حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی جانب ہجرت کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے کہا: رقیہ کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ ، میں سوچ رہا ہوں کہ تم میں سے کوئی ایک ، دوسرے پر صبر کرے گا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کی خیریت دریافت کرنے کے لئے بھیجا ، حضرت اسماء نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس جب واپس آئیں تو اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انہوں نے اپنا پالان ڈالا ہوا گدھا نکالا اور حضرت رقیہ کو اس پر سوار کیا ، اور دریا کی جانب روانہ ہو گئے ، رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اے ابو بکر ! حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد یہ پہلے ہجرت کرنے والے ہیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Ruqyah, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6849
ابن إسحاق کہتے ہیں : حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا زندہ رہیں ، حتیٰ کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ نکاح کیا ، حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے ایک لڑکا پیدا ہوا، جس کا نام " عبداللہ " رکھا ، لیکن یہ بچپن میں ہی انتقال کر گیا تھا ، اسی بچھے کی نسبت سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت " ابو عبداللہ " ہوئی ۔ ابن إسحاق کہتے ہیں : مجھے ایک اہل علم شخص نے یہ بات بتائی ہے کہ حبشیوں لوگوں نے حضرت رقیہ بنت رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا ، وہ اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھیں ، آپ بہت حسین و جمیل تھیں ، وہ لوگ حج رقیہ کے حسن پر بہت حیران ہوتے تھے ، جب نجاشی نے اپنے دشمن پر چڑھائی کی تو یہ لوگ اس معرکہ میں مارے گئے تھے ۔ ابن إسحاق کہتے ہیں : کہا جاتا ہے کہ " حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے " " عبداللہ " کا انتقال 4 ہجری کو جمادی الاولیٰ میں ہوا۔ ان کی عمر 6 برس تھی ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Ruqyah, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6850
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بیمار تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غزوہ بدر کے لئے روانہ ہوئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کو ان کی دیکھ بھال کے لئے چھوڑ گئے تھے ، پھر حضرت زید بن ھارثہ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عضباء اونٹنی پر فتح کی نوید لے کر آئے ، حضرت رقیہ کا انتقال ہو گیا تھا، ہم نے دشمن کی ایک زوردار آواز کو سنا اور خدا کی قسم ! ہم نے ان کی بشارت کی تصدیق نہیں کی جب تک ہم نے قیدیوں کو نہیں دیکھ لیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Ruqyah, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6851
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : ان کی قبر میں ایسا کوئی شخص نہ اترے ، جس نے گزشتہ رات اپنی بیوی سے ہمبستری کی ہے ۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قبر میں نہیں اترے تھے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہا نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Ruqyah, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6852
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادی ( حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا ) کی تدفین میں شریک تھا ، میں نے رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا آپ قبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ کی آنکھوں سے آنسو روان تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی شخص ایسا ہے جس نے گزشتہ رات اپنی بیوی سے ہمبستری نہ کی ہو، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو قبر میں اترنے کے لئے فرمایا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہا نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Ruqyah, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6853
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان کے ہاتھ میں کنگھی تھی ، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے پاس سے ابھی گئے ہیں ، میں ان کے سر میں کنگھی کر رہی تھی ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے پوچھا تھا کہ تم " ابوعبداللہ " کو کیسا پاتی ہو ؟ میں نے کہا: سب ٹھیک ہے ، اباجان نے مجھے فرمایا : اس کی عزت و تکریم کیا کرو، کیونکہ اخلاق کے لحاظ سے وہ تمام صحابہ سے زیادہ میرے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن اس کا متن " واہی " ہے ۔ کیونکہ حضرت رقیہ فتح بدر کے بعد 3 ہجری کو وصال فرما گئی تھیں ، اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر کے بعد اسلام لائے تھے ۔ واللہ اعلم ، البتہ میں نے اس کو ایک دوسری سند کے ہمراہ بھی لکھا ہے ۔ ( وہ روایت درج ذیل ہے )
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Ruqyah, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6854
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کے ہاتھ میں کنگھی تھی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے پاس سے ابھی گئے ہیں ، میں ان کے سر میں کنگھی کر رہی تھی ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم " ابوعبداللہ " کو کیسا پاتی ہو؟ میں نے کہا : سب ٹھیک ہے ، اباجان نے مجھے فرمایا : اس کی عزت و تکریم کیا کرو، کیونکہ اخلاق کے لحاظ سے وہ تمام صحابہ سے زیادہ میرے ساتھ مشابت رکھتا ہے ۔ امام حاکم فرماتے ہیں : مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اپنے سے پہلے اسلام لانے والے کسی ایسے صحابی سے سنی ہو گی جو حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ہو گا۔ لیکن میں نے اس کو بہت ڈھونڈا اور ابھی تک وہ حدیث نہیں مل سکی۔
الْحَاكِمُ تَعَالَى: «وَلَا أَشُكُّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ تَعَالَى رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ ← أكرميه فإنه من أشبه أصحابي بي خلقا ← فَقُلْتُ: بِخَيْرٍ، ← لِي: «كَيْفَ تَجِدِينَ عُثْمَانَ؟» ← خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ عِنْدِي آنِفًا، فَرَجَّلْتُ رَأْسَهُ ← دَخَلْتُ عَلَى رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ وَبِيَدِهَا مُشْطٌ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِي ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفرايني
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Ruqyah, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6855
ابن شہاب کہتے ہیں : ہمیں رویات یونہی ملی ہے ( آگے حقیقت حال کو ) اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جنگ بدر کے مال غنیمت میں سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے ڈبل حصہ رکھا تھا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ کی خدمت کے لئے گھر رکے تھے ۔ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کو خسرہ نکل آیا تھا، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فتح بدر کی نوید لائے ، ان کے پاس ایک اونٹ بھی تھا، اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی تدفین کر رہے تھے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Ruqyah, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6856
مصعب بن عبداللہ زبیری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا اصل نام " امیہ " تھا۔ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد ماہ ربیع الأول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ " ام کلثوم " کا نکاح کر دیا تھا ، 8 ہجری کو جمادی الاولیٰ میں رخصتی ہوئی ۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا وصال حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجیت ہی میں ماہ شعبان المعظم سن 9 ہجری کو ہوا۔ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہ نے انصاری خواتین کی موجودگی میں ان کو غسل دیا تھا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Umm Kulthum, daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6857
یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے وصال کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ام کلثوم بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نکاح کیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہا نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Umm Kulthum, daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6858
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور پوچھا : کیا آپ کو میری بیٹی حفصہ میں کوئی دلچسپی ہے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو کوئی خاطر خواہ جواب نہ دیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آئے اور ساری بات بتائی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اے عمر ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے ایسا داماد عطا کر دے جو عثمان سے بھی بہتر ہو ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سے خود نکاح کر لیا، اور اپنی بیٹی " ام کلثوم " کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۔ اس سے پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے " ام کلثوم " کا رشتہ مانگ چکے تھے ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو " ام کلثوم " کا رشتہ نہیں دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : عثمان کے لئے بہترین سفارش یہ ہے کہ اپنی بیٹیوں کا نکاح میں خود نہیں کرتا بلکہ ان کا فیصلہ خود رب ذوالجلال کرتا ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Umm Kulthum, daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6859
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ،ملے ، حضرت عثمان اس وقت پریشان تھے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو حضرت عثمان نے جواباً عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ، جو مصیبت مجھے آئی ہے ، کیا ایسی مصیبت کسی کو آسکتی ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادی کا وصال ہو گیا ہے ( اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نازل فرمائے ) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کے وصال کی وجہ سے آپ کے داماد ہونے کا رشتہ ٹوٹ گیا ہے جو دو جہانوں میں میرے کام آنے کا تھا، ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اے عثمان تم یہ بات کہہ رہے ہو اور ادھر جبرائیل امین علیہ السلام مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم دیے رہے ہیں کہ میں اس بہن " ام کلثوم " کا نکاح بھی تمہارے ساتھ کر دوں ، حق مہر بھی اسی کے جتنا ہو اورعدت بھی اسی کی مثل ہو۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی بیٹی " ام کلثوم " کا بھی نکاح کر دیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Umm Kulthum, daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6860