Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8718

8718 - حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، أَنْبَأَ عَبَّادُ بْنُ شَيْبَةَ الْحَبَطِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ إِذْ رَأَيْنَاهُ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ ثَنَايَاهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي؟ قَالَ: " رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي جَثَيَا بَيْنَ يَدَيْ رَبِّ الْعِزَّةِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَبِّ خُذْ لِي مَظْلِمَتِي مِنْ أَخِي، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلطَّالِبِ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِأَخِيكِ وَلَمْ يَبْقَ مِنْ حَسَنَاتِهِ شَيْءٌ؟ قَالَ: يَا رَبِّ فَلْيَحْمِلْ مِنْ أَوْزَارِي " قَالَ: وَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبُكَاءِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ ذَاكَ الْيَوْمَ عَظِيمٌ يَحْتَاجُ النَّاسُ أَنْ يُحْمَلَ عَنْهُمْ مِنْ أَوْزَارِهِمْ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِلطَّالِبِ: " ارْفَعْ بَصَرَكَ فَانْظُرْ فِي الْجِنَّانِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: يَا رَبِّ أَرَى مَدَائِنَ مِنْ ذَهَبٍ وَقُصُورًا مِنْ ذَهَبً مُكَلَّلَةً بِالُّلؤْلُؤِ لِأَيِّ نَبِيٍّ هَذَا أَوْ لِأَيِّ صِدِّيقٍ هَذَا أَوْ لِأَيِّ شَهِيدٍ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ، قَالَ: يَا رَبِّ وَمَنْ يَمْلِكُ ذَلِكَ؟ قَالَ: أَنْتَ تَمْلِكُهُ، قَالَ: بِمَاذَا؟ قَالَ: بِعَفْوِكَ عَنْ أَخِيكَ، قَالَ: يَا رَبِّ فَإِنِّي قَدْ عَفَوْتُ عَنْهُ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَخُذْ بِيَدِ أَخِيكَ فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ " فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «اتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُصْلِحُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ، ہم نے آپ آ کو دیکھا آپ ہنس رہے تھے ، حتی کہ آپ کے دانت مبارک ظاہر ہو ئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ، آپ کے ہنسنے کی وجہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میری امت کے دو آدمی ہیں جوکہ اپنے رب کے سامنے پاؤں کی انگلیوں کے بل کھڑے ہوں گے ، ان میں سے ایک کہے گا : اے میرے رب !میرے گناہ اس کے اوپر ڈال دئیے جائیں ، یہ فرما کر حضور رو پڑے اور آپ کی آنکھوں میں آنسو بہہ نکلے ، پھر فرمایا : وہ دن عظیم ہے ، اس دن لوگ اس بات کے محتاج ہوں گے کہ ان کے بوجھ ان سے ہلکے کئے جائیں ، اللہ تعالی طالب سے فرمائے گا : اپنی نگاہ اٹھاؤ اور جنت میں دیکھو ، وہ آدمی اپنا سر اٹھائے گا اور دیکھ کر بولے گا : یا اللہ میں سونے کے بنے ہوئے محلات دیکھ رہا ہوں ، وہ محلات کس نبی کے ہیں ؟ یا کس صدیق کے ہیں ؟ یا کس شہید کے ہیں ؟ اللہ تعالی فرمائے گا : تم بی اس کے مالک بن سکتے ہو ، وہ پوچھے گا : یا اللہ وہ کیسے ؟ اللہ تعالی فرمائے گا : اپنے بھائی کو معاف کر کے ، وہ کہے گا : یا اللہ میں نے اس کو معاف کر دیا ، اللہ تعالی فرمائے گا : اپنے بھائی کے ہاتھ کو پکڑ کر اس کو جنت میں لے جاؤ ، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی سے ڈرتے رہو اور اپنے درمیان صلح رکھو ، کیونکہ اللہ تعالی مسلمانوں کے درمیان صلح چاہتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

له عمر: ما أضْحَكَكَ ← بينا رسولُ الله جالسٌ إذْ رأيْناهُ ضَحِكَ حَتَّى بدت ثَناياه، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سعيد بن أنس ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، أَنْبَأَ عَبَّادُ بْنُ شَيْبَةَ الْحَبَطِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ← أبو منصور محمد بن القاسم العتكي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8718

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8719

8719 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ فَلْيَقْرَأْ: إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ وَإِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8719 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو کوئی قیامت کا منظر نامہ اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھنا چاہتا ہو، وہ سورت اذا الشمس کورت اور سورت اذا السماء انفطرت اور سورت اذا السماء انشقت پڑھ لیا کرے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8719

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8720

8720 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْعَارَ لَيَلْزَمُ الْمَرْءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَقُولَ: يَا رَبِّ لَإِرْسَالُكَ بِي إِلَى النَّارِ أَيْسَرُ عَلَي مِمَّا أَلْقَى، وَإِنَّهُ لَيَعْلَمُ مَا فِيهَا مِنْ شِدَّةِ الْعَذَابِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8720 - الفضل واه

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن ہز آدمی کو اپنے دینا کے حقوق ادا کرنے پڑیں گے ( اور اس معاملہ میں انسان اس قدر پریشان ہو جائے گا کہ ) بندہ کہے گا : اے میرے رب میں اس وقت جس مصیبت میں گرفتار ہوں ، اگر تو مجھے دوزخ میں بھیج دے تو میرے لئے اس میں آسانی رہے گی ، حالانکہ وہ دوزخ کے عذاب کو اچھی طرح جانتا ہو گا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8720

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8721

8721 - وَأَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَالْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: تَحَدَّثْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَكْثَرْنَا الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ تَرَاجَعْنَا إِلَى الْبُيُوتِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ اللَّيْلَةَ بِأَتْبَاعِهَا مِنْ أُمَّتِهَا فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَجِيءُ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ مِنْ قَوْمِهِ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ النَّفْرُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنْ قَوْمِهِ، حَتَّى أَتَى عَلَيَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ فِي كَبْكَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ أَعْجَبُونِي، فَقُلْتُ: رَبِّ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَذَا أَخُوكَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ وَمَنْ تَبِعَهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ: قُلْتُ: رَبِّ فَأَيْنَ أُمَّتِي؟ فَقِيلَ لِي: انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ فَإِذَا الظِّرَابُ ظِرَابُ مَكَّةَ قَدْ سُوِّدَ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ، فَقُلْتُ: رَبِّ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: أُمَّتُكَ، قَالَ: فَقِيلَ لِي: هَلْ رَضِيتَ؟ فَقُلْتُ: رَبِّ رَضِيتُ، قَالَ: ثُمَّ قِيلَ لِي: إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ " قَالَ: فَأَنْشَأَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ أَخُو بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» ثُمَّ أَنْشَأَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: فَقَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ» قَالَ: ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِدًا لَكُمْ أَبِي وَأُمِّي إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ فَكُونُوا، فَإِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الظِّرَابِ، فَإِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الْأُفُقِ فَإِنِّي رَأَيْتُ ثَمَّ نَاسًا يَتَهَرَّشُونَ كَثِيرًا» قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ تَبِعَنِي مِنْ أُمَّتِي رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا الثُّلُثَ» فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا الشَّطْرَ» فَكَبَّرْنَا، قَالَ: فَتَلَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخَرِينَ} [الواقعة: 40] قَالَ: فَرَاجَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى هَؤُلَاءِ السَّبْعِينَ فَقَالُوا: نَرَاهُمْ نَاسًا وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ ثُمَّ لَمْ يَزَالُوا يَعْمَلُونَ بِهِ حَتَّى مَاتُوا عَلَيْهِ، فَنُمِيَ حَدِيثُهُمْ ذَلِكَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَيْسَ كَذَلِكَ وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8721 - صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بار گاہ میں محو گفتگو تھے ، ہم کافی دیر باتیں کرتے رہے ، پھر ہم اپنے گھر واپس چلے گئے ، اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بار گاہ میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : گزشتہ رات انبیاء کرام کو ان کے پیرو کاروں سمیت میرے پاس پیش کیا گیا ، ایک نبی میرے پاس لائے گئے ، ان کے ہمراہ تین پیرو کار تھے ، کسی نبی کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت تھی ، کسی کے ساتھ بڑی جماعت تھی ، کوئی نبی ایسا تھا کہ جس کا ایک بھی امتی نہیں تھا ، حتی کہ میرے پاس حضرت موسی بن عمران علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں لایا گیا، جب میں نے ان کو دیکھا تو انہوں نے مجھ پر تعجب کیا ، میں نے پوچھا : اے میرے رب ! یہ کون لوگ ہیں ؟ اللہ تعالی نے فرمایا : یہ تمہارے بھائی موسی بن عمران ہیں ، ان کے پمراہ ان کے پیرو کار امتی ہیں ، میں نے پوچھا اے میرے رب ! میری امت کہاں ہے ؟ مجھے کہا گیا : آپ اپنے دائیں جانب دیکھئے ، میں نے دیکھا تو مکہ کے ٹیلے انسانی سروں سے کالے ہو رہے تھے ، میں نے پوچھا : اے میرے رب ! یہ کون ہیں ؟ فرمایا : آپ کی امت ہے۔ مجھ سے پوچھا گیا : کیا آپ راضی ہیں؟ میں نے کہا : اے میرے رب ! میں راضی ہوں ، پھر مجھے کہا گیا : ان میں ستر ہزار ایسے لوگ ہیں جو بلا حساب جنت میں جائیں گے ، بنی اسد بن خزیمہ کے بھائی عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ اس موقع پر عرض پرداز ہوئے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دعا فرمائیے کہ اللہ تعالی مجھے ان میں سے کر دے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا مانگی "اے اللہ اس کو ان میں سے کر دے " پھر ایک اور آدمی کہنے لگا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے لئے بھی دعا فرما دیں کہ اللہ تعالی مجھے بھی ان میں سے کر دے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : عکاشہ تم سے آگے نکل گیا ہے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر میرے ماں باپ قربان ہو جائیں ، اگر تم ستر میں سے ہو سکو تو انہیں میں سے ہونا ، اور اگر ان میں سے نہ ہو سکو تو ٹیلہ والوں میں سے ہونا ، اور اگر ان میں سے بھی نہ ہو سکوتو اہل افق میں سے ہونا ، کیونکہ میں نے وہاں بھی لوگوں کو دیکھا ہے جو کہ آپس میں جھگڑ رہے ہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میں امید رکھتا ہوں کہ میرے پیرو کار امتی جنتیوں کا ایک چوتھائی ہوں گے ۔ صحابی کہتے ہیں یہ سن کر ہم نے نعرہ تکبیر لگایا، پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میں امید کرتا ہوں کہ تم جنتیوں میں ایک تہائی ہوں گے ، ہم نے پھر اللہ اکبر کی صدا بلند کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میں امید کرتا ہوں کہ جنتیوں میں نصف تم ہوں گے ، ہم نے پھر اللہ اکبر کہا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیات پڑھیں " ثُلَّةٞ مِّنَ ٱلۡأَوَّلِينَ ٣٩ وَثُلَّةٞ مِّنَ ٱلۡأٓخِرِينَ ٤٠ (الواقعۃ:39،40)""اگلوں میں سے ایک گروہ اور پچھلوں میں سے ایک گروہ "(ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا ) مسلمانوں نے ان ستر کی جانب رجوع کیا ، اور کہنے لگے : ہم ان کو دیکھتے ہیں ، وہ ایسے لوگ ہیں جو مسلمان پیدا ہوئے پھر وہ ساری زندگی نیک عمل کرتے رہے ، حتی کہ ان کی وفات ہو گئی ، ان لوگوں کی بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بار گاہ میں بتائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : یہ وہ لوگ نہیں ہیں بلکہ وہ الوگ ایسے ہوں گے جو نہ چوری کرتے ہیں ، نہ علاج کے لئے داغ لگواتے ہیں ، نہ فال پر یقین رکھتے ہیں بلکہ وہ صرف اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، وَالْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ، ← قَتَادَةَ ← يحيى بن أبي طالب أنبأ عبد الوهاب بن عطاء أنبأ سعيد ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8721

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8722

8722 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: ذَكَرْتُ النَّارَ فَبَكَيْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ؟» قَالَتْ: ذَكَرْتُ النَّارَ فَبَكَيْتُ فَهَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا فِي ثَلَاثِ مَوَاطِنَ فَلَا يَذْكُرُ أَحَدٌ أَحَدًا حَتَّى يَعْلَمَ أَيَخِفُّ مِيزَانُهُ أَمْ يَثْقُلُ، وَعِنْدَ الْكُتُبِ حَتَّى يُقَالَ: {هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ} حَتَّى يَعْلَمَ أَيْنَ يَقَعُ كِتَابُهُ أَفِي يَمِينِهِ أَمْ فِي شِمَالِهِ أَوْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ، وَعِنْدَ الصِّرَاطِ إِذَا وَضَعَ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ حَافَّتَاهُ كَلَالِيبُ كَثِيرَةٌ وَحَسَكٌ كَثِيرٌ يَحْبِسُ اللَّهُ بِهَا مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَيَنْجُو أَمْ لَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ إِسْنَادُهُ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ لَوْلَا إِرْسَالٌ فِيهِ بَيْنَ الْحَسَنِ وَعَائِشَةَ، عَلَى أَنَّهُ قَدْ صَحَّتِ الرِّوَايَاتُ أَنَّ الْحَسَنَ كَانَ يَدْخُلُ وَهُوَ صَبِيٌّ مَنْزِلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأُمِّ سَلَمَةَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8722 - على شرط البخاري ومسلم لولا إرسال فيه بين الحسن وعائشة

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : میں نے دوزخ کو یاد کیا او ر رو پڑی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے رونے کی وجہ پوچھی ، میں نے کہا : مجھے دوزخ یاد آئی تو میں رو پڑی ، کیا اپ اہنی اہلیہ کو قیامت کے دن یاد رکھیں گے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تین مقام ایسے ہوں گے جہاں کوئی کسی کو یاد نہیں رہے گا ۔ (1)جب تک کہ وہ یہ نہیں جان لے گا کہ میزان پر اس کا نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے یا ہلکا (2) نامہ اعمال کھلنے کے وقت ، حتی کہ یہ آواز لگے گی : اس کااعمال نامہ پڑھا جائے گا ۔( اس وقت بھی لوگوں کو ایک دوسرے کی خبر نہ ہو گی اور کیفیت اس وقت تک برقرار رہے گی ) جب تک ان کو یہ معلوم نہ ہو جائے کہ ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یا بائیں ہاتھ میں ، یا اس کو پشت کے پیچھے سے دیا جائے گا ۔(3)پل صراط کے کے موقع پر جب بندہ دوزخ کی پشت پر قدم رکھے گا ، اس کے کناروں پر لوہے کے کنڈے اور خاردار پودے ہوں گے ، ان کے ذریعے اللہ تعالی جس کو چاہے گا روک لے گا ،( اس وقت بھی سب لوگ ایک دوسرے کو بھول چکے ہوں گے اور ان کی کیفیت اس وقت تک رہے گی ) جب تک وہ یہ نہیں جان لیں گے کہ ان کو اس سے نجات ملے گی یا نہیں ۔ یہ حدیث صحیح ہے اس اسناد میں اگر حسن اور عائشہ کے درمیان ارسال نہ ہو تو یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مقرر کردہ معیار کے مطابق ہے ، اور یہ روایات موجود ہیں کہ حضرت حسن بچپن میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے گھر آیا کرتے تھے ۔

ذَكَرْتُ النَّارَ فَبَكَيْتُ فَهَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ← رَسُولُ اللَّهِ «مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ؟» ← ذَكَرْتُ النَّارَ فَبَكَيْتُ، ← عَائِشَةَ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8722

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8723

8723 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَيْسَانِ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ: «ابْكُوا فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا بُكَاءً فَتَبَاكَوْا، لَوْ تَعْلَمُونَ الْعِلْمَ لَصَلَّى أَحَدُكُمْ حَتَّى يَنْكَسِرَ ظَهْرُهُ وَلَبَكَى حَتَّى يَنْقَطِعَ صَوْتُهُ» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8723 - على شرط البخاري ومسلم

ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مقام حجر میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے فرمایا :روؤ ، اگر رونا نہیں آتا تو رونے جیسی شکل بنا لو ، اگر تمہیں حقیقت حال کا علم ہو جائے تو تم اتنی نمازیں پڑھو کہ تمہاری کمر ٹوٹ جائے ،پھر آپ رونے لگے حتی کہ روتے روتے ان کی آواز بیٹھ گئی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَلَسْنَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي الْحِجْرِ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَيْسَانِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8723

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8724

8724 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَمَّا سَاغَ لَكُمُ الطَّعَامُ وَلَا الشَّرَابُ، وَلَمَا نِمْتُمْ عَلَى الْفُرُشِ وَلَهَجَرْتُمُ النِّسَاءَ، وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ وَتَبْكُونَ وَلَوَدِدْتُ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَنِي شَجَرَةً تُعَضَّدُ» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8724 - منقطع

حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ : جو کچھ میں جانتا ہوں ، اگر تم وہ سب جان لو تو تم تھوڑا ہنسو اور زیادہ روؤ، اور تمہیں کھنا پینا اچھا نہ لگے ، تم بستر پر سو نہ سکو ، تم اپنی بیویوں کو چھوڑ دو گے ، اور تم پہاڑوں کی جانب نکل جاؤ گے ، اللہ سے پناہ مانگتے رہو گے اورروتے رہو گے ۔ کاش کہ اللہ تعالی نے مجھے درخت بنایا ہوتا جس کو کاٹ دیا گیا ہو تا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← مُجَاهِدًا، ← يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ← شُعْبَةُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8724

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8725

8725 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الزِّيَادِيَّ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْأَصْبَحِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، يَظْهَرُ النِّفَاقُ، وَتُرْفَعُ الْأَمَانَةُ، وَتُقْبَضُ الرَّحْمَةُ، وَيُتَّهَمُ الْأَمِينُ، وَيُؤْتَمَنُ غَيْرُ الْأَمِينِ، أَنَاخَ بِكُمُ السَّرَفُ وَالْحُوبُ» قَالُوا: وَمَا السَّرَفُ وَالْحُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْفِتَنُ كَأَمْثَالِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8725 - صحيح

حضڑت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم وہ سب جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ ، نفاق غالب ہو گا ، امانت اٹھ جائے گی ، رحمت ختم ہو جائے گی ، امین لوگوں پر تہمتیں لگیں گی ، بے ایمانوں کو امین قرار دیا جائے گا ، تمہیں سرف اور حوب بٹھا دیا جائے گا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا : یا 'رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سرف اور حوب سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تاریک رات کی مانند فتنے ہوں گے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس انداز سے نقل نہیں کی کیا۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8725

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8726

8726 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ، أَطَّتِ السَّمَاءُ وَحُقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ، مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعٍ إِلَّا وَمَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلَّهِ، وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشِ، وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ شَجَرَةً تُعَضَّدُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8726 - على شرط البخاري ومسلم

حضڑت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور میں وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے ، آسمان چرچراتا ہے اور اس کا چر چرانے کا حق بھی ہے، اس میں چار انگلیوں کے برابر بھی کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں فرشتہ اللہ تعالی کی بار گاہ میں سجدہ ریز نہ ہو ، اللہ کی قسم اگر تم وہ سب جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ ، اور تم بستروں پر بیویوں سے لطف اندوز ہونا چھوڑ دو ، اور تم اللہ تعالی کی پناہ مانگتے ہوئے پہاڑوں کی جانب نکل جاؤ ، میری آرزو ہے کہ کاش میں کوئی درخت ہوتا جس کو کاٹ دیا جاتا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← مُوَرِّقٍ، ← مُجَاهِدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8726

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8727

8727 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ؟ قَالَ: «أَنْ يَنْظُرَ فِي سَيِّئَاتِهِ وَيَتَجَاوَزَ لَهُ عَنْهَا، إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ هَلَكَ، وَكُلَّمَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ حَتَّى الشَّوْكَةَ تَشُوكُهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ وَشَاهِدُهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8727 - على شرط مسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوں دعا مانگی " اے اللہ میرا حساب آسان لینا " میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسان حساب کا کیا مطلب ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کسی کے گناہوں کو دیکھ کر صرف نظر کر لینا ، اس دن جس کے حساب کی تفتیش شروع ہو گئی ، اس کو عذاب ضرور ہو گا ۔ اور مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ تعالی اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتاہے حتی کہ مومن کے پاؤں میں جو کانٹا بھی چبھتا ہے اس کےبدلے بھی گناہ مٹا ئے جاتے ہیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

فَقُلْتُ: ← «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا»، ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8727

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8728

8728 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ثَنَا الْحَرِيشُ بْنُ الْخِرِّيتِ، ثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا رَافِعَةٌ يَدَيَّ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَدْرِينَ مَا ذَلِكَ الْحِسَابُ؟» فَقُلْتُ: ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ {فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} [الانشقاق: 8] فَقَالَ لِي: «يَا عَائِشَةُ إِنَّهُ مَنْ حُوسِبَ خُصِمَ ذَلِكَ الْمَمَرُّ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ تَعَالَى» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8728 - الحريش قال البخاري في حديثه نظر

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس گزرے ، میں اس وقت ہاتھ اٹھائے یہ دعا مانگ رہی تھی " اے اللہ میرا حساب آسان لینا " ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہیں پتا ہے کہ آسان حساب کیا ہوتا ہے ؟ میں کہا : اللہ تعالی نے قرآن کریم میں آسان حسا ب کا ذکر کیا ہے " فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابٗا يَسِيرٗا (الانشقاق:8)""اس سے عنقریب سہل حساب لیا جائے گا "(ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ رضی اللہ عنہا جس شخص کا (سخت ) حساب لیا جائے گا ، اس کو اللہ تعالی کی بار گاہ میں پیش کر دیا جائے گا ۔

لِي: «يَا عَائِشَةُ ← اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ← أَقول: اللهم حاسبنى حسابًا يسيرًا، ← رَافِعَةٌ يَدَيَّ ← مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← الْحَرِيشُ بْنُ الْخِرِّيتِ ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8728

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8729

8729 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ يُحْذَى لَهُ نَعْلَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ، وَلَهُ شَوَاهِدُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفَاظٍ مُخْتَلِفَةٍ «أَمَّا حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8729 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن جس کو سب سے ہلکا عذاب دیا جائے گا ، اس کو آگ کے جوتے پہنا دئیے جائیں گے ، جس کی تپش کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا ، یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ اس حدیث کو کچھ شواہد احادیث بھی موجود ہیں ، جو کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہیں ، ان کے الفاظ میں کچھ فرق ہے ۔حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی روایت کردو حدیث درج ذیل ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي ← بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ القَاضِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8729

chevron_left Previous
1…672673674…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section