حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ارشاد کے بارے میں فرماتےہیں: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ٢٤٣ وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ٢٤٤ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ٢٤٥ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلَّا تُقَاتِلُوا قَالُوا وَمَا لَنَا أَلَّا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ٢٤٦﴾[البقرة: 243-246]"اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے تو اللہ نے ان سے فرمایا مرجاؤ پھر انہیں زندہ فرما دیا بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ ناشکرے ہیں ۔اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتا ہے۔ ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے تو اللہ اس کے لئے بہت گنا بڑھا دے اور اللہ تنگی اور کشائش کرتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پھر جانا ہے ۔ اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا بنی اسرائیل کے یک گروہ کو جو موسیٰ کے بعد ہوا جب اپنے پیغمبر سے بولے ہمارے لئے کھڑا کر دو ایک بادشاہ کہ ہم خدا کی راہ میں لڑیں ۔نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا تمہارے انداز ایسے ہیں کہ تم پ جہاد فرض کیا جائے تو پھر نہ کرو بولے ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں حالانکہ ہم نکالے گئے ہیں اپنے وطن اور اپنی اولاد سے تو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا منہ پھیر گئے مگر ان میں کے تھوڑے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو" ۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اللہ تعالیٰ نے نے اپنے نبی کی طرف وحی فرمائی کہ فلاں آدمی کی اولاد میں ایک شخص ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جالوت کو ہلاک فرمائے گا ۔ اس کی نشانی یہ سینگ ہے، یہ اس کے سر پر رکھا جائے گا تو جو زائد ہو گا وہ خود ہی سمٹ جائے گا۔ وہ نبی علیہ السلام اس آدمی کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کے ذریعے بتایا ہے کہ تیری اولاد میں ایک بچہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جالوت کو قتل کرے گا۔ اس نے کہا : اے اللہ تعالیٰ کے نبی ٹھیک ہے ۔ اس نے ستونوں کی طرح ( دراز قد) بارہ لڑکے ان کے سامنے کئے ، ان میں ایک آدمی ایسا بھی تھا جو دوسروں کی بہ نسبت زیادہ علم و فضل کا مالک تھا۔ آپ نے ہر ایک پر سینگ رکھ کر دیکھا لیکن کسی کو پورا نہ آیا ، انہوں نے کہا : کیا ان کے علاوہ بھی تیر ا کوئی لڑکا ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ، اے اللہ تعالیٰ کے نبی ۔ ایک کوتاہ قد لڑکا اور بھی ہے اس کو لوگوں کے سامنے لاتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے، اس لئے میں نے اس کو بکریوں کے ریوڑ میں ڈال رکھا ہے۔ انہوں نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ اس نے بتایا فلاں گھاٹی میں ہے ۔ وہ اس کی طرف چل دئیے ( جب اس کو دیکھا تو) فرمایا : یہی ہے وہ ، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ پھر انہوں نے وہ سینگ اس کے سر پر رکھا اور واپس آگئے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet of God David, the Companion of the Psalms, upon him be peace · Hadith 4131
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کی پشت کو مسلا تو قیامت تک جس کو بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنا تھا، وہ تما م کے تمام باہر نکل آئے ۔ ان میں سے ہر انسان کی پیشانی پر نور کی ایک کرن موجود تھی۔پھر ان تمام کو حضرت علیہ السلام کے سامنے پیش کیا ۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا : اے میرے رب ! یہ کون ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ تیری اولاد ہے۔ انہوں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا اس کی پیشانی کا نور ان کو بہت اچھا لگا۔ انہوں نے پوچھا : اے میرے رب ! یہ کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ تیری اولاد میں سے آخری امتوں میں سے ہو گا، اس کا نام داؤد علیہ السلام ہے ۔ انہوں نے پوچھا : یا اللہ اس کی عمر تونے کتنی رکھی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : 60 سال ۔ آدم علیہ السلام نے عرض کی : یا اللہ ! میری عمر میں سے چالیس سال اس کو دے کر اس کی عمر بڑھا دی جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ بات لکھ دی جائے گی اور پھر اس میں کوئی ردوبدل نہیں ہوگا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی عمر پوری ہوگئی تو ( روح قبض کرنے کے لئے ) ان کے پاس ملک الموت علیہ السلام آگئے ۔ آپ نے کہا : کیا میری عمر میں سے ابھی چالیس سال باقی نہیں رہتے؟ انہوں نے کہا: کیا آپ نے وہ چالیس سال اپنے بیٹے حضرت داؤد علیہ السلام کو نہیں دے دئیے تھے ۔ فرمایا : آدم علیہ السلام نے انکار کیا توا ن کی اولاد بھی انکار کرتی ہے۔ وہ بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول جاتی ہے۔ ان سے خطا ہوئی تو ان کی اولاد سے بھی خطا ہوتی ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet of God David, the Companion of the Psalms, upon him be peace · Hadith 4132
محمد بن اسحاق کہتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حضرت داؤد علیہ السلام تک 529 برس کا زمانہ ہے۔
مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ ← أبو سعيد الأحمسي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet of God David, the Companion of the Psalms, upon him be peace · Hadith 4133
حضرت سدی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : وشدد نا ملکہ " اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کیا" ۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ہر روز چار ہزار محافظ آپ کی چوکیداری کرتے تھے۔ سدی کہتے ہیں : حضرت داؤد علیہ السلام نے ایام کی تقسیم کررکھی تھی۔ ایک دن آپ لوگوں میں فیصلے کیا کرتے تھے، ایک دن آپ عبادت الٰہی کے لئے خلوت نشین رہتے اور ایک دن اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارتے تھے۔ آپ کی 99 بیویاں تھیں ۔ آپ کتاب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ،حضرت اسحاق علیہ السلام اور پھر حضرت یعقوب علیہ السلام کے فضائل و کمالات پڑھا کرتے تھے۔ جب انہوں نے کتب کے مطالع میں یہ سب کچھ پالیا تو عرض کی: اے میرے رب تمام بھلائی تو مجھ سے پہلے میرے آباؤ اجداد لے گئے ہیں۔ تو مجھے بھی وہی کچھ عطا کر جو ان کو عطا کیا تھا۔اور میرے ساتھ بھی وہی معاملہ فرما جوا ن کے ساتھ کیا گیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ تیرے آباؤ اجداد پر جو امتحانات ڈالے گئے تھے تم کو ابھی تک ان سے دو چار نہیں کیا گیا۔ ابراہیم علیہ السلام سے ان کے لخت جگر کوذبح کروانے کا امتحان لیا گیا اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی بینائی ختم کرکے آزمایا گیا۔ یعقوب علیہ السلام کو ان کے بیٹے کے فراق کی مصیبت میں ڈالا گیا اور تمہیں ان میں سے کسی آزمائش میں بھی نہیں ڈالا گیا۔انہوں نے عرض کی : اے میرے رب ! مجھے بھی ان جیسی آزمائش میں بے شک ڈال د ے لیکن مجھے وہ عطا کردے جو کچھ تو نے ان کو عطا کیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ ٹھیک ہے تمہیں آزمایا جائے گا تم تیار رہو۔ اس کے بعد کچھ وقت گزرا جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا ۔ پھر شیطان سونے کی کبوتری بن کر ان کے قدمو ں میں آکر گرا ، اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے اس کو اٹھانے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو وہ روشندان میں سے اڑ گئی ۔ آپ دیکھنے لگے کہ کہاں جاتی ہے آپ کی نگاہیں اس کے تعاقب میں تھیں کہ اچانک آپ کی نظر ایک عورت پر پڑی جو کہ چھت پر نہارہی تھی آپ نے دیکھا کہ وہ عورت بہت زیادہ حسین و جمیل ہے ، اچانک اس کی نظر آپ پر پڑ گئی اس نے آپکو دیکھا اور پھر اپنے بال ڈھلکا لئے ۔ پھر وہ آپ سے اوجھل ہوگئی ۔ اس وجہ سے آ پ کے دل میں ا س کی رغبت اور بھی بڑھ گئی۔ آپ نے اس کے بارے میں معلومات کروائیں تو پتہ چلا کہ وہ شادی شدہ ہے اور اس کا شوہر کسی ( فوجی ) اسلحہ کے کارخانے میں کام کرتا ہے، آپ نے کارخانے کے مالک کو پیغام بھیجا اور اس کو حکم دیا کہ اس کو فلاں فلاں دشمن کے علاقے میں بھیج دو ۔ اس کو بھیج دیا گیا تو وہاں فتح ہو گئی۔ آپ مسلسل اس کو جہاد میں بھیجتے رہے حتیٰ کہ تیسری مر تبہ وہ شہید ہو گیا۔ تو آپ نے اس کی بیوی سے نکاں کرلیا۔ جب آپ اس سے ہمبستر ہوئے تو ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی شکل میں دو فرشتے ان کے پاس بھیجے ۔ انہوں نے آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگی تووہ آپ کی عبادت کا دن تھا، اس لئے محافظوں نے ان کو اندر آنے سے منع کردیا تو وہ دونوں دیوار کود کر داؤد علیہ السلام کی مسجد میں آگئے۔ آپ نماز میں مشغول تھے ، اس لئے آپ کو کچھ معلوم نہ ہوا ، آپ نے اچانک دیکھا تو دونوں آپ کے سامنےبیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت داؤد علیہ السلام ان سے کچھ گھبر ا گئے تو انہوں نے کہا: آپ ڈرئیے مت ۔ ہم دو فریق ہیں ، ہم میں سے ایک نے دوسرے کے ساتھ زیادتی کی ہے تو آپ ہمیں سچا فیصلہ فرمادیجیے اور خلاف حق نہ کیجئے ۔اس کے بعد آپ کی خطا ء کے اقرار کے سلسلہ میں طویل حدیث نقل فرمائی ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet of God David, the Companion of the Psalms, upon him be peace · Hadith 4134
حضرت جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنی نبوت اور رسالت کےلئے حضرت داؤد بن ایشا علیہ السلام کو منتخب فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے وہ نور اور حکمت جمع فرمائی اور اپنی طرف سے ان کے لئے زبور کا اضافہ فرمایا ۔ حضرت داؤد بن ایشا علیہ السلام نے ستر سال حکومت کی ۔ آپ نے لوگوں کو انصاف دلایا اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ علم و حکمت سے ان میں درست فیصلے فرمائے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو وہ آپ کا تابوت اٹھاتے تھے۔ چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے علم اور نورکے ساتھ مسلسل اللہ تعالیٰ کے حلال کو نافذ فرماتے اور اس کے حرام سے روکتے رہے ۔حتیٰ کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان کی جانب وحی فرمائی کہ وہ اپنا ظاہر باطن تمام نور اور حکمت اپنے بیٹے سلیمان علیہ السلام کو دے دیں ، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet of God David, the Companion of the Psalms, upon him be peace · Hadith 4135
حضرت شعبی ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (قال فی زبور داؤد من بعد ذکر موسیٰ)"اور بے شک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : حضرت داؤد علیہ السلام کی زبور میں موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے بعد یہ تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوتے ہیں۔ آپ فرماتے اس سے مراد " جنت" ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet of God David, the Companion of the Psalms, upon him be peace · Hadith 4136
عمر بن علی بن حسین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اپنے چچا محمد بن علی بن حسین کے ہمراہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے ان سے کہا : لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے ایسی بادشاہی مانگی تھی جو ان کے بعد کسی کو نہ ملے اور شک وہ 20 ہیں ۔ آپ نے کہا: میں یہ نہیں جانتا کہ لوگ کیا کہتے ہیں۔ تاہم میرے والد علی بن حسین نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سابقہ انبیاء کرام علیہ السلام میں سے ان کی امت میں اتنی لمبی حکومت کسی نے نہیں کی ، جتنی لمبی حکومت اس نبی نے اپنی امت میں کی ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God, Suleiman bin David, and what God did not bring from the King, may God bless him and grant him peace · Hadith 4137
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ﴿وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ ٧٨﴾[الأنبياء: 78]" اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو جب کھیتی کا ایک جھگڑا چکاتے تھے جب رات کو اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں چھوٹیں اور ہم ان کے حکم کے وقت حاضر تھے"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) کے بارے میں فرماتے ہیں : ایک انگوروں کی بیل تھی جس پر گچھے آچکے تھے۔ اس کو بکریوں نے خراب کر ڈالا ۔حضرت داؤد نے فیصلہ کیا کہ یہ بکریاں انگوروں کی بیل کے مالک کے حوالے کردی جائیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا : اے اللہ کے نبی علیہ السلام ! آپ اس فیصلے پر نظر ثانی فرمائیں ۔ انہوں نے پوچھا : تو کیا فیصلہ کیا جائے؟ آپ نے فرمایا : انگور کی بیل بکریوں کے مالک کے حوالے کردیں تا آنکہ دوبارہ بر آور ہو جائیں اور اس وقت تک بکریاں انگور کے مالک کے حوالے کردیں ۔ جب انگور کی بیل دوبارہ اسی حالت پر آجائے گی جس پر تھی تو بکریاں ، بکریوں کے مالک کو دے دی جائیں اور انگور کی بیل اس کے مالک کو دی جائے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا ٧٩﴾[الأنبياء: 79]"ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھا دیا اور دونوں کو حکومت اور علم عطا کیا" ۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ)
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God, Suleiman bin David, and what God did not bring from the King, may God bless him and grant him peace · Hadith 4138
حضرت جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کو زمین کے مشارق اور مغارب کی حکومت دی گئی تھی۔ چنانچہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے جنات ، انسان ، شیاطین ،جانوروں ، پرندوں اور درندوں تمام دنیا پر سات سو سال چھ مہنے حکومت کی ۔ آپ کو ہر چیز کا علم دیا گیا تھا اور ہر چیز کی بولی سکھائی گئی تھی۔ آپ کے زمانے میں بڑی عجیب و غریب ایجادات ہوئیں ، جن کے متعلق انسان نے کبھی سنا تک نہ تھا اور تمام چیزیں آپ کو زیرنگین تھیں ۔ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے نور اور حکمت کے ساتھ حکومت کی تدبیر فرماتے رہےحتیٰ کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرنے کا ارادہ کیا تو ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ اپنا علم و حکمت اپنے بھائی اور داؤد علیہ السلام کے بیٹے کے سپرد کردیں ۔ چنانچہ ان میں 1480 افراد ایسے ہیں جن کو رسالت نہیں ملی۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God, Suleiman bin David, and what God did not bring from the King, may God bless him and grant him peace · Hadith 4139
امام شعبی کہتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت سے لے کر سلیمان بن داؤد علیہ السلام کی حکومت تک بنو اسحاق نے تاریخ رقم کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : : ﴿وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ١٦﴾[النمل: 16] " اور سلیمان داؤد کا جانشین ہوا" ۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) آپ فرماتے ہیں : ان کو نبوت و رسالت کے ہمراہ ایسی حکومت ملی تھی جو ان کے بعد کسی کو نہیں ملی۔ چنانچہ ان کے لئے جنات ، انسان ، پرندے اور ہوائیں مسخر کردی گئی تھیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God, Suleiman bin David, and what God did not bring from the King, may God bless him and grant him peace · Hadith 4140
حضرت محمد بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کا لشکر ایک سو فرسخ تک پھیلا ہوتا تھا( اور ایک فوسخ آٹھ کلومیٹر کا ہوتا ہے) ان میں سے 25 فرسخ انسانوں کے لئے ، 25 فرسخ جنات کے ،لئے ، 25 فرسخ درندوں کے لئے اور 25 فرسخ پرندوں کے لئے تھا ۔ آپ کے لکڑی پر شیشے کے ایک ہزار محل تھے۔ ان میں سے تین سوظاہر تھے جبکہ 700 چھپے ہوئے تھے۔پھر آپ نے ہوا کو حکم دیا تو اس نے ان کو اٹھا لیا، پھر ہوا کو حکم دیا تو وہ اس کو لے کر چل پڑی ۔ ایک دفعہ آپ زمین اور آسمان کے درمیان سیر کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب وحی فرمائی ۔" میں نے آپ کی حکومت میں یہ اضافہ بھی کردیا ہے کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی ، جوبھی بات کرے گا ، ہوا اس کی خبر آپ تک پہنچا دے گی۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God, Suleiman bin David, and what God did not bring from the King, may God bless him and grant him peace · Hadith 4141
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے 600 کرسیاں رکھی جاتی تھیں پھر سر کردہ انسان آکر حضرت سلیمان علیہ السلام کےسب سے قریبی کرسیوں پر بیٹھ جاتے پھر سرکردہ جنات آتے اور انسانوں سے پیچھے بیٹھتے ۔ پھر پرندوں کو بلایا جاتا وہ ان سے پر سایہ کرتے ، پھرہوا کو بلایا جاتا وہ ان سب کو اٹھا لیتی تو یہ لوگ ایک میں پورے مہینے کا سفر کرلیتے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God, Suleiman bin David, and what God did not bring from the King, may God bless him and grant him peace · Hadith 4142