Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8671

8671 - أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ بَيَانٍ، وَذَكَرَ مِنْ فَضْلِهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ نُفَيْلٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْمَهْدِيَّ، فَقَالَ: «نَعَمْ، هُوَ حَقٌّ وَهُوَ مِنْ بَنِي فَاطِمَةَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8671 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مہدی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : جی ہاں ، وہ بر حق ہے اور وہ فاطمہ رضی اللہ عنہاکی اولاد میں سے ہوگا ۔

النَّبِيَّ يَذْكُرُ الْمَهْدِيَّ، ← أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← علي بن نفيل ← مِنْ فَضْلِهِ، ← زياد بن بيان ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ أَنْبَأَ أَبُو الْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8671

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8672

8672 - وَحَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ بَيَانٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَهْدِيَّ، فَقَالَ: «هُوَ مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ»

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مہدی کا ذکرکیا اور فرمایا : وہ فاطمہ رضی اللہ عنہاکی اولاد میں سے ہوگا ۔

رَسُولُ اللَّهِ الْمَهْدِيَّ، فَقَالَ: «هُوَ مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ» ← أُمِّ سَلَمَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← علي بن نفيل ← زياد بن بيان ← أَبُو الْمَلِيحِ ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ← وَحَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8672

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8673

8673 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثَنَا أَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَخْرُجُ فِي آخِرِ أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ يَسْقِيهِ اللَّهُ الْغَيْثَ، وَتُخْرِجُ الْأَرْضُ نَبَاتَهَا، وَيُعْطِي الْمَالَ صِحَاحًا، وَتَكْثُرُ الْمَاشِيَةُ وَتَعْظُمُ الْأُمَّةُ، يَعِيشُ سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيًا» يَعْنِي حِجَجًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8673 - صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کے آخر میں مہدی نکلے گا ۔ اللہ تعالی ان پر برسات نازل فرمائے گا ، زمین اپنی جڑی بوٹیاں اور تمام پودے اگا دے گی ، وہ پاک صاف مال ( اللہ کی راہ میں ) دے گا ۔ مویشیوں کی کثرت ہو گی ، امت کی عزت ہو گی ، وہ سات یا آٹھ برس رہے گا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أبو الصديق الناجي ← سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8673

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8674

8674 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مَطَرٍ، وَأَبِي هَارُونَ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تُمْلَأُ الْأَرْضُ جَوْرًا وَظُلْمًا، فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ عِتْرَتِي» الْحَدِيثَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8674 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : روائے زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی ، پھر میری آل میں سے ایک آدمی نکلے گا ، اس کے بعد پوری حدیث بیان کی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← مَطَرٍ، وَأَبِي هَارُونَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← حَجَّاجُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8674

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8675

8675 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ، ثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَكُونُ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ إِنْ قَصَّرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا فَتِسْعٌ، تَنْعَمُ أُمَّتِي فِيهِ نِعْمَةً لَمْ يَنْعَمُوا مِثْلَهَا قَطُّ، تُؤْتِي الْأَرْضُ أُكُلَهَا لَا تَدَّخِرُ عَنْهُمْ شَيْئًا، وَالْمَالُ يَوْمَئِذٍ كُدُوسٌ يَقُومُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي، فَيَقُولُ: خُذْ " قَالَ الْحَاكِمُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: «قَدْ رَوَيْتُ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ عِلْمِي مِنْ فِتَنِ آخِرِ الزَّمَانِ عَلَى لِسَانِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَسَانِيدِ اللَّائِقَةِ بِهَذَا الْكِتَابِ، فَأَمَّا الشَّيْخَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَإِنَّهُمَا ذَكَرَا أَهْوَالَ الْقِيَامَةِ وَالْحَشْرِ مُدْرَجًا فِي الْفِتَنِ، وَجَرَيْتُ أَنَا فِي ذَلِكَ عَلَى اخْتِيَارِ الْإِمَامِ أَبِي بَكْرٍ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي إِفْرَادِ ذَلِكَ عَنِ الْفِتَنِ النَّائِبَةِ، وَاللَّهُ الْمُوَفِّقُ لِمَا اخْتَرْتُهُ وَهُوَ حَسْبِي وَنِعْمَ الْوَكِيلُ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت میں مہدی ہو گا ، کم از کم سات ہوں گے اور زیادہ ہوئے تو 9 ہوں گے ۔ اس وقت میری امت کو اس قدر نعمتیں ملیں گی جو اس سے پہلے کبھی نہیں ملی ہوں گی ، زمین اپنا سب کچھ اگل دے گی اور کچھ بھی بچا کر نہیں رکھے گی ، ان دنوں مال کے ڈھیر لگے ہوئے ہوں گے ، ایک آدمی اٹھ کر کھڑا ہو گا اور کہے گا : اے مہدی مجھے کچھ عطا کرو ، وہ کہے گا : یہ لو ۔ امام حاکم کہتے ہیں: آخری زمانہ میں برپا ہونے والے فتنقں کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جس قدر احادیث میرے علم میں تھیں اور وہ اس کتاب کے معیار کی تھیں ، میں نے بیان کر دی ہیں ، تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے قیامت اور حشر کے اہوال فتنوں کے باب میں بیان کئے ہیں ، اس بارے میں نے امام ابو بکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ کا طریقہ اپنایا ہے ، جس طرح انہوں نے فتن کے ابواب کو الگ بیان کیا ہے میں نے بھی ایسا ہی کیا ہے ۔ جو کچھ میں نے اختیار کیا ہے اس کی توفیق اللہ تعالی ہی عطا کرنے والا ہے ، وہی مجھے کافی ہے اور وہی بہرت کار ساز ہے ۔

يَكُونُ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ← محمد بن مروان ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الْحَافِظُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8675

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8676

8676 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ مَلَّاسٍ النَّمَرِيُّ، ثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ طَرْفَ صَاحِبِ الصُّورِ مُذْ وُكِّلَ بِهِ مُسْتَعِدٌّ يَنْظُرُ نَحْوَ الْعَرْشِ مَخَافَةَ أَنْ يُؤْمَرَ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْهِ طَرْفُهُ، كَأَنَّ عَيْنَيْهِ كَوْكَبَانِ دُرِّيَّانِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8676 - صحيح على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نت ارشاد فرمایا : صور اٹھانے والے فرشتے کو جب سے صور پھونکنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ، وہ اسی وقت سے چاک وچوبند عرش کی جانب نظریں گاڑے ہوئے ہے ، وہ اس خدشے سے ( پلک بھی نہیں جھپکتا کہ ) کہیں پلک جھپکنے سے پہلے اس کو صور پھونکنے کا حکم نہ دے دیا جائے ، اس کی آنکھیں چمکتے ہوئے روشن ستاروں کی مانند ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ مَلَّاسٍ النَّمَرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8676

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8677

8677 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ الْحَارِثِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ} [المؤمنون: 101] ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الصُّورِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى بِسَمْعِهِ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ» قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ نَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا» مَدَارُ هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8677 - عطية ضعيف

حضرت عطیہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالی کے ارشاد "فاذا نفخ فی الصور " کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیاہے، کہ میں آسودہ حال کیسے رہ لوں ؟ حالانکہ صور پھونکنے والا فرشتہ صور ہاتھ میں لئے ہوئے ہے ، اپنی پیشانی کو جھکائے ہو ئے ہے اور اپنی سماعتوں کو متوجہ کئے ہوئے ہے کہ نہ جانے کب صور پھونکنے کا حکم دے دیا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کران نے کہا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم کیا کہا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کہا کر " ہمیں اللہ کافی ہے ، اور بہتر کار ساز ہے ، ہم نت اللہ ہی پر توکل کیا ہے۔ اس حدیث کا مدار حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ پر ہے ۔

عَطِيَّةَ بْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ} [المؤمنون: ← مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ الْحَارِثِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8677

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8678

8678 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى بِسَمْعِهِ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ فَيَنْفُخَ» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ نَقُولُ؟ قَالَ: «قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ تَوَكَّلْنَا عَلَى اللَّهِ» لَمْ نَكْتُبْهُ مَنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَوْلَا أَنَّ أَبَا يَحْيَى التَّيْمِيَّ عَلَى الطَّرِيقِ لَحَكَمْتُ لِلْحَدِيثِ بِالصِّحَّةِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا "، وَلِهَذَا الْحَدِيثِ أَصْلٌ مَنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8678 - أبو يحيى واه

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں کیسے خوش ہوں ، جبکہ حضرت اسرافیل علیہ السلام صور ہاتھ میں لئے ہوئے ہیں، اپنی پیشانی کو جھکائے ہو ئے ہیں ، اپنی سماعتوں کو متوجہ کئے ہوئے ہیں اس بات کے منتظر ہیں کہ کب حکم ملے اور وہ اس میں پھونکیں ۔ ہم نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو ہم کیا کہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےفرمایا : تم کہا کرو "ہمیں اللہ کافی ہے ، اور وہ بہتر کار ساز ہپے ، ہم نے اللہ پر توکل کیا "۔ امام حاکم کہتے ہیں : ہم نے اعمش کی وہ حدیچ اسی اسناد کے ہمراہ نقل کی ہے جو انہوں نے ابو صالح کے واسطے سے ابو سعید سے روایت کی ہے ۔ اگر اس کی سند ابو یحیی تیمی نہ ہو تے تو میں فیصلہ کر دیتا کہ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ اس حدیث کی ایک اصل بھی ہے جو کہ زید بن اسلم نے عطا ء بن یسار کے واسطے سے ابو خدری سے روایت کی ہے ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← إِسْمَاعِيلُ أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8678

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8679

8679 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، قَالَا: ثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ خَارِجَةُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ صَبَاحٍ إِلَّا وَمَلَكَانِ يُنَادِيَانِ، يَقُولُ أَحَدُهُمَا: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَيَقُولُ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا، وَمَلَكَانِ مُوَكَّلَانِ بِالصُّورِ يَنْتَظِرَانِ مَتَى يُؤْمَرَانِ فَيَنْفُخَانِ، وَمَلَكَانِ يُنَادِيَانِ، يَقُولُ أَحَدُهُمَا: وَيْلٌ لِلرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ، وَيَقُولُ الْآخَرُ: وَيْلٌ لِلنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ «تَفَرَّدَ بِهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8679 - خارجة ضعيف

زید بن اسلم عطاء بن یسار کے واسطے سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب صبح ہو تی ہے تو دو فرشتے ندا دیتے ہیں ، ایک کہتا ہے : اے اللہ تیری راہ میں خرچ کرنے والے کو مزید وعطا فرما ، اور دوسرا کہتا ہے : اے اللہ تیری راہ میں خرچ نہ کرنے والے کے مال کو ضائع فرما ، اور دو فرشتے صور پر مقرر ہیں کہ کب ان کو حکم ملے اور وہ اس میں پھونکیں ، اور دو فرشتے نداء دیتے ہیں ، ان میں سے ایک کہتا ہے : مردوں کے لئے عورتوں کی وجہ سے ہلاکت ہے اور دوسرا کہتا ہے : عورتوں کے لئے مردوں کی وجہ سے ہلاکت ہے ۔ یہ حدیث زید بن اسلم سے روایت کرنے میں خارجہ مصعب منفردہیں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ خَارِجَةُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8679

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8680

8680 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَبِشْرُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَا: ثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَسْلَمَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الصُّورِ، قَالَ: «قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8680 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دیہاتی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صور کے بارے میں پوچھا ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک سینگ ہے ، اس میں پھونک ماری جائے گی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

الصور، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ فَسَأَلَهُ ← بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، ← أَسْلَمَ الْعِجْلِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَبِشْرُ بْنُ الْفَضْلِ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8680

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8681

8681 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، بِالْكُوفَةِ، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمُ الْجُمُعَةَ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ نَفْخَةُ الصُّورِ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ» قَالُوا: وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8681 - على شرط البخاري ومسلم

اوس بن ابی اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سب سے افضل دن ، جمعہ ہے ، اس میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی ، اس دن ان کی روح قبض کی گئی ، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اسی دن محشر قائم ہو گا، لہذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود شریف پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا سلام مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کے وصال مبارک کے بعد ہمارا سلام آپ پر کس طرح پیش کیا جائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أوس بن أبي أوس ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، بِالْكُوفَةِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8681

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8682

8682 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَنْظُرُ إِلَى الْقَمَرِ مُخْلِيًا؟» فَقَالُوا: بَلَى، قَالَ: «فَاللَّهُ أَعْظَمُ» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى، وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: «أَمَا مَرَرْتَ بِوَادِي أَهْلِكَ مَحْلًا؟» قَالَ: بَلَى، قَالَ: «ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ يَهْتَزُّ خَضِرًا؟» قَالَ: بَلَى، قَالَ: «فَكَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى وَذَلِكَ آيَتُهُ فِي خَلْقِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8682 - صحيح

حضرت ابو زرین عقیلی رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا ہم سب قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ اور اللہ تعالی کی تخلیق میں اس کی نشانی کیا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم سب لوگ اکیلے اکیلے چاند کو نہیں دیکھتے ہو ؟ سب نے کہا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی سب سے بڑا ہے ، ابو زریں کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ تعالی مردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ اللہ تعالی کی تخلیق میں اس کی نشانی کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اپنے کسی رشتہ دار کی خشک زمین سے کبھی گزرے ہو ؟ پھر کبھی گزرتے ہوئے اسی زمین کو سر سبز و شاداب دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کی مخلوق میں یہی اس کی نشانی ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ ← وَکِیْعِ بْنِ عُدَّسٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8682

chevron_left Previous
1…668669670…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section