Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8777

8777 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَوْ ضَرَبَ مِقْمَعٌ مِنْ حَدِيدِ جَهَنَّمَ الْجَبَلَ لَتَفَتَّتْ كَمَا يُضْرَبُ بِهِ أَهْلُ النَّارِ فَصَارَ رَمَادًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8777 - صحيح

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشا فرمایا: اگر دوزخ کا لوہے کا ایک درہ کسی پہاڑ پر مارا جائے تو وہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائے ، جیسا کہ اس کے دوزخیوں کو مارا جائے گا تو وہ راکھ بن جائیں گے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8777

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8778

8778 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِالْكُوفَةِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَنْبَسِ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، ثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ تَبَسَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَسْأَلُونِي مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتُ؟» فَقَالَ: " عَجِبْتُ مِنْ مُجَادَلَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ: يَا رَبِّ أَلَيْسَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تَظْلِمَنِي؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَإِنِّي لَا أَقْبَلُ عَلَيَّ شَهَادَةَ شَاهِدٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِي، فَيَقُولُ: أَوْ لَيْسَ كَفَى بِي شَهِيدًا وَبِالْمَلَائِكَةِ الْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ؟ قَالَ: فَيُرَدِّدُ هَذَا الْكَلَامَ مَرَّاتٍ فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، وَتَكَلَّمُ أَرْكَانُهُ بِمَا كَانَ يَعْمَلُ فَيَقُولُ: بُعْدًا لَكُمْ وَسُحْقًا، عَنْكُمْ كُنْتُ أُجَادِلُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8778 - على شرط ومسلم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے ، پھر فرمایا : کیا تم مجھ سے پوچھو گے نہیں کہ میں کیوں مسکرایا ہوں ؟ پھر فرمایا: مجھے ایک بندہ یاد آگیا : جو قیامت کے دن اپنے رب سے جھگڑ رہا ہو گا، وہ کہے گا : اے اللہ ! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ پر ظلم نہیں کرے گا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : بالکل کیا تھا۔ وہ کہے گا : تو پھر میں اپنے خلاف کسی کی گواہی نہیں مانتا ، وہ کہے گا : کیا میرے بارے میں کراماً کاتبیں کی گواہی کافی نہیں ہے ؟ وہ بار بار یہی بات کہے گا تو اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے اور اس کے اعضا ء اس کے عمل کے بارے میں بول پڑیں گے ، وہ کہے گا: تمہارے لیے ہلاکت ہو ، میں ہمیشہ تمہارا دفاع کر تا رہا اور آج تم میرے ہی خلاف ہو گئے ہو؟ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

فَيُرَدِّدُ هَذَا الْكَلَامَ مَرَّاتٍ فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، وَتَكَلَّمُ أَرْكَانُهُ بِمَا كَانَ يَعْمَلُ ← أَوْ لَيْسَ كَفَى بِي شَهِيدًا وَبِالْمَلَائِكَةِ الْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ؟ ← فَإِنِّي لَا أَقْبَلُ عَلَيَّ شَهَادَةَ شَاهِدٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِي، ← بَلٰی ← يَا رَبِّ أَلَيْسَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تَظْلِمَنِي؟ ← عَجِبْتُ مِنْ مُجَادَلَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ← رَسُولُ اللَّهِ «أَلَا تَسْأَلُونِي مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتُ؟» ← ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ تَبَسَّمَ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عُبَيْدٍ الْمُکْتِبِ ← شَرِيکٍ ← علي بن قادم ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَنْبَسِ، ← أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8778

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8779

8779 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَوْ أَنَّ دَلْوَ غَسَّاقٍ يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لَأَنْتَنَ أَهْلَ الدُّنْيَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8779 - صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر دوزخ کا ایک ڈول دنیا میں انڈیل دیا جائے تو اس سے ساری دنیا بدبو دار ہوجائے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8779

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8780

8780 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرَوَيْهِ الصَّفَّارُ بِبَغْدَادَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَجَاءَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، قَالَ: فَجَعَلَتْ تَنْزِعُ عِمَامَتَهُ وَقَالَتْ: جِئْتَ مِنْ عِنْدِ امْرَأَتِكَ؟ فَقَالَ: جِئْتُ مِنْ عِنْدِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «أَقَلُّ سَاكِنِي الْجَنَّةِ النِّسَاءُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8780 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت مطرف فرماتےہیں : ان کی دو بیویاں تھیں ، آپ ان میں سے ایک کے پاس آئے ، وہ ان کا عمامہ اتارتے ہوئے بولی : آپ اپنی بیوی کے پاس آئے ہیں ؟ انہوں نے کہا: میں حضرت عمران بن حصین کے پاس آیا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت میں عورتوں کی تعداد کم ہو گی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← جِئْتُ مِنْ عِنْدِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَحَدَّثَ ← جِئْتَ مِنْ عِنْدِ امْرَأَتِكَ؟ ← فَجَعَلَتْ تَنْزِعُ عِمَامَتَهُ ← أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَجَاءَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، ← مُطَرِّفًا ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرَوَيْهِ الصَّفَّارُ بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8780

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8781

8781 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي حَجٍّ أَوْ عَمْرَةٍ فَلَمَّا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ فِي هَوْدَجِهَا وَاضِعَةٌ يَدَهَا عَلَى هَوْدَجِهَا فِيهَا خَوَاتِيمُ، فَلَمَّا نَزَلَ الشِّعْبَ إِذَا نَحْنُ بِغِرْبَانٍ كَثِيرَةٍ فِيهَا غُرَابٌ أَعْصَمُ أَحْمَرُ الْمِنْقَارِ وَالرِّجْلَيْنِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مِثْلَ هَذَا الْغُرَابِ فِي هَذِهِ الْغِرْبَانِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8781 - على شرط ومسلم

عمارہ بن خزیمہ بن ثابت بیان کر تے ہیں کہ کسی حج یا عمرے کے موقع پر ہم حضرت عمرو بن العاص کے ہمراہ تھے ، جب ہم مرالظہر ان پہنچے تو ہم نے ایک عورت کو دیکھا ، وہ اپنے کجاوے میں بیٹھی تھی، کجاوے کے اوپر اپنا ہاتھ رکھا ہوا تھا، اس کے ہاتھ میں انگوٹھییاں تھیں ، جب ہم وادی میں اترے تو ہم نے بہت سارے کوے دیکھے ، ان میں ایک کوا ایسا تھا جس کی چونچ اور پاؤں سرخ تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جنت میں عورتوں کاتناسب اتنا ہی ہو گا جتنا ان کوؤں میں سرخ چونچ اور پاؤں والا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتِ ← أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8781

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8782

8782 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَسَدِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي حَجٍّ أَوْ عَمْرَةٍ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي يَدِهَا خَوَاتِيمُهَا وَقَدْ وَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى هَوْدَجِهَا فَدَخَلَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ شِعْبًا، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الشِّعْبِ فَإِذَا غِرْبَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِذَا غُرَابٌ أَعْصَمُ أَحْمَرُ الْمِنْقَارِ وَالرِّجْلَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا كَقَدْرِ هَذَا الْغُرَابِ فِي هَذِهِ الْغِرْبَانِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ "

حضرت عمارہ بن خزیمہ بن ثابت فرماتے ہیں : ہم کسی حج یا عمرے کے موقع پر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے، ہم نے ایک عورت کو دیکھی جس کے ہاتھ میں انگوٹھیاں تھیں ، اس نے اپنا ہاتھ ہودج ( کجاوے ) پر رکھا ہوا تھا، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ وادی میں اترے پھر فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ اسی وادی میں تھے ، یہاں بہت سارے کوے تھے، ان میں ایک کوا ایسا تھا جس کی چونچ اور پاؤں سرخ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جنت میں جانے والی عورتوں کا تناسب اتنا ہی ہوگا جتنا ان کوؤں میں اس ایک کوے کا ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتِ ← أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَسَدِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8782

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8783

8783 - حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ» فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ: وَبِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ؟ قَالَ: «لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ مِنْكُنَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " وَقَدْ رَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِزِيَادَةِ أَلْفَاظٍ فِيهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8783 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عورتوں ! صدقہ دیا کرو ، اگرچہ اپنے زیورات میں سے ہی دینا پڑے ، کیونکہ تم زیادہ تعداد میں دوزخ میں جاؤ گی، ایک عورت ( یہ عورت ، علاقے کی بڑی عورتوں میں سے نہیں تھی) نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا وجہ ہے ، ہم زیادہ تعداد میں دوزخ میں کیوں جائیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس لئے کہ تم بہت زیادہ لعن طعن کرتی ہو، اور شوہر کی نا فرمانی کرتی ہو، اور تمہاری عقل بھی ناقص ہے اور تمہارا دین بھی ناقص ہے، اور تم سے زیادہ مرد کی عقل خراب کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔تاہم جریر نے منصور سے ، انہوں نے اعمش سے روایت کیا ہے اور اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ بھی ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ التَّيْمِيِّ، ← زِرٍّ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8783

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8784

8784 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الزَّاهِدُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا مُعَاوِيَةُ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ، عَنِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْنَبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قَالَتْ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلًا خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ فَقُلْتُ لَهُ: سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُجْزِئُ عَنِّي مِنَ الصَّدَقَةِ النَّفَقَةُ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي؟ قُلْتُ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُلْقِيَ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ: اذْهَبِي فَسَلِيهِ، قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَانْتَهَيْتُ إِلَى الْبَابِ فَإِذَا عَلَيْهِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حَاجَتُهَا كَحَاجَتِي، قَالَتْ: فَخَرَجَ إِلَيْنَا بِلَالٌ، فَقُلْنَا لَهُ: سَلْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُجْزِئُ عَنَّا مِنَ الصَّدَقَةِ النَّفَقَةُ عَلَى أَزْوَاجِنَا وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حِجْرِنَا؟ قُلْتُ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ بِلَالٌ، فَقَالَ: عَلَى الْبَابِ زَيْنَبُ، قَالَ: «أَيُّ الزَّيَانِبِ» قَالَ: زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ وَزَيْنَبُ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَسْأَلَانِكَ النَّفَقَةَ عَلَى أَزْوَاجِهِمَا وَأَيْتَامٍ فِي حَجْرِهِمَا أَيُجْزِئُ ذَلِكَ عَنْهُمَا مِنَ الصَّدَقَةِ؟ قَالَتْ: فَخَرَجَ إِلَيْنَا بِلَالٌ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَهُمَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ، وَتَفَرَّدَ مُسْلِمٌ رَحِمَهُ اللَّهُ بِإِخْرَاجِهِ مُخْتَصَرًا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8784 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے عورتو! تم صدقہ دیا کرو ، اگرچہ اپنے زیورات میں سے ہی دے دیا کرو، کیونکہ جہنمیوں میں اکثریت تمہاری ہے۔ آپ فرماتی ہیں : حضرت عبداللہ تنگ دست تھے، میں نے ان سے کہا: آپ میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھیں : کیا میرے لئے یہ صدقہ کافی ہے کہ میں اپنے شوہر کی دیکھ بھال کرتی ہوں اور میری پرورش میں کچھ یتیم بچے ہیں ، میں ان کے کھانے پینے کا انتظام کرتی ہوں ؟ میں نے کہا: مجھ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہیبت طاری ہوجاتی ہے، ) اس لئے میں نہیں جا سکتا) تو خود چلی جا اور جا کر پوچھ لے ، آپ فرماتی ہیں : میں خود ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ مین چلی گئی ، جب میں دروازے پر پہنچی تو ایک انصاری خاتون وہاں پر موجود تھی۔ اس کا مسئلہ بھی میرے ساتھ ملتا جلتا تھا، آپ فرماتی ہیں : پھر حضرت بلال باہر تشریف لائے ، ہم نے ان سے کہا : آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہمارا یہ مسئلہ پوچھ کر ہمیں بتادیں کہ ہم اپنے شوہر اور اپنی پرورش میں یتیموں پر جو خرچہ کرتی ہیں ، کیا ہمارے لئے وہ صدقہ کافی ہے؟حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے پر زینب آئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : کون سی زینب ؟ انہوں نے بتایا کہ عبداللہ کی زوجہ اور ایک زینب نامی انصاری خاتون ہیں ، وہ آپ سے پوچھنے آئی ہیں کہ ہم اپنے شوہروں پر اور اپنی گود میں یتیم بچوں پر جو خرچہ کرتی ہیں ، کیا وہ ہمارے لئے کافی ہے؟ یہ پوچھ کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور ہمیں بتا یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان کے اس عمل میں دگنا اجر ہے ، قرابت کا ثواب بھی اور صدقے کا ثواب بھی ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔لیکن انہوں نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔ تاہم صرف امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے بہت اختصار کے ساتھ اس کو نقل کیا ہے ۔

زَيْنَبَ، ← ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ← عمرو بن الحارث بن المصطلق ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مُعَاوِيَةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الزَّاهِدُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8784

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8785

8785 - حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى، ثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، قَالَ: " كَانَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى سُورِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ الشَّرْقِيِّ يَبْكِي، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ؟ فَقَالَ: «مَنْ هَاهُنَا، أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى جَهَنَّمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8785 - صحيح

زیاد بن ابی سودہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیت المقدس کی مشرقی دیوار پر بیٹھے رو رہے تھے ، کسی نے کہا: اے ابو الولید ! آپ کیوں رو رہے ہیں انہوں نے فرمایا: یہاں پر کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتا یا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوزخ کو دیکھ رہے ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

مِنْ هَاهُنَا ← بَعْضُهُمْ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ؟ ← كَانَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ عَلَى سُورِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ الشَّرْقِيِّ يَبْكِي، ← زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8785

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8786

8786 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَاءٌ كَالْمُهْلِ كَعَكَرِ الزَّيْتِ فَإِذَا أُقْرِبَ إِلَى فِيهِ سَقَطَتْ فَرْوَةُ وَجْهِهِ فِيهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8786 - صحيح

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پگھلے ہوئے تانبے کی طرح جوش مارتا ہوا پانی کی طرح ہوگا، جب دوزخی اس کو اپنے منہ کے قریب کرے گا تو اس کے منہ کی کھال جھڑ کر اس میں گر جائے گی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8786

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8787

8787 - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ الْعَدْلُ، ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْفُسَّاقُ؟ قَالَ: «النِّسَاءُ» قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أُمَّهَاتِنَا وَأَخَوَاتِنَا وَأَزْوَاجَنَا؟ قَالَ: «بَلَى، وَلَكِنَّهُنَّ إِذَا أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ وَإِذَا ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8787 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فساق دوزخی ہیں ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فساق کون ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتیں ۔ ایک آدمی نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا وہ ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں ۔ لیکن ان کو جب کچھ دیا جائے تو شکر ادا نہیں کرتیں ، اور جب ان پر آزمائش آئے تو صبر نہیں کرتیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

«إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ ← أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8787

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8788

8788 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلْابُ، بِهَمَدَانَ، ثَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالنَّاسُ فِي الصُّفُوفِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَجَعَلَ يَتَنَاوَلُهُ فَتَأَخَّرَ وَتَأَخَّرَ النَّاسُ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الثَّانِيَةَ فَتَأَخَّرَ النَّاسُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا مَا كُنْتَ تَصْنَعُهُ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: «إِنَّهُ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ بِمَا فِيهَا مِنَ الزَّهْرَةِ وَالنَّضْرَةِ فَتَنَاوَلْتُ قِطْفًا مِنْ عِنَبِهَا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلَ مِنْهُ مَنْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يُنْقِصُونَهُ، فَحِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَلَمَّا وَجَدْتُ سَفْعَتَهَا تَأَخَّرْتُ عَنْهَا، وَأَكْثَرُ مَنْ رَأَيْتُ فِيهَا مِنَ النِّسَاءِ، إِنِ ائْتُمِنَّ أَفْشَيْنَ، وَإِنْ سَأَلْنَ أَلْحَفْنَ، وَإِذَا سُئِلْنَ بَخِلْنَ، وَإِذَا أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ، وَرَأَيْتُ فِيهَا عَمْرَو بْنَ لُحَيٍّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَأَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ مَعْبَدُ بْنُ أَكْثَمَ الْخُزَاعِيُّ» فَقَالَ مَعْبَدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخْشَى عَلَيَّ مِنْ شَبَهِهِ فَإِنَّهُ وَالِدِي؟ فَقَالَ: «لَا أَنْتَ مُؤْمِنٌ وَهُوَ كَافِرٌ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ حَمَلَ الْعَرَبَ عَلَى عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8788 - صحيح

حضرت طفیل ابن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ( وہ فرماتے ہیں کہ ) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہمراہ ظہر کی نماز ادا کر رہے تھے، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صفوں میں موجود تھے، ہم نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں ، اس کو لے کر آپ تھوڑا پیچھے ہٹے ، لوگ بھی پیچھےہٹ گئے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری بار پھر پیچھے ہٹے، لوگ بھی پیچھے ہٹ گئے ، میں نے عرض کی : یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے آج آپ کو نماز کے دوران ایسا عمل کرتےہوئے دیکھا ہے کہ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے کھبی نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے جنت تمام خوبصورتی اور شادابی کے ساتھ پیش کی گئی ، میں نے اس کے انگوروں کے خوشوں میں سے ایک خوشہ لینے کا ارادہ کیا تھا، اگر میں وہ لے لیتا تو زمین و آسمان کے درمیان والی تمام مخلوق اس کو کھاتی ، وہ تب بھی کم نہ ہوتا، پھر میرے اور اس کے درمیان کوئی چیز حائل کر دی گئی ۔ پھر مجھ پر دوزخ پیش کی گئی ، جب میں نے اس کی گرمائش کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹ گیا، میں نے اس میں زیادہ تعداد عورتوں کی دیکھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ان کو کوئی راز بتا دیا جائے تو یہ فاش کر دیتی ہیں ، اگر یہ کچھ مانگتی ہیں تو بہت زیادہ ضد کرتی ہیں اور اگر ان سے کوئی چیز مانگی جائے تو بخل سے کام لیتی ہیں ، جب ان کو کچھ دیا جائے تو شکر نہیں کرتی، اور میں نے ان میں عمرو بن لحی کو دیکھا وہ دوزخ میں اپنی آنتیں گھسیٹتا پھر رہا تھا، اور معبد بن کثم خزاعی اس کے ساتھ بہت زیادہ ملتا جلتا ہے ۔ حضر ت معبد نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ا س کی مشابہت کی وجہ سے مجھے کوئی خطرہ ہے؟ وہ تو میرے والد ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں تم مومن ہو وہ کافر ہے۔ وہ سب سے پہلا شخص ہے جس نے اہل عرب کو بتوں کی عبادت سے روشناش کروایا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبِي ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8788

chevron_left Previous
1…677678679…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section