صعلہ کا عیب بھی نہیں تھا ( صعلہ کا مطلب ہے ، چھو ٹی اور پتلی گر دن وا لا ہو نا ) بہت ہی خبصو رت ہے ، اس کی آ نکھیں بڑی اور سیا ہ تھیں ، اس کی پلکیں گھنی تھیں، اس کی آ واز میں تیز ی تھی ، گر دن بلند تھی ، ڈاڑھی گھنی تھی، با ر یک دراز ملے ہوئے ابر و تھے ، اگر وہ چپ ہو تو اس کی شخصیت پر ایک وقا ر ہوتا ہے ، اگر گفتگو کرے تو اس وقار میں مزید اضا فہ ہو جا تا ہے ،اس کو دور سے دیکھو تو سب سے زیادہ خو بصورت نظر آتا ہے ،اور قریب سے دیکھو تو حسن و جما ل اس سے بھی بڑھ کر دکھتاہے ، ٹھہر ٹھہر کر میٹھی با تیں کر نے والا ہے ،نہ بے بر کت ہے ،نہ بے ہو دہ گفتگو کر نے والا ہے ،اس کی باتیں ایسی ہیں گو یا کہ قیمتی مو تیو ں کو پرو کر عطر فر وش کے ڈبے میں اتا ر دیا گیا ہو ،نہ اتنے لمبے تھے کہ د یکھنے والا نفرت کرے اور نہ اس قدر پستہ قد تھے کہ آنکھ کو برا لگے ،بلکہ میا نہ قد تھے ،آپ پتیو ں سے زیا دہ تر و تا زہ خو بصورت اور با عز ت تھے ،اس کے دوست ہمیشہ اس کے سا ئبا ن کی طرح رہتے تھے ، وہ با ت کرے تو بہت تو جہ سے سنتے ہیں، کسی چیز کا حکم سے تو ایک دوسرے سے بڑھ کر عمل کر تے ہیں ،وہ مخدوم ہے ،جلد با ت ما ننے وا لے ہیں ، تر ش رو ملا ت گر نہیں ہیں ، (یہ سن کر) ابو معبد بولا : خدا کی قسم ! یہ آدمی وہی ہے جس کے با رے میں قر یش نے مجھے بتا یا تھا، میں اس کی سنگت اختیا ر کر نے کی کو شش کرتا ہوں اگر میں مجھے اس کی طرف راہ ملا تو میں کا م ضرور کر وں گا ۔ اور مکہ میں ایک آواز بلند ہوئی لو گوں نے یہ آواز سنی مگر کسی کو پتہ نہ چل سکا کہ یہ آواز کہا ں سے آ رہی ہے ۔کہنے والا کہہ رہا تھا ۔ اللہ تعا لیٰ ان دو سا تھیوں کو جزائے خیر عطا فرما ئے جو امام معبد کے دو خیمو ں میں آئے۔وہ دونوں ہدا یت کے سا تھ وہا ں سے اترے اور اس (امام معبد )کو بھی اس سے ہد ایت ملی پس وہ کا میا ب ہو گیا جو محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سا تھی ہوا۔ابو بکر کو ان کے آبا ؤ اجداد ک نیک بختی ملی ان کے صحبت کی بر کت سے سعا دت مند ہوا جس کو اللہ تعا لی ٰسعادت مند کرے ۔اور نبی کعب کو ان کی سخا وت ملی اور ان کے بیٹھنے کی جگہ مو منو ں کیلئے بد لہ و جزا کا مقا م ہے ۔تم اپنی بہن سے اس کی بکری اور برتن کے متعلق پو چھو۔ بے شک اگر تم بکری سے پو چھو گے تووہ بھی گوا ہی دے گی ۔ انہوں نے ایسی بکری منگوا ئی جو دودھ دینے کی صلا حیت نہیں رکھتی تھی، لیکن اس بکری نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سا منے جھاگ پھینکتا(یعنی خا لص) دودھ دیا ۔پھر انہوں نے وہ بکری اسی کے پا س رہن چھوڑ دی اور وہ دودھ دوہنے والا باربار اس کا دودھ دوہتا رہا۔جب حضرت حسان رضی اللہ تعالی عنہ نے ہاتف غیبی کی یہ آواز سنی تو فو راً اس کے جواب میں آپ نے فر ما یا : وہ قوم بربا د ہو گئی جن سے ان کا نبی چلا گیا اور وہ لوگ خوش قسمت ہیں جن کی طرف اللہ کا نبی روانہ ہوا۔وہ اس قو م سے کو چ کر گئے ہیں جن کی عقلیں زائل ہو چکی ہیں اور ایک قوم کے پا س بز رگی والے نور کے ساتھ تشریف لے گئے ہیں۔ان کے رب نے ان کو گمراہی کے بعد ہدا یت عطا فرمائی اور ان کو ہدا یت دی جو حق کی پیروی کرتے ہو ئے ہد ایت ڈھو نڈتا ہے ،اورکیا برابر ہے بے وقو ف اندھی قوم کی گمراہی اور وہ راہنماجو مر شدکامل سےہدا یت حا صل کر تے ہیں۔ اور تحقیق اس سے اتری ہے اہل یژربپر ہد ا یت کی رکا ب جو ان پر نیک بختی لے کر آئی۔ یہ نبی ہیں جو اپنے اردگرد وہ سب کچھ د یکھتے ہیں جو دوسر وںکو نظر نہیں آتا اوریہ ہر مقا م پر اللہ کی کتا ب کی تلا وت کر تے ہیں۔اور اگر یہ کسی دن کو ئی پیشین گو ئی کر دیں تو اسی دن یا اس سے اگلے دن تصد یق ہو جا تی ہے ۔ یہ حد یث صحیح الا سنا د ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس کی صحت اور اس کی راویوں کی صدا قت پر درج ذیل دلا ئل مو جو د ہیں۔(۱)رسولاللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دو خیمو ں میں تشریف لا نا متعدد احا دیث صحیحہ سے ثا بت ہے (۲) جنہوں نے یہ حد یث اس انداز سے بیا ن کی ہے وہ لوگ ہیں جن پر حد یث گھڑنے اور اس میں کمی زیا دتی کی کو ئی تہمت نہیں ہے۔اور انہوں نے امام معبد اور ابو معبد سے لفظ بہ لفظ بیا ن کی ہے۔(۳)اس کی سند ایسی ہے جیسے بیٹابا پ سے ، وہ اس کے دادا سے ہا تھوں ہا تھ حد یث لے ۔ اس میں نہ تو کو ئی ارسا ل ہے اور نہ کو ئی ضعف ہے(۴)حربن الصبا ح النخعی نے اس کو ابو معبد سے اس طرح روایت کیا ہے جیسے ان کے بیٹےنے ان سے روا یت کی ہے۔ اور وہ اسنا د جو ہم نے کعبین کی حد یث م کی سند کے سا تھ روا یت کی ہے وہ اسنا د صحیح ہے اور عرب عر باءکی سند عالی ہے ۔ اور بے شک حر بن ا لصبا ح کی حد یث میں ہما ری سند عالی ہے ۔(جیسا کہ درج زیل ہے)

أَبِيهِ هِشَامِ بْنِ حُبَيْشِ بْنِ خُوَيْلِدٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ ← حِزَامُ بْنُ هِشَامٍ ← أَخِي أَيُّوبُ بْنُ الْحَكَمِ، وَسَالِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ جَمِيعًا، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ ثَابِتِ بْنِ بَشَّارٍ الْخُزَاعِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْخَزَّازُ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4274

chevron_left Previous
1…703704705…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section