Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8742

8742 - حَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْعَوَّامِ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] قَالَ: «يَرِدُونَهَا ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ»

شعبہ ، سدی سے مرہ کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے " وَإِن مِّنكُمۡ إِلَّا وَارِدُهَاۚ(المریم:71) ""اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو " (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ) کے بارے میں فرمایا : لوگ پل صراط پر آئیں گے ، پھر اپنے اپنے اعمال کے مطابق اس پر سے گزر جائیں گے ۔

«يَرِدُونَهَا ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ» ← عَبْدِ اللَّهِ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: ← مُرَّۃُ ← السُّدِّيِّ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْعَوَّامِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8742

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8743

8743 - حَدَّثَنِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] قَالَ: «يَرِدُونَهَا ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ» قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ: فَحَدَّثْتُ شُعْبَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَرْفُوعًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنِّي أَدَعُهُ عَمْدًا

شعبہ نے سدی کے واسطے سے مرہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ نے " وَإِن مِّنكُمۡ إِلَّا وَارِدُهَاۚ(المریم:71) ""اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو " (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ) کے بارے میں فرمایا : ہے کہ لوگ پل صراط پر آئیں گے پھر اس پر سے اپنے اپنے اعمال کے مطابق گزریں گے ۔ عبدالرحمن بن مہیدی کہتے ہیں : میں نے شعبہ کو اسرائیل کے واسطے سے ، ٌپھر سدی کے واسطے سے ، پھر مرہ سے ، اور پھر حضڑت عبداللہ کے واسطے سے مرفوعاً نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالہ سے بیان کیا ہے ۔ لیکن میں نے اس کو جان بوجھ کر چھوڑ دیا ہے ۔

النَّبِيِّ وَلَكِنِّي أَدَعُهُ عَمْدًا ← عبد الله مرفوعا ← مُرَّۃُ ← السُّدِّيِّ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ: فَحَدَّثْتُ شُعْبَةَ، ← «يَرِدُونَهَا ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ» ← عَبْدِ اللَّهِ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: ← مُرَّۃُ ← السُّدِّيِّ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8743

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8744

8744 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، قَالَا: ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثَنَا أَبُو صَالِحٍ غَالِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ مُنْيَةَ الْأَزْدِيَّةِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَيْبَةَ، قَالَ: اخْتَلَفْنَا هَاهُنَا فِي الْوُرُودِ، فَقَالَ قَوْمٌ: لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ، وَقَالَ آخَرُونَ يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا، ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقُوا، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّا اخْتَلَفْنَا فِيهَا بِالْبَصْرَةِ، فَقَالَ قَوْمٌ: لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ وَقَالَ آخَرُونَ: يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقُوا فَأَهْوَى بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ، فَقَالَ: صُمَّتَا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْوُرُودُ الدُّخُولُ لَا يَبْقَى بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ إِلَّا دَخَلَهَا فَتَكُونُ عَلَى الْمُؤْمِنِ بَرْدًا وَسَلَامًا كَمَا كَانَتْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ حَتَّى إِنَّ لِلنَّارِ - أَوْ قَالَ: لِجَهَنَّمَ - ضَجِيجًا مِنْ نَزْفِهَا " ثُمَّ قَالَ: ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا ويَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8744 - صحيح

عبدالرحمن بن شیبہ فرماتے ہیں : یہاں پر ورود کے بارے میں اختلاف ہے ، کچھ کلوگ کہتے ہیں : مومن دوزخ میں داخل نہیں ہو گا اور کچھ کہتے ہیں کہ سب داخل ہوں گے ، پھر اللہ تعالی ان میں سے متقین کو نجات دے دے گا ۔میں نے ان سے کہا : اس بابت بصرہ میں بھی ہمارا اختلاف ہوا تھا ، کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ مومن دوزخ میں داخل نہیں ہو گا اور کچھ کا نظریہ تھا کہ سب داخل ہوں گےپھر اللہ تعالی ان میں سے متقین کو نکال لے گا ، پھر انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں کو لگائیں اور فرمایا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ نہ سنا ہو تو میرے یہ کان بہرے ہو جائیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ورود سے مراد خول ہے ۔ کوئی نیک و بد نہیں بچے گا ، سب کو اس میں داخل کیا جائے گا ، البتہ وہ آگ مومن پر سلامتی والی اور ٹھنڈی ہو جائے گی جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام پر ہوئی تھی ۔ حتی کہ دوزخ اپنے آگ کے ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے چیخ و پکار کر رہی ہو گی پھر اللہ تعالی متقین کو اس میں سے نجات دے گا اور ظالموں کو اسمیں جلتا رہنے دے گا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ ← مُنْيَةَ الْأَزْدِيَّةِ، ← كثير بن زياد أبي سهل ← أَبُو صَالِحٍ غَالِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8744

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8745

8745 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَرَّاحِ الْعَدْلُ بِمَرْوَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، سُئِلَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] قَالَ: «وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا دَاخِلُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَيَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8745 - داؤد بن الزبر تركه أبو داود

مرہ ہمدانی بیان کرتے ہیں کہ حضر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالی کےارشاد " وَإِن مِّنكُمۡ إِلَّا وَارِدُهَاۚ(المریم:71) ""اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو " (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ) "کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:" وَإِن مِّنكُمۡ إِلَّا وَارِدُهَاۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتۡمٗا مَّقۡضِيّٗا ٧١ ثُمَّ نُنَجِّي ٱلَّذِينَ ٱتَّقَواْ وَّنَذَرُ ٱلظَّٰلِمِينَ فِيهَا جِثِيّٗا (المریم:71،72)""اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے ، پھر ہم ڈر والوں کو بچا لیں گے ۔اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گے (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضا )مطلب یہ کہ اس آیت میں " واردہا " کا مطلب "داخلہا " ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، سُئِلَ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← داود بن الزبرقان ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن الجراح العدل بمرو،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8745

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8746

8746 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: ثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيَأْخُذَنَّ رَجُلٌ بِيَدِ أَبِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَتُقَطِّعَنَّهُ النَّارُ يُرِيدُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيُنَادَى: إِنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا مُشْرِكٌ أَلَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ الْجَنَّةَ عَلَى كُلِّ مُشْرِكٍ، قَالَ: فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَبِي فَيُحَوَّلُ فِي صُورَةٍ قَبِيحَةٍ وَرِيحٍ مُنْتِنَةٍ فَيَتْرُكُهُ " قَالَ: فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَرَوْنَ أَنَّهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَلَمْ يَزِدْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8746 - على شرط البخاري ومسلم

حضڑت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیمات کے دن آدمی اپنے باپ کا ہاتھ پکڑے گا ، لیکن آگ اس کا ہاتھ چھڑو ا دے گی ، وہ بندہ اس کو جنت میں لے جانا چاہتا ہو گا ، پھر ایک نڈا دینے والا کہے گا : جنت میں کوئی مشرک داخل نہیں ہو سکتا ۔خبردار ! اللہ تعالی نے جنت ہر مشرک پر حرام فرما دی ہے ۔وہ اللہ تعالی کو آوازیں دے گا ، تو اس کی شکل بگاڑ دی جائے گی اور اس سے بدبو پھوٹنے لگ جائے گی تو وہ وپنے باپ کو چھوڑ دے گا ۔ صحابہ کرام اس سے یہ سمجھا کرتے تھے کہ یہ بات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں کہی گئی ہے ۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس کی مزید کوئی تشریح نہیں فرمائی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ محمد بن إِبْرَاهِيمُ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8746

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8747

8747 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحُجْوَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: " بَكَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَبَكَتِ امْرَأَتُهُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُكَ تَبْكِي فَبَكَيْتُ، قَالَ: إِنِّي نُبِّئْتُ أَنِّي وَارِدُهَا وَلَمْ أُنَبَّأْ أَنِّي صَادِرُهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

حضڑت قیس بن حازم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ روئے اور ان کی زوجہ بھی رونے لگ گئی ، عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے کہا : آپ کو روتے ہو ئے دیکھ کر میں بھی رو پڑی ۔ آپ نے فرمایا : مجھے تو یہ بتا دیا گیا ہے کہ میں دوزخ میں داخل ہوں گا ، لیکن یہ نہیں بتایا کہ نکل بھی پاؤں گا یا نہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

رأيتك تبكي، فبكيت، ← ما يبكيك ← بَكَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَبَكَتِ امْرَأَتُهُ، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحُجْوَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8747

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8748

8748 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: " كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ وَاضِعًا رَأْسَهُ فِي حِجْرِ امْرَأَتِهِ فَبَكَى فَبَكَتِ امْرَأَتُهُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُكَ تَبْكِي فَبَكَيْتُ، قَالَ: إِنِّي ذَكَرْتُ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] فَلَا أَدْرِي أَنَنْجُو مِنْهَا أَمْ لَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8748 - فيه إرسال

حضت قیس بن حازم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ کی گود میں سر رکھے رو رہے تھے ، ان کو دیکھ کر ان کی زوجہ بھی رونے لگ گئی ، انہوں نے زوجہ سے رونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا : میں نے آپ کو روتے دیکھاتو میں بھی رونے لگ گئی ، آپ نے فرمایا : مجھے اللہ تعالی کا یہ فرمان یاد آ گیا " وَإِن مِّنكُمۡ إِلَّا وَارِدُهَاۚ(المریم:71) ""اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو " (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ) مجھے یہ نہیں پتہ کہ میں اس سے نجات پاؤں گا یا نہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8748

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8749

8749 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ أَبُو مَالِكٍ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ حِينَ تُزْلَفُ الْجَنَّةُ فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، فَيَقُولُونَ: يَا أَبَانَا اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ فَيَقُولُ: وَهَلْ أَخْرَجَتْكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا خَطِيئَةُ أَبِيكُمْ آدَمَ، لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ اعْمِدُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَاكَ إِنَّمَا كُنْتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَاءَ وَرَاءَ، اعْمِدُوا إِلَى النَّبِيِّ مُوسَى الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا، فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَاكَ اذْهَبُوا إِلَى كَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى، فَيَقُولُ عِيسَى: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَاكَ، فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُومُ فَيُؤْذَنُ لَهُ وَيُرْسَلُ مَعَهُ الْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ فَيَقِفَانِ بِالصِّرَاطِ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ، فَيَمُرُّ أَوَّلُكُمْ كَمَرِّ الْبَرْقِ " قُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي أَيُّ شَيْءٍ مَرُّ الْبَرْقِ، قَالَ: " أَلَمْ تَرَ إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمُرُّ ثُمَّ يَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ، ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ وَمَرِّ الطَّيْرِ وَشَدِّ الرِّحَالِ، تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ، قَالَ: حَتَّى تَعْجِزُ أَعْمَالُ النَّاسِ حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ فَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمُرَّ إِلَّا زَحْفًا، قَالَ: وَفِي حَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ تَأْخُذُ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ وَمُكَرْدَسٌ فِي النَّارِ «وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعِينَ خَرِيفًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8749 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی لوگوں کو جمع فرمائے گا ، جب جنت سنواری جائے گی تن مومنین کھڑے ہوں گے ، یہ سب آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے : اے ہمارے والد محترم ، ہمارےب لئے جنت کھلوائیے ، آپ فرمائیں گے : تمہیں تمہارے باپ آدم کی خطاء ہی نے جنت سے نکلوایا تھا ، میں یہ کام نہیں کر سکتا ، تم حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ ، سب لوگ حضڑت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آ جائیں گے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی فرمائیں گے کہ میں تمہارا یہ کام نہیں کر سکتا ، میں تو خلیل ہوں ، بہت پیچھے ہوں ، تم حضرت موسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ ، وہ اللہ تعالی سے ہمکلام ہو تے رہے ہیں ، سب لوگ حضڑت موسی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے ، حضرت موسی علیہ السلام بھی فرمائیں گے کہ میں تمہارا یہ کام نہیں کر سکتا ، تم کلمۃ اللہ ، اور روح اللہ حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ ، حضرت عیسی علیہ السلام فرمائیں گے : میں تمہارا یہ کام نہیں کر سکتا ، تم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلے جاؤ ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوں گے ، آپ کو اذن شفاعت ملے گا ، آپ کے ہمراہ امانت اور رحم کو بھیجا جائے گا ، یہ دونوں پلصراط پر دائیں اور بائیں کھڑے ہو جائیں گے ، ( پھر امت محمدیہ گزرنا شروع ہو گی ) سب سے پہلا شخص " مرالبرق "(بجلی کی چمک ) کی طرح گزر جائے گا ، میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں یہ "مرالبرق " کیا چیزہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تم نے بجلی کو نہیں دیکھا ؟ یہ کتنی جلدی گزر کر پلک جھپکنے میں ہی وپس آ جاتی ہے ، پھر کچھ لوگ ہوا کی مانند گزریں گے ، کچھ لوگ پرندوں کی طرح اور کچھ لوگ سواروں کی طرح گزریں گے ۔ ان کے اعمال ان کو لے کر جا رہے ہوں گے ، ان کا نبیا پلصراط پر کھڑا " رب سلم سلم " کی دعائیں کر رہا ہو گا ، حتی کہ لوگوں کے اعمال کمزور ہوتے جائیں گے ، پھر ایک آدمی آئے گا جو گھسٹ گھسٹ کر گزر رہا ہو گا ، پلصراط کے کناروں پر لوہے کے کنڈے لٹک رہے ہوں گے ، ان کو اس بات کا پابند کیا گیا ہو گا کہ جس کے بارے میں انہیں حکم ہو، یہ اس کو پکڑ لیں ۔ کچھ لوگوں کے جسم چھل جائیں گے لیکن وہ نجات پا جائیں گے اور کچھ لوگ دوزخ میں جا گریں گے ۔ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابو ہریرہ کی جان ہے جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ أَبُو مَالِكٍ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8749

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8750

8750 - حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمَدَانَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَلْقَى رَجُلٌ أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ لَهُ: يَا أَبَتِ أَيُّ ابْنٍ كُنْتُ لَكَ؟ فَيَقُولُ: خَيْرُ ابْنٍ، فَيَقُولُ: هَلْ أَنْتَ مُطِيعِيَّ الْيَوْمَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ: خُذْ بِأُزْرَتِي، فَيَأْخُذُ بِأُزْرَتِهِ، ثُمَّ يَنْطَلِقُ حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَهُوَ يَعْرِضُ الْخَلْقَ، فَيَقُولُ: يَا عَبْدِي ادْخُلْ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ وَأَبِي مَعِي، فَإِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِيَنِي، قَالَ: فَيَمْسَخُ اللَّهُ أَبَاهُ ضَبُعًا فَيُعْرِضُ عَنْهُ فَيَهْوِي فِي النَّارِ فَيَأْخُذُ بِأَنْفِهِ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَا عَبْدِي أَبُوكَ هُوَ؟ فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8750 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آدمی قیامت کے دن اپنے باپ سے ملے گا ، اس سے کہے گا : اے میرے والد ! میں تیرا کیسا بیٹا تھا ؟ وہ کہے گا : تو میرا اچھا بیٹا تھا ، وہ کہے گا : کیا آج تو میری بات مانے گا : وہ کہے گا : جی ہاں ۔ بیٹا کہے گا : میرا دامن پکڑ لو ، وہ اپنے بیٹے کا دامن پکڑ لے گا ، پھر یہ چلتے ہوئے اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں پہنچے گا ۔ اللہ تعالی مخلوق ہی کی جانب متوجہ ہو گا ، اللہ تعالی فرمائے گا : اے میرے بندے جنت کے جس دروازے سے تیرا دل کرے تو داخل ہو جا ، وہ کہے گا : اے میرے رب میرے ساتھ میرا باپ بھی ہے ، اور تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تو مجھے غمزدہ نہیں جرے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : پھر اللہ تعالی اس کے باپ کو بجو کی شکل بنادے گا ۔ وہ اس سے چھوٹ کر دوزخ میں جا گرے گا ، اللہ تعالی اس کو ناک سے پکڑ کر فرمائے گا : اے میرے بندے ! کیا یہی تیرا باپ ہے ؟ بندہ کہے گا : تیری عزت کی قسم ہے یہ میرا باپ نہیں ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهمدان

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8750

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8751

8751 - أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ الْغِفَارِيُّ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ، ثَنَا الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُنَادِي مُنَادٍ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَمْ تَرْضَوْا مِنْ رَبِّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَصَوَّرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ أَنْ يُوَالِيَ كُلُّ إِنْسَانٍ مَا كَانَ يَعْبُدُ فِي الدُّنْيَا وَيَتَوَلَّى، أَلَيْسَ ذَلِكَ عَدْلٌ مِنْ رَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْكُمْ إِلَى مَا كَانَ يَتَوَلَّى فِي الدُّنْيَا وَيُمَثَّلُ لَهُمْ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ فِي الدُّنْيَا، وَقَالَ: يُمَثَّلُ لِمَنْ كَانَ يَعْبُدُ عِيسَى شَيْطَانُ عِيسَى، وَيُمَثَّلُ لِمَنْ كَانَ يَعْبُدُ عُزَيْرًا شَيْطَانُ عُزَيْرٍ، حَتَّى يُمَثَّلَ لَهُمُ الشَّجَرُ وَالْعُودُ وَالْحَجَرُ، وَيَبْقَى أَهْلُ الْإِسْلَامِ جُثُومًا فَيَقُولُ لَهُمْ: مَا لَكُمْ لَا تَنْطَلِقُونَ كَمَا انْطَلَقَ النَّاسُ؟ فَيَقُولُونَ: إِنَّ لَنَا رَبًّا مَا رَأَيْنَاهُ بَعْدُ، قَالَ: فَيَقُولُ: فَبِمَ تَعْرِفُونَ رَبَّكُمْ إِنْ رَأَيْتُمُوهُ؟ قَالُوا: بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ عَلَامَةٌ إِنْ رَأَيْنَاهُ عَرَفْنَاهُ، قَالَ: وَمَا هِيَ؟ قَالُوا: السَّاقُ، فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ، قَالَ: فَيَحْنِي كُلُّ مَنْ كَانَ لِظَهْرٍ طَبَّقَ سَاجِدًا وَيَبْقَى قَوْمٌ ظُهُورُهُمْ كَصَيَاصِي الْبَقَرِ يُرِيدُونَ السُّجُودَ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ، قَالَ: ثُمَّ يُؤْمَرُونَ فَيَرْفَعُونَ رُءُوسَهُمْ فَيُعْطَوْنَ نُورَهُمْ عَلَى قَدْرٍ أَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورَهُ مِثْلَ الْجَبَلِ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورَهُ دُونَ ذَلِكَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورَهُ مِثْلَ النَّخْلَةِ بِيَمِينِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى دُونَ ذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ ذَلِكَ يُعْطَى نُورَهُ عَلَى إِبْهَامِ قَدَمِهِ يُضِيءُ مَرَّةً وَيُطْفِئُ مَرَّةً فَإِذَا أَضَاءَ قَدَّمَ قَدَمَهُ، وَإِذَا طُفِئَ قَامَ، فَيَمُرُّونَ عَلَى الصِّرَاطِ، وَالصِّرَاطُ كَحَدِّ السَّيْفِ دَحْضٌ مَزِلَّةٌ، قَالَ: فَيُقَالُ انْجُوا عَلَى قَدْرِ نُورِكُمْ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَانْقِضَاضِ الْكَوْكَبِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَالطَّرْفِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَالرِّيحِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَشَدِّ الرَّحْلِ وَيَرْمُلُ رَمَلًا فَيَمُرُّونَ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ، حَتَّى يَمُرَّ الَّذِي نُورُهُ عَلَى إِبْهَامِ قَدَمِهِ يَجُرُّ يَدًا وَيُعَلِّقُ يَدًا وَيَجُرُّ رِجْلًا وَيُعَلِّقُ رِجْلًا فَتُصِيبُ جَوَانِبَهُ النَّارُ، قَالَ: فَيَخْلُصُونَ فَإِذَا خَلَصُوا، قَالُوا: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّانَا مِنْكَ بَعْدَ إِذْ رَأَيْنَاكَ، فَقَدْ أَعْطَانَا اللَّهُ مَا لَمْ يُعْطِ أَحَدًا، فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى ضَحْضَاحٍ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ وَهُوَ مُصْفَقٌ مَنْزِلًا فِي أَدْنَى الْجَنَّةِ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَعْطِنَا ذَلِكَ الْمَنْزِلَ، قَالَ: فَيَقُولُ لَهُمْ: تَسْأَلُونِي الْجَنَّةَ وَهُوَ مُصْفَقٌ وَقَدْ أَنْجَيْتُكُمْ مِنَ النَّارِ، هَذَا الْبَابُ لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا، فَيَقُولُ لَهُمْ: لَعَلَّكُمْ إِنْ أُعْطِيتُمُوهُ أَنْ تَسْأَلُونِي غَيْرَهُ، قَالَ: فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا نَسْأَلُكَ غَيْرَهُ وَأَيُّ مَنْزِلٍ يَكُونُ أَحْسَنَ مِنْهُ، قَالَ: فَيُعْطَوْهُ فَيُرْفَعُ لَهُمْ أَمَامَ ذَلِكَ مَنْزِلٌ آخَرُ كَأَنَّ الَّذِي أُعْطَوْهُ قَبْلَ ذَلِكَ حُلْمٌ عِنْدَ الَّذِي رَأَوْهُ، قَالَ: فَيَقُولُ لَهُمْ: لَعَلَّكُمْ إِنْ أُعْطِيتُمُوهُ أَنْ تَسْأَلُونِي غَيْرَهُ، فَيَقُولُونَ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا نَسْأَلُكَ غَيْرَهُ وَأَيُّ مَنْزِلٍ أَحْسَنُ مِنْهُ؟ فَيُعْطَوْهُ ثُمَّ يَسْكُتُونَ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُمْ، مَا لَكُمْ لَا تَسْأَلُونِي؟ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا قَدْ سَأَلْنَا حَتَّى اسْتَحْيَيْنَا، قَالَ: فَيَقُولُ لَهُمْ: أَلَمْ تَرْضَوْا إِنْ أَعْطَيْتُكُمْ مِثْلَ الدُّنْيَا مُنْذُ يَوْمِ خَلَقْتُهَا إِلَى يَوْمِ أَفْنَيْتُهَا وَعَشَرَةَ أَضْعَافِهَا " قَالَ: قَالَ مَسْرُوقٌ: فَمَا بَلَغَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا الْمَكَانَ مِنَ الْحَدِيثِ إِلَّا ضَحِكَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَقَدْ حُدِّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مِرَارًا فَمَا بَلَغْتُ هَذَا الْمَكَانَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا ضَحِكْتُ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مِرَارًا فَمَا بَلَغَ هَذَا الْمَكَانَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا ضَحِكَ حَتَّى تَبْدُوَ لَهَوَاتُهُ وَيَبْدُو آخِرُ ضِرْسٍ مِنْ أَضْرَاسِهِ لِقَوْلِ الْإِنْسَانِ: «أَتَهْزَأُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟» قَالَ: " فَيَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا وَلَكِنِّي عَلَى ذَلِكَ قَادِرٌ فَسَلُونِي، قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَلْحِقْنَا بِالنَّاسِ فَيَقُولُ لَهُمُ: الْحَقُوا بِالنَّاسِ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُونَ يَرْمُلُونَ فِي الْجَنَّةِ حَتَّى يَبْدُوَ لِلرَّجُلِ مِنْهُمْ قَصْرٌ مِنْ دُرَّةٍ مُجَوَّفَةٍ، قَالَ: فَيَخِرُّ سَاجِدًا، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيُقَالُ: إِنَّمَا هَذَا مَنْزِلٌ مِنْ مَنَازِلِكَ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ فَيَسْتَقْبِلُهُ رَجُلٌ فَيَقُولُ: أَنْتَ مَلَكٌ؟ فَيُقَالُ: إِنَّمَا ذَلِكَ قَهْرَمَانٌ مِنْ قَهَارِمَتِكَ عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِكَ، قَالَ: فَيَأْتِيهِ فَيَقُولُ: إِنَّمَا أَنَا قَهْرَمَانٌ مِنْ قَهَارِمَتِكَ عَلَى هَذَا الْقَصْرِ تَحْتَ يَدَيْ أَلْفِ قَهْرَمَانٍ كُلُّهُمْ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ بِهِ عِنْدَ ذَلِكَ حَتَّى يُفْتَحَ الْقَصْرُ وَهُوَ دُرَّةٌ مُجَوَّفَةٌ سَقَايِفُهَا وَأَبْوَابُهَا وَأَغْلَاقُهَا وَمَفَاتِيحُهَا مِنْهَا، فَيُفْتَحُ لَهُ الْقَصْرُ فَيَسْتَقْبِلُهُ جَوْهَرَةٌ خَضْرَاءُ مُبَطَّنَةٌ بِحَمْرَاءَ سَبْعُونَ ذِرَاعًا فِيهَا سِتُّونَ بَابًا كُلُّ بَابٍ يُفْضِي إِلَى جَوْهَرَةٍ وَاحِدَةٍ عَلَى غَيْرِ لَوْنِ صَاحِبَتُهَا، فِي كُلِّ جَوْهَرَةٍ سُرَرٌ وَأَزْوَاجٌ وَتَصَارِيفُ - أَوْ قَالَ: وَوَصَائِفُ - قَالَ: فَيَدْخُلُ فَإِذَا هُوَ بَحَوْرَاءَ عَيْنَاءَ عَلَيْهَا سَبْعُونَ حُلَّةٌ يُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ حُلَلِهَا كَبِدُهَا مِرْآتُهُ وَكَبِدُهُ مِرْآتُهَا، إِذَا أَعْرَضَ عَنْهَا إِعْرَاضَةً ازْدَادَتْ فِي عَيْنِهِ سَبْعِينَ ضِعْفًا عَمَّا كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: لَقَدِ ازْدَدْتِ فِي عَيْنِي سَبْعِينَ ضَعْفًا، وَتَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: فَيُشْرِفُ بِبَصَرِهِ عَلَى مِلْكِهِ مَسِيرَةَ مِائَةِ عَامٍ " قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ عِنْدَ ذَلِكَ: يَا كَعْبُ أَلَا تَسْمَعُ إِلَى مَا يُحَدِّثُنَا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ عَنْ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَالَهُ فَكَيْفَ بِأَعْلَاهُمْ؟ قَالَ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ فَوْقَ الْعَرْشِ وَالْمَاءِ فَخَلَقَ لِنَفْسِهِ دَارًا بِيَدِهِ فَزَيَّنَهَا بِمَا شَاءَ وَجَعَلَ فِيهَا مِنَ الثَّمَرَاتِ وَالشَّرَابِ، ثُمَّ أَطْبَقَهَا فَلَمْ يَرَهَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِهِ مُنْذُ يَوْمِ خَلَقَهَا لَا جِبْرِيلُ وَلَا غَيْرُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، ثُمَّ قَرَأَ كَعْبٌ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ وَخَلَقَ دُونَ ذَلِكَ جَنَّتَيْنِ فَزَيَّنَهُمَا بِمَا شَاءَ وَجَعَلَ فِيهِمَا مَا ذَكَرَ مِنَ الْحَرِيرِ وَالسُّنْدُسِ وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَأَرَاهُمَا مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَمَنْ كَانَ كِتَابُهُ فِي عِلِّيِّينَ يُرَى فِي تِلْكَ الدَّارِ، فَإِذَا رَكِبَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ عِلِّيِّينَ فِي مِلْكِهِ لَمْ يَنْزِلْ خَيْمَةً مِنْ خِيَامِ الْجَنَّةِ إِلَّا دَخَلَهَا مِنْ ضَوْءِ وَجْهِهِ، حَتَّى إِنَّهُمْ يَسْتَنْشِقُونَ رِيحَهُ وَيَقُولُونَ: وَاهًا لِهَذِهِ الرِّيحِ الطَّيِّبَةِ، وَيَقُولُونَ: لَقَدْ أَشْرَفَ عَلَيْنَا الْيَوْمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ عِلِّيِّينَ "، فَقَالَ عُمَرُ: وَيْحَكَ يَا كَعْبُ إِنَّ هَذِهِ الْقُلُوبَ قَدِ اسْتَرْسَلَتْ فَاقْبِضْهَا، فَقَالَ كَعْبٌ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ لِجَهَنَّمَ زَفْرَةً مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا يَخِرُّ لِرُكْبَتَيْهِ حَتَّى يَقُولَ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ اللَّهِ: رَبِّ نَفْسِي نَفْسِي، وَحَتَّى لَوْ كَانَ لَكَ عَمَلُ سَبْعِينَ نَبِيًّا إِلَى عَمَلِكَ لَظَنَنْتَ أَنْ لَا تَنْجُوَ مِنْهَا «رُوَاةُ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ آخِرِهِمْ ثِقَاتٌ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يُخْرِجَا أَبَا خَالِدٍ الدَّالَانِيَّ فِي الصَّحِيحَيْنِ لِمَا ذُكِرَ مِنَ انْحِرَافِهِ عَنِ السُّنَّةِ فِي ذِكْرِ الصَّحَابَةِ فَأَمَّا الْأَئِمَّةُ الْمُتَقَدِّمُونَ فَكُلُّهُمْ شَهِدُوا لِأَبِي خَالِدٍ بِالصِّدْقِ وَالْإِتْقَانِ وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ وَأَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ مِمَّنْ يُجْمَعُ حَدِيثُهُ فِي أَئِمَّةِ أَهْلِ الْكُوفَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8751 - ما أنكره حديثا على جودة إسناده

حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی قیامت کے دن لوگوں کو جمع فرمائے گا ، پھر ایک منادی ند اسے گا : اے لوگو! کیا جس رب تمہیں پیدا کیا ، تمہاری صورت بنائی ، تمہیں رزق دیا ، تم اپنے اس رب پر اس بات پر راضی ہو کہ وہ ہر انسان کو اسی کا ساتھ بنادے جس کی دنیا میں وہ عبادت کیا کرتا تھا اور جس کو اپنا والی سمجھتا تھا ، کیا یہ تمہارے رب کی طرف سے عدل نہیں ہو گا ؟ سب کہیں گے : کیوں نہیں۔ پھر تم میں سے ہر انسان اس کی طرف چل پڑے گا جس کی دنیا میں وہ عبادت کیا کرتا تھا ، اور ان کے دنیا کے معبودوں کو قیامت میں شکل دی جائے گی ، جو لوگ عیسی علیہ السلام کی عبادت کیا کرتے تھے ، ان کے لئے عیسی علیہ السلام کے شیطان کو ایک صورت میں ظاہر کیا جائے گا ، اور جو لوگ حضرت عزیر علیہ السلام کی عبادت کیا کرتے تھے ان کے لئے حضڑت عزیر علیہ السلام کے شیطان کو ایک شکل میں پیش کیا جائے گا ، حتی کہ درخت ، عود اور پتھروں کو بھی شکلیں دی جائیں گی۔ صرف مسلمان باقی بچیں گے ۔ اللہ تعالی ان سے فرمائے گا : تمہیں کیا ہے ؟ جیسے سب لوگ چلے گئے ہیں تم کسی طرف کیوں نہیں گئے ؟ وہ کہیں گے : ہمارا بھی ایک رب ہے ، ہم نے اس کو کبھی نہیں دیکھا ۔ اللہ تعالی فرمائے گا : اگر تم اپنے رب کو دیکھ لو تو اس کو کیسے پہچانو گے ؟ وہ کہیں گے : ہمارے پاس اپنے رب کی ایک نشانی ہے ، اگر ہم اپنے رب کو دیکھیں گے تو اس نشانی کی بناء پر اس کو پہچان لیں گے ، اللہ تعالی فرمائے گا : وہ نشانی کیا ہے ؟ وہ کہیں گے : ساق ( پنڈلی ) پھرت اللہ تعالی اپنی شان کے مطابق اپنی پنڈلی ظاہر فرمائے گا ، کشف ساق ہوتے ہی سب لوگ سجدے میں گر جائیں گے ، کچھ لوگ باقی بچیں گے ، ان کی پیٹھیں تانبے کی ایک سلیٹ کی مانند ہو ںگی ۔ یہ لوگ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن نہ کر پائیں گے ۔ پھر ان لوگوں کو حکم دیا جائے گا ، یہ لوگ اپنے سر اوپر اٹھا ئیں گے ، پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق نور عطا کیا جائے گا ، کچھ لوگوں کو پہاڑ کے برابر ان کے سامنے نور دیا جائے گا ، کچھ لوگوں کو اس ے ذر کم نور دیا جائے گا ، کچھ لوگوں کو درخت جتنا نور دیا جائے گا اور ان کے دائیں جانب ہو گا ، کچھ لوگوں کو اس سے ذرا کم ملے گا ، سب سے کم درجے کا نور پانے والے شخص کے پاؤں کے انگوٹھے میں نور دیا جائے گا ، وہ کبھی روشن ہو گا اور کبھی بجھ جایا کرے گا ، جب وہ روشن ہو گا تو وہ مومن اس کی روشنی میں چلے گا اور جن بجھے گا تو کھڑا ہو جائے گا ، پھر لوگ پلصراط سے گزریں گے ۔ پلصراط تلوار کی دھار کی مانند تیز ہے ۔ اس پر بہت پھسلن ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : لوگ اپنے اعمان کے مطابق اس سے نجات پائیں گے ، کچھ ستارہ ٹوٹنے کی مقدار میں گزر جائیں گے ، کچھ بجلی کی چمک کی مانند گزریں گے ، کچھ تیز ہوا کی طرح گزریں گے ، کچھ سوار کی طرح اور ہشاش بشاش گزریں، الغرض سب اپنے اپنے اعمال کے مطابق گزریں گے ۔حتی کہ جس آدمی کے انگوٹھے میں نور ہو گا وہ گھسٹ گھسٹ کر گزرے گا ، آگ اس کے اعضا ء کو جلا دے گی ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : پھر لوگ وہاں سے نجات پائیں گے ، جب وہاں سے نجات پا کر مڑ کر پلصراط کو دیکھیں گے تو کہیں گے " اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس سے نجات بخش دی ہے۔" اللہ تعالی نے ہمیں وہ نعمت عطا فرمائی ہے جو کبھی کسی کو نہیں دی ۔ پھر یہ لوگ جنت کے دروازے کی گزر گاہ کی جانب چلیں گے ۔ جنت کا دروازے کی گزر گاہ جنت کے سب سے نچلے درجے میں ہو گی ، مومن کہیں گے : اے ہمارے رب ہمیں یہ منزل عطا فرما ، اللہ تعالی ان سے فرمائے گا : تم مجھ سے جنت مانگ رہے ہو ، وہ تو صرف اس کی گزر گاہ ہے ، میں نے تمہیں دوزخ سے بچا لیا ہے ، یہ دروازہ ہے ، وہ لوگ اس کی آواز نہین سنیں گے ، اللہ تعالی ان سے فرمائے گا : ہو سکتا ہے کہ اگر میں تمہیں یہ عطا کردوں تو تم اس سے آگے کوئی اور سوال کرنے لگ جاؤ گے ، بندہ کہے گا : اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم ہے ہم اس کے سو ااور کچھ بھی نہیں مانگیں گے ، اس سے اچھا اور کون سا مقام ہو سکتا ہے جو ہم تجھ سے مانگیں گے ، ان کو وہ مقام دے دیا جائے گا ، پھر ان کے لئے اس سے آگے ایک ار مقام ظاہر کیا جائے گا ، وہ اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گا ، جب وہ اس مقام کو دیکھیں گے تو اپنے پہلے والے مقا م کو بہت حقیر ہی جانیں گے ( وہ لوگ اللہ تعالی سے وہ مقام مانگنے لگ جائیں گے ) اللہ تعالی فرمائے گا : اگر تمہیں وہ مقام دے دیا گیا تو تم اس سے آگے کا مطالبہ کرنے لگ جاؤ گے ، وہ کہیں گے : اے اللہ ہمیں تیری عزت کی قسم ہے ہم اس کے سوا تجھ سے اور کچھ نہیں مانگیں گے ، اور اس سے بڑھ کر خوبصورت کون سی جگہ ہو گی ، ان کو وہ مقام عطا کر دیا جائے گا پھر یہ لوگ خاموش ہو جائیں گے اور کوئی مطالبہ نہیں کریں گے ، ان سے پوچھا جائے گا : تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم مجھ سے مانگتے کیوں نہیں ہو ؟ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ہمک نے جو کچھ تجھ سے مانگا ، تو نے عطا کر دیا ، اب ہمیں مانگتے ہوئے حیاء آتی ہے ، اللہ تعالی ان سے فرمائے گا : کیا تم اس پر راضی ہو کہ جب سے دنیا بنی ہے ، اس وقت سے لے کر اس کے فنا ہونے تک جتنی دنیا اور اس کی دولت ہے تمہیں دے دوں اور اس سے دس گنا مزید بھی عطا کر دوں ، حضرت مسروق کہتے ہیں : یہ حدیث سناتے ہوئے جب حضرت عبداللہ اس مقام پر پہنچے تو ہنسے ، ایک آدمی نے ان سے پوچھا : اے عبدالرحمن ! آپ نے یہ حدیث کئی مرتبہ مجھے سنائی ، آپ جب بھی اس مقام پر پہنچتے ہیں ضرور ہنستے ہیں ، اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہون نے فرمایا کہ میں یہ کئی مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان مبارک سے سنی ہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی اس مقام پر پہنچتے تو اس موقع پر اس بندے نے اللہ تعالی کو جواب دیا اس پر آپ ضرور ہنستے، اتنا ہنستے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہو جاتے ، وہ بندہ کہے گا : تو بادشاہ ہو کر مجھ سے مذاق کر رہا ہے ؟ اللہ تبارک و تعالی فرمائے گا : نہیں ، بلکہ میں واقعی اس پر قادر ہوں ، اس لئے تم مجھ سے مانگو ، بندے کہیں گے : اے ہمارے رب ہمیں صالحین میں شامل فرما دے ، اللہ تعالی فرشتوں سے فرمائے گا : ان کو صالحین کے ساتھ ملا دو، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: وہ لوگ ٹہلتے ٹہلتے جنت میں چلے جائیں گے ، ایک آدمی کو اندر سے خالی موتیوں سے بنا ہوا یاک محل دکھائی دے گا ، وہ بندہ سجدے میںگر پڑے گا ، اس کو کہا جائے گا : اپنا سر اٹھا ، وہ سر اٹھائے گا ، اس کو کہا جائے گا ، یہ یہ تو تیری منازل میں سے ایک منزل ہے ، وہ پھر چل پڑے گا ، ایک آدمی اس کوسامنے سے ملے گا ، بندہ پوچھے گا : کیا تو فرشتہ ہے ؟ اس کو بتایا جائے گا کہ یہ تیرے خدام میں سے ایک خادم ہے ۔ وہ اس کے پاس آئے گا اور اس کو بتائے گا کہ اس محل میں جو تیرے خادمین ہیں ، میں ان میں سے ایک ہوں ، میرے ماتحت ایک ہزار خدام ہیں ، سب کے سب میری ہی طرح ہیں ۔وہ اس کو ساتھ لے کر محل کی جانب جائے گا ، محل کا دروازہ کھلے گا ، پورا محل مجوف مقتیوں ( سیدے موتی جو اندر سے خالی ہوں ، بہت خوبصورت ہوتے ہیں یہ موتی ) کا بنا ہوا ہو گا ۔ اس کی چھتیں ، اس کے دروازے ، اس کے تالے ، ان کی چابیاں ، سب موتیوں کی ہوں گی ، محل کا دروازہ کھولا جائے گا ، سامنے سبز رنگ کا ہیرا ہو گا ، جس کے اندر سرخی ہو گی ، اس کی لمبائی چوڑائی ستر ہاتھ ہو گی ، اس میں ساٹھ دروازے ہوں گے ، ہر دروازہ ایک الگ محل کی جانب کھلتا ہو گا ہر ایک کا رنگ دوسرےسے جدا ہو گا ، ہر ایک میں پردے ہوں گے ، بیویاں ہوں گی اور خادمائیں ہوں گیں ، وہ بندہ اس میں داخل ہو گا ، اس کے سامنے حور عین ہو گی ، اس نے ستر لباس زیب تن کئے ہوں گے ، اس کی پنڈلی کی مخ ستر لباسوں کے اوپر سے نظر آ رہی ہو گی ، حور کا جگر اس بندےئ کا آئنہ ہو گا اور بندے کا جگر حور کا آئنہ ہو گا ، جب بندہ ایک مرتبہ اس سے نگاہ ہٹا کر دوبارہ دیکھے گا تو وہ پہلے سے ستر گنا زیادہ حسین لگ رہی ہو گی ، وہ بندہ کہے گا : تو پہلے سے ستر گنا زیادہ خوبصورت لگ رہی ہے ، اور وہ حور اس بندے کو بھی یہی کہے گی ، وہ اپنی ملکیت میں نگاہ کی تیزی کے ساتھ سو سال تک سفر کر سکے گا ۔ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے کعب تم سن نہیں رہے ہو جو ابن ام عبد سب سے کم درجے کے جنتی کے بارے میں بیان کر رہا ہوں ، تو اندازہ لگائیے کہ سب سے اعلی درجے کے جنتی کا عالم کیا ہو گا ۔ انہوں ےن کہا : اے امیر المومنین ، جنت ایسی چیز ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے ، بے شک اللہ تعالی عرش اور پانی کے اوپر ہے ، اس نے اپنے ہاتھ سے اپنے لئے ایک گھر بنایا ، اس کو اپنی مرضی کی چیزوں سے سنوارا، اس میں پھل رکھے ، مشروبات رکھے ، پھر اس کو ڈھانپ دیا ، جس دن سے اس کو بنایا ہے اس وقت سے اس کی مخلوق نے اس کو نہیں دیکھا نہ جبریل نے دیکھا ہے اور کسی فرشتے نے ۔ پھر حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے یہ آیات پڑھیں" فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین ""تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپا رکھی ہے "(ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)اس کے علاوہ بھی دو جنتیں بنائی ہیں ، ان کو بھی اپنی مرضی کی چیزوں سے مزین کیا ہے ، اور اس میں حریر ، سندس اور استبرق رکھا ہے ، یہ جنتیں اپنی مخلوقات میں سے جن فرشتوں کا چاہا دکھا دی ہیں ، جس کا اعمال نامہ علیین میں ہو گا، اس کو یہ گھر دکھا دیا جائے گا ، جب اہل علیین میں سے کوئی بندہ سوار ہو کر اپنی ملکیت میں چلے گا تو وہ جس خیمے کے پاس اترے گا ، اس کے چہرے کی چمک اس خیمے میں پڑے گی ، وہاں کے رہنے والے اس کی خوشبو سونگھیں گے ، اور اس عمدہ خوشبو کی تعریف کریں گے ، اور کہیں گے آج ہمارے پاس اہل علیین میں سے ایک آدمی آیا ہے ، حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے کعب تیرے لئے ہلاکت ہو یہ دل چھٹ رہے ہیں ، ان کو قابو کرو ، حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے امیر المومنین ! جہنم کی ایک وادی ایسی ہے کہ کوئی مقرب فرشتہ اور نبی ایسا نہیں جو اپنے گھٹنوں کے بل نہ گرتا ہو ، حتی کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کہیں گے رب نفسی نفسی ، حتی کہ اگر تیرے پاس ستر نبیوں کے اعمال بھی ہوں تب بھی مجھے گمان ہے کہ تو اس سے نہیں بچ سکے گا ۔ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں ، البتہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ابو خالد دالانی کی روایات صحیحین میں نقل نہیں کیں ، کیونکہ یہ منقول ہے کہ صحابہ کرام کے ذکر میں یہ سنت سے انحراف کرتے ہیں ۔لیکن تماما آئمہ متقد مین ، ابو خالد کے لئے صدق او اتقان کی گواہی دیتے ہیں ۔ اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور ابو خالد دالانی وہ محدث ہیں جن کی مرویات کو آئمہ اہل کوفہ کی روایات میں جمع کیا گیا ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو خَالِدٍ الدَّالِانِيُّ، ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ الْغِفَارِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8751

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8752

8752 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: كُنْتُ أَرْفَعُ الْقَضَاءَ إِلَى أَبِي بُرْدَةَ، فَكُنْتُ عِنْدَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ الْحَارِثُ بْنُ قَيْسٍ لَيْلَتَئِذٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، فَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا أَرْبَعَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ: «وَثَلَاثَةٌ» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاثْنَانِ، قَالَ: «وَاثْنَانِ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يُعَظَّمُ فِي النَّارِ حَتَّى يَكُونَ أَحَدَ زَوَايَاهَا، وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَدْخُلُ بِشَفَاعَتِهِ الْجَنَّةَ أَكْثَرُ مِنْ مُضَرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8752 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضڑت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں اپنے فیصلے حضرت ابو بردہ کے پاس لے جایا کرتا تھا ، ایک مرتبہ میں ان کے پاس موجود تھا ، ان کے پاس اسی رات حارث بن قیس رضی اللہ عنہ آئے ، وہ صحابی رسول ہیں ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ حدیث سنائی ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ) ایسے دو مسلمان ، جن کے چار بچے فوت ہو جائیں ، اللہ تعالی اپنی رحمت اور فضل سے ان کو جنت میں داخل فرمائے گا ، ہم نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور تین ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اور تین ( والا بھی جنت میں جائے گا ) ہم نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دو والا ( بھی جنت میں جائے گا ؟) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اور دو بھی : پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میری امت میں ایسا شخص بھی ہے جس کو دوزخ میں اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ وہ پوری دوزخ کا ایک کنارہ بن جائے گا، اور میری امت میں ایسا شخص بھی ہے جس کی شفاعت سے مضر سے بھی زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ قَیْسِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8752

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8753

8753 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْدَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ فَرْقَدٍ، ثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «نَارُكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، وَلَوْلَا أَنَّهَا غُمِسَتْ فِي الْمَاءِ مَرَّتَيْنِ مَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةٌ، وَإِنَّهَا لَتَدْعُوَ اللَّهَ - أَوْ تَسْتَجِيرُ اللَّهَ - أَنْ لَا يُعِيدَهَا فِي النَّارِ أَبَدًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8753 - حسن واه

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری یہ آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے ، اگر اس آگ کو دو مرتبہ پانی سے نہ گزارا گیا ہوتا تو تم اس سے فائدہ نہ اٹھا سکتے، اور اللہ کی قسم ، یہ کافی ہے ، اور یہ آگ اللہ تعالی سے ہمیشہ یہ دعا کرتی ہے کہ اس کو دوبارہ کبھی دوزخ میں واپس نہ ڈالا جائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ار امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس انداز سے نقل نہیں کیا ۔

النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← حُسَيْنُ بْنُ فَرْقَدٍ، ← بكر بن بكار ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْدَهْ الأَصْبَهَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8753

chevron_left Previous
1…674675676…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section