Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8754

8754 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ، صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي النَّارِ لَحَيَّاتٌ مِثْلُ أَعْنَاقِ الْبُخْتِ يَلْسَعْنَ أَحَدَهُمُ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيفًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8754 - صحيح

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دوزخ میں بختی اونٹوں کی گردنوں کے برابر سانپ ہیں ، یہ کسی کو ایک مرتبہ ڈس لیں تو اس کا درد چالیس سال تک محسوس ہوتا رہےگا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ار امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ صَاحِبَ النَّبِيِّ ← دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8754

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8755

8755 - حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثَنَا أَبُو قِلَابَةَ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ عَمْرٍو الزَّهْرَانِيُّ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ} [النحل: 88] قَالَ: «عَقَارِبَ أَنْيَابُهَا كَالنَّخْلِ الطِّوَالِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8755 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالی کے ارشاد " زِدۡنَٰهُمۡ عَذَابٗا فَوۡقَ ٱلۡعَذَابِ (النحل:88)""ہم نے عذاب پر عذاب بڑھایا بدلہ ان کے فساد کا " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے بارے میں فرماتے ہیں : وہاں پر ایسے بچھو ہیں ، جن کے ڈنک ، کھجوروں کے لمبے لمبے درختوں کی مانند ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ار امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللَّهِ ،فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ [النحل: ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← بشر بن عمرو الزهراني ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8755

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8756

8756 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْأَرَضِينَ بَيْنَ كُلِّ أَرْضٍ إِلَى الَّتِي تَلِيهَا مَسِيرَةُ خَمْسُمِائَةِ سَنَةٍ فَالْعُلْيَا مِنْهَا عَلَى ظَهْرِ حُوتٍ قَدِ التَّقَى طَرَفَاهُمَا فِي سَمَاءٍ، وَالْحُوتُ عَلَى ظَهْرِهِ عَلَى صَخْرَةٍ، وَالصَّخْرَةُ بِيَدِ مَلَكٍ، وَالثَّانِيَةُ مُسَخَّرُ الرِّيحِ، فَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُهْلِكَ عَادًا أَمَرَ خَازِنَ الرِّيحِ أَنْ يُرْسِلَ عَلَيْهِمْ رِيحًا تُهْلِكُ عَادًا، قَالَ: يَا رَبِّ أُرْسِلُ عَلَيْهِمُ الرِّيحَ قَدْرَ مِنْخَرِ الثَّوْرِ، فَقَالَ لَهُ الْجَبَّارُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِذًا تَكْفِي الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا، وَلَكِنْ أَرْسِلْ عَلَيْهِمْ بِقَدْرِ خَاتَمٍ، وَهِيَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ الْعَزِيزِ: {مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ} [الذاريات: 42] ، وَالثَّالِثَةُ فِيهَا حِجَارَةُ جَهَنَّمَ، وَالرَّابِعَةُ فِيهَا كِبْرِيتُ جَهَنَّمَ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِلنَّارِ كِبْرِيتٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ فِيهَا لَأَوْدِيَةٌ مِنْ كِبْرِيتٍ لَوْ أُرْسِلَ فِيهَا الْجِبَالُ الرُّوَاسِي لَمَاعَتْ، وَالْخَامِسَةُ فِيهَا حَيَّاتُ جَهَنَّمَ إِنَّ أَفْوَاهَهَا كَالْأَوْدِيَةِ تَلْسَعُ الْكَافِرَ اللَّسْعَةَ فَلَا يَبْقَى مِنْهُ لَحْمٌ عَلَى عَظْمٍ، وَالسَّادِسَةُ فِيهَا عَقَارِبُ جَهَنَّمَ إِنَّ أَدْنَى عَقْرَبَةٍ مِنْهَا كَالْبِغَالِ الْمُؤَكَّفَةِ تَضْرِبُ الْكَافِرَ ضَرْبَةً تُنْسِيهِ ضَرْبَتُهَا حَرَّ جَهَنَّمَ، وَالسَّابِعَةُ سَقَرُ وَفِيهَا إِبْلِيسُ مُصَفَّدٌ بِالْحَدِيدِ يَدٌ أَمَامَهُ وَيَدٌ خَلْفَهُ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُطْلِقَهُ لِمَا يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ أَطْلَقَهُ» هَذَا حَدِيثٌ تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو السَّمْحِ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ وَقَدْ ذَكَرْتُ فِيمَا تَقَدَّمَ عَدَالَتَهُ بِنَصِّ الْإِمَامِ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8756 - بل منكر

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی مسافت ہے ، ان میں سب سے اوپر والی ایک مچھلی کی پشت پر ہے ، اس کے دونوں کنارے آسمان سے ملتے ہیں ، اور وہ مچھلی ایک چٹان پر ہے ، اور وہ چٹان ایک فرشتے کے ہاتھ میں ہے ۔ اور دوسری ہواؤں کو کنٹرول کرتی ہے ، جب اللہ تعالی نے عاد کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا تو ہوا کے نگران فرشتے کو حکم دیا کہ وہ ان پر ایسی ہوا چلائے جو عاد کو ہالک کر دے ، اس نے کہا : اے میرے رب ! میں ان پر بیل کے گلے کی مقدار میں ہوا بھیجتا ہوں ، اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : یہ زمین کے لئے اور ان لوگوں کئ لئے جو اس پر ہیں سب کے لئے کافی ہے ۔ لیکن ان پر مہر کی مقدار میں ہوا بھیج یہ وہی بات ہے جس کا ذکر اللہ تبار و تعالی نے اپنی کتاب مین ان الفاظ کے ہمراہ کیا ہے ۔" مَا تَذَرُ مِن شَيۡءٍ أَتَتۡ عَلَيۡهِ إِلَّا جَعَلَتۡهُ كَٱلرَّمِيمِ(الذاریات:42)""جس چیز پر گزرتی اس کو گلی ہوئی چیز کی طرح کر چھوڑتی" (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور تیسری میں دوزخ کا ایک پتھر ہے ۔ اور چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پاچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا آگ کی بھی گندھک ہو تی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، اس میں گندھک کی وادیاں ہیں اور ان میں مضبوط پہاڑ ڈالے جائیں تو وہ بھی سما سکتے ہیں ۔ پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں ، ا ن کے منہ وادی کے برابر ہیں ، کافر کو ایک مرتبہ ڈنک مار دیں تو اس کی ہڈیوں پر گوشت کا ایک ٹکڑا تک نہ بچے گا ، چھٹی میں جہنم کے بچھو ہیں ، سب سے چھوٹا بچھو پالان سے کسے ہوئے خچر کے برابر ہو گا ۔ وہ کسی کافر کو ایک ڈنک مارے گا تو وہ اس سے دوزخ کی گرمی بھول جائے گا ، ساتویں میں سقر ہے ، اور اس میں ابلیس بھی ہے ۔ اس کو لوہے کی زنجیروں سے جکڑا ہوا ہے ، ایک ہاتھ آگے اور ایک پیچھے باندھا ہوا ہے، جب اللہ تعالی اپنے کسی بندے پر اس کو چھوڑنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے بندے کے لئے کھول دیتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ار امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ اس حدیث کو ابو السمح ، عیسی بن ہلال سے روایت کرنے میں منفرد ہیں ۔ میں نے اس سے پہلے امام یحیی بن معین کے حوالے سے ان کی عدالت بیان کر دی ہے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8756

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8757

8757 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْمُقْرِئُ، بِبَغْدَادَ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُزَّمِّلِ: {وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنْكَالًا وَجَحِيمًا} [المزمل: 12] لَمْ يَكُنْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى كَانَتْ وَقْعَةُ بَدْرٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8757 - على شرط مسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : جب سورہ مزمل کی یہ آیت نازل ہوئی " وَذَرۡنِي وَٱلۡمُكَذِّبِينَ أُوْلِي ٱلنَّعۡمَةِ وَمَهِّلۡهُمۡ قَلِيلًا ١١ إِنَّ لَدَيۡنَآ أَنكَالٗا وَجَحِيمٗا ١٢ (المزمل:11،12)"" اور مجھ پر چھوڑ دو ان جھٹلانے والے مالداروں کو اور انہیں تھوڑی مہلت دو ، بیشک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں بھڑکتی آگ " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)تو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ جنگ بدر کا واقعہ رونما ہوگیا ۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْمُقْرِئُ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8757

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8757.1

8757 - شِبْلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ} [المزمل: 13] ، قَالَ: «شَجَرَةُ الزَّقُّومِ» صَحِيحٌ "

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "وَطَعَامٗا ذَا غُصَّةٖ وَعَذَابًا أَلِيمٗا ١٣(المزمل:13) "اور گلے میں پھنستا کھانا " سے مراد " زقوم " کا درخت ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

«شَجَرَةُ الزَّقُّومِ» صَحِيحٌ ← ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ} [المزمل: ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← شِبْلٌ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8757.1

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8758

8758 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ خَالِدٍ الْكَاهِلِيُّ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ وَلَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَجُرُّونَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8758 - لكن العلاء كذبه أبو مسلمة التبوذكي

حضڑت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن دوزخ کو ستر ہزار لگامیں ڈالی جائیں گی اور ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لائیں گے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← الْعَلَاءِ بْنِ خَالِدٍ الْكَاهِلِيُّ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8758

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8759

8759 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ، وَعَرْضُ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا، وَعَضُدُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ، وَفَخِذُهُ مِثْلُ وَرِقَانَ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ الرَّبَذَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ، إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى ذِكْرِ ضِرْسِ الْكَافِرِ فَقَطْ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8759 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو جائے گی اور اس کی جلد کی چوڑائی ستر گز اور اس کے بازو بیضاء پہاڑ کی مثل ہوں گے ، اس کے ران ، ورقان پہاڑ کی طرح ہوں گے، اور اس کی سرین آگ کی وجہ سے یہاں سے ربذہ کی چوٹی چوڑی ہو جائے گی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ار امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔تا ہم دونوں نے کافر کا داڑھ کا ذکر کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8759

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8760

8760 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ غِلَظَ جَلْدِ الْكَافِرِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا بِذِرَاعِ الْجَبَّارِ، وَضِرْسُهُ مِثْلُ أُحُدٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " قَالَ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَعْنَى قَوْلِهِ بِذِرَاعِ الْجَبَّارِ: «أَيْ جَبَّارٌ مِنْ جَبَابِرَةِ الآدَمَيِّينَ مِمَّنْ كَانَ فِي الْقُرُونِ الْأُولَى مِمَّنْ كَانَ أَعْظَمَ خَلْقًا وَأَطْوَلَ أَعْضَاءً وَذِرَاعًا مِنَ النَّاسِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8760 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کافر کے چمڑے کی موٹائی اللہ تعالی کے گز کے مطابق 42 گز ہو گی اور اس کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو جائے گی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہمانے اس کو نقل نہیں کیا ۔شیخ ابو بکر کہتے ہیں : ذراع الجبار "کا مطلب ہے پرانے زمانے میں جیسے کئی انسانوں کا قد اور لمبائی چوڑائی عام لوگوں کی بہ نسبت بہت زیادہ ہو تی تھی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عبيد الله بن موسى أنبأ شيبان ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8760

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8761

8761 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: «إِنَّ ضِرْسَ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ، وَرَأْسُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ، وَفَخِذُهُ مِثْلُ وَرِقَانَ، وَغِلَظُ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا، وَإِنَّ مَجْلِسَهُ فِي النَّارِ كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَالرَّبَذَةِ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «وَكَانَ يُقَالُ بَطْنُهُ مِثْلُ بَطْنِ إِضَمٍ» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ لِتَوْقِيفِهِ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8761 - موقوف

حضڑت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد کے پہاڑ کے برابر ہو جائے گی ، اس کا سر بیضا ء پہاڑ کی طرح ہو گا ، اس کی ران ورقان پہاڑ کی طرح ہو گی ، اس کے چمڑے کی موٹائی ستر گز ہوگی ، اور دوزخ میں اسے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی جتنی مدینہ سے ربذہ تک کی مسافت ہے ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کہا جاتا ہے کہ اس کا پیٹ اضم ٹیلے کی وادی جتنا بڑا ہو گا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اورامام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔کیونکہ یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تک موقوف ہے ،

سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← أَبِي هِلَالٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8761

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8762

8762 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ، ثَنَا أَبُو قِلَابَةَ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى، أَنَّ يَعْلَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْبَحْرَ هُوَ جَهَنَّمَ» فَقَالُوا لِيَعْلَى: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا} [الكهف: 29] فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَدْخُلُهَا أَبَدًا حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ وَلَا تُصِيبُنِي مِنْهَا قَطْرَةٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَمَعْنَاهُ أَنَّ الْبَحْرَ صَعْبٌ كَأَنَّهُ جَهَنَّمَ، وَلِذَلِكَ فَرْعٌ عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ تَحْتَ الْبَحْرِ نَارٌ، وَتَحْتَ النَّارِ بَحْرٌ، فَأَمَّا النَّارُ فَإِنَّهَا تَحْتَ السَّابِعَةِ، وَقَدْ شَهِدَ الصَّحَابَةُ فَمَنْ بَعْدَهُمْ عَلَى رُؤْيَةِ دُخَانِهَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8762 - صحيح

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک بحر دوزخ ہے ۔ لوگوں نے حضرت یعلی سے کہا : اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا ہے " نَارًا أَحَاطَ بِهِمۡ سُرَادِقُهَاۚ ٢٩ ""ہم نے کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے اس کی دیواریں اسے گھیر لیں گی (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)انہوں نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں اس میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گا جب تک میں اللہ تعالی سے مل نہ لوں ، اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہیں چھو سکتا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ، اس کا معنی یہ ہے کہ سمندر گہرا ہے گویا کہ وہ جہنم ہو ، او ر یہ حدیث اس حدیث کی فرع ہے ، جس میں انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے ، اور آگ کے نیچے پھر سمندر ہے ۔ اور ساتویں زمین کے نیچے ( بھی ) آگ ہے ۔ کئی صحابہ کرام نے اور ان کے بعد والوں نے اس کا دھواں اٹھنے کا مشاہدہ بھی کیا ہے۔

صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى، أَنَّ يَعْلَى، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8762

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8763

8763 - كَمَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَيْرُوزٍ الدَّانَاجُ، حَدَّثَنِي طَلْقُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: «رَأَيْتُ الدُّخَانَ مِنْ مَسْجِدِ الضِّرَارِ حِينَ انْهَارَ» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَقَدْ حَدَّثَنِي جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا الْغُرَبَاءِ أَنَّهُمْ عَرَفُوا هَذَا الْمَسْجِدَ وَشَاهَدُوا هَذَا الدُّخَانَ، وَقَدْ قَدَّمْتُ الرِّوَايَةَ الصَّحِيحَةَ أَنَّ جَهَنَّمَ تَحْتَ الْأَرْضِ السَّابِعَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8763 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جب مسجد ضرار گرائی گئی اور وہ دوزخ میں گری تو میں نے اس کا دھواں دیکھا ۔ یہ اسناد صحیح ہے اور ہمارے کئی اجنبی اصحاب نے بھی بیان کیا ہے کہ وہ اس مسجد کو پہچانتے بھی ہیں اور انہوں نے دھواں اٹھتے بھی دیکھاتھا ، اور میں اس سے پہلے وہ حدیث بیان کر چکا ہوں جس میں یہ ہے کہ جہنم ساتویں زمین کے نیچے ہے

«رَأَيْتُ الدُّخَانَ مِنْ مَسْجِدِ الضِّرَارِ حِينَ انْهَارَ» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَقَدْ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، ← عبد الله بن فيروز الداناج ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← كَمَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8763

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8764

8764 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «وَيْلً وَادٍ فِي جَهَنَّمَ يَهْوِي فِيهِ الْكَافِرُ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ قَعْرَهُ، وَالصَّعُودُ جَبَلٌ فِي النَّارِ يَتَصَعَّدُ فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا يَهْوِي مِنْهُ كَذَلِكَ أَبَدًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8764 - صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "ویل "جہنم ایک وادی ہے ، کافر جہنم کی گہرائی میں پہنچنے سے پہلے چالیس سال تک اس میں گرتے رہیں گے ۔ اور "صعود " جہنم میں ایک پہاڑ ہے جس پر دوزخی ستر سال تک چڑھتا رہے گا ، پھر اس سے گر جائے گا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ار امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8764

chevron_left Previous
1…675676677…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section