عبید اللہ بن ابی زیاد بیان کرتے ہیں کہ میں نے زہری سے پوچھا : کیا عورتیں ریشم پہن سکتی ہیں یا نہیں ؟ تو انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ بیان مجھے سنایا کہ " انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادی " حضرت ام کلثوم " کو دھاری دار ریشمی چادر اوڑھے ہوئے دیکھا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Umm Kulthum, daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6861
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادی " حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا " نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرا شوہر بہتر ہے یا فاطمہ کا؟ آپ فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کچھ دیر خاموش رہے ، پھر فرمایا : تیرا شوہر ان میں سے ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں ، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا واپس چلی گئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو واپس بلوا کر پوچھا : میں نے ابھی ابھی کیا کہا: میں نے کہا : آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ " میرا شوہر ان لوگوں میں سے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ۔ مزید یہ بھی کہ " میں جنت میں داخل ہوا، میں نے اس کا وہ مقام دیکھا ہے کہ میرے صحابہ میں سے کوئی بھی اس سے اوپر مقام پر نہیں تھا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Umm Kulthum, daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6862
حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں : حضرت عبدالمطلب کی صاحبزادیوں میں سے صرف " حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا " نے اسلام کو پایا ، حضرت عروہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے لئے دہرا حصہ رکھا تھا ، آپ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی حقیقی بہن ہیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the daughters of Abd al-Muttalib, the aunts of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6863
سعید بن کثیر بن عفیر فرماتے ہیں : حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی والدہ " حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا " کا وصال 20 ہجری کو ہوا، ان کی عمر 73 برس تھی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں ان کو دفن کیا گیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the daughters of Abd al-Muttalib, the aunts of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6864
محمد بن عمر نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " صفیہ بنت عبدالمطلب بن ہاشم " ان کی والدہ " ہالہ بنت وہیب بن عبدمناف بن زہرہ بن کلاب " ہیں ۔ آپ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اخیافی ( ماں شریک ) بہن ہیں ۔ زمانہ جاہلیت میں انہوں نے حارث بن حرب بن امیہ بن عبدشمس " سے نکاح کیا تھا، ان کے ہاں " صفی " ( بیٹا ) پیدا ہوا، اس کے بعد عوام بن خویلد بن اسید سے ان کا نکاح ہوا، یہاں زبیر ، سائب اور عبدالکعبہ ( تین بچے ) پیدا ہوئے ، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اسلام لائیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیعت کی ، اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی ، اس کے بعد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت تک زندہ رہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے احادیث بھی روایت کی ہیں۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the daughters of Abd al-Muttalib, the aunts of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6865
حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی ازواج کو فارع نامی قلعہ میں رکھا تھا۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ان کا نگران مقرر کر دیا ، کچھ یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج کا " اطم " ڈھونڈتے ہوئے ادھر آ نکلے ، ایک انسان نے اوپر چڑھ کر " اطم " سے ہماری طرف جھانکا ، میں نے کہا : اے حسان ! اٹھو اور اس کو قتل کر دو، حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میرے اندر اتنی طاقت نہیں ہے ، اگر مجھ میں اتنی ہمت ہوتی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ جنگ میں ہوتا ، میں ان سے کہا: یہ تلوار میرے بازو پر باندھ دو ، انہوں نے تلوار میرے بازو پر باندھ دی ، میں اٹھی اور اس کے سر پر کاری وار کر کے اس کا سر کاٹ ڈالا، میں نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے کہا : اس سر کو کانوں سے پکڑ کر ان کی طرف پھینک دو، حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے ، چنانچہ میں نے خود اس کا سر پکڑ کر یہودیوں پر پھینک دیا، یہ دیکھتے ہی وہ لرزہ براندام ہو گئے اور کہنے لگے : ہم تو یہ سمجھے تھے محمد نے اپنی عورتوں کے پاس کسی کو چھوڑا ہی نہیں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عادت کریمہ تھی کہ جب مشرکین پر چڑھائی کرتے تو حسان رضی اللہ عنہ کو یہ معاملہ بہت سخت محسوس ہوتا تو وہ ہمارے ساتھ قلعہ میں ہوتے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم واپس آتے تو حسان رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیچھے پیچھے آتے ( دیکھنے والا سمجھتا کہ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ آئے ہیں ) اس کے بعد حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے ، ان کے مہندی لگی ہوئی تھی ، کیونکہ ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی ، وہ درج ذیل رجزیہ اشعار پڑھ رہے تھے ۔" تھوڑا ہی وقت ہے جب اونٹ بھڑکتی ہوئی ( جنگ تک ) پہنچ جائے گا، جب وقت پورا ہو جائے تو پھر موت میں کوئی حرج نہیں ہے " ۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : اس دن سعد جس قدر خوبصورت لگ رہے تھے ، میں نے اس سے زیادہ خوبصورت کوئی مرد نہیں دیکھا ۔ یہ حدیث کبیر ہے ، اس انساد کے ہمراہ غیرب ہے ، جبکہ یہی حدیث صحیح اسناد کے ہمراہ بھی مروی ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the daughters of Abd al-Muttalib, the aunts of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6866
عروہ فرماتے ہیں : حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں وہ سب سے پہلی عورت ہوں جس نے کسی مرد کو قتل کیا ، میں حسان بن ثابت کے فارع قلعہ میں تھی ، جنگ خندق کے موقع پر حج حسان بھی عورتوں اور بچوں کے ہمراہ قافلے میں تھے ، حضرت صفیہ فرماتی ہیں : ہمارے پاس سے ایک یہودی شخص گزرا ، اور وہ قلعے کے ارد گرد گھومنے لگ گیا ، میں نے حسان سے کہا: آپ دیکھ رہے ہو ، یہ یہودی قلعے کے گرد گھوم رہا ہے ، مجھے خدشہ ہے کہ یہ شخص ہم عورتوں کی مخبری کر دے گا، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنگ میں مصروف ہیں ، تم اٹھو اور اس کو قتل کر ڈالو، حضرت حسان نے کہا: اے عبدالمطلب کی بیٹی اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے ، اللہ کی قسم آپ تو جانتی ہیں کہ میں اتنی جرات نہیں رکھتا ہوں، حضرت صفیہ فرماتی ہیں : جب حسان نے یہ بات کہی اور مجھے اس کے پاس کوئی ہتھیار بھی نظر نہ آیا ، میں نے قلعہ کا یک ستون اٹھا لیا ، پھر میں قلعے سے نیچے اتری اور وہی ستون اس کو دے مارا اور اس یہودی کو قتل کر دیا، پھر میں قلعے میں واپس آئی ، میں نے کہا: اے حسان ! نیچے اترو اور اس کا سازو سامان اتار لو ، کیونکہ میں عورت ذات ہو کر اس مرد کا سامان اتاروں ، یہ اچھا نہیں لگتا۔ حضرت حسان نے کہا: مجھے اس کے سامان کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the daughters of Abd al-Muttalib, the aunts of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6867
برہ بنت ابی تجراۃ فرماتی ہیں : قریش نماز ظہر کا انکار نہیں کرتے تھے ، وہ تو وقت کا انکار کرتے تھے ، جب عصر کا وقت آتا تو وہ لوگ گھاٹیوں میں چلے جاتے اور اکیلے اکیلے نماز پڑھ لیتے ، چنانچہ طلیب بن عمیر اور حاطب بن عبد شمس اجناد کی گھاٹی میں گئے وہاں نماز پڑھ رہے تھے اور ایک دوسرے کو دیکھ بھی رہے تھے ، کہ اچانک ابن الاصیدی اور ابن القبطیہ نے ان پر حملہ کر دیا، یہ دونوں فحاش آدمی تھے، انہوں نے کچھ دیر ان پر سنگبازی کی اور پھر ابو جہل اور ابولہب اور عقبہ بن ابی معیط کے پاس واپس چلے گئے ، اور ان کو ساری بات سنائی ، وہ لوگ صبح سویرے منہ اندھیرے ان کی طرف نکلے ، ان لوگوں نے وضو کیا اور نماز پڑھی ، ایک دن وہ لوگ اپنی گھاٹی میں تھے کہ ابو جہل ، عقبہ ، ابولہب اور چند دیگر بے وقوفوں نے ان پر حملہ کر دیا ، اور ان کو گرفتار کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صحابہ کرام نے اپنا اسلام ظاہر کر دیا، ان کو آواز دی اور خود کا دفاع کیا، طلیب بن عمیر نے ابو جہل پر حملہ کیا اور اس کو زخمی کر دیا، اس کو پکڑ کر باندھ لیا، ابولہب اٹھا اور اس نے اس کو کھول دیا، وہ اس کا بھتیجا تھا۔ ارویٰ بنت عبدالمطلب سے کہا گیا: تمہارا کیا خیال ہے ، تمہارے بیٹے طلیب نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اتباع کر لی ہے اور وہ محمد کا محافظ بن گیا ہے ، حضرت اروی رضی اللہ عنہ اس وقت اسلام لا چکی تھیں، انہوں نے کہا: طلیب کی زندگی کا سب سے قیمتی دن وہی تھا جس دن وہ اپنے ماموں کے بیٹے کا دفاع کر رہا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے حق آ گیا ، انہوں نے پوچھا : اور کیا تو نے بھی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اتباع کر لی ہے ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔ ایک آدمی وہاں سے ابولہب کے پاس گیا اور اس کو سارے معاملہ کی خبر دی ، ابولہب حضرت اروی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا : بہت تعجب ہے تجھ پر اور اس بات پر کہ تو نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اتباع کر لی ہے اور اس بات پر کہ تو نے اپنے آباؤاجداد کا دین چھوڑ دیا ہے ، انہوں نے کہا : جی ہاں ایسا ہی ہے ۔ تو اٹھ اور اپنے بھتیجے کو پکڑ اور اس کو روک ، کیونکہ اگر اس کی بات ظاہر ہو گئی تو تجھے اختیار ہو گا، اگر تم اس کے ساتھ داخل ہونا چاہو تو تب بھی ٹھیک ہے اور اگر تم اپنے دین پر قائم رہنا چاہو تو بھی ٹھیک ہے ، اگرچہ تو نے اپنے بھتیجے کا عذر قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا: اور ہمارے پاس عرب کی جمعیت کی طاق ہے پھر وہ کہنے لگے وہ ایک نیا دین لایا ہے ، پھر ابو لہب واپس آ گیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The narration of the daughter of Abd al-Muttalib, the paternal aunt of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6868
امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں : ام ہانی بنت ابی طالب " کا اصل نام " ہند " ہے ۔ ان کی والدہ " فاطمہ بنت اسد بن ہاشم " ہیں ۔ امام ابو عبداللہ نے " حضرت ام ہانی " کا یہی نام بیان کیا ہے ، اس بارے میں روایات حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں کہ ام ہانی کا نام " فاختہ " ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of Hani ', the sister of the daughter of Abi Talib ibn Abd al-Muttalib · Hadith 6869
حضرت فاختہ ( ام ہانی بنت ابی طالب ) فرماتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا، آپ نے فتح ( مکہ ) کی صبح ایک کپڑے میں 8 رکعت نماز ( چاشت ) پڑھی ، اس کپڑے کے دونوں کناروں کو مخالف کندھوں پر ڈال رکھا تھا۔ ( یعنی چادر کا دایاں کنارہ بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ دائیں کندھے پر ڈالا ہوا تھا)
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of Hani ', the sister of the daughter of Abi Talib ibn Abd al-Muttalib · Hadith 6870
محمد بن عمر فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نزول وحی سے پہلے اپنے چچا ابو طالب سے ( ان کی بیٹی ) " ام ہانی " کا رشتہ مانگا ، ساتھ ہی ہبیرہ بن ابی وہب نے بھی ابو طالب سے ان کا رشتہ مانگا، ابو طالب نے ہبیرہ کے ساتھ ام ہانی کا نکاح کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے کہا: اے عمر ! تم نے ہبیرہ کو رشتہ دے دیا اور مجھے چھوڑ دیا؟ ابو طالب نے کہا: اے میرے بھتیجے ! میں نے یہ رشتہ ان کے ساتھ قائم کیا ہے ، اور کریم ، کریم کا کفو ہوتا ہے ۔ پھر حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا اسلام لے آئیں ، اسلام نے اس کے اور ہبیرہ کے درمیان علیحدگی کروا دی، رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اب کی بار " ام ہانی " سے نکاح کی بات کی ، انہوں نے کہا: اللہ قسم ! میں جاہلیت میں بھی اپ کو پسند کرتی تھی ، تو اسلام میں آپ کو کیسے ناپسند کر سکتی ہوں ، لیکن اصل بات یہ ہے کہ میں بچوں والی عورت ہوں ، میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے آپ کو کوئی تکلیف ہو۔ ( اس کے بعد پوری حدیث بیان کی )
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of Hani ', the sister of the daughter of Abi Talib ibn Abd al-Muttalib · Hadith 6871
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے پیغام نکاح بھیجا، میں نے معذرت کر لی ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے میری معذرت قبول فرما لی ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔ : ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ ٥٠﴾ [الأحزاب: 50]" اے غیب بتانے والے ( نبی ) ہم نے تمہارے لئے حلال فرمائیں تمہاری وہ بیبیاں جن کو تم مہر دو اور تمہارے ہاتھ کا مال کنیزیں جو اللہ نے تمہیں غنیمت میں دیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور پھپھیوں کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی " (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) آپ فرماتی ہیں : میں ان کے لئے حلال نہیں تھی کیونکہ میں نے ان کے ہمراہ ہجرت نہیں کی ، میں طلاق یافتگان میں سے تھی ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of Hani ', the sister of the daughter of Abi Talib ibn Abd al-Muttalib · Hadith 6872