المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4251
4251 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو الْعَدَنِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ فِي الْمَوْسِمِ وَمَجَنَّةِ وَعُكَاظٍ وَمَنَازِلِهِمْ مِنْ مِنَىً «مَنْ يُؤْوِينِي، مَنْ يَنْصُرُنِي، حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَاتِ رَبِّي فَلَهُ الْجَنَّةُ؟» فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَنْصُرُهُ وَلَا يُؤْوِيَهُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْحَلُ مِنْ مِصْرَ، أَوْ مِنَ الْيَمَنِ إِلَى ذِي رَحِمِهِ فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ فَيَقُولُونَ لَهُ: احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنَّنَكَ وَيَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ مِنْ يَثْرِبَ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ مِنَّا فَيُؤْمِنُ بِهِ، وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا وَفِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ، وَبَعَثَنَا اللَّهُ إِلَيْهِ فَائْتَمَرْنَا وَاجْتَمَعْنَا وَقُلْنَا: حَتَّى مَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ، فَرَحَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ فَوَاعَدَنَا بَيْعَةَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ لَهُ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ: يَا ابْنَ أَخِي لَا أَدْرِي مَا هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ الَّذِينَ جَاءُوكَ إِنِّي ذُو مَعْرِفَةٍ بِأَهْلِ يَثْرِبَ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ فَلَمَّا نَظَرَ الْعَبَّاسُ فِي وُجُوهِنَا قَالَ: هَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَا نَعْرِفُهُمْ، هَؤُلَاءِ أَحْدَاثٌ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى مَا نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: «تُبَايعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ، وَالْكَسَلِ، وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ، وَالْيُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَعَلَى أَنْ تَقُولُوا فِي اللَّهِ لَا تَأْخُذْكُمْ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِيَ إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ، وَتَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ عَنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمُ الْجَنَّةُ» فَقُمْنَا نُبَايِعُهُ وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ أَصْغَرُ السَّبْعِينَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ، إِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَيْهِ أَكْبَادَ الْمَطِيِّ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ وَأَنَّ يَعَضَّكُمُ السَّيْفُ فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَيْهَا إِذَا مَسَّتْكُمْ وَعَلَى قَتْلِ خِيَارِكُمْ وَمُفَارَقَةِ الْعَرَبِ كَافَّةً، فَخُذُوهُ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ وَإِمَّا أَنْتُمْ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً فَذَرُوهُ فَهُوَ عُذْرٌ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالُوا: يَا أَسْعَدُ أَمِطْ عَنَّا يَدَكَ فَوَاللَّهِ لَا نَذَرُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ وَلَا نَسْتَقِيلُهَا، قَالَ: فَقُمْنَا إِلَيْهِ رَجُلًا رَجُلًا فَأَخَذَ عَلَيْنَا لِيُعْطِيَنَا بِذَلِكَ الْجَنَّةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ جَامِعٌ لِبَيْعَةِ الْعَقَبَةِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4251 - صحيح
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دس سال تک لوگوں کو حج کے موقع پر مجنہ اور عکاظ میں ، منی ٰ میں ان کے خیموں میں پیچھے پیچھے پھرتے اور فرماتے جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانے میں مجھے ٹھکانہ دے گا اور میری مدد کرے گا ، اس کو جنت ملے گی۔ لیکن کوئی شخص نہ آپ کو ٹھکانہ دینے کے لئے تیار ہوتا نہ آپ کی مدد کے لئے تیار ہوتا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی آدمی مصر یا یمن سے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کےلئے بھی آتا تو اس کی قوم کے لوگ اس کو تاکید کرتے کہ قریش کے اس لڑکے سے بچ کر رہنا یہ کہیں تمہیں فتنہ میں مبتلا نہ کردے ۔ آپ ﷺ ان لوگوں کے قافلوں کے درمیان چلتے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ۔ وہ لوگ انگلیوں کے ساتھ آپ کی طرف اشارے کرتے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یثرب (مدینہ ) سے بھیجا ۔ تو ہم میں سے ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس جاتا آپ پر ایمان لاتا ، آپ اس کو قرآن پڑھاتے تو وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر آتا تو اس کے گھر والے اس کے اسلام کی وجہ سے اسلام لے آتے ۔ حتیٰ کہ انصار کی حویلیوں میں کوئی حویلی ایسی نہ بچی تھی جس میں کچھ لوگ مسلمان نہ ہوئے ہوں،وہ اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ کے پاس بھیجا ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ آخر رسول اللہ ﷺ کب تک اس طرح پہاڑوں ، غاروں میں چھپ چھپ کر خوفزدہ رہ کر تبلیغ کریں گے۔ پھر ہم نکل پڑے اور حج کے موقع پر آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوگئے ۔ آپ نے ہم سے بیعت عقبہ کا وعدہ لیا۔ آپ ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا : اے بھتیجے ! یہ لوگ جو تیرے پاس آئے ہوئے ہیں، میں ان کو نہیں جانتا کہ کون لوگ ہیں اور میں اہل یثرب کو تو بڑی اچھی طرح جانتا ہوں ۔ پھر یک ایک ، دو دو کرکے رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے ۔ جب حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ہمارے چہروں کی طرف دیکھا تو بولے : یہ لوگ کوئی نئے لوگ ہیں ، میں ان کو نہیں پہچانتا۔ ہم نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ ہم کس بات پر آپ ﷺ کی بیعت کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم اس بات پر میری بیعت کرو کہ سستی و چستی ہر حال میں فرمانبرداری کرو گے اور خوشحالی اور تنگدستی ہر حال میں اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اور یہ کہ جب میں تمہارے پاس آؤں گا تو تم میری مدد کرو گے اور جس طرح اپنی اور اپنے اہل وعیال کی حفاظت اور دفاع کرتے ہو اسی طرح میرا بھی دفاع کرو گے۔ اور( اس سب کے عوض) تمہارے لئے جنت ہے ۔ ہم نے آپ کی بیعت کرلی اور سعد بن زرارہ نے آپ کا ہاتھ تھا م لیا ۔ یہ ان ستر آدمیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ یہ کہنے لگے : اے اہل یثرب ٹھہرو! ہم ان کی طرف اس یقین کے ساتھ سفر کرکے آئے ہیں کہ کہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ہیں ( یہ بات یار رکھو کہ ) آج ان کو یہاں سے لے جانا پورے اہل عرب کے ساتھ دشمنی کےمترادب ہے اور تمہارے بڑوں کے قتل اور خود تمہاری موت کے مترادف ہے ۔ چنانچہ اگر تم آنے والی ان تکلیفوں پر صبر کرسکتے ہو، اپنے بڑوں کے قتل اور عرب کی دشمنی مول لے سکتے ہوں تو ان کو اپنے ساتھ لے جاؤ، اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا اور اگر تمہارے اندر ان چیزوں کا خوف موجود ہے تو رہنے دو کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عذر ہے۔ وہ لوگ بولے ! اے سعد اپنا ہاتھ ہماری طرف بڑھاؤ ۔ خدا کی قسم ! ہم یہ بیعت ضرور کریں گے اور کبھی اس کو نہیں توڑیں گے۔ آپ فرماتے ہیں : ہم ایک ایک کرکے آپ ﷺ کے پاس گئے تو آپ ﷺ نے ہم سے جنت کے بدلے عہد لیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور بیعت عقبہ کی جامع ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہمانے اس کو نقل نہیں کیا۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو الْعَدَنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمُقْرِئُ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4251
