Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8730

8730 - فَأَخْبَرْنَاهُ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْخَطْمِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ، وَمَا يَرَى أَنَّ فِي النَّارِ أَشَدَّ عَذَابًا مِنْهُ وَأَنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا»

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دوزخیوں میں سب سے کم عذاب جس کو دیا جائے گا ، وہ ایساشخص ہو گا جس کو آگ کے جوتے اور تسمے پہنائے جائیں گے ، اسو کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابل رہا ہو گا ، اور وہ خود اپنے بارے میں یہ سمجھ رہا ہو گا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب اسی کو ہو رہا ہے ، حالانکہ اس کا عذاب سب سے ہلکا ہو گا ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ السُّلَمِيُّ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْخَطْمِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8730

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8731

8731 - وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَا: ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ، يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8730 - على شرط البخاري ومسلم

خیثمہ نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

خَيْثَمَةَ، يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8731

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8732

8732 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَخْطُبُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِرَجُلٍ يُوضَعُ عَلَى أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَةٌ يَغْلِي مِنْهَا دِمَاغُهُ» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8732 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضڑت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن سب سے ہلکے عذاب والا وہ ہو گا ، جس کے قدموں کے تلووں پر انگارہ رکھ دیا جائے گا ، جس کی تپش کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی مانند کھول رہا ہو گا ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ ← أَبَا إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8732

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8733

8733 - وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ وَالْقُمْقَمَةُ» وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ "

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن سب سے ہلکا عذاب اس شخص کا ہو گا جس کے پاؤں کے تلووں میں انگارے رکھ دئیے جائیں گے ان کی وجہ سے اس کا دماغ یوں ابلے گا جیسے ہنڈیا یا تانبے کے برتن میں پانی ابلتا ہے ۔حضرت ابو سعید بن خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث درج ذیل ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8733

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8734

8734 - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ مُتَنَعِّلٌ بِنَعْلَيْنِ مَنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مَعَ أَجْزَاءِ الْعَذَابِ، وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ عَلَى أَرْدِيَتِهِ مَعَ أَجْزَاءِ الْعَذَابِ، وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ إِلَى تَرْقُوَتِهِ مَعَ أَجْزَاءِ الْعَذَابِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَدِ اغْتُمِرَ» فِيهَا هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8734 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن دوزخیوں میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ ہو گا جس کو آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی ، اس کی وجہ سے اس کا دماغ ابلے گا ، کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے گھٹنوں تک عذاب ہو گا ، کچھ ایسے ہوں گے جن کو عذاب کے اجزاء والی آگ کی چادریں اوڑھائی جائیں گی ، کچھ ایسے ہوں گے جن کی ہنسلی تک عذاب ہو گا اور کچھ بد نصیب ایسے ہوں گے جو عذاب میں سر تک غرق ہوں گے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔حضڑت عبداللہ بن عباس سے مروی حدیث درج ذیل ہے ۔

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8734

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8735

8735 - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ بِهَمَدَانَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثَنَا حَمَّادٌ، ثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَهْوَنُ النَّاسِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَفِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَمْنَعُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ فَهَلْ نَفَعْتَهُ؟ قَالَ: «قَدْ وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنَ النَّارِ فَأَخْرَجْتُهُ إِلَى ضَحْضَاحٍ» وَحَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ، قَالَ: «فَلَعَلَّهُ أَنْ تَنْفَعَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8735 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضڑت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سب سے ہلکا عذاب کو ہو گا ، اور وہ یہ ہو گا کہ ان کو آگ کی جوتیاں پہنا دی جائیں گی جس کی وجہ سے ان کا دماغ ابل رہا ہو گا ۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عبدالملک بن عمیر کی عبداللہ بن حارث کے واسطے سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث نقل کی ہے ( آپ فرماتے ہیں ) میں عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابو طالب تو آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے ، آپ کا دفاع کیا کرتے تھے اور آپ کی وجہ سے پورے عرب پر غصہ ہوتے تھے ، کیا آپ کی ذات سے بھی ان کو کوئی فائدہ پہنچا؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میں نے ان کو دوزخ کی گہرائی میں پایا تو ان کو وہاں سے ہلکے عذاب کی جانب نکال لیا ۔اور یزید بن الہاد نے عبداللہ بن حباب کے واسطے سے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کا یہ باین نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بار گاہ میں ابو طالب کا ذکر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ہو سکتا ہے کہ قیامت کے دن ان کو میری شفاعت کام آ جائے ، اس لئے ان کو (سخت تیز ) آگ سے نکال کر تھوڑی آگ میں رکھ لیا گیا ہے ، آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچتی ہے جس کی وجہ سے ان کا دماغ ابل رہا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادٌ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ بِهَمَدَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8735

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8736

8736 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ: قَالَا: ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ بِالظَّهِيرَةِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟» فَقُلْنَا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْبَدْرِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهِ سَحَابٌ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: " مَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ نَادَى مُنَادٍ أَلَا لِتَلْحَقْ كُلُّ أُمَّةٍ بِمَا كَانَتْ تَعْبُدُ فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَعْبُدُ صَنَمًا وَلَا وَثَنًا وَلَا صُورَةً إِلَّا ذَهَبُوا حَتَّى يَتَسَاقَطُوا فِي النَّارِ وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَغُبَّرَاتِ أَهْلَ الْكِتَابِ، ثُمَّ تُعْرَضُ جَهَنَّمُ كَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، ثُمَّ يُدْعَى الْيَهُودُ فَيَقُولُ: مَاذَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: عُزَيْرًا ابْنَ اللَّهِ، فَيَقُولُ: كَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ فَمَا تُرِيدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: أَيْ رَبَّنَا ظَمِئْنَا اسْقِنَا، فَيَقُولُ: أَفَلَا تَرِدُونَ، فَيَذْهَبُونَ حَتَّى يَتَسَاقَطُوا فِي النَّارِ، ثُمَّ يُدْعَى النَّصَارَى فَيَقُولُ: مَاذَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ فَيَقُولُونَ: الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ، فَيَقُولُ: كَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ فَمَا تُرِيدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: أَيْ رَبَّنَا ظَمِئْنَا اسْقِنَا، فَيَقُولُ: أَفَلَا تَرِدُونَ فَيَذْهَبُونَ حَتَّى يَتَسَاقَطُوا فِي النَّارِ فَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ ثُمَّ يَتَبَدَّى اللَّهُ لَنَا فِي صُورَةٍ غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي كُنَّا رَأَيْنَاهُ فِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَيَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ لَحِقَتْ كُلُّ أُمَّةٍ بِمَا كَانَتْ تَعْبُدُ وَبَقِيتُمْ، فَلَا يُكَلِّمُهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الْأَنْبِيَاءُ، فَيَقُولُونَ: فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا وَنَحْنُ كُنَّا إِلَى صُحْبَتِهِمْ فِيهَا أَحْوَجَ، لَحِقَتْ كُلُّ أُمَّةٍ بِمَا كَانَتْ تَعْبُدُ وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا الَّذِي كُنَّا نَعْبُدُ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَيَقُولُ: هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ اللَّهِ مِنْ آيَةٍ تَعْرِفُونَهَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمُ السَّاقُ، فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَيَخِرُّ سَاجِدًا أَجْمَعُونَ وَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ سَجَدَ فِي الدُّنْيَا سُمْعَةً وَلَا رِيَاءً وَلَا نِفَاقًا إِلَّا عَلَى ظَهْرِهِ طَبَقٌ وَاحِدٌ كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ خَرَّ عَلَى قَفَاهُ، قَالَ: ثُمَّ يُرْفَعُ بَرُّنَا وَمُسِيئُنَا وَقَدْ عَادَ لَنَا فِي صُورَتِهِ الَّتِي رَأَيْنَاهُ فِيهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: نَعَمْ أَنْتَ رَبُّنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ يُضْرَبُ الْجِسْرُ عَلَى جَهَنَّمَ، قُلْنَا: وَمَا الْجِسْرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِينَا أَنْتَ وَأَمِّنَّا؟ قَالَ: دَحْضٌ مَزِلَّةٌ لَهَا كَلَالِيبُ وَخَطَاطِيفُ وَحَسَكٌ بِنَجْدٍ عُقَيقٌ يُقَالُ لَهَا السَّعْدَانُ فَيَمُرُّ الْمُؤْمِنُ كَلَمْحِ الْبَرْقِ، وَكَالطَّرْفِ، وَكَالرِّيحِ، وَكَالطَّيْرِ وَكَأَجَاوِدِ الْخَيْلِ وَالْمَرَاكِبِ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوشٌ مُرْسَلٌ وَمُكَرْدَسٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَحَدُكُمْ بِأَشَدَّ مِنَّا شِدَّةً فِي اسْتِيفَاءِ الْحَقِّ يَرَاهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي إِخْوَانِهِمْ إِذَا رَأَوْهُمْ قَدْ خَلَصُوا مِنَ النَّارِ، يَقُولُونَ: أَيْ رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا، وَيَصُومُونَ مَعَنَا، وَيَحُجُّونَ مَعَنَا، وَيُجَاهِدُونَ مَعَنَا، قَدْ أَخَذَتْهُمُ النَّارُ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: اذْهَبُوا فَمَنْ عَرَفْتُمْ صُورَتَهُ فَأَخْرِجُوهُ، وَتُحَرَّمُ صُوَرُهُمْ عَلَى النَّارِ فَيَجِدُ الرَّجُلَ قَدْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى قَدَمَيْهِ، وَإِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، وَإِلَى رُكْبَتَيْهِ وَإِلَى حِقْوَيْهِ، فَيَخْرُجُونَ مِنْهَا بَشَرًا ثُمَّ يَعُودُونَ فَيَتَكَلَّمُونَ فَلَا يَزَالُ يَقُولُ لَهُمْ حَتَّى يَقُولَ: اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ " فَكَانَ أَبُو سَعِيدٍ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، يَقُولُ: إِنْ لَمْ تُصَدِّقُوا فَاقْرَأُوا {إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} [النساء: 40] فَيَقُولُونَ: " رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا خَيْرًا، فَيَقُولُ: هَلْ بَقِيَ إِلَّا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ؟ قَدْ شَفَعَتِ الْمَلَائِكَةُ وَشَفَعَ الْأَنْبِيَاءُ فَهَلْ بَقِيَ إِلَّا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ؟ قَالَ: فَيَأْخُذُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ فَيُخْرِجُ قَوْمًا قَدْ عَادُوا حُمَمَةً لَمْ يَعْمَلُوا لَهُ عَمَلَ خَيْرٍ قَطُّ، فَيُطْرَحُونَ فِي نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ نَهَرُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ فِيهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ أَلَمْ تَرَوْهَا وَمَا يَلِيهَا مِنَ الظِّلِّ أَصْفَرُ وَمَا يَلِيهَا مِنَ الشَّمْسِ أَخْضَرُ؟ " قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ تَكُونُ فِي الْمَاشِيَةِ، قَالَ: " يَنْبُتُونَ كَذَلِكَ فَيَخْرُجُونَ أَمْثَالَ اللُّؤْلُؤِ يُجْعَلُ فِي رِقَابِهِمُ الْخَوَاتِيمُ ثُمَّ يُرْسَلُونَ فِي الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ: هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَخْرَجَهُمْ مِنَ النَّارِ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ وَلَا خَيْرٍ قَدَّمُوهُ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: خُذُوا فَلَكُمْ مَا أَخَذْتُمْ فَيَأْخُذُونَ حَتَّى يَنْتَهُوا، ثُمَّ يَقُولُونَ: لَنْ يُعْطِيَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا أَخَذْنَا، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: فَإِنِّي أَعْطَيْتُكُمْ أَفْضَلَ مِمَّا أَخَذْتُمْ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا وَمَا أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ وَمِمَّا أَخَذْنَا؟ فَيَقُولُ: رِضْوَانِي بِلَا سَخَطٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَعَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُخْتَصَرًا، وَأَخْرَجَ مُسْلِمٌ وَحْدَهُ حَدِيثَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ بِأَقَلَّ مِنْ نِصْفِ هَذِهِ السِّيَاقَةِ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم دوپہر کے وقت جب بادل بھی نہ ہوں تو سورج کی جانب دیکھ سکتے ہو ؟ ہم نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم چودہویں رات کے چاند کو بادلوں کے بغیر دیکھ سکتے ہو؟ صحا بہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : قیمت کے دن جب تم اللہ تعالی کا دیدار کرو گے تو اتنی تکلیف بھی محسوس نہیں کرو گے جتنا تم ان میں سے کسی ایک کو دیکھتے وقت محسوس کرتے ہو ، جب قیامت کا دن ہو گا تو ایک ندا دینے والا کہے گا : خبردار ہر امت اپنے معبودوں کے ساتھ مل جائے ، چنانچہ جو کسی بت یا صورت کو پوجتا ہوگا ، سب ان سے جا ملیں گے ، اور یہ سب دوزخ میں جا گریں گے ، اور وہ لوگ باقی بچیں گے جو صرف اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کیا کرتے تھے ، ان میں نیک بھی ہوں گے ، گناہگار بھی ہوں گے اور باقی ماندہ اہل کتاب بھی ہوں گے ، پھر دوزخ کو لایا جائے گا ، یہ سراب کی مانند ہو گی ، اس کا بعض حصہ اپنی بعض کو جلا رہا ہو گا ، پھر یہودیوں کو بلایا جائے گا ، فرشتہ ان سے پوچھے گا : تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے : اللہ کے بیٹے عزیر کی ۔ فرشتہ کہے گا : تم جھوٹ بول رہے ہو ، اللہ تعالی کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اس کی اولاد ہے ، تمہاری کیا مراد ہے ؟ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ہمیں پیاس لگی ہے ، ہمیں پانی پلا ، ان کو کہا جائے گا : تم لوٹ کیوں نہیں جاتے ؟ وہ لوٹ جائیں گے اور دوزخ میں جا گریں گے، پھر عیسائیوں کو بلایا جائے گا ، اللہ تعالی ان سے پوچھے گا : تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے : اللہ کے بیٹے مسیح کی ۔ اللہ تعالی فرمائے گا : تم جھوت بول رہے ہو ، اللہ تعالی کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اولاد۔ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ہمیں پیاس لگی ہے ہمیں پانی عطا فرما ، اللہ تعالی فرمائے گا : تم لوٹ کیوں نہیں جاتے ، وہ چلے جائیں گے اور دوزخ میں گر جائیں گے ۔ اس کے بعد صرف وہی لوگ باقی بچیں گے جو صرف اللہ کی عبادت کرتے ہوں گے ، ان میں نیک بھی ہوں گے اور گناہگار بھی ۔ پھر اللہ تعالی ہمارے سامنے ایسی صورت میں ظاہر ہو گا جو پہلی صورت سے مختلف ہو گی ، پھر اللہ تعالی فرمائے گا : اے لوگو ہر امت ان معبودوں سے جاملی جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے ، اب تم باقی بچے ہو ، اس دن اللہ تعالی سے نبیوں کے سوا کوئی ہم کلام نہیں ہو سکے گا ، وہ عرض کریں گے : دنیا میں لوگ ہم سے جدا رہے ، جب کہ ہم ان کی صحبت کے ضرورتمند تھے ، آج سب امتیں ان معبودوں سے جا ملی ہے جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے ، اور ہم اپنے اس معبود کا انتظار کر رہے ہیں جس کی ہم عبادت کیا کرتے تھے ، اللہ تعالی فرمائے گا : میں تمہارا رب ہوں ، مسلمان کہیں گے : ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، اللہ تعالی فرمائے گا : کیا تمہارے پاس اللہ تعالی کو پہچاننے کی کوئی نشانی ہے ؟ وہ کہیں گے : ہاں ، پنڈلی ۔ اللہ تعالی اپنی شان کے مطابق اپنی پنڈلی ظاہرفرمائے گا ، تو سب لوگ سجدہ ریزہو جائیں گے اور جس دنیا میں منافقت کے طور پر ، یا دکھاوے اور ریا کاری کے طور پر سجدہ کیا ہو گا ، اس کی پشت میں لوہے کا ایک سریا دال دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ جب سجدہ کرنے لگے تو گدی کے بل گر جائے گا ، پھر نیک و بد سب سر اٹھائیں گے ، اب کی بار پھر اللہ تعالی پہلی سے الگ صورت میں ظاہر ہو گا ، وہ فرمائے گا : میں تمہارا رب ہوں ، سب لوگ کہیں گے : جی ہاں تو ہمارا رب ہے ، یہ بات تین مرتبہ دہرائیں گے ، پھر جہنم کے اوپر جسر بچھایا جائے گا ، ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں جسر کیا ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ایک پل ہے جس پر پھسلن ہے ، اس پر لوہے کے تیز کنڈے ہیں ( جس میں انسان پھنس سکتا ہے )، اور نجد کے کانٹے دار پودے ہوں گے ، ان کو "سعدان " کہا جاتا ہے ۔ اس پر سے مومن بجلی کی چمک کی طرح گزر جائیں گے ، کچھ پلک جھپکنے میں ، کچھ ہوا کی مانند ، کچھ پرندے کی طرح تیز ، کچھ تیز رفتار گھوڑے کی طرح ، کچھ عام سواریوں کی طرح گزریں گے ، کئی لوگ نجات پائیں گے ، کچھ لوگ سلامتی کے ساتھ نجات پاجائیں گے، کچھ لوگ زحمی ہوں گے لیکن نجات پا جائیں گے اور کچھ لوگ دوزخ میں گر جائیں گے ۔ اس ذات کی قسم ج کے قبصہ قدرت میں میری جان ہے ، تم جب اپنا حق دیکھ لو تو اس کے وصول کرنے میں اتنی سختی نہیں کرتے ہو جتنے سخت اس دن مومن اپنے بھائیوں کے بارے میں ہوں گے ، جب یہ ان کو دیکھیں گے کہ وہ لوگ دوزخسے نجات پا چکے ہیں ، یہ لوگ کہیں گے : اے ہمارے رب یہ لوگ ہمارے ساتھ نمازیں پڑھا کرتے تھے ، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے ، ہمارے ساتھ حج کیا کرتے تھے ، ہمارے ساتھ جہاد کیا کرتے تھے ، یہ آگ کی لپیٹ میں ہیں ، اللہ تبارک و تعالی فرمائے گا : تم جاؤ ، اور جس جس کو پہچانتے ہو ، ان کو دوزخ سے نکال لو ، ان کے چہروں پر آگ حرام کر دی گئی ہو گی ( اس لئے ان کے چہرے جلنے سے بچے ہوں گے ) یہ ایک آدمی کو دیکھیں گے کہ اس کے قدموں تک آگ پہنچ چکی ہے ، کسی کی پنڈلی تک جلا چکی ہو گی ، اور کسی کو گھٹنوں تک جلا چکی ہو گی ، بعض کی کمر تک ہو گی ، یہ ان میں سے ایک آدمی کو نکال لائیں گے ، پھر وہ دوبارہ لوٹ کر آئیں گے ، اور اللہ تعالی سے گفتگو کریں گے ،( ان کو اجازت ملے گی ، یہ ایک آدمی کو پھر نکال لائیں گے ) یہ مسلسل یہی عمل دہراتے رہیں گے ، حتی کہ اللہ تعالی فرمائے گا : تم جاؤ اور جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی ایمان موجود ہے ، اس کو بھی دوزخ سے نکال لاؤ،یہ لوگ ایسے لوگوں کو بھی نکال کر لے آئیں گے ۔ حضرت ابو سعید جب یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے ، تو فرمایا کرتےتھے: اگر تمہیں یقین نہیں آتا ، تو یہ آیت پڑھ لیں "إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةٗ يُضَٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِن لَّدُنۡهُ أَجۡرًا عَظِيمٗا(النساء:40)""اللہ تعالی ایک ذرہ بھر بھی ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا ہے اور اپنھے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے "(ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ہم نے اس میں کوئی مومن نہیں چھوڑا ، اللہ تعالی فرمائے گا : ارحم الراحمین کے سوا کوئی باقی نہیں بچا ، فرشتے شفاعت کر چکے ، انبیاء کرام شفاعت کر چکے، اب اس ذات کے سوا کوئی نہیں بچا جو ذات ہر رحم کرنے واقلے سے بڑی رحم کرنے والی ہے ۔ پھر اللہ تعالی ایک مٹھی بھر کر دوزخ سے نکالے گا ، یہ لوگ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے ، انہوں نے کبھی کوئی نیک عمل کیا ہی نہیں ہو گا ، ان کو نہر حیات میں غوطہ دیا جائے گا، اس میں ان کے جسم دوبارہ ٹھیک ہو جائیں گے ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، جیسے دانہ گندم سیلاب کی تری میں اگتاہے ، کیا تم اس کو اور اس کے زرد سائے کو نہیں دیکھتے ہو ؟ اور اس کے ساتھ سبز روشنی کو ، ہم نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شاید کہ آپ اہل مواشی میں ہوں گے ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : وہ اسی طرح اگیں گے ، پھر وہ موتیوں کی مانند ہو جائیں گے ، ان کی گردنوں میں مہریں لگائی جائیں گی پھر ان کو جنت کی جانب بھیج دیا جائے گا ، جنتی لوگ ان کو (دیکھ کر ) کہیں گے : یہ جہنمی ہیں ، انہوں نے نہ کوئی نیک عمل کیا اور نہ آخرت کے لئے کوئی کام کیا ، ان کو بلا عمل دوزخ سے نکال لیا گیا ہے ، اللہ تعالی ان سے فرمائے گا : یہاں سے جو دل چاہتا ہے لے لو، تم جو بھی لے لو گے ، وہ تمہارا ہوجائے گا ، وہ بہت کچھ لیں گے اور پھر رک جائیں گے اور کہیں گے : ہم نے جو کچھ لیا ہے ، اللہ تعالی نے ہمیں وہ عطا نہیں کیا ، اللہ تعالی فرمائے گا : میں نے تمہاری منتخب کردہ چیزوں سے بہتر چیزیں عطا کی ہیں ، وہ کہیں گے : یا اللہ جو کچھ ہم نے پسند کیا ہے ، اس سے بہتر کون سی چیز ہے ؟ اللہ تعالی فرمائے گا : میری خوشنودی ناراضگی کے بغیر ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔ تاہم شیخین نے زہری کے واسطے سے سعید بن مسیب کی اور عطا ء بن یزید لیثی کی روایت جو انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ، اس کو اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عبدالرزاق کی وہ حدیث نقل کی ہے جو انہوں نے معمر سے ، انہوں نے زید بن اسلم سے ، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید سے روایت کی ہے ، وہ اس سیاق کے نصف سے بھی کم ہے۔

قُلْتُ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8736

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8737

8737 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، أَنْبَأَ عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ الرَّاسِبِيُّ، أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُجْمَعُ النَّاسُ عِنْدَ جِسْرِ جَهَنَّمَ عَلَيْهِ حَسَكٌ وَكَلَالِيبُ، وَيَمُرُّ النَّاسُ فَيَمُرُّ مِنْهُمْ مِثْلُ الْبَرْقِ، وَبَعْضُهُمْ مِثْلُ الْفَرَسِ الْمُضَمَّرِ، وَبَعْضُهُمْ يَسْعَى، وَبَعْضُهُمْ يَمْشِي، وَبَعْضُهُمْ يَزْحَفُ، وَالْمَلَائِكَةُ بِجَنْبَتَيْهِ تَقُولُ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَالْكَلَالِيبُ تَخْطَفُهُمْ، قَالَ: وَأَمَّا أَهْلُهَا الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا فَلَا يَمُوتُونَ وَلَا يَحْيَوْنَ، وَأَمَّا أُنَاسٌ يُؤْخَذُونَ بِذُنُوبٍ وَخَطَايَا يَحْتَرِقُونَ فَيَكُونُونَ فَحْمًا فَيُؤْخَذُونَ ضِبَارَاتٍ ضِبَارَاتٍ فَيُقْذَفُونَ عَلَى نَهْرٍ مِنَ الْجَنَّةِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ "، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ رَأَيْتُمُ الصَّبْغَاءَ؟ ثُمَّ إِنَّهُمْ بَعْدُ يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ» ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَيُعْطَى أَحَدُهُمْ مِثْلَ الدُّنْيَا، قَالَ: " وَعَلَى الصِّرَاطِ ثَلَاثُ شَجَرَاتٍ فَيَكُونُ آخِرُ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ عَلَى شَفَتِهَا فَيَقُولُ: يَا رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَكُونُ فِي ظِلِّهَا وَآكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا، قَالَ: فَيَقُولُ: عَهْدُكَ وَذِمَّتُكَ لَا تَسْأَلْنِي غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: عَهْدِي وَذِمَّتِي لَا أَسْأَلُ غَيْرَهَا، فَيُحَوَّلُ إِلَيْهَا فَيَرَى أُخْرَى أَحْسَنَ مِنْهَا فَيَقُولُ: يَا رَبِّ هَذِهِ آكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا، فَيُحَوَّلُ إِلَيْهَا، ثُمَّ يَرَى أُخْرَى أَحْسَنَ مِنْهَا فَيَقُولُ: يَا رَبِّ هَذِهِ آكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا فَيُحَوَّلُ إِلَيْهَا، قَالَ: فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ النَّاسِ وَيَرَى سَوَادَهُمْ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ " قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: ثُمَّ ذَكَرَ عَلَى أَثَرِهِ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَهَا فَقَالَ أَحَدُهُمَا: «يُعْطَى مِثْلُ الدُّنْيَا وَمِثْلُهَا مَعَهَا» ، وَقَالَ آخَرُ: «مِثْلُ الدُّنْيَا وَعَشْرُ أَمْثَالِهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8737 - على شرط مسلم

حضرت سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پل صراط کے پاس لوگ جمع کئے جائیں گے ، اس کے اوپر خار دار جھاڑیاں اور لوہے کی کنڈے ہوں گے ، لوگ اس کے اوپر سے گزریں گے ، کچھ بجلی کی چمک کی طرح گزر جائیں گے ، کچھ لوگ تیز رفتار گھوڑے کی مانند گزریں گے ، کچھ دوڑتے ہوئے ، اور کچھ پیدل چلتے ہوئے اور بعض لوگ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے ۔ اس کے دائیں بائیں فرشتے ہوں گے جو کہ "اللہم سلم سلم " کی دعائیں مانگ رہے ہوں گے ، اور لوہے کے کنڈے ہوں گے ، وہ کنڈے لوگوں کو اچک رہے ہوں گے ۔ اور جو دوزخی ہوں گے، نہ وہ جی سکیں گے نہ مر سکیں گے ، کچھ لوگوں کو گناہوں کی وجہ سے پکڑا ہو گا ، وہ جل رہے ہوں گے ، جل جل کر کوئلہ ہو جائیں گے ، پھر ان کو جماعت در جماعت پکڑا جائے گا ، پھر ان کو جنت کی ایک نہر میں ڈالا جائے گا ، یہ اس میں اس طرح اگیں گے جیسے سیلاب کی تری کی وجہ سے دانہ گندم اگتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے پکتی ہوئی کھجوروں کو دیکھا ہے ؟ پھر اس کے بعد ان کو اجازت ملے گی تو یہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ان میں سے ہر ایک کو پوری دنیا کے برابر دیا جائے گا ۔ آپ نے فرمایا : اور پل صراط پر تین درخت ہوں گے ، سب سے آخر میں جو شخص دوزخ سے نکلے گا وہ اس کے کنارےپر ہو گا ، وہ کہے گا : اے میرے رب مجھے اس درخت کے قریب کر دے ، تاکہ میں اس کے سائے میں بیٹھ سکوں ، اور اس کا پھل کھا سکوں ، اللہ تعالی فرمائے گا : اپنا وعدہ یاد رکھنا ، اب اس کے علاوہ اور کچھ نہ مانگنا ، وہ کہے گا : یا اللہ میں وعدہ کرتا ہوں ، اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگوں گا ، اللہ تعالی اس کو اس درخت کے قریب کر دے گا ، وہ وہاں سے دوسرا درخت دیکھے گا جو اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گا ، وہ کہے گا : یا اللہ !میں اس درخت کا پھل کھانا چاہتا ہوں اور اس کے سائے میں بیٹھنا چاہتا ہوں ، اس کو اس درخت کے پاس پہنچا دیا جائے گا ، وہ وہاں سے اگلے درخت کو دیکھے گا وہ اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گا ، وہ کہے گا : یا اللہ میں اس کا پھل کھانا چاہتا ہوں اور اس کے سائے میں بیٹھنا چاہتا ہوں ، اس کو اس تک پہنچا دیا جائے گا ، وہ وہاں سے لوگوں کی آواز یں سنے گا اور ان کے سائے دیکھے گا ، وہ کہے گا : اے میرے اللہ! مجھے جنت میں داخل فرما دے ۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اس کا پورا قصہ سنایا ، ایک راوی کا بیان ہے کہ اس آدمی کو جنت میں پوری دنیا کی مثل اور اتنا ہی مزید اس کے ساتھ دیا جائے گا ، اور دوسرے راوی کا بیان ہے کہ دنیا کی مثل اور اا کا دس گنا مزید بھی دیا جائے گا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معایر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، أَنْبَأَ عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ الرَّاسِبِيُّ، أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ، ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8737

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8738

8738 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُعَيْقِيبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو الْعُتْوَارِيِّ، حَدَّثَنِي لَيْثٌ، وَكَانَ فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يُوضَعُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَهَنَّمَ عَلَيْهِ حَسَكٌ كَحَسَكِ السَّعْدَانِ ثُمَّ يَسْتَجِيزُ النَّاسُ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَجْرُوحٌ بِهِ فَمُنَاخٌ مُحْتَبَسٌ مَنْكُوسٌ فِيهَا، فَإِذَا فَرَغَ اللَّهُ تَعَالَى مِنَ الْقَضَايَا بَيْنَ الْعِبَادِ وَتَفَقَّدَ الْمُؤْمِنُونَ رِجَالًا كَانُوا فِي الدُّنْيَا يُصَلُّونَ صَلَاتَهُمْ، وَيُزَكُّونَ زَكَاتَهُمْ، وَيَصُومُونَ صِيَامَهُمْ، وَيَحُجُّونَ حَجَّهُمْ، وَيَغْزُونَ غَزْوَهُمْ، فَيَقُولُونَ: أَيْ رَبَّنَا عِبَادٌ مِنْ عِبَادِكَ كَانُوا فِي الدُّنْيَا مَعَنَا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِنَا، وَيُزَكُّونَ زَكَاتَنَا، وَيَصُومُونَ صِيَامَنَا، وَيَحُجُّونَ حَجَّنَا، وَيَغْزُونَ غَزَوْنَا لَا نَرَاهُمْ، قَالَ: يَقُولُ: اذْهَبُوا إِلَى النَّارِ فَمَنْ وَجَدْتُمُوهُ فِيهَا فَأَخْرِجُوهُ، قَالَ: فَيَجِدُونَهُمْ وَقَدْ أَخَذَتْهُمُ النَّارُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى قَدَمَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مِنْ أُزْرَتِهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى ثَدْيَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى عُنُقِهِ، وَلَمْ تُغْشَ الْوُجُوهُ، قَالَ: فَيَسْتَخْرِجُونَهُمْ فَيُطْرَحُونَ فِي مَاءِ الْحَيَاةِ " قِيلَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَمَا مَاءُ الْحَيَاةِ؟ قَالَ: «غَسْلُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَنْبُتُونَ فِيهَا كَمَا تَنْبُتُ الزَّرْعَةُ فِي غُثَاءِ السَّيْلِ ثُمَّ تُشَفَّعُ الْأَنْبِيَاءُ فِي كُلِّ مَنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا، فَيَسْتَخْرِجُونَهُمْ مِنْهَا، ثُمَّ يَتَحَنَّنُ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ عَلَى مَنْ فِيهَا فَمَا يَتْرُكُ فِيهَا أَحَدًا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَّا أَخْرَجَهُ مِنْهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8738 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہنم کے دو کناروں صراط بچھایا جائے گا ، اس کے اوپر سعدان کے کانٹوں کی مانند کانٹے ہوں گے ۔ پھر لوگ اس کے اوپر سے گزریں گے ، کچھ لوگ سلامتی کے ساتھ نجات پائیں گے کچھ لوگوں کے جسم چھل جائیں گے اور کچھ لوگ اوندھے منہ دوزخ میں گر جائیں گے ، جب اللہ تعالی بندوں کے درمیان فیصلوں سے فارغ ہو گا تو مسلمان کچھ مومنین کو مفقود پائیں گے ، وہ لوگ دنیا میں ان کے ہمراہ نمازیں پڑھا کرتے تھے ، ان کے ہمراہ زکوۃ دیا کرتے تھے ، ان کے ہمراہ روزے رکھا کرتے تھے ، ان کے ہمراہ حج کیا کرتے تھے ، ان کے ہمراہ جہاد کیا کرتے تھے ، وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! تیرے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے ہیں جو ہمراہ نمازیں پڑھا کرتے تھے ، ہمارے ہمراہ زکاتیں دیا کرتے تھے ، ہمارے پمراہ روزے رکھا کرتے تھے ، ہمارے ہمراہ حج کیا کرتے تھے ، ہمارے ہمراہ جہاد کیا کرتے تھے ، وہ آج ہمیں کہیں نظر نہیں آ رہے ، اللہ تعالی فرمائے گا : جاؤ دوزخ میں دیکھو ان میں جو بھی تمہیں وہاں پر ملے اس کو نکال کر لے آؤ ، یہ لوگ جائیں تو ان کو دوزخ میں پائیں گے ، آگ نے ان کے اعمال کے مطابق ان کو جلا دیا ہو گا ، ان میں کچھ لوگ قدموں تک جل چکے ہوں گے ، کچھ گھٹنوں تک ، کچھ کمر تک ، کچھ سینے تک اور کچھ گردن تک جل چکے ہوں گے ، لیکن ان میں سے کسی کا چہرہ نہیں جھلسا ہو گا ، وہ لوگ ان کو نکال کر نہر حیات میں ڈالیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا : یا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہر حیات کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جنتیوں کے غسل کا دھوون ہے ، یہ اس میں اس طرح اگیں گے جیسے سیلاب کے پانی میں فصل اگتی ہے ، پھر انبیاء کرام علیہم السلام ایسے لوگوں کی شفاعت کریں گے جنہوں نے سچے دل کلمہ پڑھا ہو گا ، ان کو دوزخ سے نکال لیں گے ،پھر اللہ تعالی کی رحمت کو جوش آئے گا اور جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا اس کو بھی دوزخ سے نکال لیا جائے گا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← لَيْثٌ، وَكَانَ فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو الْعُتْوَارِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُعَيْقِيبٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8738

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8739

8739 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا الْمُسَيَّبُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُوضَعُ الْمِيزَانُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَوْ وُزِنَ فِيهِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ لَوَسِعَتْ، فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبِّ لِمَنْ يَزِنُ هَذَا؟ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: لِمَنْ شِئْتُ مِنْ خَلْقِي، فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: سُبْحَانَكَ مَا عَبَدْنَاكَ حَقَّ عِبَادَتِكَ، وَيُوضَعُ الصِّرَاطُ مِثْلَ حَدَّ الْمُوسَى فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: مَنْ تُجِيزُ عَلَى هَذَا؟ فَيَقُولُ: مَنْ شِئْتَ مِنْ خَلْقِي، فَيَقُولُ: سُبْحَانَكَ مَا عَبَدْنَاكَ حَقَّ عِبَادَتِكَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8739 - على شرط مسلم

حضرت سلمان روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن میزان رکھا جائے گا ،( وہ اس قدر وسیع ہے کہ) اگر اس میں ساتوں آسمان اور زمین بھی رکھ دی جائے تو اس میں سما جائے گی ، فرشتے عرض کریں گے : اے ہمارے رب ! یہ کس کے لئے ہے ؟ اللہ تعالی فرمائے گا : میری مخلوق میں سے جس کے لئے میں چاہوں گا ، فرشتے کہیں گے : تیری ذات پاک ہے ، ہم تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے ، اور پل صراط بچھایا جائے گا جو کہ تلوار کی دھار سے بھی تیز ہو گا ، فرشتے عرض کریں گے : یا اللہ! تو اس پر سے کس کو گزارے گا ؟ اللہ تعالی فرمائے گا : میں اپنی مخلوقات میں سے جس کو چاہوں گا گزاروں گا ، فرشتے کہیں گے : تیری ذات پاک ہے ، ہم تیری عبدات کا حق ادا نہیں کر سکتے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معایر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← المسيب بن زهير ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8739

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8740

8740 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى الْحُجْزَةِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى التَّرْقُوَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8740 - صحيح

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کچھ دوزخی ایسے ہوں گے جن کو ٹخنوں تک آگ جلا چکی ہو گی ، کچھ کو گھٹنوں تک اور کچھ کو کمر تک اور بعض کو گردن تک جلا چکی ہو گی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْبَاهِلِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ يَحْيَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8740

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8741

8741 - حَدَّثَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ مُرَّةَ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ، فَأَوَّلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ، ثُمَّ كَالرِّيحِ، ثُمَّ كَحُضْرِ الْفَرَسِ، ثُمَّ كَالرَّاكِبِ فِي رَحْلِهِ، ثُمَّ كَشَدِّ الرَّجُلِ، ثُمَّ كَمَشْيِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8741 - على شرط مسلم

حضرت سدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت مرہ سے قرآن کریم کی اس آیت کے بارے میں پوچھا " وَإِن مِّنكُمۡ إِلَّا وَارِدُهَاۚ(المریم:71) ""اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو " (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ) تو انہوں نے مجھے بتایا کہ حضڑت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کو دوزخ پر لایا جائے گا پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق اس میں سے گزارا جائے گا ، ان میں سے کچھ تو بجلی کی چمک کی طرح گزر جائیں گے ، کچھ تیز ہوا کی مانند ، کچھ تیز گھوڑے کی طرح ، کچھ کجاوے میں سوار کی طرح ، کچھ تیز دوڑ کر اور کچھ پیدل چل کر گزریں گے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معایر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔شعبہ نے اسماعیل السدی کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے۔

إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ← قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: ← سَأَلْتُ مُرَّةَ ← السُّدِّيِّ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8741

chevron_left Previous
1…673674675…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section