Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8789

8789 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، ثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَرَأَيْتُ فِيهَا عَمْرَو بْنَ لُحَيِّ بْنِ قَمَعَةَ بْنِ خِنْدِفَ أَبُو عَمْرٍو وَهُوَ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ وَغَيَّرَ عَهْدَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ أَكْثَمُ بْنُ أَبِي الْجَوْنِ» قَالَ: فَقَالَ أَكْثَمُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَضُرُّنِي شَبَهُهُ؟ قَالَ: «لَا إِنَّكَ مُسْلِمٌ وَإِنَّهُ كَافِرٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8789 - على شرط مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ پر دوزخ پیش کی گئی ، میں نے اس میں عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندف ابو عمرو کو دیکھا وہ آگ میں اپنی آنتیں گھسیٹتا پھر رہا تھا، یہ وہ پہلا شخص ہے جس نے بتوں کے نام پر جانور چھوڑے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مذہب کو تبدیل کیا ، اور وہ اکثم بن ابی الجون سے بہت ملتا جلتا ہے، یہ سن کر اثم نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا اس کے ساتھ مشابہت سے مجھے کوئی نقصان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، تم مسلمان ہو، وہ کافر ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← عبد الرحمن بن أبي الوزير

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8789

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8790

8790 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عُيِّرَ الْكَافِرُ بِعَمَلِهِ فَجَحَدَ وَخَاصَمَ، فَيُقَالُ لَهُ: جِيرَانُكَ يَشْهَدُونَ عَلَيْكَ، فَيَقُولُ: كَذَبُوا، فَيُقَالُ: أَهْلُكُ وَعَشِيرَتُكَ، فَيَقُولُ: كَذَبُوا، فَيُقَالُ: احْلِفُوا، فَيَحْلِفُونَ ثُمَّ يُصْمِتُهُمُ اللَّهُ، وَيَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ فَيُدْخِلُهُمُ النَّارَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8790 - على شرط مسلم

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن کافر کو اس کے عمل کی وجہ سے شرم دلائی جائے گی، وہ انکار کرے گا اور جھگڑا کرے گا، اس کو کہا جائے گا، تیرے پڑوسی تیرے خلاف گواہی دے رہے ہیں ۔ وہ کہے گا جھوٹ بول رہے ہیں ، پھر اس کو کہا جائے گا: تیرے گھر والے اور تیرے خاندان والے تیرے خلاف گواہی دے رہے ہیں ، وہ کہے گا : یہ سب بھی جھوٹ بول رہے ہیں ، پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم قسم اٹھا ؤ ، وہ قسم اٹھالیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کو خاموش کروا دے گا، اور اس بندے کی زبان اس کے خلاف گواہی دے گی، اور وہ دوزخ میں چلا جائے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8790

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8791

8791 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، قَالَا: ثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، قَالَ: حَدَّثَ أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ أَهْلَ النَّارِ لَيَبْكُونَ حَتَّى لَوْ أُجْرِيَتِ السُّفُنُ فِي دُمُوعِهِمْ لَجَرَتْ، وَإِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ الدَّمَ يَعْنِي مَكَانَ الدَّمْعِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8791 - صحيح

حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک دوزخی لوگ روئیں گے ،( ان کے آنسوؤں کی مقدار اتنی زیادہ ہو گی کہ ) اگر ان کے انسوؤں میں کشتی چلانا چاہو تو چلائی جاسکے گی، اور انسوؤں کی بجائے ان کی آنکھوں سے خون نکلے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ قَیْسِ ← حَدَّثَ أَبُو بُرْدَةَ، ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8791

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8792

8792 - أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، ثَنَا فَرْقَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَبُو نَصْرٍ، ثَنَا عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الْحَسْنَاءِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَوْ أُخِذَ سَبْعُ خَلِفَاتٍ بِشُحُومِهِنَّ فَيُلْقَيْنَ مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ مَا انْتَهَيْنَ إِلَى آخِرِهَا سَبْعِينَ عَامًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8792 - سنده صالح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر سات حاملہ اونٹنیاں ان کی چربیوں سمیت لے کر دوزخ کے اوپر کے کنارے سے پھنکے جائیں تو وہ ستر سال تک بھی اس کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکیں گے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُقْبَةَ بْنَ أَبِي الْحَسْنَاءِ، ← فَرْقَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَبُو نَصْرٍ، ← أَبُو قُتَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ:

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8792

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8793

8793 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ فَرَكِبْتُ خَلْفَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَسَارَ بِنَا إِذَا ارْتَفَعَ ارْتَفَعَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا هَبَطَ ارْتَفَعَتْ يَدَاهُ، قَالَ: فَسَارَ بِنَا فِي أَرْضٍ غُمَّةٍ مُنْتِنَةٍ حَتَّى أَفْضَيْنَا إِلَى أَرْضٍ فَيْحَاءَ طَيْبَةٍ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ إِنَّا كُنَّا نَسِيرُ فِي أَرْضٍ غُمَّةٍ مُنْتِنَةٍ، ثُمَّ أَفْضَيْنَا إِلَى أَرْضٍ فَيْحَاءَ طَيْبَةٍ، قَالَ: تِلْكَ أَرْضُ النَّارِ وَهَذِهِ أَرْضُ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ عَلَى رَجُلٍ قَائِمٍ يُصَلِّي، فَقَالَ: مَنْ هَذَا مَعَكَ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا أَخُوكَ مُحَمَّدٌ فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، وَقَالَ: سَلْ لِأُمَّتِكَ الْيُسْرَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ فَقَالَ: هَذَا أَخُوكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، قَالَ: فَسِرْنَا فَسَمِعْتُ صَوْتًا وَتَذَمُّرًا فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا أَخُوكَ مُحَمَّدٌ فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، وَقَالَ: سَلْ لِأُمَّتِكَ الْيُسْرَ فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ فَقَالَ: هَذَا أَخُوكَ مُوسَى، قُلْتُ: عَلَى مَنْ كَانَ تَذَمُّرُهُ وَصَوْتُهُ؟ قَالَ: عَلَى رَبِّهِ، قُلْتُ: عَلَى رَبِّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَدْ عُرِفَ ذَلِكَ مِنْ حِدَّتِهِ، قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا فَرَأَيْنَا مَصَابِيحَ وُضُوءًا، قَالَ: قُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذِهِ شَجَرَةُ أَبِيكَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَتَدْنُو مِنْهَا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَنَوْنَا فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَرَبَطْتُ الدَّابَّةَ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبُطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَنُشِرَتْ لِيَ الْأَنْبِيَاءُ مَنْ سَمَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُسَمِّ، فَصَلَّيْتُ بِهِمْ إِلَّا هَؤُلَاءِ النَّفْرِ الثَّلَاثَةِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ «هَذَا حَدِيثٌ تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو حَمْزَةَ مَيْمُونٌ الْأَعْوَرُ، وَقَدِ اخْتَلَفتْ أَقَاوِيلُ أَئِمَّتِنَا فِيهِ وَقَدْ أَتَى بِزِيَادَاتٍ لَمْ يُخْرِجْهَا الشَّيْخَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي ذِكْرِ الْمِعْرَاجِ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس براق لایا گیا ، میں جبریل امین علیہ السلام کے پیچھے سوار ہوگیا، وہ ہمیں لے کر روانہ ہوا ، وہ جب اوپر اٹھتا تو اس کے پاؤں بھی اوپر اٹھتے ، اور جب وہ نیچے آتا تو اس کے ہاتھ بلند ہوتے ، یہ ہمیں ایک تاریک اور بدبو دار جگہ لے گیا، پھر جب ہم خوشگوار زمین میں پہنچے تو میں نے کہا : اے جبریل علیہ السلام ہم پہلے تاریک اور بدبو دار جگہ سے گزرے پھر اس خوشبو دار مقام پر آگئے ، یہ کون سے مقامات ہیں ؟ حضرت جبریل امین علیہ السلام نے کہا: وہ دوزخ کی زمین تھی اور یہ جنت کی جگہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میں ایک آدمی کے پاس پہنچا وہ کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، اس نے پوچھا : اے جبریل ! یہ تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ حضر ت جبریل امین علیہ السلام نے کہا: یہ آپ کے بھائی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ، انہوں نے خوش آمدید کہا اور میرے لئے برکت کی دعا کی ، اور مجھ سے کہا: آپ اپنی امت کے لئے آسانی مانگنا، میں نے پوچھا : جبریل ! کہ کون ہیں ؟ جبریل امین علیہ السلام نے بتایا کہ وہ آپ کے بھائی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں ، پھر آگے بڑھ گئے، میں نے کچھ لوگوں کی آوازیں سنی ، میں ان میں سے ایک آدمی کے پاس آیا، اس نے کہا: اے جبریل علیہ السلام یہ کون ہیں ؟ حضرت جبریل امین علیہ السلام نے کہا : یہ آپ کے بھائی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں انہوں نے بھی خوش آمدید کہا، اور میرے لئے برکت کی دعا فرمائی ، اور مجھ سے کہا : اپنی امت کے لئے آسانی مانگنا، میں نے پو چھا: اے جبریل ! کہ کون ہے ؟ حضرت جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ آپ کے بھائی حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں ۔ میں نے کہا: ان کی آواز جو آرہی تھی وہ کیا تھی؟ حضر ت جبریل امین علیہ السلام نے بتا یا کہ وہ اپنے رب سے ہم کلام ہو رہے تھے، میں نے پوچھا : اپنے رب سے ؟ جبریل نے کہا : جی ہاں ۔ اس وجہ سے ان کی طبیعت کی شدت بالکل بجا ہے ، ہم مزید آگے بڑھ گئے، ہم نے کچھ قندیلیں روشن دیکھیں ، میں نے پوچھا : جبریل ! یہ کیا ہے ؟ حضرت جبریل امین علیہ السلام نے بتایا کہ آپ کے دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام کا درخت ہے ، کیا آپ اس کے قریب جانا چاہتے ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ ہمیں ان کے قریب کردیا گیا، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے بر کت کی دعا کی ، پھر ہم آگے بڑھ گئے اور بیت المقدس پہنچ گئے۔جہاں پر انبیاء کرام علیہ السلام اپنے جانور باندھا کرتے تھے وہاں پر ہم نے براق کو باندھا ، پھر میں مسجد میں داخل ہو گیا، وہاں پر تمام انبیاء کرام موجود تھے جن کے نام بیان کئے گئے ہیں وہ بھی موجود تھے اور جن کے نام نہیں بیان کئے گئے وہ بھی وہاں موجود تھے، میں نے ان سب کو نماز پڑھائی سوائے تین لوگوں کے ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۔ ابو حمزہ میمون الاعور اس حدیث کو روایت کرنے میں منفرد ہیں ۔ ہمارے ایمہ کے اقوال اس بارے میں مختلف ہیں ، اس میں وہ اضافے موجود ہیں جن کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اورامام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر معراج میں نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو حَمْزَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8793

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8794

8794 - أَخْبَرَنِي عَبْدَانُ بْنُ يَزِيدَ الدَّقَّاقُ، بِهَمَدَانَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تُحْشَرُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ: صِنْفٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَصِنْفٍ يُحَاسَبُونَ حِسَابًا يَسِيرًا، وَآخَرُ يَجُوزُونَ عَلَى ظُهُورِهِمْ أَمْثَالُ الْجِبَالِ الرَّاسِيَةِ فَسَأَلَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ، فَيَقُولُ: هَؤُلَاءِ عُبَيْدٌ مِنْ عَبِيدِي لَمْ يُشْرِكُوا بِي شَيْئًا وَعَلَى ظُهُورِهِمُ الذُّنُوبُ وَالْخَطَايَا حُطُّوهَا وَاجْعَلُوهَا عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، وَادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي «» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8794 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کا تین گروہوں میں حشر ہوگا ، ایک جماعت بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو گی۔ ایک جماعت سے ہلکا پھلکا حساب لیا جائے گا، اور ایک اور جماعت ہو گی وہ اپنی پشت پر بلند و بالا پہاڑوں کی مانند گناہ لے کر آئیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا حالانکہ وہ سب کچھ بہت اچھی طرح خود جانتا ہے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ میرا وہ بندہ ہے جس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تھا، اگرچہ ان کی پشت پر گناہوں اور خطاہوں کا انبار موجود ہے، لیکن ان کے گناہ ان سے ہٹا کر یہودیوں اور نصرانیوں پر ڈال دئیے جائیں اور اس کو میری رحمت سے جنت میں داخل کر دو۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے ۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدَانُ بْنُ يَزِيدَ الدَّقَّاقُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8794

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8795

8795 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْمَكْرُ وَالْخَدِيعَةُ وَالْخِيَانَةُ فِي النَّارِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8795 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دھوکہ ، فریب اور خیانت دوزخ میں ( لے جانے والے کام ) ہیں ۔

النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8795

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8796

8796 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرَوَيْهِ الصَّفَّارُ بِبَغْدَادَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: أَطَلَعَتِ الْحَمْرَاءُ بَعْدُ؟ فَإِذَا رَآهَا قَالَ: لَا مَرْحَبًا، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ هَارُوتَ وَمَارُوتَ سَأَلَا اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يَهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ فَأُهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ، فَكَانَا يَقْضِيَانِ بَيْنَ النَّاسِ فَإِذَا أَمْسَيَا تَكَلَّمَا بِكَلِمَاتٍ وَعَرَجَا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَقَيَّضَ لَهُمَا بِامْرَأَةٍ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَأُلْقِيَتْ عَلَيْهِمَا الشَّهْوَةُ فَجَعَلَا يُؤَخِّرَانِهَا وَأُلْقِيَتْ فِي أَنْفُسِهِمَا، فَلَمْ يَزَالَا يَفْعَلَانِ حَتَّى وَعَدَتْهُمَا مِيعَادًا فَأَتَتْهُمَا لِلْمِيعَادِ، فَقَالَتْ: عَلِّمَانِي الْكَلِمَةَ الَّتِي تَعْرُجَانِ بِهَا، فَعَلَّمَاهَا الْكَلِمَةَ، فَتَكَلَّمَتْ بِهَا فَعَرَجَتْ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَمُسِخَتْ، فَجُعِلَتْ كَمَا تَرَوْنَ، فَلَمَّا أَمْسَيَا تَكَلَّمَا بِالْكَلِمَةِ الَّتِي كَانَا يَعْرُجَانِ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَلَمْ يَعْرُجَا فَبُعِثَ إِلَيْهِمَا إِنْ شِئْتُمَا فَعَذَابُ الْآخِرَةِ، وَإِنْ شِئْتُمَا فَعَذَابُ الدُّنْيَا إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ عَلَى أَنْ تَلْتَقِيَانِ اللَّهَ تَعَالَى، فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَكُمَا وَإِنْ شَاءَ رَحِمَكُمَا، فَنَظَرَ أَحَدُهُمَا إِلَى صَاحِبِهِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: بَلْ نَخْتَارُ عَذَابَ الدُّنْيَا أَلْفَ أَلْفَ ضِعْفٍ فَهُمَا يُعَذَّبَانِ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ وَتُرِكَ حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ مِنَ الْمُحَالَاتِ الَّتِي يَرُدُّهَا الْعَقْلُ فَإِنَّهُ لَا خِلَافَ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الصَّنْعَةِ فَلَا يُنْكَرُ لِأَبِيهِ أَنْ يَخُصَّهُ بِأَحَادِيثَ يَتَفَرَّدُ بِهَا عَنْهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8796 - قال النسائي متروك

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے" اس کے بعد سرخی نمودار ہوگی ، جب کوئی اس کو دیکھے تو اس کا خوشدلی سے استقبال نہ کرے ، پھر فرمایا: دو فرشتوں ہاروت اور ماروت نے اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کو زمین پر اتار دے ، ان کو زمین پر اتار دیا گیا، یہ لوگوں کے مابین فیصلے کیا کرتے تھے۔ جب شام ہوتی تو کچھ کلمات پڑھتے اور ان کی برکت سے وہ آسمان میں چڑھ جاتے ، انہوں نے ایک انتہائی خوبصورت عورت کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا، اس عورت نے ان کو برائی کی دعوت دی ، لیکن فرشتے اس کو ٹالتے رہے ، لیکن ان کے دل میں اس کی یاد رہنے لگی، یہ دونوں اس سے رابطے میں رہے حتیٰ کہ ایک دن اس نے ان سے وقت طے کر لیا اور پھر مقررہ وقت پر ان کے پاس آگئی ، اس نے کہا: پہلے تم وہ کلمات سکھاؤ جو پڑھ کر تم آسمانوں پر جاتے ہو، انہوں نے اس عورت کو وہ کلمات سکھا دئیے ، اس نے فوراً وہ کلمات پڑھے اور آسمانوں کی جانب چڑھ گئی ، لیکن اس کو مسخ کردیا گیا، اور پھر اس کو یوں بنا دیا گیا جیسا کہ تم اس کو دیکھتے ہو، جب شام ہوئی ، انہوں نے وہ کلمات پڑھے جن کو پڑھ کر وہ آسمانوں پر چڑھا کر تے تھے۔ لیکن اس دن وہ اوپر کی جانب نہ چٖڑھ سکے ، ان کی جانب پیغام بھیجا گیا ، اگر تم چاہو تو تمہیں آخرت کا عذاب دیا جائے اور اگر چاہو تو قیامت تک تمہیں دنیا کا عذاب دیا جائے ، پھر جب قیامت میں اللہ تعالیٰ سے تمہاری ملاقات ہو تو اس وقت اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہیں عذاب دے اور چاہے تو تم پر رحمت کرے ۔ ان میں سے ایک نے دوسرے کی جانب دیکھا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم دنیا ہی میں سزا کاٹیں گے چاہے وہ ہزار گنا زیادہ کیوں نہ ہو، چنانچہ ان کو قیامت تک عذاب ہوتا رہے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔اور یحییٰ بن سلمہ کی ان کے والد سے روایت کردہ حدیث چھوڑ دی گئی ہے کیونکہ یہ محالات میں سے ہے، عقل اس کو قبول نہیں کرتی کیونکہ اس میں کوئی اختلا ف نہیں ہے۔ کہ وہ اہل فن میں سے ہیں ، اس لئے کچھ بعید نہیں ہے کہ ان کے والد کی کچھ مخصوص احادیث ہوں جن کی روایت کرنے میں وہ منفرد ہوں۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← أَبُو الْجَوَّابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عمرويه الصفار

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8796

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8797

8797 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّرَسُوسِيُّ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي سَعِيدٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ «مَبْلَغَ الْعَرَقِ مِنِ ابْنِ آدَمَ» ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: «إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ» ، وَقَالَ الْآخَرُ: «يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ وَأَشَارَ ابْنُ عُمَرَ فَخَطَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ بِالسَّبَّابَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8797 - صحيح

حضرت سعید بن جبیر فرماتےہیں : مین حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیامت کے دن انسان کے پسینے کی انتہا بیان کرتے ہوئے سنا ہے، ایک نے کہا:ان کے کانوں کی لو تک ہوگا، اور دسرے نے کہا: وہ پسینے میں ڈوبی ہوئی ہو گی، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہتے ہوئے اپنی شہادت کی انگلی کے ساتھ کان کی لو کے درمیان خط کھینچا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَحَدُهُمَا: «إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ» ← النَّبِيَّ يَذْكُرُ «مَبْلَغَ الْعَرَقِ مِنِ ابْنِ آدَمَ» ← أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: إِنِّي ← جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي سَعِيدٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← محمد بن عيسى الطرسوسي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8797

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8798

8798 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، ثَنَا أَبُو عَلِيٍّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: عُدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مَوْعُوكًا فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ فَقُلْتُ: تَالَلَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رَجُلًا أَشَدَّ حَرًّا مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَشَدَّ حَرًّا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَاذَيْنَكَ الرَّجُلَيْنِ الرَّاكِبَيْنِ الْمُقَفِّيَيْنِ» لِرَجُلَيْنِ حِينَئِذٍ مِنْ أَصْحَابِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8798 - على شرط مسلم

حضرت ایاس بن سلمہ بن الاکوع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ( وہ فرماتے ہیں ) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک بیمار کی عیادت کے لئے گئے، میں نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے آج سے پہلے اتنا زیادہ بخار کبھی کسی کو نہیں دیکھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس کی خبرنہ دوں جو قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ گرم ہوں گے ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس وقت دو آدمی کھڑے تھے ان کو مراد لیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاJ یہ دو سوار آدمی جو منہ پھیرے کھڑے ہیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِي ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو عَلِيٍّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ ← أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8798

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8799

8799 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى إِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ لَهُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا، وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8799 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کو دنیا میں اس کے گنا ہ کی سزا دے دیتا ہے ، اور جب کسی بندے کے ساتھ " شر" کا ارادہ فرما تا ہے تو اس کی سزا کو مؤخر کر دیتا ہے حتیٰ کہ قیامت کے دن اس کو پوری سزا دے گا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ الْكِنْدِيِّ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَابْنُ لَهِيعَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8799

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8800

8800 - أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثَنَا أَبُو مُوسَى سَهْلُ بْنُ كَثِيرٍ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: نَزَلْنَا مِنَ الْمَدَائِنِ عَلَى فَرْسَخٍ فَلَمَّا جَاءَتِ الْجُمُعَةُ حَضَرَ وَحَضَرْتُ مَعَهُ فَخَطَبَنَا حُذَيْفَةُ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ} [القمر: 1] أَلَا وَإِنَّ السَّاعَةَ قَدِ اقْتَرَبَتْ أَلَا وَإِنَّ الْقَمَرَ قَدِ انْشَقَّ، أَلَا وَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِفِرَاقٍ، أَلَا وَإِنَّ الْيَوْمَ الْمِضْمَارُ وَغَدًا السِّبَاقُ "، فَقُلْتُ لِأَبِي: أَيَسْتَبِقُ النَّاسُ غَدًا؟ قَالَ: يَا بُنَيَّ إِنَّكَ لَجَاهِلٌ، إِنَّمَا يَعْنِي الْعَمَلَ الْيَوْمَ وَالْجَزَاءُ غَدًا، فَلَمَّا جَاءَتِ الْجُمُعَةُ الْأُخْرَى حَضَرْنَا فَخَطَبَنَا حُذَيْفَةُ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، يَقُولُ: {اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ} [القمر: 1] أَلَا وَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِفِرَاقٍ، أَلَا وَإِنَّ الْيَوْمَ الْمِضْمَارُ وَغَدًا السِّبَاقُ، أَلَا وَإِنَّ الْغَايَةَ النَّارُ وَالسَّابِقُ مَنْ سَبَقَ إِلَى الْجَنَّةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8800 - صحيح

حضرت عبدالرحمٰن سلمی بیان کرتے ہیں : آپ فرماتے ہیں : مدائن سے ایک فرسخ کے فاصلے پر ہم نے پڑاؤ ڈالا، جب جمعہ آیا تو ہم جمعہ پڑھنے آئے ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا، اور فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ اقتربت الساعۃ اسنشق القمر : " پاس آئی قیامت اور شق ہو گیا چاند" ( ترجمعہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ) خبر دار بے شک قیامت قریب ہے ، خبر دار ، چاند دوٹکڑے ہو چکا ، خبر دار ! دنیا جدائی کے بالکل قریب ہے، خبر دار ! آج دوڑ ہے اور اس میں سبقت ہوگی۔ میں نے حضرت ابی سے کہا: کیا لوگ کل سبقت حاصل کریں گے ؟ آپ نے فرمایا : اے میرے پیارے بیٹے ، تم نادان ہو، اس سے مراد یہ ہے کہ آج عمل کا دن ہے اور کل اعمال کی جزا ملے گی، جب اگلا جمعہ آیا تو ہم پھر جمعہ پڑھنے کے لئے حاضر ہوئے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ خبر دار دینا جدائی کے قریب ہے، خبر دار ، آج مضمار ہے اور کل سباق ہے۔ خبر دار انتہاء ، دوزخ ہے ۔ اور سبقت حاصل کرنے والا وہ ہے جو جنت کی جانب سبقت کر گیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو مُوسَى سَهْلُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8800

chevron_left Previous
1…678679680…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section