ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں :حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے مسئلہ دریافت کیا کہ مجھے مسلسل حیض آتا رہتا ہے ،میں پاک ہوتی ہی نہیں ہوں ،تو کیا نماز چھوڑا کروں ؟آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا :وہ بیماری کا خون ہے ،وہ حیض نہیں ہے ۔(نماز کے پورے وقت کے لئے )وضو کی بہ نسبت ایک غسل کافی ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › And from the women of Quraysh who narrated on the authority of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6885
قریش کی صحابیات میںْ ْحضرت شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں ،آ پ سلیمان بن ابی حشمہ قرشی رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں اور ابو بکر بن سلیمان بن ابی حشمہ رضی اللہ عنہ کی دادی ہیں۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the healing of the daughter of Abdullah al-Qurrashiya, may God be pleased with her · Hadith 6886
محمد بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ْاور شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ سے پہلے اسلام لائیں ،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بیعت کی ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the healing of the daughter of Abdullah al-Qurrashiya, may God be pleased with her · Hadith 6887
ابو بکر بن سلیمان بن ابی حشمہ قرشی ؒایک انصاری کے بارے مین بیان کرتے ہیں کہ اُس کو چیونٹی نے کاٹ لیا ،کسی نے اس کو بتایا کہ شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہ چیونٹی کے کاٹے کا دم کرتی ہے ،وہ حضرت شفاء بنت عبداللہ کے پاس آگئے ،اور ان سے دم کرنے کا کہا ،(انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا :) میں جب سے اسلام لائی ہوں ،تب سے کھبی بھی دم نہیں کیا ۔وہ انصاری شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا،اور شفائ بنت عبداللہ کی شکایت کی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے شفاء بنت عبداللہ کو بلوایا (جب وہ آگئیں تو )آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا :وہ دم میرے سامنے پیش کرو،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو وہ دم سنایا ۔حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا :اس کو دم کردو(کیونکہ اس دم میں کوئی کفریہ کلمات نہیں تھے )اور یہ دم حفصہ کو بھی سکھا دو۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the healing of the daughter of Abdullah al-Qurrashiya, may God be pleased with her · Hadith 6888
کریب بن سلیمان الکندی فرماتے ہیں :علی بن حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور بنی زہرہ سے تعلق رکھنے والے ایک قرشی آدمی کے پاس مجھے لے گئے ،اس آدمی کو ابن ابی حشمہ کے نام سے پکارا جاتا ہے ،وہ ان کے قریب ہی نماز پڑھ رہے تھے،جب ابن ابی حشمہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے ،حضرت علی بن حسین نے ان سے کہا :دم کے بارے میں ایک حدیث،آپ اپنی والدہ کے حوالے سے بیان کرتے ہو،انہوں نے کہا :جی ہاں ،وہ حدیث مجھے میری والدہ نے بتا ئی تھی ،(وہ یہ ہے کہ میر ی والدہ )زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتی تھی،جب اسلام کا زمانہ آگیا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے مشورہ کروں گی (اگر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم اجازت دیں گے تو )میں دم کروں گی (ورنہ چھوڑ دوں گی ،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے مشورہ کیا تو )نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا :تم دم کیا کرو ،جب تک اس میں شرک کی آمیزش نہ ہو (تب تک دم کرنا جائز ہے ۔)
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the healing of the daughter of Abdullah al-Qurrashiya, may God be pleased with her · Hadith 6889
عثمان بن سلیمان اپنے والد کے حوالے سے ان کی والدہ حضرت شفاء بنت عبداللہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتی تھیں ،جب وہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئیں تو وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ،اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم میں زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتی تھی ،میں وہ دم آپ کو سنانا چاہتی ہوں ،حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اجازت عطا فرمائی ،انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو دم سنایا ۔اس میں چیونٹی کے کاٹے کا بھی دم تھا ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا :یہ دم کردیا کرو اور یہ حفصہ کو بھی سکھا دو،وہ دم یہ تھا(ترجمہ)اللہ کے نام سے شروع وہ سختی والا ہے ،جب وہ مونہوں سے لوٹے ،اور کسی کو نقصان نہ دے ،اے اللہ ،اے انسانوں کے رب ،تکلیف دور فرمادے"۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the healing of the daughter of Abdullah al-Qurrashiya, may God be pleased with her · Hadith 6890
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the healing of the daughter of Abdullah al-Qurrashiya, may God be pleased with her · Hadith 6891
حضرت شفاء بنت عبداللہ فرماتی ہیں :میں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی ،میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے مسئلہ دریافت کیا ،اور آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں (اپنی بیماری کی )شکایت پیش کی ،آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم میرے لئے عذر بتاتے رہے اور میں مسلسل شکایت کرتی رہی ،آپ فرماتی ہیں:پھر نماز کا وقت ہو گیا ،میں اپنی بیٹی کے گھر چلی گئی ،وہ اس وقت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی ،اس وقت ان کے شوہر گھر میں تھے ،میں اس کو ملامت کرنے لگ گئی کہ نماز کا وقت ہو گیا اور تم ابھی گھر میں ہو ،اس نے کہا :پھوپھی جان مجھے ملامت مت کیجئے ،کیونکہ میرے پاس صرف دوہی کپڑے ہیں ،ان میں سے بھی ایک کپڑا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے مجھ سے ادھار لے لیا ہے ،میں نے کہا :میرے ماں باپ قربان ہو جائیں ،میں بلا وجہ ان کو شکایت کرتی رہی ،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس کپڑے ہی نہیں تھے (تو وہ جماعت کے لئے کیسے جاتے )حضرت شرحبیل بن حسنہ نے کہا:ان میں سے ایک گھر میں پہننے کی بڑی چادر تھی (جو پھٹی ہوئی تھی اس وجہ سے ہم نے )اسے پیوند لگائے ہوئے تھے۔
الشِّفَاءِ ابْنَةِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ الزُّهْرِيِّ، ← موسى بن عبيدة ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the healing of the daughter of Abdullah al-Qurrashiya, may God be pleased with her · Hadith 6892
ابن اسحاق کہتے ہیں :جن لوگوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی تھی ان میں سے "عامر بن ربیعہ "بھی تھے،اور ان کے ہمراہ ان کی زوجہ "لیلیٰ بنت ابی حشمہ بن غانم بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب "بھی تھیں۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Umm Abdullah Laila, the daughter of Abu Hethma al-Qurayshiya al-Adwiyyah, may God be pleased with her. · Hadith 6893
زہری کہتے ہیں:حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :مہاجرات میں سب سے پہلے مدینہ منورہ آنے والی خاتون حضرت لیلیٰ بنت ابی حشمہ رضی اللہ عنہ ہیں،انہوں نے اپنے والد کے ہمراہ ہجرت کی ۔ان کے شوہر عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Umm Abdullah Laila, the daughter of Abu Hethma al-Qurayshiya al-Adwiyyah, may God be pleased with her. · Hadith 6894
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ اُمّ عبداللہ بنت ابی حشمہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں :اللہ کی قسم ! ہم سرزمین حبشہ کی جانب روانہ ہوئے ،عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اپنے کسی کام سے گئے تھے،کہ اسی دوران حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ۔آپ میرے سامنے ہی کھڑے ہوگئے ،آپ اپنے گھوڑے پرہی تھے،جبکہ ہمیں ان کی جانب سے بہت سختیوں اور تکالیف کا سامنا تھا ،آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے :اے اُمّ عبداللہ !اب تو آزاد ہورہی ہو ،میں نے کہا :جی ہاں اللہ کی قسم !ہم اللہ کی زمین سے نکل جائیں گے ،تم نے ہمیں بہت تکالیف دی ہیں اور ہم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ہیں ،بالآخر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے نکلنے کا راستہ بنا ہی دیا ،حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ نے تمہارا ساتھ دیا ہے ،میں نے اس دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو رقت کی جس کیفیت میں دیکا اس سے پہلے کھبی آ پ پر ایسی کیفیت نہیں دیکھی ۔پھر آپ چلے گئے اور ہمارے جانے پر آپ بہت غمگین تھے ،راوی کہتے ہیں :پھر حضرت عامر بن ربیعہ اپنا کام کرکے واپس آگئے ،میں نے کہا :اے ابو عبداللہ !کاش تم آج عمر کی حالت دیکھتے اور ہمارے جانے پر اس کی رقت کی کیفیت دیکھتے عامر بن ربعیہ رضی اللہ عنہ نے کہا :کیا تم اس کے اسلام قبول کرنے کی لالچ رکھتی ہو؟میں نے کہا :جی ہاں ۔انہوں نے (عمر کےاسلام سے مایوس ہو کر )کہا :تم جس شخص کو مسلمان دیکھنا چاہتی ہو ،وہ اس وقت تک اسلام نہیں لائے گا جب تک خطاب کے اونٹ اسلام نہیں لے آئیں گے ۔(یہ باتیں انہوں نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کے اسلام سے مایوس ہو کر کہی تھیں کیونکہ وہ اسلام کے بار ے میں حضرت عمر کی شدت اور سختی کو دیکھ چکےتھے)۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Umm Abdullah Laila, the daughter of Abu Hethma al-Qurayshiya al-Adwiyyah, may God be pleased with her. · Hadith 6895
معصب بن عبداللہ زبیری فرماتے ہیں :ان میں سےفاطمہ بنت خطاب بن نفیل رضی اللہ عنہ بھی ہیں،آپ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کی زوجہ محترمہ ہیں۔آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پہلےاسلام لے آئی تھیں۔مکہ مکرمہ میں بیعت کرنے والی خواتین میں سب سے پہلی یہی خاتون ہیں۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Fatimah bint al-Khattab Ibn Nufail, Umar’s sister, may God be pleased with them · Hadith 6896