Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8695

8695 - وَقَدْ حَدَّثَنَا بِالْحَدِيثِ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، قَالَا: ثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ وَقَدْ تَفَاوَتَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ السَّيْرُ فَرَفَعَ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ صَوْتَهُ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ} [الحج: 1] قَرَأَ أَبُو مُوسَى إِلَى قَوْلِهِ: {وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ} [الحج: 2] فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ حَثُّوا الْمَطِيَّ، وَعَرَفُوا أَنَّهُ عِنْدَ قَوْلٍ يَقُولُهُ فَقَالَ: «أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَلِكَ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " ذَاكُمْ يَوْمَ يُنَادِي آدَمُ فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ فَيَقُولُ: يَا آدَمُ ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ فِي النَّارِ وَوَاحِدًا فِي الْجَنَّةِ "، فَأَبْلَسَ أَصْحَابُهُ حَتَّى مَا أَوْضَحُوا بِضَاحِكَةٍ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِأَصْحَابِهِ، قَالَ: «اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّكُمْ مَعَ خَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا مَعَ شَيْءٍ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَمَنْ هَلَكَ مَنْ بَنِي آدَمَ وَبَنِي إِبْلِيسَ» فَسُرِّيَ عَنِ الْقَوْمِ بَعْضُ الَّذِي يَجِدُونَ، ثُمَّ قَالَ: «اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي جَنْبٍ الْبَعِيرِ، أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ» وَهَكَذَا رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ [ص:612]

قتادہ روایت کرتے ہیں کہ حسن نے عمران بن حصین کا یہ بیان نقل کیا ہے (آپ فرماتے ہیں ) میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھا ، چلتے چلتے صحابہ کرام دور دور تک بکھر گئے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بلند آواز سے یہ آیتیں پڑھیں "" يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡۚ إِنَّ زَلۡزَلَةَ ٱلسَّاعَةِ شَيۡءٌ عَظِيمٞ (الحج:1)"" اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے "(ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)حضرت ابو موسی نے" ولکن عذاب اللہ شدید " تک پڑھا ، جب صحابہ کرام نے حضؤر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز سنی تو سواریاں بھگا کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب آ گئے ، جب سب لوگ قریب آئے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : یہ وہ دن ہے جب آدم علیہ السلام اللہ تعالی کو پکاریں گے اور اللہ تعالی ان کو ندادے گا اور فرمائے گا : اے آدم ہر ہزار میں سے 999 لوگوں کو دوزخ میں ڈال دو ، اور ایک آدمی جنت میں بھیج دو ، یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں پر بہت شاق گذری ، سن کے چہرے سے ہنسی اور مسکراہٹ غائب ہو گئی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا : جان لو، خوش ہو جاؤ ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے ، تمہارے ساتھ یاجوج و ماجوج دو ایسی مخلوقیں ہوں گی کہ یہ جس کے ساتھ ہوں گے اس جو کثیر کر دیں گے ، اور تمہارے ساتھ فوت شدہ انسان اور جنات بھی ہوں گے ، یہ سن کر کچھ لوگوں کے چہرے پر خوشی کے آثار دکھائی دئیے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا ، جان لو ، خوش ہو جاؤ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے دوسری امتوں میں تمہارا تناسب ایسے ہی ہو گا جیسے اونٹ کے پہلو میں تل کسی جانور کی ٹانگ میں داغ ۔ سعید بن ابی عروبہ نے بھی اسی طرح یہ حدیث قتادہ سے روایت کی ہے( جیسا کہ درج ذیل ہے)

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← بِالْحَدِيثِ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ← وقد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8695

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8696

8696 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدَانَ السَّعْدِيُّ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَقَدْ رَوَيْنَا هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ

سعید بن ابی عروبہ اور ہشام بن ابی عبداللہ نے قتادہ کے واسطے سے حسن سے روایت کیا ہے کہ عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھے ، اس کے بعد انہوں نے مفصل حدیث نقل کی ہے ، اور ہم نے یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی نقل کی ہے(جیسا کہ درج ذیل ہے )

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَقَدْ رَوَيْنَا هَذَا الْحَدِيثَ، ← بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سعيد بن أبي عروبة وهشام بن أبي عبد الله ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدَانَ السَّعْدِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8696

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8697

8697 - حَدَّثَنَاهُ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ وَعِنْدَهُ أَصْحَابُهُ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ} [الحج: 1] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَاكَ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " ذَاكَ يَوْمَ يَقُولُ اللَّهُ لِآدَمَ: قُمْ فَابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ - أَوْ قَالَ: بَعْثًا إِلَى النَّارِ - فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مِنْ كَمْ؟ قَالَ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ " فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْقَوْمِ، وَوَقَعَتْ عَلَيْهِمُ الْكَآبَةُ وَالْحُزْنُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَفَرِحُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا فَإِنَّكُمْ بَيْنَ خَلِيقَتَيْنِ لَمْ يَكُونَا مَعَ أَحَدٍ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَإِنَّمَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ - أَوْ فِي الْأُمَمِ - كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ النَّاقَةِ، وَإِنَّمَا أُمَّتِي جُزْءٌ مَنْ أَلْفِ جُزْءٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8697 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ کی موجودگی میں یہ آیت تلاوت کی "" يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡۚ إِنَّ زَلۡزَلَةَ ٱلسَّاعَةِ شَيۡءٌ عَظِيمٞ (الحج:1)"" اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے "(ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ آیت آخر تک پڑھی پھر فرمایا : تم جانتے ہو ، یہ کس دن کی بات ہو رہی ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول ہی بہرت جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالی حضرت آدم علیہ السلام سے فرمائے گا : اٹھیئے اور دوزخیوں کو دوزخ میں بھیج دیجئے ، آدم علیہ السلام پوچھیں گے کہ یا اللہ کتنے لوگوں کو ؟ اللہ تعالی نے فرمایا : ہزار میں سے 999 لوگوں کو دوزخ میں اور ایک کو جنت میں بھیج دو ، یہ بات صحابہ کرام پر بہت گراں گزری ، سب پریشان اور غمگین ہو گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فریایا : مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا ایک حصہ ہو گے ، پھر صحابہ کرام خوش ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : عمل کرو ، اور خوش ہو جاؤ ، کیونکہ تمہارے اندر یاجوج و ماجوج دو ایسی مخلوقیں ہیں ، کہ جس قوم کے ساتھ ہو جاتی ہیں ان کو کثیر کر دیتی ہیں ، اور باقی لوگوں میں تمہارا تناسب ایسے ہی ہو گا جیسے اونٹ کے پہلو میں تل ، یا کسی جانور کی ٹانگ میں داغ ۔ اور وہ ( جنت میں جانے والا ) ہزاروں حصہ میری امت ہی ہو گی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8697

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8698

8698 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثَنَا عَفَّانُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: وَكُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: «إِنَّ أَعْظَمَ أَيَّامِ الدُّنْيَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَإِنَّ أَكْرَمَ خَلِيقَةِ اللَّهِ عَلَى اللَّهِ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ: قُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَأَيْنَ الْمَلَائِكَةُ؟ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيَّ وَضَحِكَ وَقَالَ: " يَا ابْنَ أَخِي هَلْ تَدْرِي مَا الْمَلَائِكَةُ؟ إِنَّمَا الْمَلَائِكَةُ خَلْقٌ كَخَلْقِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ وَسَائِرِ الْخَلْقِ الَّذِي لَا يَعْصِي اللَّهَ شَيْئًا، وَإِنَّ الْجَنَّةَ فِي السَّمَاءِ، وَإِنَّ النَّارَ فِي الْأَرْضِ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بَعَثَ اللَّهُ الْخَلِيقَةَ أُمَّةً أُمَّةً وَنَبِيًّا نَبِيًّا حَتَّى يَكُونَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ آخِرُ الْأُمَمِ مَرْكَزًا، قَالَ: فَيَقُومُ فَيَتْبَعُهُ أُمَّتُهُ بَرُّهَا وَفَاجِرُهَا، ثُمَّ يُوضَعُ جِسْرُ جَهَنَّمَ فَيَأْخُذُونَ الْجِسْرَ فَيَطْمِسُ اللَّهُ أَبْصَارَ أَعْدَائِهِ فَيَتَهَافَتُونُ فِيهَا مِنْ شِمَالٍ وَيَمِينٍ وَيَنْجُو النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّالِحُونَ مَعَهُ فَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ فَتُوَرِّيهِمْ مَنَازِلَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ عَلَى يَمِينِكِ عَلَى يَسَارِكِ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُلْقَى لَهُ كُرْسِيٌّ عَنْ يَمِينِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ: أَيْنَ عِيسَى وَأُمَّتُهُ؟ فَيَقُومُ فَيَتْبَعُهُ أُمَّتُهُ بَرُّهَا وَفَاجِرُهَا فَيَأْخُذُونَ الْجِسْرَ فَيَطْمِسُ اللَّهُ أَبْصَارَ أَعْدَائِهِ فَيَتَهَافَتُونَ فِيهَا مَنْ شِمَالٍ وَيَمِينٍ، وَيَنْجُو النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّالِحُونَ مَعَهُ فَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ فَتُوَرِّيهِمْ مَنَازِلَهُمْ فِي الْجَنَّةِ عَلَى يَمِينِكَ عَلَى يَسَارِكَ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى رَبِّهِ فَيُلْقَى لَهُ كُرْسِيٌّ مِنَ الْجَانِبِ الْآخَرِ، قَالَ: ثُمَّ يَتَّبِعُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالْأُمَمُ حَتَّى يَكُونَ آخِرُهُمْ نُوحٌ رَحِمَ اللَّهُ نُوحًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ وَلَيْسَ بِمَوْقُوفٍ فَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ عَلَى تَقَدُّمِهِ فِي مَعْرِفَةٍ قَدِيمَةٍ مِنْ جُمْلَةِ الصَّحَابَةِ، وَقَدْ أَسْنَدَهُ بِذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8698 - صحيح

حضرت عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں : ہم جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھے ہو ئے تھے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : دنیا کے دنوں میں سب سے زیادہ عظمت والا دن جمعہ ہے ، اس دن میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اوراسی دن قیامت قائم ہو گی ، اور زمین پر اللہ تعالی کے سب سے کریم خلیفہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں ۔ عبداللہ بن سلام کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ تعالی آپ پر رحمت فرمائے ، فرشتے کہاں ہیں ؟ آُ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری طرف دیکھ کر مسکرا دئیے ، اور فرمایا : اے میرے بھتیجے ! کیا تم جانتے ہو کہ فرشتے کیا ہو تے ہیں ؟ جیسے آسمان ، زمین ، ہوا ، بادل اور دوسری مخلوقات جو اللہ تعالی کی نافرمانی نہیں کرتی ، ان کی طرح فرشتے بھی ایک مخلوق ہیں ، اور جنت آسمانوں میں ہے اور دوزخ زمین میں ہے ، جب قیامت کا دن ہو گا ، اللہ تعالی ایک ایک امت کے ساتھ ایک ایک نبی کو اٹھائے گا ، حتی کہ احمد مجتبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کی امت سب سے آخر میں اٹھیں گے ، پھر نبی اٹھیں گے اور ان کے ہمراہ ان کی نیک و بد ساری امتیں بھی اٹھیں گی ، پھر جہنم پر پل بچھایا جائے گا ، وہ پل کوپکڑ لیں گے ، اللہ تعالی اپنے دشمنوں کی آنکھیں سلب کر لے گا ، وہ دائیں بائیں ہاتھ ماریں گے اور آگ میں گر جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آپ اور آپ کے طفیل تمام نیک لوگوں کو نجات ملے گی ، پھر فرشتے ان سے ملاقات کریں گے ، فرشتے ان کی جنت کی منازل ان کے دائیں بائیں دکھائیں گے حتی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچیں گے ، آپ کو اللہ تعالی کی کرسی کے دائیں جانب بٹھایا جائے گا ، پھر ایک منادی ندا دے گا : عیسی علیہ السلام اور ان کی امت کہاں ہے ؟حضرت عیسی علیہ السلام اٹھیں گے اور ان کی امت کے تمام نیک اور برے لوگ بھی ان کے ہمراہ اٹھیں گے ، یہ بھی پل پر سے گزریں گے ، اللہ تعالی ان کے دشمنوں کی آنکھیں بھی سلب کر لے گا ، یہ بھی وہاں پر دائیں بائیں ہاتھ مارتے پھریں گے ، ان کے نبی اور ان کے نیک امتیوں کو نجات ملے گی ، پھر فرشتے ان سے ملاقات کریں گے ، اور ان کی جنت کی منازل انم کے دائیں بائیں چھپائیں گے حتی کہ وہ نبی علیہ السلام اپنے رب کی بار گاہ میں پہنچ جائیں گے ان کےلئے دوسری جانب کرسی رکھی جائے گی ، پھر اس کے بعد دیگر انبیاء کرام اور ان کی امتیں آتی رہیں گی ، اور سب سے آخر میں حضرت نوض علیہ السلام آئیں گے ، اللہ تعالی نوح علیہ السلام پر رحم فرمائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔یہ حدیث موقوف نہیں ہے کیونکہ عبداللہ بن سلام کا سمار صحابہ کرام میں ہوتا ہے اور کئی مقامات پر ان کی روایا ت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صریح ذکر کے ساتھ بھی موجود ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَفَّانُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8698

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8699

8699 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَرَأَ: {يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا} [الفرقان: 25] قَالَ: " تَشَقَّقُ سَمَاءُ الدُّنْيَا وَتَنْزِلُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى كُلِّ سَمَاءٍ، فَيَنْزِلُ أَهْلُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَهُمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ فِي الْأَرْضِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، فَيَقُولُ أَهْلُ الْأَرْضِ: أَفِيكُمْ رَبُّنَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا، ثُمَّ يَنْزِلُ أَهْلُ السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ وَهُمْ أَكْثَرُ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَأَهْلِ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: أَفِيكُمْ رَبُّنَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا، ثُمَّ يَنْزِلُ أَهْلُ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ وَهُمْ أَكْثَرُ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ وَسَمَاءِ الدُّنْيَا وَأَهْلِ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: أَفِيكُمْ رَبُّنَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا، ثُمَّ يَنْزِلُ أَهْلُ السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ وَهُمْ أَكْثَرُ مَنْ أَهْلِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ وَالثَّانِيَةِ وَالدُّنْيَا وَأَهْلِ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: أَفِيكُمْ رَبُّنَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا، ثُمَّ يَنْزِلُ أَهْلُ السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ وَهُمْ أَكْثَرُ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ وَالثَّالِثَةِ وَالثَّانِيَةِ وَالدُّنْيَا وَأَهْلِ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: أَفِيكُمْ رَبُّنَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا، ثُمَّ يَنْزِلُ أَهْلُ السَّمَاءِ السَّادِسَةِ وَهُمْ أَكْثَرُ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ وَالرَّابِعَةِ وَالثَّالِثَةِ وَالثَّانِيَةِ وَالدُّنْيَا وَأَهْلِ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: أَفِيكُمْ رَبُّنَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا، ثُمَّ يَنْزِلُ أَهْلُ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ وَهُمْ أَكْثَرُ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ السَّادِسَةِ وَالْخَامِسَةِ وَالرَّابِعَةِ وَالثَّالِثَةِ وَالثَّانِيَةِ وَالدُّنْيَا وَأَهْلِ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: أَفِيكُمْ رَبُّنَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا ثُمَّ يَنْزِلُ الْكُرُوبِيُّونَ وَهُمْ أَكْثَرُ مَنْ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَالْأَرَضِينَ وَحَمَلَةِ الْعَرْشِ لَهُمْ قُرُونٌ كُعُوبٌ كَكُعُوبِ الْقَنَا، مَا بَيْنَ قَدَمِ أَحَدِهِمْ كَذَا وَكَذَا، وَمِنْ أَخْمَصِ قَدَمِهِ إِلَى كَعْبِهِ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ، وَمِنْ كَعْبِهِ إِلَى رُكْبَتِهِ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ، وَمِنْ رُكْبَتِهِ إِلَى أَرْنَبَتِهِ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ، وَمِنْ تَرْقُوَتِهِ إِلَى مَوْضِعِ الْقُرْطِ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ «رُوَاةُ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ آخِرِهِمْ مُحْتَجٌّ بِهِمْ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ الْقُرَشِيِّ وَهُوَ وَإِنْ كَانَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَإِنَّهُ عَجِيبٌ بِمَرَّةٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8699 - إسناده قوي

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی : "وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ ٱلسَّمَآءُ بِٱلۡغَمَٰمِ وَنُزِّلَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ تَنزِيلًا(الفرقان:25)""اور جس دن پھت جائے گا آسمان بادلوں سے اور فرشتت اتارے جائیں گے پوری طرح "(ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا ) اور فرمایا: دنیا کا آسمان پھٹ جائے گا ، اور فرشتے اتریں گے ، آسمان دنیا کے فرشتے بھی اتریں گے ، ان کی تعداد زمین کے تمام انسانوں اور جنات سے زیادہ ہے ، زمین والے ، ان سے پوچھیں گے : کیا تمہارے اندر ہمارا رب بھی موجود ہے ؟ وہ کہیں گے : نہیں ۔پھر دوسر ے آسمان والے نازل ہوں گے ، ان کی تعداد پہلے آسمان والوں اور دنیا کے تمام جنات اور انسانوں سے زیادہ ہو گی ، زمین والے ان سے پوچھیں گے : کیا تمہارے اندر ہمارا رب ہے ؟ وہ کہیں گے : نہیں ۔ پھر تیسرے آسمان والے فرشتے نازل ہوں گے ، ان کی تعداد پہلے ، دوسرے آسمان کے فرشتوں اور زمین کے انسان اور جنات سے زیادہ ہو گی ، زمین والے ان سے بھی پوچھیں گے کہ کیا تمہارے اندر ہمارا رب موجود ہے ؟ وہ کہیں گے : نہیں ۔ پھر چوتھے آسمان والے فرشتے نازل ہوں گے ، ان کی تعداد پہلے ، دوسرے اور تیسرے آسمان کے فرشتوں اور زمین کے انسان اور جنات سے زیادہ ہو گی ، زمین والے ان سے بھی پوچھیں گے کہ کیا تمہارے اندر ہمارا رب موجود ہے ؟ وہ کہیں گے : نہیں پھر پانچویں آسمان والے فرشتے نازل ہوں گے ، ان کی تعداد پہلے ، دوسرے، تیسرے اور چوتھے آسمان کے فرشتوں اور زمین کے انسان اور جنات سے زیادہ ہو گی ، زمین والے ان سے بھی پوچھیں گے کہ کیا تمہارے اندر ہمارا رب موجود ہے ؟ وہ کہیں گے :نہیں۔ پھر چھٹے آسمان والے فرشتے نازل ہوں گے ، ان کی تعداد پہلے ، دوسرے ، تیسرے ، چوتھے ، اور پانچویں آسمان کے فرشتوں اور زمین کے انسان اور جنات سے زیادہ ہو گی ، زمین والے ان سے بھی پوچھیں گے کہ کیا تمہارے اندر ہمارا رب موجود ہے ؟ وہ کہیں گے : نہیں ۔ پھر کروبیین فرشتے نازل ہوں گے ان کی تعداد ساتوں آسمانوں کے فرشتوں اور زمین کے تمام جنات اور انسانوں سے زیادہ ہو گی ۔ اور جو فرشتے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں ، ان کے سینگ بھی ہیں اور کھر بھی ہیں جیسا کہ جنگلی گائے کے سینگ اور کھر ہوتے ہیں، پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی دو قدموں کے درمیان کی مسافت بتائی ، ان کے قدم کے تلوے سے ٹخنے تک کی مسافت پانچ سو سال کی مسافت ہے ، اور ان کی ٹخنے سے گھنٹے تک پانچ سو سال کی مسافت ہے اور گھٹنے سے ناک تک پانچ سو سال کی مسافت ہے ، اور اس کی ہنسلی سے اس کے تھن تک پانچ سو سال کی مسافت ہے ۔ اس حدیث کے تمام راوی محتج بہ( ان کی روایات سے استدلال کیا گیا) ہیں ، سوائے علی بن زید بن جدعان قرشی کے ۔ یہ حدیث اگرچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تک موقوف ہے لیکن بہت پسندیدہ حدیث ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَرَأَ: ← يوسف بن مهران ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8699

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8699.1

8699 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هُبَيْرَةَ بْنَ يَرِيمَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَلَا {يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ} [إبراهيم: 48] ، قَالَ: «أَرْضٌ كَالْفِضَّةِ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ لَمْ يُسْفَكْ فِيهَا دَمٌ وَلَمْ يُعْمَلْ فِيهَا خَطِيئَةٌ يَسْمَعُهُمُ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ حُفَاةٌ عُرَاةٌ قِيَامًا، ثُمَّ يُلْجِمُهُمُ الْعَرَقُ» وَقِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8699 - إسناده قوي

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ ا نہوں نے یہ آیت پڑھی "يَوۡمَ تُبَدَّلُ ٱلۡأَرۡضُ غَيۡرَ ٱلۡأَرۡضِ (ابراھیم:48)""جس دن بدل دی جائے گی زمین ، اس زمین کے سوا "(ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا )پھر فرمایا : زمین ایک صاف ستھرے سفید انڈے کی مانند ہو گی ، اس میں خون کا ایک قطرہ تک نہیں بہایا گیا تھا ، اور نہ ہی اس میں کوئی گناہ کیا گیا تھا ، پکارنے والا ان سب تک اپنی آواز پہنچائے گا اور وہ ایک ہی نگاہ میں سب کو دیکھے گا ، سب لوگ ننگے پاؤں اور ننگے بدن کھڑے ہوں گے ، سب اپنے پسینے میں ڈوب رہے ہوں گے ۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، تَلَا ← هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، ← أَبَا إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8699.1

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8700

8700 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ} [إبراهيم: 48] قَالَ: «أَرْضٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ لَمْ يُسْفَكْ فِيهَا دَمٌ وَلَمْ يُعْمَلْ فِيهَا بِخَطِيئَةٍ يَسْمَعُهُمُ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ حُفَاةٌ عُرَاةٌ كَمَا خُلِقُوا حَتَّى يُلْجِمَهُمُ الْعَرَقُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8700 - صحيح على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی "يَوۡمَ تُبَدَّلُ ٱلۡأَرۡضُ غَيۡرَ ٱلۡأَرۡضِ (ابراھیم:48)""جس دن بدل دی جائے گی زمین ، اس زمین کے سوا "(ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا )پھر فرمایا : پھر فرمایا : زمین ایک صاف ستھرے سفید انڈے کی مانند ہو گی ، اس میں خون کا ایک قطرہ تک نہیں بہایا گیا تھا ، اور نہ ہی اس میں کوئی گناہ کیا گیا تھا ، پکارنے والا ان سب تک اپنی آوازسنا دے گا اور اس کی نظرسب پر برابر پہنچے گی ، سب لوگ ننگے پاؤں اور ننگے بدن کھڑے ہوں گے ، سب لوگ اپنے پسینے میں ڈوب رہے ہوں گے ۔

عَبْدِ اللَّهِ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي إسْرَائِيلَ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8700

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8701

8701 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثَنَا جَدِّي، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تُمَدُّ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَدًّا لِعَظَمَةِ الرَّحْمَنِ، ثُمَّ لَا يَكُونُ لِبَشَرٍ مَنْ بَنِي آدَمَ إِلَّا مَوْضِعَ قَدَمَيْهِ، ثُمَّ أُدْعَى أُولَى النَّاسِ فَأَخِرُّ سَاجِدًا ثُمَّ يُؤْذَنُ لِي فَأَقُومُ فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أَخْبَرَنِي هَذَا - لِجِبْرِيلَ وَهُوَ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ وَاللَّهِ مَا رَآهُ جِبْرِيلُ قَبْلَهَا قَطُّ - أَنَّكَ أَرْسَلْتَهُ إِلَيَّ، قَالَ وَجِبْرِيلُ سَاكِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ حَتَّى يَقُولَ اللَّهُ: صَدَقَ، ثُمَّ يُؤْذَنُ لِي فِي الشَّفَاعَةِ فَأَقُولُ: يَا رَبِّ عِبَادُكَ عَبَدُوكَ فِي أَطْرَافِ الْأَرْضِ، فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» وَقَدْ أَرْسَلَهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، «أَمَّا حَدِيثُ يُونُسَ» [ص:615]،

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالی کی عظمت کی بناء پر زمین سمیٹ دی جائے گی ، اور یہ صرف اتنی رہ جائے گی جتنی ایک انسان کے قدم رکھنے کی جگہ ہو تی ہے پھر مجھے بلایا جائے گا ، میں سجدہ ریز ہو جاؤں گا ، پھر مجھے اجازت ملے گی ، میں سجدےسے اٹھ جاؤں گا اور عرض کروں گا : اے میرے رب مجھے اس شخص نے بتایا تھا ،( حضرت جبریل امین علیہ السلام اس وقت اللہ تعالی کی دائیں جانب کھڑے ہوں گے ، اور اللہ کی قسم میں نے اس سے پہلے ان کو کبھی نہیں دیکھا تھا ) کہ تو نے اس کو میری جانب بھیجا ہے ، حضرت جبریل امین علیہ السلام بالکل خاموش کھڑے ہوں گے اور کوئی جواب نہیں دیں گے ، اللہ تعالی فرمائے گا : اس نے آپ سے سچ کہا تھا ، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی ، میں کہوں گا : اے میرے رب ، تیرے بندے زمین کے اطراف میں تیری عبادت کرتے رہے ، یہ مقام محمود ہو گا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ اور اس حدیث کو زہری سے روایت کرنے میں یونس بن یزید اور معمر بن راشد نے ارسال کیا ہے ۔

جَابِرٍ ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8701

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8702

8702 - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَلَمْ يُسَمِّهِ أَنَّ الْأَرْضَ تُمَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، «وَأَمَّا حَدِيثُ مَعْمَرٍ»

حضرت علی بن حسین ایک اہل علم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں( آپ نے اس اہل علم کا نام ذکر نہیں کیا ) کہ قیامت کے دن زمین سمیٹ دی جائے گی ، اس کے بعد سابقہ حدیث کی مثل حدیث بیان کی ۔ حضرت معمر سے روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔

عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8702

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8703

8703 - فَأَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُمَدُّ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8701 - على شرط البخاري ومسلم

معمر نے زہری سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن زمین سمیٹ دی جائے گی ۔ اس کے بعد سابقہ حدیث کی مثل پوری حدیث بیان کی ۔

عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← فَأَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8703

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8704

8704 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «تَدْنُو الشَّمْسُ مِنَ الْأَرْضِ فَيَعْرَقُ النَّاسُ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَبْلُغُ عَرَقُهُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْعَجُزَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْخَاصِرَةَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ مَنْكِبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ عُنُقَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ وَسَطَ فِيهِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَأَلْجَمَهَا فَاهُ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا وَمِنْهُمْ مَنْ يُغَطِّيهِ عَرَقُهُ وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِشَارَةً فَأَمَرَّ يَدَهُ فَوْقَ رَأْسِهِ مَنْ غَيْرِ أَنْ يُصِيبَ الرَّأْسَ دُوَّرَ رَاحَتَهُ يَمِينًا وَشِمَالًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8704 - صحيح

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سورج زمین کے بالکل قریب آ جائے گا ، لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے ، کسی کا پسینہ اس کے ٹخنوں تک ہو گا ، کوئی آدھی پنڈلی تک پسینے میں ڈوبا ہو گا ، بعض گھٹنوں تک اور بعض کمر تک پسینے میں ڈوبے ہوں گے ، کچھ لوگوں کا پسینہ سینے تک اور کچھ کا کندھوں تک ہو گا ، بعض کا پسینہ گردن تک ہو گا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے منہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : کچھ لوگوں کو یہاں تک پسینہ آ رہا ہو گا ، اور اس کا پسینہ اس کے منہ میں پڑ رہا ہو گا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یوں دیکھا ، کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اپنے پسینے میں ڈوبچکے ہوں گے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر کے ارد گرد گھماتے ہوئے اپنی ہتھیلی کو دائیں اور بائیں گھمایا اور ہاتھ سر کو نہ لگنے دیا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8704

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8705

8705 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثَنَا أَبُو قِلَابَةَ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يُلْجِمُ الْعَرَقَ النَّاسَ» فَقَالَ أَحَدُهُمَا: «إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ» ، وَقَالَ الْآخَرُ: «يُلْجِمُهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ بِإِصْبَعِهِ تَحْتَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8705 - صحيح

سعید بن عمیر بیان کرتے ہیں: میں جمعہ کے دن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ان میں سےایک نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ اپنے پسینے میں ڈوب رہے ہوں گے ، ان میں سے ایک نے کہا : کانوں کی لو تک ہو گا اور ودسرے نے کہا : ڈوبا ہوا ہو گا ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کان کی لو کے نیچے ہاتھرکھ کر فرمایا : یہاں تک ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

الْآخَرُ: «يُلْجِمُهُ، ← أَحَدُهُمَا: «إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ» ← «يُلْجِمُ الْعَرَقَ النَّاسَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَحَدُهُمَا ← جَلَسْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، ← سعيد بن عمير ← أَبِي ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم القنطري ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8705

chevron_left Previous
1…670671672…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section