المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8718
8718 - حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، أَنْبَأَ عَبَّادُ بْنُ شَيْبَةَ الْحَبَطِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ إِذْ رَأَيْنَاهُ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ ثَنَايَاهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي؟ قَالَ: " رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي جَثَيَا بَيْنَ يَدَيْ رَبِّ الْعِزَّةِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَبِّ خُذْ لِي مَظْلِمَتِي مِنْ أَخِي، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلطَّالِبِ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِأَخِيكِ وَلَمْ يَبْقَ مِنْ حَسَنَاتِهِ شَيْءٌ؟ قَالَ: يَا رَبِّ فَلْيَحْمِلْ مِنْ أَوْزَارِي " قَالَ: وَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبُكَاءِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ ذَاكَ الْيَوْمَ عَظِيمٌ يَحْتَاجُ النَّاسُ أَنْ يُحْمَلَ عَنْهُمْ مِنْ أَوْزَارِهِمْ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِلطَّالِبِ: " ارْفَعْ بَصَرَكَ فَانْظُرْ فِي الْجِنَّانِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: يَا رَبِّ أَرَى مَدَائِنَ مِنْ ذَهَبٍ وَقُصُورًا مِنْ ذَهَبً مُكَلَّلَةً بِالُّلؤْلُؤِ لِأَيِّ نَبِيٍّ هَذَا أَوْ لِأَيِّ صِدِّيقٍ هَذَا أَوْ لِأَيِّ شَهِيدٍ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ، قَالَ: يَا رَبِّ وَمَنْ يَمْلِكُ ذَلِكَ؟ قَالَ: أَنْتَ تَمْلِكُهُ، قَالَ: بِمَاذَا؟ قَالَ: بِعَفْوِكَ عَنْ أَخِيكَ، قَالَ: يَا رَبِّ فَإِنِّي قَدْ عَفَوْتُ عَنْهُ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَخُذْ بِيَدِ أَخِيكَ فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ " فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «اتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُصْلِحُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ "
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ، ہم نے آپ آ کو دیکھا آپ ہنس رہے تھے ، حتی کہ آپ کے دانت مبارک ظاہر ہو ئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ، آپ کے ہنسنے کی وجہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میری امت کے دو آدمی ہیں جوکہ اپنے رب کے سامنے پاؤں کی انگلیوں کے بل کھڑے ہوں گے ، ان میں سے ایک کہے گا : اے میرے رب !میرے گناہ اس کے اوپر ڈال دئیے جائیں ، یہ فرما کر حضور رو پڑے اور آپ کی آنکھوں میں آنسو بہہ نکلے ، پھر فرمایا : وہ دن عظیم ہے ، اس دن لوگ اس بات کے محتاج ہوں گے کہ ان کے بوجھ ان سے ہلکے کئے جائیں ، اللہ تعالی طالب سے فرمائے گا : اپنی نگاہ اٹھاؤ اور جنت میں دیکھو ، وہ آدمی اپنا سر اٹھائے گا اور دیکھ کر بولے گا : یا اللہ میں سونے کے بنے ہوئے محلات دیکھ رہا ہوں ، وہ محلات کس نبی کے ہیں ؟ یا کس صدیق کے ہیں ؟ یا کس شہید کے ہیں ؟ اللہ تعالی فرمائے گا : تم بی اس کے مالک بن سکتے ہو ، وہ پوچھے گا : یا اللہ وہ کیسے ؟ اللہ تعالی فرمائے گا : اپنے بھائی کو معاف کر کے ، وہ کہے گا : یا اللہ میں نے اس کو معاف کر دیا ، اللہ تعالی فرمائے گا : اپنے بھائی کے ہاتھ کو پکڑ کر اس کو جنت میں لے جاؤ ، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی سے ڈرتے رہو اور اپنے درمیان صلح رکھو ، کیونکہ اللہ تعالی مسلمانوں کے درمیان صلح چاہتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔
له عمر: ما أضْحَكَكَ ← بينا رسولُ الله جالسٌ إذْ رأيْناهُ ضَحِكَ حَتَّى بدت ثَناياه، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سعيد بن أنس ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، أَنْبَأَ عَبَّادُ بْنُ شَيْبَةَ الْحَبَطِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ← أبو منصور محمد بن القاسم العتكي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8718
