Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4155
ابو مالک ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا اور مرہ ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت مریم علیہ السلام حیض آنے کی وجہ سے محراب کی طرف نکلیں ۔ جب آپ پاک ہوئیں تو ان کے پاس ایک مرد کھڑا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا١٧﴾[مريم: 17]" تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) وہ حضرت جبریل تھے ۔ آپ اس کو دیکھ کر گھبرا گئیں اور بولیں : ﴿قإِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا١٨﴾[مريم: 18]" میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) وہ بولے:﴿ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا١٩﴾[مريم: 19]"میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں " ۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) آپ وہاں سے نکلیں اور آپ کے اوپر کی بڑی چادر تھی۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے اس کا کنارہ پکڑ کر آپ کے دوپٹے میں پھونک مار دی ، یہ دوپٹہ آگے سے کچھ پھٹا ہوا تھا یہ پھونک آپ کے سینے میں گئی ، جس کی وجہ سے آپ حاملہ ہوگئیں ۔ آپ رات کے وقت اپنی بہن زکریا کی بیوی کے پاس ملنے کے لئے گئیں ۔ جب اس نے دروازہ کھولا تو وہ ان سے لپٹ گئیں ۔ حضرت زکریا علیہ السلام کی زوجہ نے کہا: کیا تجھے معلوم ہے کہ میں حمل سے ہوں ؟ حضرت مریم علیہ السلام نے جواباً کہا: جی ہاں اور کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں بھی حمل سے ہوں ۔ تو حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی نے کہا: میں محسوس کررہ ہوں کہ میرے پیٹ میں جو ہے وہ اس کو سجدہ کر رہا ہے جو آپ کے پیٹ میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: مصدقا بکلمۃ من اللہ " جو اللہ کی طرف سے ایک کلمہ کی تصدیق کرے گا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) تو حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی نے یحییٰ علیہ السلام کو جنم دیا اور جب حضرت مریم علیہ السلام کے ہاں بچے کی پیدائش کا وقت آیا تو آپ محراب کی جانب نکل گئیں ۔ پھر در دزہ کی وجہ سے وہ ایک کھجور کی جڑ میں آگئیں ۔ لوگوں سے شرم کی ماری مریم علیہ السلام کہنے لگی : ﴿ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا٢٣﴿فَنَادَاهَا [مريم: 23] " ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور بھولی بسری ہو جاتی "۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) تو حضرت جبریل نے نیچے کی طرف سے آواز دی : ﴿ أَلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا٢٤وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا٢٥﴾[مريم: 25-24]" کہ غم نہ کھا بے شک تیرے رب نے نیچے ایک نہر بہادی ہے اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی'' ۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) حضرت مریم علیہ السلام نے اس کو ہلایا تو ان کے لئے محراب میں نہر جاری کردی گئی ۔ " السری" نہر کو کہتے ہیں ۔ تو کھجور کے درخت سے تازی پکی کھجوریں گرنے لگی ۔ جب ان کے ہاں عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوگئی تو شیطان نے بنی اسرائیل کو خبر دے دی کہ مریم علیہ السلام نے بچہ جنا ہے۔ جب لوگوں نے حضرت مریم علیہ السلام سے وضاحت چاہی تو آپ نے ( بجائے اس کے کہ اپنی صفائی خود بیان کرتی ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب اشارہ کردیا تو عیسیٰ علیہ السلام بول اٹھے: ﴿قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا٣٠ وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا ٣١﴾[مريم: 30-31]" میں ہوں اللہ کا بندہ اس نے مجھےکتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا نبی کی اور اس نے مجھے مبارک کیا میں کہیں ہوں "۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) جب عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو روئے زمین کا ہر وہ بت جس کی عبادت کی جاتی تھی وہ سجدہ ریز ہو گیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4156
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نجران کا وفد نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، انہوں نے پوچھا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے متعلق تمہارا کیا نظریہ ہے؟ آپ نےفرمایا : وہ روح اللہ ، کلمۃ اللہ ، عبداللہ اور اس کے رسول تھے۔ انہوں نے آپ سے کہا: اگر فی الواقع ایسا نہ ہو تو کیا ہم ایک دوسرے پر لعنت کر سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : کیا تمہیں یہ کام بہت اچھا لگتا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے ، جیسے تمہاری مرضی۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے بچوں اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلوالیا ، ان کا سردار کہنے لگا : اس آدمی (محمد) ﷺ پر لعنت مت کرو ، خدا کی قسم ! اگر تم اس کے ساتھ ملاعنہ کرو گے تو دونوں فریقوں میں سے ایک برباد ہوجائے گا۔ تو یہ لوگ حضور ﷺ کی خدمت حاضر ہوئے اور کہنے لگے : اے ابوالقاسم ! ملاعنہ کی بات تو ہم میں سے بے وقوفوں نے کی ہے جبکہ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں معاف فرمادیں ۔ آپ نے فرمایا : میں نے تمہیں معاف کیا۔ پھر فرمایا : عذاب تو نجران پر سایہ فگن ہو چکا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4157
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر نومولود کو شیطان چوبھ مارتا ہے جس کی وجہ سے نومولود روتا ہے، سوائے حضرت مریم علیہ السلام اور ان کے بیٹے کے کہ جب مریم کی ماں نے ان کو جنا تو وہ بولیں :﴿ إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ٣٦ ﴿فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ٣٧﴾[آل عمران: 36-37] "میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں تو اسے اس کے رب نے بڑی اچھی طرح قبول کیا اور اسے اچھا پروان چڑھایا اور اسے زکریا کی نگہبانی میں دیا: ۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا تو پھر ان کی خالہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی والدہ نے ان کی پرورش کی۔ یہ حدیث صحیح الاسناہے ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اے نقل نہیں کیا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو ثَابِتٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدَائِنِيُّ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4158
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر سب لوگ حضرت عیسی ٰعلیہ السلام کے پاس شفاعت کے لئے آئیں گے تو آپ فرمائیں گے: کیا تم میرے سوا کسی اور کو جانتے ہو جو کلمۃ اللہ ہو ؟ جو روح اللہ ہو؟ جو مادر زاد اندھوں کو اور برص کے مریضوں کو شفا دیتا ہو؟ اور جو مردوں کو زندہ کرتا ہو؟ وہ کہیں گے : نہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناہے ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4159
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دنیا جہاں کی تما عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہ ، فاطمہ بنت محمد ﷺ ، مریم بنت عمران رضی اللہ عنہ اور فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہما ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناہے ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4160
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : گہوارے میں صرت تین اشخاص نے گفتگو کی ہے۔ (1) عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (2) یوسف علیہ السلام کا گواہ۔(3) جرج کا گواہ۔ (4) ماشطہ بنت فرعون کا بیٹا۔ یہ حدیث اما م بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4161
حضرتابوہریرہرضیاللہعنہفرماتےہیںکہرسولاللہﷺنےارشادفرمایا : حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ضرور عادل فیصلہ کرنے والے اور منصف حکمران بن کر اتریں گے اور وہ اس گلی میں سے حج کرتے یا عمرہ کرتے یا ان دونوں کی نیت سے گزریں گے اور وہ میری قبر انور پر آئیں گے اور مجھے سلام کریں گے۔ میں ان کا جواب دوں گا۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں : اے میرے بھائی کے بیٹو ! اگر تمہاری ان سے ملاقات ہو تو ان سے تو ان سے کہیے گا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ کو سلام کہہ رہے تھے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4162
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : روح اللہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام تم میں اترنے والے ہیں ۔ تم جب ان کو دیکھو تو پہچان لو ، ان کا قد درمیانہ ، رنگ سرخی مائل سفید ہوگا۔ ان ک اوپر ہلکے زرد رنگ کے رنگے ہوئے دو کپڑے ہوں گے۔ ان کے سر سے قطرے ٹپکتے ہوں گےاگرچہ ان کو تری نہ پہنچے گی۔ وہ صلیب توڑ دیں گے ، خنزیر کو قتل کریں گے، ٹیکس معاف کردیں گے، لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کرے گا، روئے زمین پر امن کا دور دورہ ہوگا حتیٰ کہ شیر اور اونٹ ایک جگہ چریں گے، چیتا گایوں کے ساتھ اور بھیڑیا بکریوں کے ہمراہ چرے گا۔ بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے پھر بھی سانپ ان کو کچھ نہ کہیں گے۔ آپ چالیس سال قیام کریں گے ۔ پھر آپ کا وصال ہو جائے گا۔اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔ یہ حدیث صحیح الاسناہے ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اے نقل نہیں کیا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العدل،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4163
حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو اٹھایا تو دن کی تین ساعتیں ان کو فوت کئے رکھا، جبکہ عیسائی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو سات ساعتیں وفات دئیے رکھی پھر ان کو زندہ کردیا ۔ حضرت وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اور عیسائی یہ بھی گمان رکھتےہیں کہ سکندر کی ولادت کے 363 برس بعد حضرت مریم علیہ السلام کے ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے او ر وہ یہ بھی گمان رکھتے ہیں کہ یحییٰ بن زکریا علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے 6 ماہ پہلے پیدا ہوئے اور وہ یہ بھی گمان کرتے ہیں کہ تیرہ سال کی عمر میں حضرت مریم حاملہ ہوئیں اور حمل میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام تھے اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر اٹھائے جانے تک 32 سال عمر گزار چکے تھےاور یہ کہ حضرت مریم علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانوں پر اٹھائے جانےکے بعد چھ سال تک زندہ رہیں ۔ اس طرح ان کی کل عمر56 سال بنتی ہے اور زکریا بن برخیا رضی اللہ عنہ یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے والد تھے ۔وہ یہ بھی گمان کرتے ہیں کہ جب حضرت مریم علیہ السلام کو حمل ہوا تو اس وقت حضرت زکریا علیہ السلام کی عمر 200 سال تھی۔ جب پیدا ہوئیں تو ان کی والدہ کی وفات کے بعد حضرت زکریا رضی اللہ عنہ نے ان کی کفالت کی ۔ کیونکہ حضرت مریم علیہ السلام کی خالہ یعنی ان کی والدہ کی بہن ، حضرت زکریا علیہ السلام کے نکاح میں تھیں ، حضرت مریم علیہ السلام کی والدہ کا نام حنہ بنت فاقو ذ بن قیل تھا۔ نوٹ: امام حاکم رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں : انبیاء اور مرسلین علیہ السلام کی تعداد کے سلسلے میں روایات مختلف ہیں۔ انتہائی جدو جہد کے بعد حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی اکرم ﷺ کی بعثت تک انبیاء و مرسلین علیہ السلام کی تعداد جو ثابت ہوئی ہے وہ درج ذیل ہے۔ درج ذیل حدیث میں حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ نے مرسلین کا ذکر کیا ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4164
حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا ، وہ اپنے ساتھیوں سے محو گفتگو تھا۔ آپ نے اس سے کہا: میرے قریب آجائیے ۔ اس آدمی نے کہا: خدا کی قسم ! جس طرح دوسرے لوگ سوالات کررہے ہیں ، اسی طرح میرا آپ سے سوال کرنا کتنا ہی اچھا ہے۔ آپ نے فرمایا : میرے قریب آجائیے ! میں تمہیں انبیاء کرام علیہ السلام کے بارے میں بتاتا ہوں جن کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام بڑھئی تھے۔ حضرت ادریس علیہ السلام درزی تھے۔ حضرت داؤد علیہ السلام زر ہیں بنایا کرتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بکریا ں چرایا کرتے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔حضر ت صالح علیہ السلام تاجر تھے۔حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شاندار حکومت عطا کی تھی ۔ آپ ہر مہینے کے پہلے 6 دن ، درمیان میں 3 دن اور آخر میں 3 دن روزہ رکھا کرتے تھے، آپکے 700 فوجی دستوں کی تعداد ایک ہزار ہے۔ اور میں تجھے یہ بھی بتاتا ہوں کہ کنواری مریم علیہ السلام کے بیٹے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اگلے دن کے لئے کبھی کچھ بچا کر نہیں رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے ، جس ذات نے مجھے ناشتہ دیا ہے، وہ شام کا کھانا بھی دے گی اور جس ذات نے مجھے شام کا کھانا دیا ہے ، وہ ناشتہ بھی دے گی۔ آپ پوری پوری رات نماز میں گزار دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا ۔ آپ دن میں سیاحت کرتے تھے، آ پ کا تمام دن روزے سے گزرتا اور تمام رات قیام میں گزرتی اور میں تجھے محمد مصطفیٰ ﷺ کےبارے میں بتاتا ہوں۔آپ اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور آپ روزے رکھتے رہتے حتیٰ کہ ہم یہ سمجھتے کہ اب آپ کبھی روزہ کا ناغہ نہیں کریں گے اور جب آپ ناغہ کرتے تو اتنے کرتے کہ ہم سمجھتے کہ اب آپ روزہ نہیں رکھا کریں گے۔بہرحال ہم نے آپ کو اکثر روزے سے دیکھا ۔ آپ ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرتے تھے۔ آپ سب سے زیادہ نرم مزاج ، اچھی خبر دینے والے اور سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور میں تجھے حضرت حواء کے بارے میں بتاتا ہوں ، آپ چرخہ کاتا کرتی تھیں ۔ آپ روئی کات کر اپنے ہاتھ سے اس کو بن کر پہنتی تھیں اور اپنے بچوں کو بھی پہناتی تھیں اور حضرت مریم بنت عمران بھی یہی کام کیا کرتی تھیں۔امام حاکم رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں : وہ حدیث جو سند عالی کے ہمراہ مروی ہے جس میں انبیاء و مرسلین علیہ السلام کی تعداد کی وضاحت موجود ہے۔وہ درج ذیل ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4165
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ کے ساتھ خلوت کو غنیمت جانا( سیدھا آپ کے پا س جاکر بیٹھ گیا) آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! مسجد کا بھی سلام ہوتا ہے ، میں نے عرض کی : یارسولﷺ مسجد کا سلام کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دو رکعتیں۔میں نے دو رکعت نوافل پڑھے ۔ پھر آپ میری جانب متوجہ ہوئے تو میں نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ ! آپ نے مجھے نماز کا حکم تو دے دیا ہے لیکن کتنی نماز پڑھنی ہے یہ نہیں بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ نیکی ہے ، جو کم پڑھنا چاہے کم پڑھ لے اور جو زیادہ پڑھنا چاہے ، زیادہ پڑھ لے۔ میں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا( پھر اس کے بعدانہوں نے تفصیل حدیث ذکر کی حتیٰ کہ یہاں تک پہنچے ) میں نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ ! انبیاء کرام علیہ السلام کتنے ہیں؟ آپ نے فرمایا : 1،24،000 ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی ہیں، میں نے پوچھا : ان میں سے مرسلین کتنے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: 313 تین سو تیرہ ہیں ۔ پھر باقی حدیث بھی ذکر کی۔
دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَاغْتَنَمْتُ خَلْوَتَهُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ بْنِ يَزِيدَ الْعَبْدِيُّ، ← أبو الحسن علي بن الفضل بن إدريس السامري ببغداد
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4166