Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8765

8765 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ إِمْلَاءً مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ أَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ فَقُلْتُ لَهُ: يَا بِلَالُ إِنَّ أَبَاكَ، حَدَّثَنِي عَنْ جَدِّكَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ فِي جَهَنَّمَ وَادٍ، فِي ذَلِكَ الْوَادِي بِئْرٌ يُقَالُ لَهُ هَبْهَبُ، حَقٌّ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يُسْكِنَهَا كُلَّ جَبَّارٍ» فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ يَا بِلَالُ «هَذَا حَدِيثٌ تَفَرَّدَ بِهِ أَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ لَمْ يَكْتُبْهُ عَالِيًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ»

محمد بن واسع فرماتے ہیں : میں بلال بن ابی بردہ کے پاس گیا ، میں نے ان سے کہا : اے بلال ، تمہارے والد نے تمہارے دادا کے حوالے سے مجھے ایک حدیث سنائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہنم میں ایک وادی میں ایک کنواں ہے جس کو ہبہب کہتے ہیں ، اللہ تعالی پر یہ حق ہے کہ ہر جبار ( متکبر ) کو اس میں ٹھہرائے ، اے بلال ، تم ان میں سے ہونے سے بچنا ۔ اس حدیث کو محمد بن واسع سے روایت کرنے میں ازہر بن سنان منفرد ہیں ، میری سند عالی اس اسناد کے ہمراہ ہے۔

دَخَلْتُ عَلَى بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ فَقُلْتُ لَهُ: يَا بِلَالُ ← مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ أَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ إِمْلَاءً مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8765

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8766

8766 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَزْهَرُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُنْصَبُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِقْدَارُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ كَمَا لَمْ يَعْمَلْ فِي الدُّنْيَا، وَيَظُنُّ أَنَّهُ مُدَافُعُهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8766 - صحيح

حضڑت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کافر کے لئے قیامت کا دن پچاس ہزار سال کے برابر ہو گا ، جس نے دنیا میں کوئی نیک عمل نہیں کیاہو گا اور وہ یہ سمجھ رہا ہو گا کہ وہ اس کا دفاع کر لے گا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ار امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَزْهَرُ بْنُ نَصْرٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8766

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8767

8767 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ الْعَدْلُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَقِيلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَا: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ قَدْرَ مَا بَيْنَ شَفِيرِ النَّارِ وَقَعْرِهَا كَصَخْرَةٍ زِنَتُهَا سَبْعَ خَلِفَاتٍ بِشُحُومِهِنَّ وَلُحُومِهِنَّ وَأَوْلَادِهِنَّ، تَهْوِي فِيمَا بَيْنَ شَفِيرِ النَّارِ وَقَعْرِهَا إِلَى أَنْ تَقَعَ قَعْرَهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8767 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے بے شک دوزخ کے کنارے اور اس کی گہرائی کا اندازہ یہ ہے کہ ایک پتھر جس کا وزن سات حاملہ اونٹنیوں کے برابر جن کے ساتھ ان کی چربی اور گوشت بھی ہو اور ان کے بچے بھی ہوں ، اس کو دوزخ کے کنارے سے پھینکا جائے اور اس کی گہرائی کی جانب گرتا رہے ، تو اس کو گہرائی تک پہنچنے میں ستر سال لگ جائیں گے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ار امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، ← عَقِیلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8767

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8768

8768 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ الْعَدْلُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَقِيلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدَ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَا: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ قَدْرَ مَا بَيْنَ شَفِيرِ النَّارِ وَقَعْرِهَا إِلَى أَنْ يَقَعَ قَعْرَهَا سَبْعُونَ خَرِيفًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے دوزخ کے کنارے سے لے کر اس کی گہرائی تک کی مسافت ستر سال کی ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ار امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، ← عَقِیلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8768

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8769

8769 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ، ثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَهْوِي بِهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا فِي النَّارِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8769 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک انسان کبھی ایک بات کر دیتا ہے اس کو نہیں پتا ہوتا کہ یہ بات کہاں تک پہنچے گی ، لیکن بندہ اس ایک بات کیی وجہ سے ستر سال تک دوزخ میں گرتا رہے گا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8769

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8770

8770 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ} [الزخرف: 77] قَالَ: " يُخَلِّي عَنْهُمْ أَرْبَعِينَ عَامًا لَا يُجِيبُهُمْ، ثُمَّ أَجَابَهُمْ: {إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ} [الزخرف: 77] فَيَقُولُونَ: {رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ} [المؤمنون: 107] قَالَ: فَيُخَلِّي عَنْهُمْ مِثْلَ الدُّنْيَا، ثُمَّ أَجَابَهُمُ: {اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونَ} قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا يَنْبِسُ الْقَوْمُ بَعْدَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ إِنْ كَانَ إِلَّا الزَّفِيرُ وَالشَّهِيقُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8770 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد " وَنَادَوۡاْ يَٰمَٰلِكُ لِيَقۡضِ عَلَيۡنَا رَبُّكَۖ (الزخرف:77)"" اور وہ پکاریں گے اے مالک تیرا رب ہمیں تمام کر چکے " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے بارے میں فرماتے ہیں : ان کے چالیس سال تک کوئی جواب نہیں دیا جائے گا ، پھر چالیس سال کے بعد جب ان کو جواب دیا جائے گا تو یہ دیا جائے گا " إِنَّكُم مَّٰكِثُونَ ٧٧(الزخرف:77)""تمہیں تو ٹھہرنا ہے " وہ کہیں گے " رَبَّنَآ أَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَإِنۡ عُدۡنَا فَإِنَّا ظَٰلِمُونَ(المومنون:107)""اے ہمارے رب ہم کو دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں گے تو ہم ظالم ہیں " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : پوری دنیا کی عمر جتنا زمانہ تک خاموشی رہے گی پھر اس عرصے کے بعد ان کو یہ جواب دیا جائے گا ، (اخسو ا فیھا ولا تکلمون ) "دتکارے پڑے رہو ، اس میں اور مجھ سے کوئی بات نہ کرو " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم !اس کے بعد لوگ کوئی بات نہیں بولیں گے بلکہ گدھے کی طرح رینکیں گے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اورامام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← أَبِي أَيُّوبَ، ← قَتَادَةَ ← عبد الوهاب بن عطاء أنبأ سعيد ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8770

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8771

8771 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَقْعَدُ الْكَافِرِ مِنَ النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَكُلُّ ضِرْسٍ مِثْلُ أُحُدٍ، وَفَخِذُهُ مِثْلُ وَرِقَانَ، وَجِلْدُهُ سِوَى لَحْمِهِ وَعِظَامِهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8771 - صحيح

حضڑت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشادفرمایا : دوزخ میں کافر کی سرین تین دن کی مسافت تک پھیلی ہو گی اور اس کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو چکی ہو گی ، اس کی ران ۔ ورقان پہاڑ کی مانند ہو گی ، اس کا چمڑہ گوشت اور ہڈیوں کے علاوہ چالیس گز موٹا ہو چکا ہو گا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ار امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8771

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8772

8772 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، قَالَ: ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: " يَفْتَرِقُ النَّاسُ عِنْدَ خُرُوجِهِ ثَلَاثَ فِرَقٍ: فِرْقَةٌ تَتْبَعُهُ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِأَهْلِهَا مَنَابِتِ الشِّيحِ، وَفِرْقَةٌ تَأْخُذُ شَطَّ هَذَا الْفُرَاتِ يُقَاتِلُهُمْ وَيُقَاتِلُونَهُ حَتَّى يُقْتَلُونَ بِغَرْبِيِّ الشَّامِ، فَيَبْعَثُونَ طَلِيعَةً فِيهِمْ فَرَسٌ أَشْقَرُ - أَوْ أَبْلَقُ - فَيَقْتَتِلُونَ فَلَا يَرْجِعُ مِنْهُمْ أَحَدٌ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو صَادِقٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ أَنَّهُ فَرَسٌ أَشْقَرُ، قَالَ: وَيَزْعُمُ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّ الْمَسِيحَ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَنْزِلُ فَيَقْتُلُهُ وَيَخْرُجُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ دَابَّةً مِثْلَ النَّغَفِ فَتَلِجُ فِي أَسْمَاعِهِمْ وَمَنَاخِرِهِمْ فَيَمُوتُونَ، فَتُنْتِنُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ فَيُجْأَرُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُرْسِلُ مَاءً فَيُطَهِّرُ الْأَرْضَ مِنْهُمْ، وَيَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا فِيهَا زَمْهَرِيرٌ بَارِدَةً فَلَا تَدَعُ عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنًا إِلَّا كَفَتْهُ تِلْكَ الرِّيحُ، ثُمَّ تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى شِرَارِ النَّاسِ، ثُمَّ يَقُومُ مَلَكٌ بِالصُّورِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَيَنْفُخُ فِيهِ فَلَا يَبْقَى مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا مَاتَ، إِلَّا مَنْ شَاءَ رَبُّكَ، ثُمَّ يَكُونُ بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَلَيْسَ مِنْ بَنِي آدَمَ أَحَدٌ إِلَّا فِي الْأَرْضِ مِنْهُ شَيْءٌ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَاءً مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ كَمَنِيِّ الرِّجَالِ فَتَنْبُتُ لُحْمَانُهُمْ وَجُثْمَانُهُمْ كَمَا تَنْبُتُ الْأَرْضُ مِنَ الثَّرَى، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: {اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَيِّتٍ} حَتَّى بَلَغَ {كَذَلِكَ النُّشُورُ} [فاطر: 9] ثُمَّ يَقُومُ مَلَكٌ بِالصُّورِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَيَنْفُخُ فِيهِ فَيَنْطَلِقُ كُلُّ رُوحٍ إِلَى جَسَدِهَا فَتَدْخُلُ فِيهِ، فَيَقُومُونَ فَيَجِيئُونَ مَجِيئَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ قِيَامًا لِرَبِّ الْعَالَمِينَ، ثُمَّ يَتَمَثَّلُ اللَّهُ تَعَالَى لِلْخَلْقِ فَيَلْقَى الْيَهُودُ فَيَقُولُ: مَنْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعْبُدُ عُزَيْرًا، فَيَقُولُ: هَلْ يَسُرُّكُمُ الْمَاءُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَيُرِيهِمْ جَهَنَّمَ وَهِيَ كَهَيْئَةِ السَّرَابِ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ {وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا} [الكهف: 100] ، ثُمَّ يَلْقَى النَّصَارَى فَيَقُولُ: مَنْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعْبُدُ الْمَسِيحَ، فَيَقُولُ: هَلْ يَسُرُّكُمُ الْمَاءُ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُرِيهِمْ جَهَنَّمَ وَهِيَ كَهَيْئَةِ السَّرَابِ، ثُمَّ كَذَلِكَ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مِنْ دُونَ اللَّهِ شَيْئًا، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ} [الصافات: 24] حَتَّى يَبْقَى الْمُسْلِمُونَ فَيَقُولُ: مَنْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعْبُدُ اللَّهَ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَيَنْتَهِرُهُمْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا: مَنْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعْبُدُ اللَّهُ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُونَ رَبُّكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: إِذَا اعْتَرَفَ لَنَا سُبْحَانَهُ عَرَفْنَاهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَلَا يَبْقَى مُؤْمِنٌ إِلَّا خَرَّ لِلَّهِ سَاجِدًا، وَيَبْقَى الْمُنَافِقُونَ ظُهُورُهُمْ طَبَقٌ وَاحِدٌ كَأَنَّمَا فِيهَا السَّفَافِيدُ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا، فَيَقُولُ: قَدْ كُنْتُمْ تُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَأَنْتُمْ سَالِمُونَ، ثُمَّ يَأْمُرُ اللَّهُ بِالصِّرَاطِ فَيُضْرَبُ عَلَى جَهَنَّمَ، فَيَمُرُّ النَّاسُ بِقَدْرِ أَعْمَالِهِمْ زُمَرًا أَوَائِلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ، ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ، ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ، ثُمَّ كَمَرِّ الْبَهَائِمِ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ سَعْيًا، ثُمَّ يَمُرُّ الرَّجُلُ مَشْيًا، حَتَّى يَجِيءَ آخِرُهُمْ رَجُلٌ يَتَلَبَّطُ عَلَى بَطْنِهِ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لِمَ أَبْطَأْتَ بِي؟ قَالَ: إِنِّي لَمْ أُبْطِئْ، بِكَ إِنَّمَا أَبْطَأَ بِكَ عَمَلُكَ، ثُمَّ يَأْذَنُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الشَّفَاعَةِ فَيَكُونُ أَوَّلُ شَافِعٍ رُوحُ اللَّهِ الْقُدُسُ جِبْرِيلُ، ثُمَّ إِبْرَاهِيمُ، ثُمَّ مُوسَى، ثُمَّ عِيسَى، ثُمَّ يَقُومُ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَشْفَعُ أَحَدٌ فِيمَا يَشْفَعُ فِيهِ، وَهُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي ذَكَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكُ مَقَامًا مَحْمُودًا} [الإسراء: 79] فَلَيْسَ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَهِيَ تَنْظُرُ إِلَى بَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ "، قَالَ سُفْيَانُ: أُرَاهُ قَالَ: " لَوْ عَلِمْتُمْ يَوْمَ يَرَى أَهْلُ الْجَنَّةِ الَّذِي فِي النَّارِ فَيَقُولُونَ: لَوْلَا أَنْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا، ثُمَّ تُشَفَّعُ الْمَلَائِكَةُ وَالنَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ وَالصَّالِحُونَ وَالْمُؤْمِنُونَ فَيُشَفِّعُهُمُ اللَّهُ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، فَيُخْرِجُ مِنَ النَّارِ أَكْثَرَ مِمَّا أَخْرَجَ جَمِيعُ الْخَلْقِ بِرَحْمَتِهِ حَتَّى لَا يَتْرُكَ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ {مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ} [المدثر: 42] وَقَالَ: بِيَدِهِ فَعَقَدَهُ {قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ} [المدثر: 44] هَلْ تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ مِنْ خَيْرٍ؟ وَمَا يُتْرَكُ فِيهَا أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ لَا يُخْرِجَ أَحَدًا غَيَّرَ وُجُوهَهُمْ وَأَلْوَانَهُمْ فَيَجِئُ الرَّجُلُ فَيَشْفَعُ فَيَقُولُ: مَنْ عَرَفَ أَحَدًا فَلْيُخْرِجْهُ، فَيَجِئُ فَلَا يَعْرِفُ أَحَدًا، فَيُنَادِيهِ رَجُلٌ فَيَقُولُ: أَنَا فُلَانٌ، فَيَقُولُ: مَا أَعْرِفُكَ، فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالُوا: {رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ} فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ انْطَبَقَتْ عَلَيْهِمْ، فَلَمْ يَخْرُجْ مِنْهُمْ بَشَرٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

حضرت ابو الزعراء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضر عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس دجال کا تذکرہ ہوا ، آپ نے فرمایا : دجال کے ظہو ر کے موقع پر لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے ، ایک گروہ اس کا پیرو کار ہو جائے گا ، ایک فرقہ جزیرہ عرب میں اپنے گھر والوں کے پاس چلا جائے گا ، اور ایک فرقہ اس فرات کے کنارے پر آ کر ان سے جہاد کرے گا ، حتی کہ جہاد کا سلسلہ غربی شام تک پہنچ جائے گا ۔ یہ ایک لشکر بھیجیں گ ، ان میں سرخی مائل گھوڑے پر یا چتکبرے گھوڑے پر سوار ہو گا ، یہ ان کے ساتھ جہاد کریں گے ، لیکن ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں آئے گا ۔ حضرت ربیعہ بن ناجذ فرماتے ہیں : سرخی مائل گھوڑے پر سوار کے بارے میں ، آپ فرماتے ہیں: اہل کتاب یہ سجمھتے ہیں کہ مسیح عیسی علیہ السلام نازل ہو کر اس کو قتل کریں گے ، اور یاجوج و ماجوج نکلیں گے ، وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں گے ، پھر اللہ تعالی جانوروں کے ناک میں پیدا ہونے والے وبائی کیڑے کی مثل کوئی جانور بھیجے گا ، وہ ان کے کانوں اور ناکوں میں گھس جائے گا ، جس کی وجہ سے وہ سب مر جائیں گے ، ان کی وجہ سے پوری زمین بدبو دار ہو جائے گی ، اللہ تعالی کی بارگا ہ میں دعا مانگی جائے گی ، اللہ تعالی بارش نازل فرمائے گا ، وہ بارش پوری زمین کو دھو کر صاف کردے گی ، پھر اللہ تعالی انتہائی ٹھنڈی ہوا بھیجے گا ، وہ زمین پر کسی مسلمان کو زندہ نہیں چھوڑے گی ،پھر کائنات کے خبیث لوگوں پر قیامت قائم ہو گی ، پھر فرشتہ زمین اور آسمان کے درمیان صور لے کر کھڑا ہو گا اور اس کو بجائے گا ۔ آسمانوں میں اور زمین میں رہنے والی تمام مخلوقات اس کی وجہ سے مر جائیں گے سوائے ان کے جن کو اللہ تعالی نہ مارنا چاہے گا پھر اس کے بعد دوسری مرتبہ صور پھونکنے کے درمیان ایک عرصہ گزرے گا جتنا اللہ چاہے گا ، انسان کے جسم کا کچھ حصہ زمین میں باقی بچے گا ، پھر اللہ تعالی عرش کے نیچے سے پانی بھیجے گا ، یہ پانی مردوں کی منی جیسا ہو گا ، پھر ان کے گوشت جسم کی طرح اگیں گے ، جیسا کہ بارش کی وجہ سے زمین اگتی ہے ۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی " وَٱللَّهُ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ ٱلرِّيَٰحَ فَتُثِيرُ سَحَابٗا فَسُقۡنَٰهُ إِلَىٰ بَلَدٖ مَّيِّتٖ فَأَحۡيَيۡنَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ كَذَٰلِكَ ٱلنُّشُورُ ٩ ""اور اللہ ہے جس نے بھیجیں ہوائیں کہ بادل ابھارتی ہیں پھر ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف رواں کرتے ہیں تو اس کے سبب ہم زمیین کو زندہ فرماتے ہیں اس کے مرے پیچھے یونہی حشر میں اٹھنا ہے " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)پھر فرشتہ دوبارہ صور لے کر زمین اور آسمان کے درمیان کھڑا ہو گا اور اس میں پھونک مارے گا ، ہر روح اپنے اپنے جسم کی طرف دوڑے گی اور آ کر اس میں داخل ہو جائے گی ، پھر لوگ کھڑے ہوں گے اور سب ایک آدمی کی مانند اللہ رب العالمین کی بار گاہ میں حاضر ہوں گے ، اللہ تعالی مخلوق کے لئے ایک صورت میں ظاہر ہو گا ، یہودی ، اللہ تعالی سے ملیں گے ، اللہ تعالی ان سے پوچھے گا : تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے : ہم حضرت عزیر علیہ السلام کی عبادت کیا کرتے تھے ۔ اللہ تعالی فرمائے گا : کیا تم کو پانی کی طلب ہے ؟ وہ کہیں گے : جی ہاں ، ان کو جہنم دکھائی جائے گی ، وہ سراب کی مانند ہو گی ، پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت پڑھی " وَعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡكَٰفِرِينَ عَرۡضًا ١٠٠(الکھف:100)"پھر عیسائی ، اللہ تعالی سے ملیں گے ، اللہ تعالی ان سے پوچھے گا : تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے ؟ وہ کیں گے : ہم مسیح کی عبدات کیا کرتے تھے ، اللہ تعالی ان سے پوچھے گا : تمہیں پانی کی طلب ہے ؟ وہ کہیں گے : جی ہاں ۔ ان کو جہنم دکھائی جائے گی ، وہ سراب کی مانند ہو گی ، یہی سلوک ان تمام لوگوں کے ساتھ ہو گا جو غیر اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے ، پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی "وَقِفُوهُمۡۖ إِنَّهُم مَّسۡ‍ُٔولُونَ ٢٤ (الصافات:24""اور ہم اس دن جہنم کافروں کے سامنے لائیں گے : (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)صرف مسلمان باقی بچیں گے ، اللہ فرمائے گا : تم کس کی عبادت کیا کرت تھے؟ وہ کہیں گے : ہم اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے ، اللہ تعالی دو تین مرتبہ ان سے یہی سوال کرے گا : وہ آگے سے یہی جواب دیں گے ، اللہ تعالی ان سے پوچھے گا : کیا تم اپنے رب کو پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے ، جب اللہ تعالی ہمیں اپنی پہچان کروائے گا تو ہم اس کو پہچان لیں گے ۔ تب اللہ تعالی کشف ساق فرمائے گا ، ہر مومن اللہ تعالی کی بار گاہ میں سر بسجود ہو جائے گا ، منافقین رہ جائیں گے ، ان سے سجدہ نہیں ہو پائے گا ، ان کی پشت ایک سیدھی سلیٹ کی مانند ہو گی ، گویا کہ ان میں سکہ پگھلا کر ڈال دیا گیا ہے ، وہ اپنے رب کو پکاریں گے ، اللہ تعالی فرمائے گا : تمہیں اس وقت سجدے کا کہا گیا تھا جب تم سلامت تھے ، پھر اللہ9 تعالی پلصراط بچھانے کا حکم دے گا ، دوزخ پر پلصراط بچھا دیا جائے گا ، لوگوں کی جماعتیں اپنے اپنے اعمال کی مطابق وہاں سے گزریں گی ، سب سے پہلی جماعت بجلی کی مانند گزریں گے ، بعد والے ہوا کی طرح ، ان کے بعد واقلے پرندے کی پرواز سے ، ان کے بعد والے جانوروں کی مثل ،حتی کہ کئی لوگ دوڑ کر گزریں گے ، پھر ایک آدمی پیدل چلتا ہوا گزرے گا ، اور سب سے آخر ی شخص پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا گزرے گا ، وہ کہےگا : : اے میرے رب ، تو نے مجھے کیوں دیر کروا دی ؟ اللہ تعالی فرمائے گا : میں نے تجھے لیٹ نہیں کروایا ، بلکہ تھجے تیرے اعمال نے لیٹ کروایا ہے ، پھر اللہ تعالی اذن شفاعت عطا فرمائے گا ، سب سے پہلے روح القدس حضرت جبریل امین علیہ السلام شفاعت کریں گے ، پھر حضڑت ابراہیم علیہ السلام ، پھر موسی علیہ السلام پھر عیسی علیہ السلام شفاعت فرمائیں گے ، پھر تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شفاعت کریں گے ۔ جن کی شفاعت ہو چکی ہو گی ، ان کی دوبارہ شفاعت نہیں ہو گی ۔یہ ہے وہ مقام محمود جس کا ذکر اللہ تعالی نے ان الفاظ کے ہمراہ کیا ہے " عَسَىٰٓ أَن يَبۡعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامٗا مَّحۡمُودٗا ٧٩(الاسرء:79)""قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہں سب تمہاری حمد کریں " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اس وقت ہر شخص جنت میں اپنے گھر کو دیکھ رہے ہوں گے ، حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس موقع پر یہ بھی فرمایا : کاش کہ تم جان لو جب جنتی لوگ دوزخ کے حالات دیکھ کر کہیں گے ، اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہم اس دوزخ میں ہو تے "پھر فرشتے شفاعت کریں گے ، پھر دیگر انبیاء کرام ، پھر شہداء ، پھر صالحین ، پھر دیگر مومنین شفاعت کریں گے ، اللہ تعالی ان سب کی شفاعت قبول فرمائے گا ، پھر اللہ تعالی فرمائے گا : میں سب سے بڑارحم کرنے والا ہوں پھر تمام ہستیوں کی شفاعت سے جتنے لوگ دوزخ سے باہر آئے ہوں گے، اس سے زیادہ اللہ تعالی اپنمی رحمت کے صدقے میں دوزخ سے آزاد کرے گا ۔ حتی کہ کوئی شخص دوزخ میں نہیں رہنے دیا جائے گا جس میں بھلائی ہے ۔ پھر حضرت عبداللہ نے اپنی مٹھی کو بند کر کے یہ آیت پڑھی" مَا سَلَكَكُمۡ فِي سَقَرَ ٤٢(المدثر:42)""تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کیا تم ان میں کوئی بھلائی دیکھتے ہو ؟ حالانکہ دوزخ میں ایسا کوئی شخص رہنے ہی نہیں دیا جائے گا جس میں کچھ بھلائی ہو ، پھر جب اللہ تعالی یہ ارادہ فرمائے گا کہ اب مزید کسی کو دوزخ میں سے نہ نکالا جائے تو اللہ تعالی ا ن کے رنگ اور شکلیں تبدیل فرما دے گا، پھر جب کوئی شخص ان کی شفاعت کرنے آئے گا ، اللہ تعالی اس سے فرمائے گا کہ ےو دوزخ میں سے جس کو پہچانتا ہے اس کو وہوں سے نکال کر لے آ ۔ وہ دوزخ میں آئے گا تو اس میں کسی کو بھی نہیں پہچانے گا ، بندہ اس کو آوازیں دے کر اپنا تعارف کروائے گا کہ میں فلاں ہوں ، وہ شفاعت کرنے والا کہے گا : میں تجھے نہیں پہچانتا (تم لوگ کس بناء پر دوزخ میں گئے ہو ) وہ لوگ کہیں گے " قَالُواْ لَمۡ نَكُ مِنَ ٱلۡمُصَلِّينَ ٤٣ وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ ٱلۡمِسۡكِينَ ٤٤ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ ٱلۡخَآئِضِينَ ٤٥ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ ٱلدِّينِ ٤٦(المدثر:43،44،45،46) ""وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے اوور بے ہودہ فکر والوں کے ساتھ بے ہودہ فکریں کرتے تھے اور ہم انساف کے دن کو جھٹلا تے تھے " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)جب وہ یہ بات کہیں گے : تو دوزخ بند کر دی جائے گی ، پھر ان میں سے کوئی شخص باہر نہیں نکل سکے گا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اورامام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي الزَّعْرَاءِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أَسَدُ بْنُ عَاصِمٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8772

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8773

8773 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَوْ أَنَّ مِقْمَعًا مِنْ حَدِيدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ فَاجْتَمَعَ لَهُ الثَّقَلَانِ مَا أَقَلُّوهُ مِنَ الْأَرْضِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8773 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اگر (دوزخ کا ) لوہے کاایک درہ زمین پر رکھ دیا جائے ، تمام جنات اور تمام انسان مل کر بھی اس کو زمین سے نہیں اٹھا سکتے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ار امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8773

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8774

8774 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ وَأَنَا أَسْمَعُ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى خَلَّفْتُ أَكْثَرَ مِنْ هَؤُلَاءِ يَعْنِي الْكَفَّيْنِ جَمِيعًا وَلَا آتِي دِينَكَ وَلَا آتِيكَ وَقَدْ كُنْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ بِمَ بَعَثَكَ رَبُّنَا؟ قَالَ: «بِالْإِسْلَامِ» قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَمَا آيَةُ الْإِسْلَامِ؟ قَالَ: " أَنْ تَقُولَ أَسْلَمْتُ وَجْهِي لِلَّهِ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، كُلُّ مُسْلِمٍ عَنْ مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ إِخْوَانٌ يَصِيرَانِ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْ مُسْلِمٍ أَشْرَكَ بَعْدَمَا أَسْلَمَ عَمَلًا حَتَّى يُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ، مَالِي آخُذُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، أَلَا وَإِنَّ رَبِّي دَاعِيَّ، أَلَا وَإِنَّهُ سَائِلِي: هَلْ بَلَّغْتَ عِبَادِي؟ وَإِنِّي قَائِلٌ: رَبِّ قَدْ أَبْلَغْتُهُمْ، فَلْيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ، ثُمَّ إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ مُقَدِّمَةُ أَفْوَاهِكُمْ بِالْفِدَامِ، ثُمَّ أَوَّلُ مَا يَبِينُ أَحَدَكُمْ لَفَخِذُهُ وَكَفُّهُ " قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا دِينُنَا وَأَيْنَ مَا تُحْسِنُ بِكَفِّكَ؟ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8774 - صحيح

حضرت بہز بن حکیم اپنے والد سے ، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں ( وہ فرماتے ہیں کہ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اور عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کے پاس اس سے بھی زیادہ چھوڑ کر آیا ہوں ( دونوں ہاتھ جمع کرکے کہا) نہ میں آپ کے دین کے لئے آیا ہوں اور نہ آپ کے پاس آیا ہوں میں ایسا آدمی تھا جو اللہ اور اس کے رسول کے سکھائے ہوئے کہ علاوہ کچھ بھی نہیں جانتا تھا ، میں آپ کو اللہ واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں ، ہمارے رب نے آپ کو کیا چیز دے کر بھیجا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام ۔ آپ فرماتے ہیں : میں نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اسلام کی نشانی کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم کہو : میں نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکایا اور تم نماز قائم کرو ، زکواۃ ادا کرو ، ہر مسلمان کے لئے ، دوسرا مسلمان حرمت والا ہے دونوں بھائی بھائی ہیں ، اللہ تعالیٰ اس مسلمان کی عبادت قبول نہیں کرتا جو اسلام لانے کے بعد جان بوجھ کر شرک کرے ، حتیٰ کہ وہ مشرکوں کو چھوڑ کر دوبارہ مسلمانوں میں آجائے ، مجھے کیا ہے ، تمہیں پیٹھ سے پکڑ پکڑ کر دوزخ سے بچاتا ہوں ، سن لو خبر دار ! میرا رب داعی ہے ، خبردار ! وہ مجھ سے پوچھے گا کہ کیا تم نے میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچا دیا؟ اور میں کہوں گا : اے میرے رب ! میں نے پہنچا دیا ہے ۔ اس لئے جو لوگ اس وقت موجود ہیں ، یہ ان تمام تک میرا پیغام پہنچا دیں جو اس وقت غیر حاضر ہیں ، پھر تمہیں بلایا جائے گا ، تمہارے منہ پر چھینکا لگا دیا جائے گا، تمہارے اعضاء میں سب سے پہلے جو گواہی دے گا وہ تمہارے ران اور ہتھیلیاں ہوں گی۔میں نے کہا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ہمارا دین ہے ، اور اس حسن عمل کو توبات ہی کیا ہے ، جو آپ کے مبارک ہاتھوں نے کئے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8774

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8775

8775 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَسُرَادِقُ النَّارِ أَرْبَعَةُ جُدُرٍ كُلُّ جِدَارٍ مِنْهَا مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ سَنَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ "

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دوزخ کے پردے اس کی چار دیوریں ہیں ، ان میں سے ہر دیوار کی لمبائی چالیس سال کی مسافت ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8775

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8776

8776 - حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ فِرَاسٍ الْمَالِكِيُّ الْفَقِيهُ بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، ثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ مُؤَذِّنِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " إِنَّ السُّورَ الَّذِي ذَكَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْقُرْآنِ {فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوَرٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ} [الحديد: 13] هُوَ السُّوَرُ الشَّرْقِيُّ بَاطِنُهُ الْمَسْجِدُ وَمَا يَلِيهِ، وَظَاهِرُهُ وَادِي جَهَنَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8776 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس آیت ﴿ فَضُرِبَ بَيۡنَهُم بِسُورٖ لَّهُۥ بَابُۢ بَاطِنُهُۥ فِيهِ ٱلرَّحۡمَةُ وَظَٰهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ ٱلۡعَذَابُ١٣﴾(الحدید : 13)’’ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہے اس کے اندر کی طرف رحمت اور اس کے باہر کی طرف عذاب ‘‘ ( ترجمعہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ) میں جس دیوار کا ذکر کیا ہے وہ مشرقی دیوار ہے ، اس کے اندر کی جانب مسجد ہے ، اور اس کے باہر کی جانب دوزخ ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي الْعَوَّامِ مُؤَذِّنِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ← عَطِیَّۃَ بْنِ قَیْسٍ، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8776

chevron_left Previous
1…676677678…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section