المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8695
8695 - وَقَدْ حَدَّثَنَا بِالْحَدِيثِ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، قَالَا: ثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ وَقَدْ تَفَاوَتَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ السَّيْرُ فَرَفَعَ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ صَوْتَهُ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ} [الحج: 1] قَرَأَ أَبُو مُوسَى إِلَى قَوْلِهِ: {وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ} [الحج: 2] فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ حَثُّوا الْمَطِيَّ، وَعَرَفُوا أَنَّهُ عِنْدَ قَوْلٍ يَقُولُهُ فَقَالَ: «أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَلِكَ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " ذَاكُمْ يَوْمَ يُنَادِي آدَمُ فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ فَيَقُولُ: يَا آدَمُ ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ فِي النَّارِ وَوَاحِدًا فِي الْجَنَّةِ "، فَأَبْلَسَ أَصْحَابُهُ حَتَّى مَا أَوْضَحُوا بِضَاحِكَةٍ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِأَصْحَابِهِ، قَالَ: «اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّكُمْ مَعَ خَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا مَعَ شَيْءٍ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَمَنْ هَلَكَ مَنْ بَنِي آدَمَ وَبَنِي إِبْلِيسَ» فَسُرِّيَ عَنِ الْقَوْمِ بَعْضُ الَّذِي يَجِدُونَ، ثُمَّ قَالَ: «اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي جَنْبٍ الْبَعِيرِ، أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ» وَهَكَذَا رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ [ص:612]
قتادہ روایت کرتے ہیں کہ حسن نے عمران بن حصین کا یہ بیان نقل کیا ہے (آپ فرماتے ہیں ) میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھا ، چلتے چلتے صحابہ کرام دور دور تک بکھر گئے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بلند آواز سے یہ آیتیں پڑھیں "" يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡۚ إِنَّ زَلۡزَلَةَ ٱلسَّاعَةِ شَيۡءٌ عَظِيمٞ (الحج:1)"" اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے "(ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)حضرت ابو موسی نے" ولکن عذاب اللہ شدید " تک پڑھا ، جب صحابہ کرام نے حضؤر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز سنی تو سواریاں بھگا کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب آ گئے ، جب سب لوگ قریب آئے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : یہ وہ دن ہے جب آدم علیہ السلام اللہ تعالی کو پکاریں گے اور اللہ تعالی ان کو ندادے گا اور فرمائے گا : اے آدم ہر ہزار میں سے 999 لوگوں کو دوزخ میں ڈال دو ، اور ایک آدمی جنت میں بھیج دو ، یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں پر بہت شاق گذری ، سن کے چہرے سے ہنسی اور مسکراہٹ غائب ہو گئی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا : جان لو، خوش ہو جاؤ ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے ، تمہارے ساتھ یاجوج و ماجوج دو ایسی مخلوقیں ہوں گی کہ یہ جس کے ساتھ ہوں گے اس جو کثیر کر دیں گے ، اور تمہارے ساتھ فوت شدہ انسان اور جنات بھی ہوں گے ، یہ سن کر کچھ لوگوں کے چہرے پر خوشی کے آثار دکھائی دئیے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا ، جان لو ، خوش ہو جاؤ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے دوسری امتوں میں تمہارا تناسب ایسے ہی ہو گا جیسے اونٹ کے پہلو میں تل کسی جانور کی ٹانگ میں داغ ۔ سعید بن ابی عروبہ نے بھی اسی طرح یہ حدیث قتادہ سے روایت کی ہے( جیسا کہ درج ذیل ہے)
عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← بِالْحَدِيثِ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ← وقد
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8695
