Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4251

4251 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو الْعَدَنِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ فِي الْمَوْسِمِ وَمَجَنَّةِ وَعُكَاظٍ وَمَنَازِلِهِمْ مِنْ مِنَىً «مَنْ يُؤْوِينِي، مَنْ يَنْصُرُنِي، حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَاتِ رَبِّي فَلَهُ الْجَنَّةُ؟» فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَنْصُرُهُ وَلَا يُؤْوِيَهُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْحَلُ مِنْ مِصْرَ، أَوْ مِنَ الْيَمَنِ إِلَى ذِي رَحِمِهِ فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ فَيَقُولُونَ لَهُ: احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنَّنَكَ وَيَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ مِنْ يَثْرِبَ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ مِنَّا فَيُؤْمِنُ بِهِ، وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا وَفِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ، وَبَعَثَنَا اللَّهُ إِلَيْهِ فَائْتَمَرْنَا وَاجْتَمَعْنَا وَقُلْنَا: حَتَّى مَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ، فَرَحَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ فَوَاعَدَنَا بَيْعَةَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ لَهُ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ: يَا ابْنَ أَخِي لَا أَدْرِي مَا هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ الَّذِينَ جَاءُوكَ إِنِّي ذُو مَعْرِفَةٍ بِأَهْلِ يَثْرِبَ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ فَلَمَّا نَظَرَ الْعَبَّاسُ فِي وُجُوهِنَا قَالَ: هَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَا نَعْرِفُهُمْ، هَؤُلَاءِ أَحْدَاثٌ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى مَا نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: «تُبَايعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ، وَالْكَسَلِ، وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ، وَالْيُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَعَلَى أَنْ تَقُولُوا فِي اللَّهِ لَا تَأْخُذْكُمْ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِيَ إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ، وَتَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ عَنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمُ الْجَنَّةُ» فَقُمْنَا نُبَايِعُهُ وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ أَصْغَرُ السَّبْعِينَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ، إِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَيْهِ أَكْبَادَ الْمَطِيِّ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ وَأَنَّ يَعَضَّكُمُ السَّيْفُ فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَيْهَا إِذَا مَسَّتْكُمْ وَعَلَى قَتْلِ خِيَارِكُمْ وَمُفَارَقَةِ الْعَرَبِ كَافَّةً، فَخُذُوهُ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ وَإِمَّا أَنْتُمْ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً فَذَرُوهُ فَهُوَ عُذْرٌ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالُوا: يَا أَسْعَدُ أَمِطْ عَنَّا يَدَكَ فَوَاللَّهِ لَا نَذَرُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ وَلَا نَسْتَقِيلُهَا، قَالَ: فَقُمْنَا إِلَيْهِ رَجُلًا رَجُلًا فَأَخَذَ عَلَيْنَا لِيُعْطِيَنَا بِذَلِكَ الْجَنَّةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ جَامِعٌ لِبَيْعَةِ الْعَقَبَةِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4251 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دس سال تک لوگوں کو حج کے موقع پر مجنہ اور عکاظ میں ، منی ٰ میں ان کے خیموں میں پیچھے پیچھے پھرتے اور فرماتے جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانے میں مجھے ٹھکانہ دے گا اور میری مدد کرے گا ، اس کو جنت ملے گی۔ لیکن کوئی شخص نہ آپ کو ٹھکانہ دینے کے لئے تیار ہوتا نہ آپ کی مدد کے لئے تیار ہوتا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی آدمی مصر یا یمن سے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کےلئے بھی آتا تو اس کی قوم کے لوگ اس کو تاکید کرتے کہ قریش کے اس لڑکے سے بچ کر رہنا یہ کہیں تمہیں فتنہ میں مبتلا نہ کردے ۔ آپ ﷺ ان لوگوں کے قافلوں کے درمیان چلتے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ۔ وہ لوگ انگلیوں کے ساتھ آپ کی طرف اشارے کرتے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یثرب (مدینہ ) سے بھیجا ۔ تو ہم میں سے ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس جاتا آپ پر ایمان لاتا ، آپ اس کو قرآن پڑھاتے تو وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر آتا تو اس کے گھر والے اس کے اسلام کی وجہ سے اسلام لے آتے ۔ حتیٰ کہ انصار کی حویلیوں میں کوئی حویلی ایسی نہ بچی تھی جس میں کچھ لوگ مسلمان نہ ہوئے ہوں،وہ اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ کے پاس بھیجا ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ آخر رسول اللہ ﷺ کب تک اس طرح پہاڑوں ، غاروں میں چھپ چھپ کر خوفزدہ رہ کر تبلیغ کریں گے۔ پھر ہم نکل پڑے اور حج کے موقع پر آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوگئے ۔ آپ نے ہم سے بیعت عقبہ کا وعدہ لیا۔ آپ ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا : اے بھتیجے ! یہ لوگ جو تیرے پاس آئے ہوئے ہیں، میں ان کو نہیں جانتا کہ کون لوگ ہیں اور میں اہل یثرب کو تو بڑی اچھی طرح جانتا ہوں ۔ پھر یک ایک ، دو دو کرکے رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے ۔ جب حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ہمارے چہروں کی طرف دیکھا تو بولے : یہ لوگ کوئی نئے لوگ ہیں ، میں ان کو نہیں پہچانتا۔ ہم نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ ہم کس بات پر آپ ﷺ کی بیعت کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم اس بات پر میری بیعت کرو کہ سستی و چستی ہر حال میں فرمانبرداری کرو گے اور خوشحالی اور تنگدستی ہر حال میں اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اور یہ کہ جب میں تمہارے پاس آؤں گا تو تم میری مدد کرو گے اور جس طرح اپنی اور اپنے اہل وعیال کی حفاظت اور دفاع کرتے ہو اسی طرح میرا بھی دفاع کرو گے۔ اور( اس سب کے عوض) تمہارے لئے جنت ہے ۔ ہم نے آپ کی بیعت کرلی اور سعد بن زرارہ نے آپ کا ہاتھ تھا م لیا ۔ یہ ان ستر آدمیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ یہ کہنے لگے : اے اہل یثرب ٹھہرو! ہم ان کی طرف اس یقین کے ساتھ سفر کرکے آئے ہیں کہ کہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ہیں ( یہ بات یار رکھو کہ ) آج ان کو یہاں سے لے جانا پورے اہل عرب کے ساتھ دشمنی کےمترادب ہے اور تمہارے بڑوں کے قتل اور خود تمہاری موت کے مترادف ہے ۔ چنانچہ اگر تم آنے والی ان تکلیفوں پر صبر کرسکتے ہو، اپنے بڑوں کے قتل اور عرب کی دشمنی مول لے سکتے ہوں تو ان کو اپنے ساتھ لے جاؤ، اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا اور اگر تمہارے اندر ان چیزوں کا خوف موجود ہے تو رہنے دو کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عذر ہے۔ وہ لوگ بولے ! اے سعد اپنا ہاتھ ہماری طرف بڑھاؤ ۔ خدا کی قسم ! ہم یہ بیعت ضرور کریں گے اور کبھی اس کو نہیں توڑیں گے۔ آپ فرماتے ہیں : ہم ایک ایک کرکے آپ ﷺ کے پاس گئے تو آپ ﷺ نے ہم سے جنت کے بدلے عہد لیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور بیعت عقبہ کی جامع ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہمانے اس کو نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو الْعَدَنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمُقْرِئُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4251

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4252

4252 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: «كَانَ بَيْنَ لَيْلَةِ الْعَقَبَةِ وَبَيْنَ مُهَاجَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ، أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا وَكَانَتْ بَيْعَةُ الْأَنْصَارِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ فِي ذِي الْحِجَّةِ، وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فِي شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4252 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابن شہاب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : لیلۃالعقبہ اور رسول اللہ ﷺ کی ہجرت میں تقریباً تین مہینے کا وقفہ ہے کیونکہ انصار نے ذی الحجہ میں لیلۃ العقبہ میں رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی اور ربیع الاول میں حضورﷺ نےہجرت فرمائی ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4252

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4253

4253 - حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَغَيْرِهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنُّقَبَاءِ مِنَ الْأَنْصَارِ: «تُؤْوُونِي وَتَمْنَعُونِي؟» قَالُوا: نَعَمْ، فَمَا لَنَا؟ قَالَ: «الْجَنَّةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4253 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے انصاری عمائدین سے فرمایا تم مجھے ٹھکانہ دو گے اور میرا دفاع کروگے؟ انہوں نے کہا: بالکل کریں گے۔ لیکن اس کے بدلے میں ہمارے لئے کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جنت۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے ۔لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَغَيْرِهِ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← حَمْزَةُ بْنُ العَبَّاس الْعَقَبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4253

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4254

4254 - حَدَّثَنَا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعِيرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ قَالَ: " أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا الْمَدِينَةَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكَانُوا يُقْرِءُونَنَا فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ قَرَأْتُ سِبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَسُوَرًا مِنَ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ قَدِمَ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ثُمَّ قَدِمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ فَرَحَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ يَسْعَوْنَ يَقُولُونَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4254 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مہاجرین میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے ۔ یہ ہمیں قرآن پڑھایا کرتے تھے اور جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو اس وقت تک میں سورۃ سبح اسم ربک الاعلیٰ اور مفصل میں سے ایک سورۃ پڑھ چکا تھا ۔ پھر حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، پھر حضرت عمر بن خطاب 20 افراد کے ہمراہ تشریف لائے۔ پھر حضور ﷺ بھی تشریف لے آئے تو جتنی خوشی ہمیں رسول اللہ ﷺ کے تشریف لانے کی تھی کبھی کسی چیز کی اتنی خوشی نہیں ہوئی تو عورتیں اور بچے یہ کہتے ہوئے دوڑے چلے آرہے تھے کہ "یہ رسول اللہ ﷺ ہیں"۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے ۔لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

سُوَرًا مِنَ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ قَدِمَ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ ← سِبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ← ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكَانُوا يُقْرِءُونَنَا فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ وَقَدْ ← أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا الْمَدِينَةَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامٍ، ← أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4254

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4255

4255 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّصْرِ أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الْكَاتِبُ بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْخُزَامِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ: كَمْ لَبِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: عَشْرُ سِنِينَ، قُلْتُ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «لَبِثَ بِضْعَ عَشْرَةَ حَجَّةً» قَالَ: إِنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ قَوْلِ الشَّاعِرِ، قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَجُوزًا مِنَ الْأَنْصَارِ تَقُولُ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَخْتَلِفُ إِلَى صِرْمَةِ بْنِ قَيْسٍ يَتَعَلَّمُ مِنْهُ هَذِهِ الْأَبْيَاتَ: [البحر الطويل] ثَوَى فِي قُرَيْشٍ بِضْعَ عَشْرَةَ حَجَّةً ... يُذَكِّرُ لَوْ أَلْفَى صَدِيقًا مُوَاتِيَا وَيَعْرِضُ فِي أَهْلِ الْمَوَاسِمِ نَفْسَهُ ... فَلَمْ يَرَ مَنْ يُؤْوِي وَلَمْ يَرَ دَاعِيَا فَلَمَّا أَتَانَا وَاسْتَقَرَّتْ بِهِ النَّوَى ... وَأَصْبَحَ مَسْرُورًا بِطَيْبَةَ رَاضِيَا وَأَصْبَحَ مَا يَخْشَى ظُلَامَةَ ظَالِمٍ ... بَعِيدٍ وَمَا يَخْشَى مِنَ النَّاسِ بَاغِيَا بَذَلْنَا لَهُ الْأَمْوَالَ مِنْ جُلِّ مَالِنَا ... وَأَنْفُسَنَا عِنْدَ الْوَغَى وَالتَّأَسِّيَا نُعَادِي الَّذِي عَادَى مِنَ النَّاسِ كُلِّهِمْ ... بِحَقٍّ وَإِنْ كَانَ الْحَبِيبُ الْمُوَاتِيَا وَنَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ لَا شَيْءَ غَيْرُهُ ... وَأَنَّ كِتَابَ اللَّهِ أَصْبَحَ هَادِيَا « هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَهُوَ أَوْلَى مَا تَقُومُ بِهِ الْحُجَّةُ عَلَى مَقَامِ سَيِّدَنَا الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ بِضْعَ عَشْرَةَ سَنَةً وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4255 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عمر بن دینار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : نبی اکرم ﷺ کتنا عرصہ مکہ میں رہے ؟ انہوں نے کہا : دس سال۔ میں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہ تو کہتے ہیں : دس اور کچھ حج ( یعنی دس سال سے کچھ عرصہ زیادہ ) رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا : انہوں نے (یہ ) نتیجہ شاہر کے اشعار سے اخذ کیا ہوگا ۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں : یحیی ٰ بن سعد کا بیان ہے کہ ایک انصاری خاتون کہا کرتی تھیں کہ میں نے کئی مرتبہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو صرمہ بن قیس کے پاس یہ اشعار سیکھنے کے لئے آتے دیکھا ہے ۔ " آپ قریش میں دس حج اور کچھ عرصہ ٹھہرے ہیں ، زکر کرتا اگر کوئی موافقت کرنے والا دوست پاتا ۔ وہ حج کے موقعوں پر اپنے آپ کو پیش کرتا لیکن کوئی ایسا نہ ملتا جو ٹھکانہ دیتا اور نہ کوئی بلانے والا نظر آتا ۔ جب وہ ہمارے پاس آگیا اور اس کے دل کو قرار آگیا تو وہ طیبہ کی سرزمین پر راضی اور مسرور ہوگیا ۔ اور ظالم کے جس ظلم کا اور لوگوں کی بغاوت کا جو خدشہ تھا وہ بھی ہوگیا ۔ ہم نے لڑائی اور تسلی کے ہر موقع پر اپنا مال اور اپنی جانیں ان پر قربان کی ہیں ۔ ہم ہر اس شخص کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں جو حق کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے ۔اگرچہ وہ پہلے ہمارا کتنا ہی موافقت کرنے والا دوست ہی کیو ں نہیں تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں اور بے شک اس کی کتاب ہدایت کا سرچشمہ ہے"۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے ۔لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے مکۃالمکرمہ میں دس سالوں سے کچھ زیادہ قیام پر بہت اچھی دلیل ہے۔ نوٹ:۔ اور اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے ۔ وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ قَوْلِ الشَّاعِرِ، ← «لَبِثَ بِضْعَ عَشْرَةَ حَجَّةً» ← عَشْرُ سِنِينَ، قُلْتُ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ← قُلْتُ لِعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ: كَمْ لَبِثَ النَّبِيُّ بِمَكَّةَ؟ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْخُزَامِيُّ، ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أَبُو النَّصْرِ أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الْكَاتِبُ بِهَمْدَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4255

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4256

4256 - حَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً بِمَكَّةَ، سَبْعًا وَثَمَانِيًا يَرَى الضَّوْءَ، وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4256 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( یہ اعلان نبوت کے بعد ) نبی اکرم ﷺ مکہ مکرمہ میں 15 سال رہے، یعنی سات جمع آٹھ( اور ان میں ایسا بھی وقت گزرا) جب آپ ( روپوشی کی زندگی گزار رہے تھے) آپ روشنی دیکھ سکتے تھے( باہر سے آنے والی ) آواز سن سکتے تھے اور مدینۃ المنورہ میں 10 سال رہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4256

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4257

4257 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ شِهَابِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: مَشَيْتُ مَعَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ أَبِي، حَدَّثَنِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، «أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَمَّرَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَقَدِ اتَّفَقَتِ الرِّوَايَاتُ عَلَى هَذِهِ مَعَ الرِّوَايَاتِ الَّتِي أَخْرَجَاهَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَأَمَّا خَبَرُ أَنَسٍ، وَمُعَاوِيَةَ وَإِنْ صَحَّتْ أَسَانِيدُهُمَا فِي عَشْرِ سِنِينَ فَلَيْسَ عَلَيْهِمَا الْقَوْلُ وَالْعَمَلُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4257 - صحيح

۴۲۵۷-حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکر مہ میں ۱۳ سال رکھا۔یہ حدیث صحیح الا سناد ہے لیکن اما م بخا ر ی رحمۃاللہ علیہ ا ور ا ما م مسلم رحمۃاللہ علیہ نے ا س کو نقل نہيں کيا ۔اور حضر ت عبد ا اللہ بن عبا س رضی اللہ تعالی عنہ سے مر و ی شيخين رحمۃاللہ علیہ کی نقل کر دہ احاد يث کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت ساری ا حا ديث ہیں جو اس مزکورہ حدیث کے سا تھ مو افقت رکھتی ہیں ۔اورجہاں تک تعلق ہے حضر ت انس رضی اللہ تعالی عنہ اور حضر ت معا ویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی مرویات کا کہ حضو رصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس سال مکہ میں ر ہے تو (علما ے ٔ ا مت کا ) ان پر عمل نہیں ہے (یعنی علما ے ٔ ا مت نے ان کو قا بل عمل قر ار نہیں دیا ہے )۔

أَبِيهِ ← أَشْهَدُ أَنَّ أَبِي، ← مَشَيْتُ مَعَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← شِهَابِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، ← حسين بن زيد ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4257

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4258

4258 - أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عِيسَى بْنُ عُبَيْدٍ الْكِنْدِيُّ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَوْحَى إِلَيَّ أَيُّ هَؤُلَاءِ الْبِلَادِ الثَّلَاثِ نَزَلْتَ فَهِيَ دَارُ هِجْرَتِكَ: الْمَدِينَةُ أَوِ الْبَحْرَيْنِ أَوْ قِنَّسْرِينُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4258 - صحيح

حضر ت جر یر رضی اللہ تعالی عنہ سے مر و ی ہے کہ نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشا د فر ما یا :ا للہ تعا لیٰ نے میر ی طر ف و حی فر ما ئی کہ تم مد ینہ‘ بحر ین یا قنسر ین میں سے جہا ں بھی چلے جا ؤ ‘وہی آ پ کا دارا لحجر ت ( یعنی ہجر ت کا مقا م ) ہے ۔ یہ حد یث صحیح ا لا سنا د ہے لیکن ا ما م بخا ری رحمۃاللہ علیہ اور اما م مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَرِيرٌ ← أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← غَيْلَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيِّ، ← عِيسَى بْنُ عُبَيْدٍ الْكِنْدِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← إبراهيم بن هلال ← الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4258

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4259

4259 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسِ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ: فَأُمِرَ بِالْهِجْرَةِ وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ ": {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا} [الإسراء: 80] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4259 - صحيح

حضر ت عبد ا للہ بن عبا س رضی اللہ تعالی عنہ فر ما تے ہیں: ر سو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکر مہ میں ر ہتے تھے ‘ پھر آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہجر ت کا حکم ملا ‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نا ز ل ہو ئی: ﴿وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا﴾ [الإسراء: 80] ’’اور یوں عرض کرو کہ اے میرے رب مجھے سچی طرح داخل کراورسچی طرح باہر لے جااورمجھےاپنی طرف سے مد د گارغلبہ دے‘‘(ترجمہ کنز الا یمان‘امام احمد ضا) یہ حد یث صحیح ا لا سنا د ہے لیکن ا ما م بخا ری رحمۃاللہ علیہ اور اما م مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4259

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4260

4260 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ} [الإسراء: 80] «فَأَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مُخْرَجَ صِدْقٍ، وَأَدْخَلَهُ الْمَدِينَةَ مُدْخَلَ صِدْقٍ» ، قَالَ: «وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَلِمَ أَنَّهُ لَا طَاقَةَ لَهُ بِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا بِسُلْطَانٍ، فَسَأَلَ سُلْطَانًا نَصِيرًا لِكِتَابِ اللَّهِ وَحُدُودِ اللَّهِ، وَلِفَرَائِضِ اللَّهِ، وَلِإِقَامَةِ كِتَابِ اللَّهِ، وَأَنَّ السُّلْطَانَ عِزَّةٌ مِنَ اللَّهِ جَعَلَهُ بَيْنَ أَظْهُرِ عِبَادِهِ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَأَغَارَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَأَكَلَ شَدِيدُهُمْ ضَعِيفَهُمْ»

حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا﴾ [الإسراء: 80] کے متعلق فرماتےفرماتےہیں:اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکہ سےمد ینہ منورہ کی جانب حق کے سا تھ نکالا‘اورحق کےساتھ ہی مدینہ منورہ میں داخل فرمایا۔اورکیونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی جانتےتھےکہ مددگارکےبغیروہ یہ کام نہیں کرپائیں گے‘اس لیےانہوں نےکتاب اللہ‘حدوداللہ‘فرائض اللہ اوراقامت کتاب اللہ کے لۓمدد گارمانگا۔اورمددگار(سےیہاں مراد)اللہ تعا لیٰ کی طرف سےغلبہ ہے۔جس کو اللہ تعالیٰ اپنےبندوں پرنافذفرماتاہے۔اگریہ نہ ہوں تولوگ ایک دوسرےکوقتل کریں‘غارت گری کریں اورطاقتوراپنےسےکمزور(کےمال)کوکھاجاۓ۔

شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4260

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4261

4261 - أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَخْرَجْتَنِي مِنْ أَحَبِّ الْبِلَادِ إِلَيَّ، فَأَسْكِنِّي أَحَبَّ الْبِلَادِ إِلَيْكَ» ، فَأَسْكَنَهُ اللَّهُ الْمَدِينَةَ «هَذَا حَدِيثٌ رُوَاتُهُ مَدَنِيُّونَ مِنْ بَيْتِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4261 - لكنه موضوع

حضرت ابوہریرہرضی اللہ تعالی عنہ کرماتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےیوں دعامانگی:’’اے اللہ !تونےمجھےاس شہرسےازنِ سفردےدیاہےجوشہرمجھےسب سےزیادہ محبوب تھا‘ اب تومجھےاس شہرمیں آباد کر جو تھجے سب سے زیادہ محبوب ہے‘‘۔تواللہ تعا لیٰ نے آپ ﷺ کو مدینہ منورہ میں آباد فرمایا۔اس حدیث کے تمام راوی مدنی ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَخِي ← سعد بن سعيد المقبري، ← مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4261

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4262

4262 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ: «قَدْ أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ، أُرِيتُ سَبِخَةً ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لَابَتَيْنِ» وَهُمَا الْحَرَّتَانِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4262 - على شرط البخاري ومسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے مسلمانوں سے ارشاد فرمایا:مجھے تمہارامقامِ ہجرت دکھایا دیا گیا ہے۔مجھے سیاہ پتھروں والے دو خطوں کے درمیان کھجوروں والی دلدلی زمین دکھائی گئ ہے ۔یہ حدیث شیخین رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صيح ہے لیکن دونوں نے ہی اس کو نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Immigration Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4262

chevron_left Previous
1…702703704…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section