حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : چار آدمیوں نے پوری روئے زمین پر حکومت کی ہے۔ (1) حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام (2) ذوالقرنین ۔ (3) اہل حلوان کا ایک آدمی۔ (4) ایک اور آدمی ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: ( کیا وہ چوتھے آدمی) حضرت خضر ہیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ( تفسیر خازن ، تفسیر حقی ، زادالمسیر اور تفسیر بغوی میں مجاہد کے حوالے نقل کیا گیا ہے کہ " ملک الارض اربعۃ مومنان و کافران فالمو منان سلیمان و ذوالقرنین والکافران نمرود و بخت نصر" چار آدمیوں کو پوری روئے زمین میں حکومت دی گئی تھی ان میں سے دومومن تھے اور دو کافر ۔ مومن حضرت سلیمان اور ذوالقرنین علیہ السلام تھے اور کافر نمرود اور بخت نصر تھے ۔ شفیق)
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God, Suleiman bin David, and what God did not bring from the King, may God bless him and grant him peace · Hadith 4143
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں : بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت زکریا بن آدن بن مسلم علیہ السلام ہیں ۔ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد امجاد میں سے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : مجھ سے میری حکومت کا وارث ہو اور آل یعقوب علیہ السلام سے نبوت کا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Zachariah bin Adan the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 4144
حضرت ا بوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Zachariah bin Adan the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 4145
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تنہائی میں دعا مانگی " اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور بڑھاپے کی وجہ سے سر میں چاندی آگئی ہے اور اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہا اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے۔ وہ عصبہ ( قریبی مرد رشتہ دار ) ہیں اور میری عورت بانجھ ہے۔ تو مجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا دے ڈال جو میرا کام اٹھائے ، وہ میرا جانشین ہو اور اولاد یعقوب علیہ السلام کا وارث ہواور اے میرے رب ! اسے پسندیدہ کر ۔ وہ یہ بھی دعا مانگا کرتے تھے : اے میرے رب ! مجھے اپنے سے دے ستھری اولاد ، بے شک تو ہی دعا سننے والا ۔ اور کہا: اے اللہ ! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو ہی بہتر وارث ہے۔ تو فرشتوں نے ان کو آواز دی ۔ یہ حضرت جبریل علیہ السلام تھے ، اس وقت حضرت زکریا علیہ السلام اپنی نماز پڑھ رہے تھے ( یہ آواز دی ) بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو ایک لڑکے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام یحییٰ علیہ السلام ہو گا اور اس سے پہلے کبھی کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا ۔ اور فرشتوں نے کہا : بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو مژدہ دیتا ہے یحییٰ علیہ السلام کا جو اللہ تعالیٰ کی طرف کے ایک کلمہ کی تصدیق کرے گا جو یہ آواز سنی ہے یہ من جانب اللہ نہیں ہے بلکہ یہ تو شیطان کی طرف سے ہے۔ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو جس طرح آپ پر اور دیگر انبیاء پر وحی آتی ہے اس انداز میں آتی ۔ توحضرت زکریا علیہ السلام ک وشک پیدا ہوگیا اور کہنے لگے : میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا ؟ جبکہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ یوں ہی کرتا ہے جو چاہے ، میں نے تجھے پیدا کیا جبکہ تو کچھ نہ تھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4146
حضرت نوف ابکالی فرماتے ہیں: حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں دعامانگی : ﴿ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ٣٨﴾[آل عمران: 38]"اے میرے رب ! دے مجھے اپنے پاس سے ستھری اولاد، بے شک تو ہی ہے دعا سننے والا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) ﴿ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا ٤﴾[مريم: 4] " اور سر سے بڑھاپے کا بھبھوکا پھوٹا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) پھر کہنے لگے: ﴿قَالَ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا٨﴾[مريم: 8]"میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) ﴿قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا٩﴾[مريم: 9] " فرمایا :ایسا ہی ہے تیرے رب نے فرمایا : وہ مجھے آسان ہے اور میں نے تو اس سے پہلے تجھے اس وقت بنایا جب تو کچھ بھی نہیں تھا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) ﴿قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا١٠﴾[مريم: 10]"عرض کی: اے میرے رب ! مجھے کوئی نشانی دے دے ۔ فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرے بھلا چنگا ہوکر"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) چنانچہ آپ کی زبان سیل کردی گئی ، آپ بالکل صحیح سلامت ہونے کے باوجود تین دن اور تین راتیں کسی سے بات نہ کر سکے ۔ ﴿فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا١١﴾﴿يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا١٢﴾[مريم: 12-11]"تو وہ اپنی قوم پر مسجد سے باہر آیا تو انہیں اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو ۔ اے یحییٰ کتاب مضبوط تھام اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دی"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) یہ آیات" یبعث حیا " تک نازل ہوئیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4147
محمد بن اسحاق کہتے ہیں :حضرت زکریا علیہ السلام اور عمران علیہ السلام دونوں کی بیویاں آپس میں سگی بہنیں تھیں ۔ چنانچہ یحییٰ علیہ السلام کی والدہ زکریا کی بیوی تھیں اور مریم اور مریم کی والدہ عمران علیہ السلام کی بیوی تھی۔ عمران کا انتقال ہوگیا ، اس وقت حضرت مریم رضی اللہ عنہ کی والدہ حاملہ تھیں ۔ ان کے پیٹ میں مریم رضی اللہ عنہ تھی ۔ ان کے بارے میں لوگوں کا یہ موقف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اولاد دی حتی ٰ کہ یہ سن آیاس کو پہنچ گئیں جبکہ ان کے گھر والے اللہ تعالیٰ کے مقرب لوگ تھے۔
مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← الفضل بن غانم ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدُونَ الْوَرَّاقُ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4148
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر آدمی سے خطا ہوئی ہے، یا خطا کا ارادہ کیا ہے یا اس پر عمل کیا ہے۔ سوائے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے کہ انہوں نے نہ کبھی گناہ کا سوچا اور نہ عملاً گناہ کیا۔
النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يوسف بن مهران ← النبي وعلي بن زيد ← الْحَسَنِ، ← حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ وَحُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عفان وابو سلمة ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4149
حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یحییٰ بن زکریا علیہ السلام سردار تھے اور عورتوں سے بچنے والے تھے، یہ عورتوں کے قریب بھی نہیں جاتے تھے، نہ ان کی خواہش کرتے تھے۔ حالانکہ آپ خوبصورت نوجوان تھے، نرم بازوؤں والے ، کم بالوں والے ، چھوٹی انگلیوں والے، لمبی ناک والے ، ملی ہوئی ابروؤں والے باریک آواز والے ۔ بہت زیادہ عبادت گزار اور اطاعت الٰہی میں بہت طاقتور تھے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4150
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اور حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو بارہ بارہ ہزار حواریوں میں مبعوث فرمایا۔ یہ لوگوں کو تعلیم دیا کرتے تھے۔ ان کی تعلیمات کے مطابق بھائی کی بیٹی یعنی بھتیجی کے نکاح کرنا حرام تھا۔ ان کے بادشاہ کی ایک بھتیجی تھی جس کو بادشاہ پسند کرتا تھا اور اس سے نکاح کرنا چاہتا تھا تو ہر دن اس کی ایک حاجت پوری کیا کرتا تھا۔ یہ بات اس لڑکی کی ماں تک پہنچی تو اس نے اپنی لڑکی کو سمجھاتے ہوئے کہا: جب تو بادشاہ کے پاس جائے اور وہ تیری حاجت پوچھے تو تو کہنا : میری حاجت یہ ہے کہ تم میری خاطر یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو ذبح کردو ۔ جب وہ بادشاہ کے پاس گئی ، اس نے اس سے حاجت پوچھی ، تو اس نے کہا : میری حاجت یہ ہے کہ تم یحییٰ بن زکریا کو ذبح کر دو ۔ اس نے کہا : اس کے علاوہ کوئی فرمائش کرو۔ اس نے کہا : میری اس کے علاوہ آپ سے اور کوئی فرمائش نہیں ہے۔ جب یہ اپنی ضد پر اڑ گئی تو بادشاہ نے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو بلوایا اور ایک بڑا تھال منگوایا اور اس میں آپ کو ذبح کر ڈالا ، اس تھال میں سے خون کا ایک قطرہ زمین پر گر گیا تو وہ مسلسل تڑپتا رہا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو ان پر مسلط فرمایا ۔ بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی خاتون نے بخت نصر کو اس خون کی کہانی سنائی ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ ان سے انتقام لے گا، جب تک اس خون کو قرار نہیں آتا اس وقت میں ان کو قتل کرتا رہوں گا۔ چنانچہ صرف ایک سال میں اس نے ستر ہزار لوگوں کو قتل کیا۔ تب کہیں اس قطرہ خون کو سکون ملا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا مِنَ الْحَوَارِيِّينَ يُعَلِّمُونَ النَّاسَ ← بُعِثَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مسلم بن جنادة ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ← محمد بن يعقوب الحافظ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4151
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی جانب وحی فرمائی کہ میں یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے بدلے ستر ہزار لوگ قتل کئے تھے اور بے شک میں آپ کے نواسے کے بدلے اس سے دگنے لوگ قتل کروں گا۔۔اس حدیث کو حمید بن الربیع الخزاز نے ابونعیم کے حوالے سے بیان کیا ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4152
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دنیا اور آخرت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اور تمام انبیاء علیہ السلام باپ کی طرف سے بھائی ہیں جبکہ ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان سب کا دین ایک ہی ہے اور میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان اور کوئی نبی نہیں ہے۔" یہ حدیث امام بخاریْ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صحیح ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4153
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4154