Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6621

6621 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ، قَالَ: «الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ يَعْمَرَ بْنِ عَوْفِ بْنِ كَعْبِ بْنِ سُلْمَى بْنِ لَيْثٍ، وَأُمُّ الصَّعْبِ زَيْنَبُ بِنْتُ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ أُخْتُ أَبِي سُفْيَانَ، وَاسْمُهَا فَاخِتَةُ بِنْتُ حَرْبٍ وَكَانَ يَنْزِلُ وَدَّانَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6621 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

ابو عبیدہ نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " صعب بن جثامہ بن قیس بن عبداللہ بن وہب بن یعمر بن عوف بن کعب بن سلیمی بن لیث " ۔ حضرت صعب رضی اللہ عنہ کی والدہ " زینب بنت حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف " ابو سفیان کی بہن ہیں ، ان کا نام " فاختہ بنت حرب " ہے ، آپ مقام " ودان " میں اقامت پذیر رہے ۔

أَبُو عُبَيْدَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Dhikr al-Sa'b ibn Jhama al-Laithi, may God be pleased with him · Hadith 6621

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6622

6622 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ، بِالرَّيِّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ إِنَّ خَيْلًا أَغَارَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَصَابَتْ مِنْ أَبْنَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6622 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی گئی : ایک جماعت نے ایک قوم پر شب خوب مارا، انہوں نے مشرکوں کے کچھ لڑکوں کو مار ڈالا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ان کا شمار بھی ان کے اپنے آباء کے ساتھ ہی ہے ۔

الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← محمد بن الفرج ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ بِالرَّيِّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Dhikr al-Sa'b ibn Jhama al-Laithi, may God be pleased with him · Hadith 6622

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ قَبَاثِ بْنِ أَشْيَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6623

6623 - أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ رَخَاءٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُؤَمِّلِيُّ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ عِيسَى الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: «قَبَاثُ بْنُ أَشْيَمَ بْنِ عَامِرِ بْنِ الْمُلَوِّحِ بْنِ يَعْمُرَ بْنِ عَوْفِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لَيْثٍ الضِّبَابِيِّ»

ابن شہاب نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " قباث بن اشیم بن عامر بن ملوح بن یعمر بن عوف بن کعب بن عامر بن لیث ضبابی " ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عِيسَى الشَّعْبِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُؤَمَّلِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ رَخَاءٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Qubat bin Ashim, may God be pleased with him · Hadith 6623

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ قَبَاثِ بْنِ أَشْيَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6624

6624 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ، يَقُولُ لِلْقَبَاثِ بْنِ أَشْيَمَ: يَا قَبَاثُ، أَنْتَ أَكْبَرُ أَمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْبَرُ مِنِّي، وَأَنَا أَسَنُّ مِنْهُ «وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيلِ، وَتَنَبَّأَ عَلَى رَأْسِ الْأَرْبَعِينَ مِنَ الْفِيلِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6624 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

ابو الحویرث بیان کرتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے حضرت قباث بن اشیم رضی اللہ عنہ سے پوچھا : اے قباث تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بڑے ہو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم سے بڑے ہیں ؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے بڑے ہیں ، جبکہ عمر میری زیادہ ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے اور واقعہ فیل سے چالیس سال بعد اعلان نبوت فرمایا۔

بَلْ رَسُولُ اللَّهِ أَكْبَرُ مِنِّي، ← لِلْقَبَاثِ بْنِ أَشْيَمَ: يَا قَبَاثُ، أَنْتَ أَكْبَرُ أَمْ رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، ← أَبِی الْحُوَیْرِثِ ← الزُّبَيْرُ بْنُ مُوسَى ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Qubat bin Ashim, may God be pleased with him · Hadith 6624

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ قَبَاثِ بْنِ أَشْيَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6625

6625 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زُرَيْقٍ، ثَنَا أَصْبَغُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَصْبَغَ بْنِ أَبَانَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ جَدِّهِ أَبَانَ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: كَانَ إِسْلَامُ قَبَاثِ بْنِ أَشْيَمَ أَنَّ رِجَالًا مِنْ قَوْمِهِ وَغَيْرِهِمْ مِنَ الْعَرَبِ أَتَوْهُ فَقَالُوا: إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ خَرَجَ يَدْعُو إِلَى دَيْنٍ غَيْرِ دِينِنَا فَقَامَ قَبَاثٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ، قَالَ لَهُ: «اجْلِسْ يَا قَبَاثُ» فَأَوْجَمَ قَبَاثٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ الْقَائِلُ لَوْ خَرَجَتْ نِسَاءُ قُرَيْشٍ بِأَمْكَنِهَا رَدَّتْ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ؟» فَقَالَ قَبَاثٌ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا تَحَدَّثَ بِهِ لِسَانِي، وَلَا تَزَمْزَمَتْ بِهِ شَفَتَاي وَلَا سَمِعَهُ مِنِّي أَحَدٌ، وَمَا هُوَ إِلَّا شَيْءٌ هَجَسَ فِي نَفْسِي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّ مَا جِئْتَ بِهِ لَحَقٌّ

سلیمان بیان کرتے ہیں کہ حضرت قباث بن اشیم رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ یوں ہے کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ اور کچھ دیگر عرب لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے : محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب نے بغاوت کر دی ہے ، وہ لوگوں کو ہمارے دین کے خلاف دعوت دیتا ہے ، حضرت قباث وہاں سے اٹھے اور سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلے آئے ، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے بیٹھنے کو کہا، حضرت قباث رضی اللہ عنہ ترش روئی کے ساتھ سر جھکا کر بیٹھ گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم یہی کہنے والے ہو نا کہ اگر قریش کی صرف عورتیں اپنے گھر سے نکل کر آ جائیں تو وہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو واپس بھیج سکتی ہیں ؟ حضرت قباث نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ، یہ باتیں تو ابھی میری زبان سے نکلی ہی نہیں ہیں ۔ میرے ہونٹوں پر ابھی ان کا تذکرہ ہی نہیں آیا ، اور نہ یہ باتیں ابھی تک مجھ سے کسی نے سنی ہیں ، اور یہ بات تو فقط میرے دل میں آئی تھی ، پھر وہ کلمہ پڑھتے ہوئے کہنے لگے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ اور بے شک جو آپ لائے ہیں وہ بر حق ہے ۔

أَبِيهِ سُلَيْمَانَ، ← جَدِّهِ أَبَانَ، ← أَبِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَصْبَغَ بْنِ أَبَانَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← أَصْبَغُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زُرَيْقٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Qubat bin Ashim, may God be pleased with him · Hadith 6625

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ قَبَاثِ بْنِ أَشْيَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6626

6626 - حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ فِرَاسٍ الْفَقِيهٌ بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى، ثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ قَبَاثِ بْنِ أَشْيَمَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «صَلَاةُ الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، أَزْكَى عِنْدَ اللَّهِ مِنْ صَلَاةِ أَرْبَعِينَ تَتْرَى، وَصَلَاةُ أَرْبَعَةٍ يَؤُمُّ أَحَدُهُمْ صَاحِبَهُ، أَزْكَى عِنْدَ اللَّهِ مِنْ صَلَاةِ ثَمَانِينَ تَتْرَى، وَصَلَاةُ ثَمَانِيَةٍ يَؤُمُّ أَحَدُهُمْ صَاحِبَهُ، أَزْكَى عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ صَلَاةِ مِائَةٍ تَتْرَى»

حضرت قباث بن اشیم لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو آدمی نماز کے لئے جماعت کریں اس طرح کہ ان میں سے ایک امام بن جائے اور دوسرا مقتدی ، یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ مٰں ان چالیس آدمیوں کی نماز سے بہتر ہے جو الگ الگ نماز پڑھ رہے ہوں ، اور چار آدمی جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں اس طرح کہ ان میں سے ایک امام بن جائے اور باقی مقتدی ہوں، یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں 80 لوگوں کے الگ الگ نماز پڑھنے سے بہتر ہے ۔ اور 8 آدمی جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں، اس طرح کہ ان میں سے ایک امام بن جائے اور باقی 7 مقتدی ہوں، یہ ان 100 آدمیوں سے بہتر ہے جو الگ الگ نماز پڑھ رہے ہوں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← قُبَاثِ بْنِ أَشْيَمَ اللَّيْثِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ فِرَاسٍ الْفَقِيهٌ بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Qubat bin Ashim, may God be pleased with him · Hadith 6626

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ عُمَيْرِ بْنِ قَتَادَةَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6627

6627 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: «عُمَيْرُ بْنُ قَتَادَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ جُنْدُعِ بْنِ لَيْثٍ اللَّيْثِيُّ»

مصعب بن عبداللہ زبیرہ نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " عمیر بن قتادہ بن سعد بن عامر بن جندع بن لیث لیثی " ۔

«عُمَيْرُ بْنُ قَتَادَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ جُنْدُعِ بْنِ لَيْثٍ اللَّيْثِيُّ» ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Umair bin Qatada Al-Laithi, may God be pleased with him · Hadith 6627

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ عُمَيْرِ بْنِ قَتَادَةَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6628

6628 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا أَبُو عُلَاثَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَتْ فِي نَفْسِي مَسْأَلَةٌ قَدْ أَحْزَنَنِي أَنِّي لَمْ أَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَسْأَلُهُ عَنْهَا فَكُنْتُ أَتَحَيَّنُهُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَوَافَقْتُهُ عَلَى حَالَتَيْنِ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أُوَافِقَهُ عَلَيْهِمَا وَجَدْتُهُ فَارِغًا وَطَيِّبَ النَّفْسِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَسْأَلَكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ» قُلْتُ " يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: «السَّمَاحَةُ وَالصَّبْرُ» قُلْتُ: فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ إِيمَانًا؟ قَالَ: «أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا» قُلْتُ: فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُهُمْ إِسْلَامًا؟ قَالَ: «مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ» قُلْتُ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ فَطَأْطَأَ رَأْسَهُ فَصَمَتَ طَوِيلًا حَتَّى خِفْتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ شَقَقْتُ عَلَيْهِ، وَتَمَنَّيْتُ إِنْ لَمْ أَكُنْ سَأَلْتُهُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ بِالْأَمْسِ، يَقُولُ: «إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا لِمَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ عَلَيْهِمْ فَحُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ» فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «كَيْفَ قُلْتَ؟» قُلْتُ: أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: «كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ» أَبُو بَدْرٍ الرَّاوِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، اسْمُهُ بَشَّارُ بْنُ الْحَكَمِ شَيْخٌ مِنَ الْبَصْرَةِ وَقَدْ رَوَى عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ غَيْرَ حَدِيثٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6628 - أورد له الحاكم حديثا ضعيفا يعني هذا الحديث

حضرت عمیر بن قتادہ لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میرے دل میں کچھ سوالات تھے اور میں ہر وقت اس پریشانی میں رہتا تھا کہ میں ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھ نہیں سکا، اور نہ ہی کسی اور نے وہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھیں کہ میں سن لیتا، میں کسی مناسب وقت کی تاک میں تھا۔ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وضو کر رہے تھے ، مجھے اس حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں وہ دو کیفیتیں مل گئیں جن کے بارے میں میری خواہش تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان دو کیفیتوں میں ہوں او ر میری ملاقات ہو جائے ، ان میں سے ایک بات تو یہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فارغ تھے اور دوسری بات یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مزاج شریف بہت خوشگوار تھا، میں نے عرض کی : یا رسو اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا مجھے کچھ سوالات پوچھنے کی اجازت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ہاں تم جو پوچھنا چاہتے ہو، پوچھو۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایمان کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سخاوت اور صبر، میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس مومن کا ایمان سب سے افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جس کا اخلاق سب سے افضل ہے ۔ میں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس مسلمان کا اسلام سب سے افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ میں نے پوچھا : کون سا جہاد سب سے افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سر جھکا لیا اور بہت دیر خاموش رہے ، اتنی دیر خاموشی سے مجھے یہ خوف ہونے لگا کہ شاید میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مشقت میں مبتلا کر دیا ہے ، اور میری یہ خواہش ہونے لگی کہ کاش میں یہ سوال ہی نہ کیا ہوتا، جبکہ گزشتہ دن میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا کہ مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس کے سوال کی وجہ سے ایسی چیز حرام ہو جائے جو اس کے سوال سے پہلے حلال تھی۔ میں نے کہا: میں اللہ کے غضب سے اور اللہ کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا : تم نے کیا پوچھا تھا ؟ میں نےکہا: کون سا جہاد سب سے افضل ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق بولنا۔ اس حدیث کے راوی جو ابوبدر ہیں اور عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت کر رہے ہیں ، ان کا نام بشار بن حکم ہے ۔ یہ بصرہ میں شیخ الحدیث ہیں ۔ انہوں نے ثابت البنانی سے اس حدیث کے علاوہ بھی کوئی احادیث روایت کی ہیں ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← بكر بن خنيس ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Umair bin Qatada Al-Laithi, may God be pleased with him · Hadith 6628

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6629

6629 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثَنَا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، قَالَ: «شَدَّادُ بْنُ الْهَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ نُمَيْرِ بْنِ عُتْوَارَةَ بْنِ عَامِرِ بْنِ لَيْثِ بْنِ بَكْرَةَ، وَاسْمُ الْهَادِ أُسَامَةُ، وَهُوَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ تَحَوَّلَ إِلَى الْكُوفَةَ»

خلیفہ بن خیاط نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " شداد بن الہاد بن عمرو بن عبداللہ بن جابر بن نمیر بن عتوارہ بن عامر بن لیث بن مکرہ " ۔ ہاد کا اصل نام " اسامہ " ہے ۔ یہی عبداللہ بن شداد بن الہاد ہیں ۔ آپ کوفہ میں منتقل ہو گئے تھے ۔

خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ ← موسى بن زكريا التستري، ← أحمد بن يعقوب الثقفي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Shaddad Ibn Al-Hhad Al-Laithi, may God be pleased with him · Hadith 6629

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6630

6630 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ، ثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ، فَذَكَرَ هَذَا النَّسَبَ وَقَالَ إِنَّمَا سُمِّيَ الْهَادَ لِأَنَّهُ كَانَ يَهْدِي إِلَى الطَّرِيقِ

ابو عبیدہ نے بھی مذکورہ بالا نسب بیان کیا ہے اور اس کے بعد فرمایا : ان کا نام " ہاد " اس لئے رکھا گیا کہ وہ لوگوں کو راستہ بتایا کرتے تھے ۔

إِنَّمَا سُمِّيَ الْهَادَ لِأَنَّهُ كَانَ يَهْدِي إِلَى الطَّرِيقِ ← هَذَا النَّسَبَ ← أَبُو عُبَيْدَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Shaddad Ibn Al-Hhad Al-Laithi, may God be pleased with him · Hadith 6630

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6631

6631 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْدَى صَلَاتَيِ النَّهَارِ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَهُوَ حَامِلٌ الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَيْنَ فَتَقَدَّمَ فَوَضَعَهُ عِنْدَ قَدَمِهِ الْيُمْنَى، " وَسَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَةً أَطَالَهَا فَرَفَعْتُ رَأْسِي بَيْنَ النَّاسِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ، وَإِذَا الْغُلَامُ رَاكِبٌ ظَهْرَهُ فَقَعَدْتُ فَسَجَدَتْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ نَاسٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ سَجَدْتَ فِي صَلَاتِكَ هَذِهِ سَجْدَةً مَا كُنْتَ تَسْجِدُهَا أَشَيْءٌ أُمِرْتَ بِهِ أَوْ كَانَ يُوحَى إِلَيْكَ؟ فَقَالَ: «كَلَّا لَمْ يَكُنْ وَلَكِنَّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي، فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6631 - إسناده جيد

حضرت شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دن کی نمازوں ظہر یا عصر میں سے کسی ایک نماز میں تشریف لائے ، آپ نے حضرت حسن یا ( شاید ) حضرت حسین کا اٹھایا ہوا تھا، آپ آگے تشریف لے گئے ، اور اپنی دائیں جانب ان کو کھڑا کر لیا، اس نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب سجدہ کیا تو بہت لمبا کر دیا، میں نے سجدے سے سر اٹھا کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدے میں تھے اور وہ بچہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت پر سوار تھا، میں کچھ دیر بیٹھا رہا، پھر سجدے میں چلا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ نے آج اس نماز میں اتنا طویل سجدہ کیا ہے کہ اس سے پہلے آپ نے کبھی اتنا لمبا سجدہ نہیں کیا ، آپ کو کوئی خاص حکم دیا گیا ہے ؟ یا آپ پر کوئی وحی نازل ہو رہی تھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں ، میرا یہ بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تھا ، مجھے اچھا نہیں لگا کہ اس کی مرضی کے بغیر اس کو نیچے اتاروں ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← يزيد بن هارون أنبأ جرير بن حازم ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Shaddad Ibn Al-Hhad Al-Laithi, may God be pleased with him · Hadith 6631

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6632

6632 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ، ثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ، قَالَ: «الْحَارِثُ ابْنُ الْبَرْصَاءِ هُوَ الْحَارِثُ بْنُ مَالِكِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عُوَيْذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ أَشْجَعَ بْنِ عَامِرِ بْنِ لَيْثٍ، وَأُمُّهُ الْبَرْصَاءُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ الْهِلَالِيَّةُ أَقَامَ بِمَكَّةَ ثُمَّ نَزَلَ الْكُوفَةَ»

ابو عبیدہ فرماتے ہیں : حارث بن برصاء ، یہی حارث بن مالک ہیں ، نا کا نسب یوں ہے " حارث بن مالک بن قیس بن عویذ بن عبداللہ بن جابر بن عبدمناف بن اشجع بن عامر بن لیث " ان کی والدہ " برصاء بنت عبداللہ بن ربیعہ ہلالیہ " ہیں ۔ آپ مکہ میں رہے ، پھر کوفہ میں رہائش پذیر ہو گئے تھے ۔

أَبُو عُبَيْدَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of al-Harith ibn Malik ibn al-Basra al-Laithi, may God be pleased with him · Hadith 6632

chevron_left Previous
1…666667668…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section