Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8706

8706 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيُحْبَسُ أَهْلُ الْجَنَّةِ بَعْدَمَا يُجَاوِزُونَ الصِّرَاطَ عَلَى قَنْطَرَةٍ فَيُؤْخَذُ لِبَعْضِهِمْ مَنْ بَعْضٍ مَظَالِمُهُمُ الَّتِي تَظَالَمُوهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ فَلَأَحَدُهُمْ أَعْرَفُ بِمَنْزِلِهِ فِي الْآخِرَةِ مِنْهُ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا» قَالَ قَتَادَةُ: قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: «مَا يُشْبِهُ إِلَّا أَهْلَ جُمُعَةٍ انْصَرَفُوا مَنْ جُمُعَتِهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8706 - صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پل صراط سے گزرنے کے بعد ایک مقام پر جنتیوں کو روک لیا جائے گا ، اور دنیا میں کئے گئے ظلم و زیادتی کا بدلہ دلوایا جائے گا ، جب سب لوگ پاک صاف ہو جائیں گے تب ان کو جنت میں جانے کی اجازت ملے گی ، اور جنتی جنت میں اپنے مقام کو اس سے بھی زیادہ پہچانتا ہو گا جتنا دنیا میں وہ اپنے گھر کو پہچانتا ہے ۔حضڑت قتادہ فرماتے ہیں :حضڑت عبیدہ بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کو اس بات سے تشبیہ دی جاسکتی ہے جیسا کہ کچھ لوگ جمعہ پڑھنے گئے ہوں اور وہ جمعہ پڑھ کر واپس آ گئے ہوں ۔( اتنی دیر میں کوئی شخص اپنا گھر تو بھول نہیں جاتا) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← قَتَادَةَ ← يحيى بن أبي طالب أنبأ عبد الوهاب بن عطاء أنبأ سعيد ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8706

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8707

8707 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآيَةَ: {يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} [المطففين: 6] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ بِكُمْ إِذَا جَمَعَكُمُ اللَّهُ كَمَا يُجْمَعُ النَّبْلُ فِي الْكِنَانَةِ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، ثُمَّ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْكُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8707 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی " يَوۡمَ يَقُومُ ٱلنَّاسُ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (المطففین:6)""جس دن سب لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا )پھر فرمایا : وہ وقت کیسا ہو گا ، جب اللہ تم سب کو اس طرح جمع کر لے گا جیسا کہ ترکش میں چلے ، یہ عمل پچاس ہزار سال جاری رہے گا ، ( اس پورے عرصے میں ) اللہ تعالی تمہاری جانب نگاہ نہیں فرمائے گا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

تَلَا رَسُولُ اللَّهِ الْآيَةَ: {يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} [المطففين: ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8707

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8708

8708 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ التَّاجِرُ، ثَنَا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَهَذِهِ السُّورَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ} [الزمر: 31] قَالَ الزُّبَيْرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا مَا بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا مَعَ خَوَاصِّ الذُّنُوبِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، لَيُكَرَّرَنَّ عَلَيْكُمْ ذَلِكَ حَتَّى يُؤَدِّيَ إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ» قَالَ الزُّبَيْرُ: «وَاللَّهِ إِنَّ الْأَمْرَ لَشَدِيدٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8708 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت اور یہ سورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوئی تو " إِنَّكَ مَيِّتٞ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عِندَ رَبِّكُمۡ تَخۡتَصِمُونَ(الزمر:30،31)""بے شک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور انہیں بھی مرنا ہے پھرتم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا ) تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا خاص گناہوں کے ہمراہ ، ہماری آپس کی دنیا وی رنجشوں کا بھی حساب ہو گا ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ، ان سب کا حساب ہو گا حتی کہ ہر صاحب حق کو اس کا حق دلایا جائے گا ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ، وہ معاملہ تو بہت سخت ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ التَّاجِرُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8708

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8709

8709 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: لَقَدْ عِشْنَا بُرْهَةً مَنْ دَهْرٍ وَمَا نَرَى هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ إِلَّا فِينَا وَفِي أَهْلِ الْكِتَابِ: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ} [الزمر: 31] فَقُلْتُ: «نَخْتَصِمُ أَمَّا نَحْنُ فَلَا نَعْبُدُ إِلَّا اللَّهَ، وَأَمَّا دِينُنَا فَالْإِسْلَامُ، وَأَمَّا كِتَابُنَا فَالْقُرْآنُ فَلَا نُغَيِّرُ وَلَا نُحَرِّفُ أَبَدًا، وَأَمَّا قِبْلَتُنَا فَالْكَعْبِةُ، وَأَمَّا حَرَامُنَا أَوْ حَرَمُنَا فَوَاحِدٌ، وَأَمَّا نَبِيُّنَا فَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَيْفَ نَخْتَصِمُ حَتَّى كَفَحَ بَعْضُنَا وُجُوهَ بَعْضٍ بِالسُّيُوفِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِينَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8709 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عمر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: ہم نے زندگی کا ایک حصہ گزار دیا اور اس میں ہمارا خیال رہا کہ یہ آیت " إِنَّكَ مَيِّتٞ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عِندَ رَبِّكُمۡ تَخۡتَصِمُونَ(الزمر:30،31)""بے شک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور انہیں بھی مرنا ہے پھرتم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا )ہمارے بارے میں اور اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، میں نے کہا : ہم تو اللہ کے سوا کسی کی عبادت کرتے ہی نہیں ، اور ہمارا دین ، اسلام ہے، ہماری کتاب "قرآن کریم " ہے ، ہم اس میں نہ کوئی تبدیلی کریں گے اور نہ کوئی رد و بدل کریں گے ، اور ہمار ا قبلہ " کعبہ " ہے۔ ہمارا حرم ایک ہے ، ہمارے نبی "محمد" صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں ۔ تو ہم کیسے جھگڑیں گے ؟ ( پھر ایک وقت آیا کہ ) ہم ایک دوسرے کے چہرے تلواروں سے زخمی کرنے لگ گئے ، تو میں جان گیا کہ یہ آیت خاڈ ہمارے حق میں ہی نازل ہوئی ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ← أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ببغداد،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8709

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8710

8710 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَيْعِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ الْمَازِنِيُّ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَأَلَهُ نَافِعُ بْنُ الْأَزْرَقِ، عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {هَذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُونَ} [المرسلات: 35] وَ {لَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا} {وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ} [الصافات: 27] وَ {هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ} فَمَا هَذَا؟ قَالَ: «وَيْحَكَ هَلْ سَأَلْتَ عَنْ هَذَا أَحَدًا قَبْلِي؟» قَالَ: لَا، قَالَ: " أَمَا إِنَّكَ لَوْ كُنْتَ سَأَلْتَ هَلَكَتْ، أَلَيْسَ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ} [الحج: 47] ؟ " قَالَ: بَلَى، «وَأَنَّ لِكُلِّ مِقْدَارِ يَوْمٍ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ لَوْنٌ مِنْ هَذِهِ الْأَلْوَانِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8710 - يحيى ضعفه النسائي

داؤد بن ابی ہند بیان کرتے ہیں کہ نافع بن ازرق نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ان آیات کے بارے میں پوچھا " هَٰذَا يَوۡمُ لَا يَنطِقُونَ (المرسلات:35)""یہ دن ہے کہ وہ نہ بول سکیں گے " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا ) "و(لا تسمع الا ھمسا ) ""تو نہ سنےگا مگر بہت آہستہ آواز " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا ) " وَأَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ يَتَسَآءَلُونَ(الصافات:27)""اور ان میں ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا ، آپس میں پوچھتے ہوئے بولے " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا )"ھاوم اقرء وا کتابیہ "" کہے گا : لو میرے نامہ اعمال پڑھو " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا ) ان کا کیا مطلب ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تیرے لئے ہلاکت ہو ، کیا تو نے مجھ سے پہلے ان آیات کے بارے میں کسی سے پوچھا ؟ اس نے کہا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : اچھا کیا ۔ اگر تو کسی سے پوچھ لیتا تو مارا جاتا ، کیا اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا : "ۚوَإِنَّ يَوۡمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلۡفِ سَنَةٖ مِّمَّا تَعُدُّونَ(الحج:47)" اور بے شک تمہارے رب کے یہاں ایک دن ایسا ہے جیسےتم لوگوں کی گنتی میں ہزار برس " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا ) اس نے کہا جی ہاں ۔ ان ایام میں سے ہر دن کی ایک مقدار ہے اور رنگوں میں سے ایک رنگ ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

الله تَبَارَكَ وَتَعَالَى ← أَمَا إِنَّكَ لَوْ كُنْتَ سَأَلْتَ هَلَكَتْ، أَلَيْسَ ← لَا۔ ← هَذَا أَحَدًا قَبْلِي؟» ← «وَيْحَكَ هَلْ سَأَلْتَ ← قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَ وَ فَمَا هَذَا؟ ← سَأَلَهُ نَافِعُ بْنُ الْأَزْرَقِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ الْمَازِنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَطِيعِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الشَّيْبَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8710

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8711

8711 - أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْعَدْلُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْإِمَامَ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، يَقُولُ: " سَأَلْتُ يُونُسَ بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيَّ عَنْ سَبَبِ مَوْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، فَقَالَ: كَانَ يُقْرَأُ عَلَيْهِ كِتَابُ الْأَهْوَالِ فَقُرِئَ عَلَيْهِ خَبَرٌ فَخَرَّ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ فَحَمَلْنَاهُ وَأَدْخَلْنَاهُ الدَّارَ فَلَمْ يَزَلْ مَرِيضًا حَتَّى تُوُفِّيَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ "

امام ابو بکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ بیان کرتےہیں کہ میں نے یونس بن عبد الا علی صدفی سے حضرت عبداللہ بن وہب کی وفات کا سبب پوچھا تو انہوں نے فرمایا : ان کے سامنے کتاب الاہوال اکثر پڑھی جاتی تھی ، ایک دفعہ آخرت کا کوئی قصہ پڑھا گیا ، وہ سنتے ہی ان پر بیہوشی طاری ہو گئی ، ہم نے ان کو اٹھا کر گھر پہنچایا ، اس دن وہ بیمار ہوئے اور اس بیماری سے جانبر نہ ہو سکے اور وفات پا گئے ۔

سَبَبِ مَوْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، ← سَأَلْتُ يُونُسَ بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيَّ ← الْإِمَامَ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8711

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8712

8712 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثَنَا النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَدْعُونِي رَبِّي فَأَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ تَبَارَكْتَ لَبَّيْكَ وَحَنَانَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ وَعَبْدُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ رَبَّ الْبَيْتِ " قَالَ: «وَإِنَّ قَذْفَ الْمُحْصَنَةِ لَيَهْدِمُ عَمَلَ مِائَةِ سَنَةٍ» وَقَدْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ شَاهِدًا

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن میں تمام لوگوں کا سردار ہوں گا ، میرا رب مجھے بلائے گا ، میں جواباً کہوں گا : میں حاضر ہوں اور نیک بختی تیرے ہاتھ میں ہے ، تو ہی برکت والا ہے ، میں حاضر ہوں ، اورہدایت یافتہ وہی ہے جس کو تو ہدایت دے اور تیرا بندہ تیرے سامنے حاضر ہے ، کوئی نجات کی جگہ اور کوئی پناہ گاہ تیرے سوا کوئی نہیں ہے ، تو ہی برکت والا ہے ، اے بیت اللہ کے رب۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کسی پاکدامنہ پر تہمت لگانے سے ایک سال کے نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں ۔ امام مسلم نے اسی حدیث کو شاہد کے طور پر نقل کیا ہے ۔

حُذَيْفَةَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← ليث بن أبي سليم ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← النُّفَيْلِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أبو بَكْر محمد بن المؤمل

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8712

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8713

8713 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُسْلِمٍ وَهُوَ الصَّغِيرُ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ: أَلَا تَبْتَغِي لِأَضْيَافِكَ مَا يَبْتَغِي الرِّجَالُ لِأَضْيَافِهِمْ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ أَمَامَكُمْ عَقَبَةً كَئُودًا لَا يَجُوزُهَا الْمُثْقِلُونَ» فَأُحِبُّ أَنْ أَتَخَفَّفَ لِتِلْكَ الْعَقَبَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8713 - صحيح

ام دردا ء رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : میں نے ابو لدرداء رضی اللہ عنہ سے کہا : جس طرح لوگ اپنے مہمانوں کے لئے تکلیف کرتے ہیں ، آپ اپنے مہمانوں کے لئے ایسا کیوں نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے سامنے ایک خار دار گھاٹی ہے ۔ بھاری بوجھ والے اس سے گزر نہیں سکیں گے ، اس لئے میں اس گھاٹی سے گزرنے کے لئے اپنا بوجھ ہلکا رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← قُلْتُ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ: أَلَا تَبْتَغِي لِأَضْيَافِكَ مَا يَبْتَغِي الرِّجَالُ لِأَضْيَافِهِمْ؟ ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مُوسَى بْنِ مُسْلِمٍ وَهُوَ الصَّغِيرُ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8713

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8714

8714 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ بِبَغْدَادَ، قَالَا: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُرْفَعُ لِلرَّجُلِ الصَّحِيفَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَا تَزَالُ مَظَالِمُ بَنِي آدَمَ تَتْبَعُهُ حَتَّى مَا يَبْقَى حَسَنَةٌ، وَتُزَادُ عَلَيْهِ مَنْ سَيِّئَاتِهِمْ» قَالَ: فَقَالَتْ لَهُ - أَوْ قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَاصِمٌ - عَمَّنْ يَا أَبَا عُثْمَانَ، فَقَالَ: عَنْ سَلْمَانَ، وَسَعْدٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ حَتَّى عَدَّ سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً مَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شُعْبَةُ: فَسَأَلْتُ عَاصِمًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، وَأَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَتَّابٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عُثْمَانَ، يُحَدِّثُ بِهَذَا عَنْ سَلْمَانَ وَأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8714 - على شرط البخاري ومسلم

ابو عثمان نہدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ،قیامت کے دن آدمی کا صحیفہ اٹھایا جائے گا ، انسان کا کیا ہوا ظلم اس وقت تک اس کے تعاقب میں رہے گا جب تک کہ اس کے نامہ اعمال میں ایک بھی نیکی باقی ہو گی ، پھر ( جب لوگوں کو دینے کے لئے نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ) لوگوں کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں ڈالے جانے لگیں گے ، عاصم نے ابو عثمان سے پاچھا : اے عثمان آپ یہ حدیث کس کے حوالے سے بیان کر رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا : سلمان سے ، سعد سے ، اور ابن مسعود سے یوں انہوں نے چھ یا سات صحابہ کرام کے نام گنوا دئیے ، حضرت شعبہ فرماتے ہیں : میں نے عاصم سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : یہ حدیث ابو عثمان نے سلمان کے واسطے سے بیان کی ہے ، اور عثمان بن عتاب نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نےابو عثمان کو سلمان کے واسطے سے اور دیگر کئی صحابہ کرام کے واسطے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أبا عثمان النهدي ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أبو بكر أحمد بن جعفر، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8714

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8715

8715 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ رَجُلٍ مَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ فِي الْقِصَاصِ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ فَابْتَعْتُ بَعِيرًا فَشَدَدْتُ رَحْلِي، ثُمَّ سِرْتُ إِلَيْهِ شَهْرًا حَتَّى قَدِمْتُ مِصْرَ - أَوْ قَالَ: الشَّامَ - فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ فَقُلْتُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ تُحَدِّثُ بِهِ سَمِعْتَهُ مَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَسْمَعْهُ فِي الْقِصَاصِ خَشِيتُ أَنْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَوْمَ يُحْشَرُ الْعِبَادُ - أَوْ قَالَ: النَّاسُ - حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا بُهْمًا لَيْسَ مَعَهُمْ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنَادِيهِمْ بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ: أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الدَّيَّانُ، لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ، وَلِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عَلَيْهِ مَظْلِمَةٌ حَتَّى أَقُصَّهُ مِنْهُ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مَنْ أَهْلِ النَّارِ أَنْ يَدْخُلَ النَّارَ وَلِأَحَدٍ مَنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ عِنْدَهُ مَظْلِمَةٌ حَتَّى أَقُصَّهُ مِنْهُ حَتَّى اللَّطْمَةَ " قَالَ: قُلْنَا: كَيْفَ وَإِنَّمَا نَأْتِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عُرَاةً حُفَاةً غُرْلًا بُهْمًا، قَالَ: «بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8715 - صحيح

حضر جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ مجھے ایک صحابی کے حوالے سے قصاص کے بارے میں ایک حدیث معلوم ہوئی ہے جو کہ میں نے خود ان سے نہیں سنی تھی ، میں نےن اس کے لئے ایک اونٹ خریدا ، اپنا رخت سفر باندھا ، پھر میں پورے ایک مہینے کا سفر کر کے مصر یا شام پہنچا ، میں حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، اور عرض کی: مجھے پتا چلا ہے کہ آپ قصاص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی فرمان بیان کرتے ہیں ، وہ میں نے نہیں سنا ، مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ فرمان مصطفی سننے سے پہلے کہیں موت نہ آ جائے، تب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہوئے سنا ہے کہ جس دن لوگوں کو ننگے بدن اور ننگے پاؤں آواز میں نداء دی جائے گی ، جو قریب و بعید سے یکساں سنائی دے گی ، کہنے والا کہے گا : میں بادشاہ ہوں ، میں بدلہ دینے والا ہوں ، کسی جنتی کو جنت میں اور کسی دوزخی کو دوزخ میں اس وقت تک جانے کی اجازت نہیں ہے جب تک میں اس کے تمام مظالم کا بدلہ نہ لے لوں ، حتی کہ کسی کو طمانچہ بھی مارا ہو گا تو اس کا بھی بدلہ لوں گا ، راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا : جب ہم اللہ تعالی کی بارگاہ میں ننگے پاؤں ، ننگے بدن خالی ہاتھ حاضر ہوں گے تو بدلہ کس چیز سے دلوایا جائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نیکیوں اور برائیوں کے ساتھ ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8715

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8716

8716 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أَنْبَأَ عَوْفٌ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ الْقَوَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مُدَّتِ الْأَرْضُ مَدَّ الْأَدِيمِ وَحَشَرَ اللَّهُ الْخَلَائِقَ الْإِنْسَ وَالْجِنَّ وَالدَّوَابَّ وَالْوُحُوشَ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ جَعَلَ اللَّهُ الْقِصَاصَ بَيْنَ الدَّوَابِّ حَتَّى تَقُصَّ الشَّاةُ الْجَمَّاءُ مِنَ الْقَرْنَاءِ بِنَطْحَتِهَا فَإِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقِصَاصِ بَيْنَ الدَّوَابِّ قَالَ لَهَا: كُونِي تُرَابًا، فَتَكُونُ تُرَابًا فَيَرَاهَا الْكَافِرُ فَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا «رُوَاتُهُ عَنْ آخِرِهِمْ ثِقَاتٌ غَيْرَ أَنَّ أَبَا الْمُغِيرَةِ مَجْهُولٌ، وَتَفْسِيرُ الصَّحَابِيُّ مُسْنَدٌ»

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب قیامت کا دن آئے گا ، زمین کو دستر خوان کی مانند بچھا دیا جائے گا ، اللہ تعالی تمام انسانوں کو ، تمام جنات کو ، چوپایوں کو اور درندوں کو جمع فرمائے گا ، جب وہ دن آئے گا تو اللہ تعالی جانوروں میں بھی قصاص جاری فرمائے گا حتی کہ بغیر سنگ والی بکری کو سینگ والی بکری سے اس کے سینگ مارنے کا بدلہ دلوایا جائے گا ، جب اللہ تعالی جانوروں کے قصاص سے فارغ ہو جائے گا تو ان کو فرمائے گا : تو مٹی ہو جا ، تو وہ سب مٹی ہو جائیں گے ، اس سارے معاملے کو کافر دیکھ رہے ہوں گے ، وہ دیکھ کر کہیں گے : کاش کہ میں بھی مٹی ہو جاتا ۔اس حدیث کے تمام راوی ثقفہ ہیں ، سوائے ابو المغیرہ کے ، کہ یہ مجہول ہے ۔ اور صحابی کی تفسیر مسند ہوا کرتی ہے

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي الْمُغِيرَةِ الْقَوَّاسِ، ← روح بن عبادة أنبأ عوف ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8716

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8717

8717 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمُزَكِّي، بِمَرْوَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدَّوَاوِينُ ثَلَاثَةٌ فَدِيوَانٌ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا، وَدِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا، وَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا، فَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَغْفِرُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا فَالْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: 48] وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا قَطُّ فَظُلْمُ الْعَبْدِ نَفْسَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ، وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا فَمَظَالِمُ الْعِبَادِ بَيْنَهُمُ الْقِصَاصُ لَا مَحَالَةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8717 - صدقة ضعفوه وابن بابنوس فيه جهالة

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رجسٹر تین طرح کے ہوں گے (1)ایک رجسٹر ایسا ہو گا جس میں سے کچھ بھی اللہ تعالی معاف نہیں فرمائے گا ۔ (2) ایک رجسٹر ایسا ہو گا جس سے اللہ تعالی کچھ بھی پرواہ نہیں کرے گا ۔ (2) ایک رجسٹر ایسا ہو گا جس میں سے اللہ تعالی کچھ بھی نہیں چھوڑے گا ۔ جس رجسٹر میں سے کچھ بھی معاف نہیں کرے گا ، وہ شرک ہے ۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے"إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ (النساء:48)"" بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے ، جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے "(ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا )اور وہ رجسٹر جس کی اللہ تعالی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتا ، یہ بندے کا اپنی ذات پر کیا ہوا وہ ظلم ہے جو صرف اس کے اور اس کے رب کے درمیان ہے ۔ اور وہ رجسٹر جس میں سے کچھ بھی اللہ تعالی نہیں چھوڑے گا ، وہ بندوں کے ایک دوسرے پر کئے ہوئے ظلم ہیں ، ان کا قصاص لازمی ہو گا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَائِشَةَ ← يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، ← عبد الله بن روح المدائني ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمُزَكِّي، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8717

chevron_left Previous
1…671672673…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section