المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8730
8730 - فَأَخْبَرْنَاهُ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْخَطْمِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ، وَمَا يَرَى أَنَّ فِي النَّارِ أَشَدَّ عَذَابًا مِنْهُ وَأَنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا»
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دوزخیوں میں سب سے کم عذاب جس کو دیا جائے گا ، وہ ایساشخص ہو گا جس کو آگ کے جوتے اور تسمے پہنائے جائیں گے ، اسو کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابل رہا ہو گا ، اور وہ خود اپنے بارے میں یہ سمجھ رہا ہو گا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب اسی کو ہو رہا ہے ، حالانکہ اس کا عذاب سب سے ہلکا ہو گا ۔
النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ السُّلَمِيُّ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْخَطْمِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8730
