Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6633

6633 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، قَالَا: أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْبَرْصَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «لَا تُغْزَى مَكَّةَ بَعْدَ هَذَا الْعَامِ أَبَدًا» قَالَ سُفْيَانُ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ زَكَرِيَّا تَفْسِيرُهُ عَلَى الْكُفْرِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6633 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت حارث بن مالک بن برصاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ارشاد فرمایا: اس سال کے بعد کبھی بھی مکہ میں جنگ نہیں ہو گی۔ سفیان کہتے ہیں : میں نے اس کی وضاحت زکریا سے سنی ہے ، اس حدیث اک مطلب یہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا کہ مکہ کے رہنے والے سارے کافر ہو جائیں اور پھر ان پر انکے کفر کی وجہ سے کوئی مسلمان ملک جنگ مسلط کرے ۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا ۔

سُفْيَانُ: وَقَدْ ← يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: لَا تُغْزَى مَكَّةَ بَعْدَ هَذَا الْعَامِ أَبَدًا ← رَسُولِ اللَّهِ ← الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْبَرْصَاءِ ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ← أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حمشاذ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of al-Harith ibn Malik ibn al-Basra al-Laithi, may God be pleased with him · Hadith 6633

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6634

6634 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثَنَا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا، ثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، قَالَ: «مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ بْنِ حَشِيشِ بْنِ عَوْفِ بْنِ جُنْدُعٍ، يُكَنَّى أَبَا سُلَيْمَانَ، وَأَخْبَرَنِي بَعْضُ بَنِي لَيْثٍ، أَنَّهُ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ بْنِ أَشْيَمَ بْنِ زَبَالَةَ بْنِ حَشِيشِ بْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ نَاشِبِ بْنِ غَيْرَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ لَيْثِ بْنِ بَكْرٍ»

خلیفہ بن خیاط نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " مالک بن حویرث بن حشیش بن عف بن جندع " ان کی کنیت " ابو سلیمان " تھی اور بنی لیث کے ایک آدمی نے مجھے ان کا نسب یوں بتایا ہے " مالک بن حویرث بن اشیم بن زبالہ بن حشیش بن عبدیا لیل بن ناشب بن غیرہ بن سعد بن لیث بن بکر " ۔

«مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ بْنِ حَشِيشِ بْنِ عَوْفِ بْنِ جُنْدُعٍ، يُكَنَّى أَبَا سُلَيْمَانَ، ← خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ ← مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا ← أحمد بن يعقوب الثقفي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Malik bin Al-Hawith Al-Laithi, may God be pleased with him · Hadith 6634

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8661

8661 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثَنَا أَبُو يُوسُفَ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ السَّكُونِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي فِي الْوَفْدِ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَسَمِعْتُ رَجُلًا يُحَدِّثُ النَّاسَ، يَقُولُ: «إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُرْفَعَ الْأَشْرَارُ وَتُوضَعَ الْأَخْيَارُ، وَأَنْ يُخْزَنَ الْفِعْلُ وَالْعَمَلُ وَيَظْهَرَ الْقَوْلُ، وَأَنْ يُقْرَأَ بِالْمُثَنَّاةِ فِي الْقَوْمِ لَيْسَ فِيهِمْ مَنْ يُغَيِّرُهَا أَوْ يُنْكِرُهَا» فَقِيلَ: وَمَا الْمُثَنَّاةُ؟ قَالَ: «مَا اكْتُتِبَتْ سِوَى كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَوْمًا وَفِيهِمْ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَنَا مَعَكَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8661 - صحيح

حضرت عمرو بن قیس السکونی بیان کرتےہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ ایک وفد میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، میں نے ایک آدمی کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہا تھا ، قرب قیامت کی نشانی ہے کہ گندے لوگوں کو عزت دی جائے گی اور اچھے لوگوں کو ذلیل کیا جائے گا ، عمل کم ہو گا اور باتیں زیادہ ہوں گی ، اور قوم میں مثناۃ بیان ہو ں گی لیکن ان کو روکنے والا کوئی نہیں ہو گا یا اس کو برا جاننے والا کوئی نہیں ہو گا ،پوچھا گیا : مثناۃ کیا ہوتا ہے؟ فرمایا : کتاب اللہ کے سوا جو کچھ بھی لکھا جاتا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں : میں نے یہ حدیث کچھ لوگوں کو سنائی ، ان میں اسماعیل بن عبداللہ بھی تھے ، انہوں نے کہا : اس مجلس میں تمہارے ساتھ میں بھی تھا ، تمہیں معلوم ہے کہ وہ شخص کون تھا ؟ میں نے کہا : نہیں انہوں نے کہا : وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ۔

النَّاسُ: ← رَجُلًا ← خَرَجْتُ مَعَ أَبِي فِي الْوَفْدِ إِلَى مُعَاوِيَةَ ← عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ السَّكُونِيُّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أبو يوسف محمد بن كثير الصنعاني ← مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8661

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8662

8662 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ الْمَعَافِرِيِّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَسُئِلَ أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا قُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ؟ قَالَ: فَدَعَا بِصُنْدُوقٍ طُهُمٍ - وَالطُّهُمُ الْخَلْقُ - فَأَخْرَجَ مِنْهَا كِتَابًا فَنَظَرَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكْتُبُ مَا قَالَ: فَسُئِلَ أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوِ الرُّومِيَّةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَدِينَةُ هِرَقْلَ تُفْتَحُ أَوَّلًا» يَعْنِي الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8662 - صحيح

ابو قبیلہ معافری بیان کرتے ہیں : ہم حضر ت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ، ان سے پوچھا گیا : پہلے کون سا شہر فتح ہو گا ، قسطنطنیہ یا روم ؟ انہوں نے ایک پرانا صندوق منگوایا اور اس میں سے ایک خط نکالا ، اور کہنے لگے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ہوتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو کچھ فرماتے ، ہم لکھ لیا کرتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا ملک پہلے فتح ہو گا قسطنطنیہ یا روم ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ہر قل کا شہر پہلے فتح ہو گا یعنی قسطنطنیہ ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أبي قبيلٍ المعافري، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8662

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8663

8663 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثَنَا زَائِدَةُ، ثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قُطْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «الْزَمُوا هَذِهِ الطَّاعَةَ وَالْجَمَاعَةَ فَإِنَّهُ حَبْلُ اللَّهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، وَأَنَّ مَا تَكْرَهُونَ فِي الْجَمَاعَةِ خَيْرٌ مِمَّا تُحِبُّونَ فِي الْفُرْقَةِ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَخْلُقْ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا جَعَلَ لَهُ مُنْتَهَى، وَإِنَّ هَذَا الدِّينَ قَدْ تَمَّ وَإِنَّهُ صَائِرٌ إِلَى نُقْصَانَ، وَإِنَّ أَمَارَةَ ذَلِكَ أَنْ تُقْطَعَ الْأَرْحَامُ، وَيُؤْخَذَ الْمَالُ بِغَيْرِ حَقِّهِ، وَيُسْفَكَ الدِّمَاءُ وَيَشْتَكِي ذُو الْقَرَابَةِ قَرَابَتَهُ، وَلَا يَعُودُ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، وَيَطُوفُ السَّائِلُ بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ لَا يُوضَعُ فِي يَدِهِ شَيْءٌ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ خَارَتْ خُوَارَ الْبَقَرِ يَحْسَبُ كُلُّ النَّاسِ إِنَّمَا خَارَتْ مِنْ قِبَلِهِمْ، فَبَيْنَمَا النَّاسُ كَذَلِكَ إِذْ قَذَفَتِ الْأَرْضُ بِأَفْلَاذِ كَبِدِهَا مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ لَا يَنْفَعُ بَعْدَ ذَلِكَ شَيْءٌ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8663 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس اطاعت کو اور اس جماعت کو لازم پکڑو ۔ کیونکہ یہی اللہ کی رسی ہے اور اللہ تعالی نے اسی کو پکڑنے کا حکم دیا ہے ، جماعت میں رہنے سے تمہیں جو چیز ناپسند ہے ، وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں الگ رہنے میں اچھی لگتی ہے ۔ اور اللہ تعالی نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کی انتہا ء بھی بنائی ہے ، اور یہ دین مکمل ہو چکا ہے اور اب یہ نقصان کی جانب جا رہا ہے ، اس کے نقصان کی نشانی یہ ہے کہ صلہ رحمی ختم ہو جائے گئی ، ناحق مال لیا جائے گا ، ناحق خون بہایا جائے گا ، قریبی رشتہ دار، کو اپنی قرابت کی شکایت ہو گی ، اور اس کی طرف کوئی چیز لوٹائی نہیں جائے گی ۔ سوالی پورا پورا ہفتہ سوال کرتا پھرے گا لیکن کوئی شخص اس کو بھیک نہیں دے گا ، انہی حالات میں گائے کی سی آواز آئے گی ، ہر شخص یہ سمجھے گ کہ یہ آواز ہماری طرف سے آ رہی ہے ، اسی اثنا ء میں زمین اپنے اندر سے سونے اور چاندی کے خزانے اگل دے گی ، لیکن اس وقت اس سونے اور چاندی کا کسی کو کچھ فائدہ نہیں ہو گا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← ثَابِتِ بْنِ قُطْبَةَ ← عَامِرٍ، ← أَبُو حُصَيْنٍ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8663

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8664

8664 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثَنَا زَائِدَةُ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، أَنْبَأَ يُسِيرُ بْنُ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي مَسْعُودٍ: إِنَّهُ كَانَ لِي صَاحِبَانِ كَانَ مَفْزَعِي إِلَيْهِمَا حُذَيْفَةُ، وَأَبُو مُوسَى، وَإِنِّي أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِنْ كُنْتَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فِي الْفِتَنِ إِلَّا حَدَّثَتْنِي وَإِلَّا اجْتَهَدْتَ لِي رَأْيَكَ، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ أَبُو مَسْعُودٍ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «عَلَيْكَ بِعُظْمِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْمَعْ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضَلَالَةٍ أَبَدًا، وَاصْبِرْ حَتَّى يَسْتَرِيحَ بَرٌّ، ويُسْتَرَاحَ مِنْ فَاجِرٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ، وَقَدْ كَتَبْنَاهُ بِإِسْنَادٍ عَجِيبٍ عَالٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8664 - على شرط البخاري ومسلم

یسیر بن عمرو کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے ابو مسعود سے کہا : میرے دو ساتھی حذیفہ اور ابو موسی تھے ، میں ہر تکلیف اور گھبراہٹ میں انہی سے رجوع کیا کرتا تھا ، اور میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر تم نے فتنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی فرمان سن رکھا ہے تو وہ مجھے سناؤ ، ورنہ تم مجھے اپنی رائے سے آگاہ کرو۔ چنانچہ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالی کی حمد و ثنا ء کے بعد فرمایا : تم پر لازم ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت کے سب سے بڑے گروہ میں شامل ہو جاؤ ، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت کبھی بھی گمراہی پر جمع نہیں ہو گی ، اور صبر کرنا حتی کہ نیکی عام ہو جائے اور فاجروں سے جان چھوٹ جائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، أَنْبَأَ يُسِيرُ بْنُ عَمْرٍو، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرٍ ← أَبُو بكر بن

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8664

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8665

8665 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْوَاعِظُ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ مُعَاذٍ، ثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْكِلَابِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «عَلَيْكُمْ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَهَذِهِ الْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَجْمَعُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضَلَالَةٍ أَبَدًا، وَعَلَيْكُمْ بِالصَّبِرِ حَتَّى يَسْتَرِيحَ بَرٌّ وَيُسْتَرَاحَ مِنْ فَاجِرٍ» هَذَا حَدِيثٌ لَمْ نَكْتُبْ مِنْ حَدِيثِ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ الْمَكِّيِّ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ دَاوُدَ لَيْسَ مِنْ شَرْطِ هَذَا الْكِتَابِ "

قدامہ بن عبداللہ بن عمار کلابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اللہ تعالی کی اطاعت کو لازم پکڑو اور اس جماعت کو لازم پکڑو ، کیونکہ اللہ تعالی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت کو کبھی بھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا ، اور تم اس وقت تک صبر اختیار کرو جب تک نیکی عام نہ ہو جائےیا فاجر سے جان چھوٹ جائے ۔ یہ حدیث ہم نے ایمن بن نابل المکی کے حوالے سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ لکھی ہے ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمَّارٍ الْكِلَابِيِّ ← أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ مُعَاذٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْوَاعِظُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8665

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8666

8666 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «يَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رِيحًا فِيهَا زَمْهَرِيرٌ بَارِدٌ، لَا تَدَعُ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مُؤْمِنًا إِلَّا مَاتَ بِتِلْكَ الرِّيحِ، ثُمَّ تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى شِرَارِ النَّاسِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ "، وَكَذَلِكَ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8666 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالی انتہائی ٹھنڈی ہوا بھیجے گا ، وہ روئے زمین پر ہر مسلمان کو مار ڈالے گی ، اس کے بعد خبیث لوگوں پر قیامت برپا ہو گی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔یہ حدیث اسناد صحیح کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے)

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الزَّعْرَاءِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8666

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8667

8667 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ رِيحًا لَا تَدَعُ أَحَدًا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ تُقًى أَوْ نُهًى إِلَّا قَبْضَتْهُ، وَيُلْحَقُ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قیامت سے پہلے اللہ تعالی ہوا بھیجے گا جو کہ ہر ایسے مومن کو مار ڈالے گی جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا ، اور ہر قوم ان عقائد کی طرف لوٹ جائے گی جن پر ان کے آباء واجداد زمانہ جاہلیت میں تھے

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8667

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8668

8668 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ الْأَسْوَدِ، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ وَهُوَ نَازِلٌ فِي بِنَاءٍ لَهُ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ أُمُّ حَرَامٍ، فَحَدَّثَتْنَا أُمُّ حَرَامٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا» قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فِيهِمْ؟ قَالَ: «إِنَّكِ فِيهِمْ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فِيهِمْ؟ قَالَ: «لَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8668 - على شرط البخاري ومسلم

عمیر بن اسود بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، وہ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے ان کے ہمراہ انکی بیوی " ام حرام " بھی موجود تھیں ، حضرت ام حرام نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو سمندر میں جہاد کرے گا ، وہ جنتی ہو گا ، آپ فرماتی ہیں : میں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا میں بھی ان میں شریک ہوں گی ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تو ان میں ہو گی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت میں جو لوگ قیصر کے شہر میں جنگ کریں گے ، وہ بخش دئیے جائیں گے ۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا میں ان میں ہوں گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : نہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

قُلْتُ ← أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا ← مَعَهُ امْرَأَتُهُ أُمُّ حَرَامٍ، فَحَدَّثَتْنَا أُمُّ حَرَامٍ، أَنَّهَا ← أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ وَهُوَ نَازِلٌ فِي بِنَاءٍ لَهُ ← عُمَيْرِ بْنِ الأَسْوَدِ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8668

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8669

8669 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، قَالُوا: ثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، وَحَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ عَوْفٍ، ثَنَا أَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُمْلَأَ الْأَرْضُ ظُلْمًا وَجَوْرًا وَعُدْوَانًا، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي مَنْ يَمْلَأَهَا قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَعُدْوَانًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ، وَالْحَدِيثُ الْمُفَسَّرُ بِذَلِكَ الطَّرِيقِ وَطُرُقُ حَدِيثِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ كُلُّهَا صَحِيحَةٌ عَلَى مَا أَصَّلْتُهُ فِي هَذَا الْكِتَابِ بِالِاحْتِجَاجِ بَأَخْبَارِ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ إِذْ هُوَ إِمَامٌ مِنْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8669 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی حتی کہ روئے زمین ، ظلم ، زیادتی اور دشمنی سے بھر جائے گی ، پھر میری اولاد میں سے ایک آسمی آئے گا جو اسی طرح زمین کوعدل و انصاف سے بھر دے گا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔یہ حدیث اس اسناد کے ہمراہ مفسر ہے ، اور عاصم نے زر کے واسطے سے جو عبداللہ سے روایت کی ہے وہ میری کتاب میں بیان کئے گئے اس قانون ( عاصم بن ابی نجود کیونکہ ائمہ مسلمین میں ایک ہیں اس لئے ان کی روایات نقل کی جائیں گی ) کے مطابق صحیح ہے

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أبو الصديق الناجي ← عَوْفٌ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← محمد بن إسحاق الإمام، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّارِمِيُّ، ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ← هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8669

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8670

8670 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ أَشَمُّ الْأَنْفِ أَقْنَى أَجْلَى، يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا، يَعِيشُ هَكَذَا» وَبَسَطَ يَسَارَهُ وَإِصْبَعَيْنِ مِنْ يَمِينِهِ الْمُسَبِّحَةَ، وَالْإِبْهَامَ وَعَقَدَ ثَلَاثَةً «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8670 - عمران ضعيف ولم يخرج له مسلم

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مہدی ہمارے اہل بیت میں سے ہوگا اس کی ناک اونچی ہو گی ، شرم و حیا ء کا پیکر ہو گا ، ماتھے سے اگلی جانب سے سے بال اڑے ہوئے ہوں گے ، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ اس سے پہلے ظلم و ستم سے بھری گئی ہو گی ، وہ یوں زندگی گزارے گا ، یہ کہتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا بایا ں ہاتھ پھیلایا اور شہادت والی انگلی کے ساتھ والی دو انگلیاں انگوٹھے کے ساتھ ملا کر تین کا عدد بنایا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8670

chevron_left Previous
1…667668669…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section