Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6573

6573 - حَدَّثَنَا بِصِحَّةِ مَا ذَكَرَهُ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ الْأَحْنَفَ بْنَ قَيْسٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ وَأَخَذَ يَدِي، فَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ قُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: هَلْ تَذْكُرُ إِذْ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِكَ بَنِي سَعْدٍ فَجَعَلْتُ أَعْرِضُ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ وَأَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: أَنْتَ إِنَّكَ تَدْعُو إِلَى الْخَيْرِ وَتَأْمُرُ بِالْخَيْرِ فَبَلَّغْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اللَّهُمُ اغْفِرْ لِلْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ» فَكَانَ الْأَحْنَفُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: مَا مِنْ عَمَلِي شَيْءٌ أَرْجَى لِي مِنْهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6573 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت میں ، میں بیت اللہ شریف کا طواف کر رہا تھا ، بنی لیث کے ایک آدمی نے آکر میرا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگا: کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ اس نے کہا: کیا تمہیں یاد ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تمہاری قوم بنی سعد کی جانب بھیجا تھا اور میں نے جا کر ان کو اسلام کی دعوت پیش کی تھی، اس پر تم نے مجھے کہا: تھا: بے شک تو بھلائی کی جانب بلاتا ہے اور بھلائی کا حکم دیتا ہے ، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچائی تھی، (تمہاری یہ بات سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارے لئے مغفرت کی دعا فرمائی تھی ۔ چنانچہ حضرت احنف بن قیس فرمایا کرتے تھے: اس سے بڑھ کر مجھے اپنے کسی عمل پر امید نہیں ہے۔

الْحَسَنِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← بِصِحَّةِ مَا ذَكَرَهُ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Hanaf ibn Qais, may God be pleased with him · Hadith 6573

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6574

6574 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثَنَا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا، ثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، قَالَ: «الْأَسْوَدُ بْنُ سَرِيعِ بْنِ حِمْيَرِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ النَّزَّالِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ عُبَيْدَةَ لَهُ دَارٌ بِالْبَصْرَةِ بِحَضْرَةِ الْجَامِعِ مِمَّا يَلِي بَنِي تَمِيمٍ تُوُفِّيَ فِي عَهْدِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ»

خلیفہ بن خیاط فرماتے ہیں: اسود بن سریع بن حمیر بن عبادہ بن نزال بن مرہ بن عبیدہ " ۔ جامع مسجد کے قریب بنی تمیم کے ساتھ متصل ان کا گھر تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت میں آپ کی وفات ہوئی۔

خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ ← مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا ← أحمد بن يعقوب الثقفي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Aswad Ibn Sari`, may God be pleased with him · Hadith 6574

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6575

6575 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُزَنِيُّ، ثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ: قَالَ الْأَسْوَدُ بْنُ سَرِيعٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَنْشُدُكَ مَحَامِدَ حَمِدْتُ بِهَا رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَقَالَ: «إِنَّ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُحِبُّ الْحَمْدَ وَلَمْ يَسْتَزِدْهُ عَلَى ذَلِكَ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6575 - صحيح

حضرت حسن فرماتے ہیں: حضرت اسود بن سیریع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا میں آپ کو وہ حمدیہ اشعار نہ سناؤں جو میں ے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء میں لکھے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ حمد کو پسند فرماتا ہے، اس سے زیادہ آپ نے کچھ نہیں فرمایا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ← الْحَسَنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُزَنِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَّارٍ، ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Aswad Ibn Sari`, may God be pleased with him · Hadith 6575

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6576

6576 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، بِالْكُوفَةِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثَنَا مَعْمَرُ بْنُ بَكَّارٍ السَّعْدِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ التَّمِيمِيِّ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ قُلْتُ شَعْرًا ثَنَيْتُ فِيهِ عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَدَحْتُكَ، فَقَالَ: «أَمَا مَا أَثْنَيْتَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى فَهَاتِهِ وَمَا مَدَحْتَنِي بِهِ فَدَعْهُ» فَجَعَلْتُ أُنْشِدُهُ فَدَخَلَ رَجُلٌ طُوَالٌ أَقْنَى، فَقَالَ لِي: «أَمْسِكْ» فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَ: «هَاتِ» فَجَعَلْتُ، أُنْشِدُهُ فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ عَادَ، فَقَالَ لِي: أَمْسِكْ فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَ: هَاتِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ الَّذِي إِذَا دَخَلَ قُلْتَ أَمْسِكْ وَإِذَا خَرَجَ قُلْتَ هَاتِ؟ قَالَ: «هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَلَيْسَ مِنَ الْبَاطِلِ فِي شَيْءٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6576 - معمر بن بكار له مناكير

حضرت اسود بن سریع تمیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، میں نے کہا: اے اللہ کے نبی میں نے کچھ اشعار کہے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی ہے اور آپ کی بھی مدح کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اللہ تعالیٰ کی حمد کے سلسلے میں جو اشعار لکھے ہیں وہ سناؤ، اور جو میرے بارے میں لکھے ہیں وہ رہنے دو، چنانچہ میں نے اشعار سنانا شروع کیے، ایک طویل القامت قناعت پسند شخص اند ر آیا۔ اس کے آتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پڑھنے سے روک دیا، جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: سناؤ، میں نے پھر سنانا شروع کر دئیے،ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ وہ آدمی پھر آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر مجھے پڑھنے سے روک دیا، جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پھر فرمایا کہ پڑھو، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ شخص کون ہے؟ جب یہ اندر آتا ہے تو آپ مجھے چپ کروا دیتے ہیں اور جب چلا جاتا ہے تو آپ دوبارہ سننا شروع فرما دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ عمر بن خطاب ہے اور اس میں باطل کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ التَّمِيمِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مَعْمَرُ بْنُ بَكَّارٍ السَّعْدِيُّ: ← محمد بن عبد الله بن سليمان ← أبو بكر بن أبي دارم الحافظ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Aswad Ibn Sari`, may God be pleased with him · Hadith 6576

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ التَّمِيمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6577

6577 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا، ثَنَا شَبَّابٌ، قَالَ: «جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ زُهَيْرِ بْنِ حُصَيْنِ بْنِ رَبَاحِ بْنِ سَعْدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ، يُكَنَّى أَبَا الْوَلِيدِ وَأَبَا يَزِيدَ لَهُ دَارٌ بِالْبَصْرَةِ فِي سِكَّةِ الْبَحَّارِيَّةِ»

شباب نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " جاریہ بن قدامہ بن زہیر بن حصین بن رباح بن سعد بن یحییٰ بن ربیعہ بن کعب "۔ ان کی کنیت "ابو الولید اور ابو یزید " ہے۔ بحاریہ محلے میں بصرہ کے اندر ان کا مکان تھا۔

شَبَابٌ ← مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا ← أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The maid of Ibn Qudamah al-Tamimi, may God be pleased with him · Hadith 6577

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ التَّمِيمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6578

6578 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قَرْقُوبٍ التَّمَّارُ، بِهَمْدَانَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحَلَبِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْ لِي قَوْلًا يَنْفَعُنِي وَأَقْلِلْ عَلَيَّ لَعَلِّي أَعِيهِ، فَقَالَ: «لَا تَغْضَبْ» وَأَعَادَهَا عَلَيَّ مِرَارًا، يَقُولُ: «لَا تَغْضَبْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6578 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت جاریہ بن قدامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی ایک بات بتا دیجئے جو میرے لئے منافع بخش ہو اور مختصر بھی ہو تاکہ میں اس کو یاد کر لوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غصہ کرنا چھوڑ دو ، یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار کہتے رہے، غصہ مت کرو غصہ مت کرو۔

قُلْتُ ← جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ ← الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحَلَبِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبَ التَّمَّارُ، بِهَمْدَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The maid of Ibn Qudamah al-Tamimi, may God be pleased with him · Hadith 6578

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6579

6579 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا أَبُو عُلَاثَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: لَمَّا أَتَى النَّاسُ الْحَجَّ سَنَةَ تِسْعٍ قَدِمَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ عَمُّ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَقْتُلُوكَ» ، قَالَ: لَوْ وَجَدُونِي نَائِمًا أَيْقَظُونِي فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ مُسْلِمًا فَقَدِمَ عِشَاءً فَجَاءَتْهُ ثَقِيفٌ فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَاتَّهَمُوهُ وَعَصَوْهُ وَأَسْمَعُوهُ مَا لَمْ يَكُنْ يَحْتَسِبْ، ثُمَّ خَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى إِذَا أَسْحَرُوا وَطَلَعَ الْفَجْرُ قَامَ عُرْوَةُ فِي دَارِهِ فَأَذَّنَ بِالصَّلَاةِ وَتَشَهَّدَ فَرَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ عُرْوَةَ مَثَلُ صَاحِبِ يَاسِينَ دَعَا قَوْمَهُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فَقَتَلُوهُ»

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : 9 ہجری میں جب لوگ حج کے لئے ائے تو اس سال حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ، پھر انہوں نے اپنی قوم میں واپس جانے کیا اجازت مانگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے خدشہ ہ ے کہ لوگ تمہیں مار ڈالیں گے، انہوں نے کہا: اگر وہ لوگ مجھے سوتا پائیں گے تو جگا لیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو واپس جانے کی اجازت دے دی، چنانچہ وہ مسلمان ہو کر اپنی قوم میں واپس لوٹے، آپ عشاء کے وقت اپنی بستی میں پہنچے، ان کے پاس کچھ لوگ آئے، انہوں نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت پیش کی۔ لیکن ان لوگوں نے ان کو بہت برا بھلا کہا،ان کی بات نہ مانی ، اور ان کو وہ وہ باتیں سنائیں، جن کا انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا ، وہ لوگ واپس چلے گئے، جب سحری کا وقت ہوا، تو حضرت عروہ نے اپنے گھر کے صحن میں کھڑے ہو کر نماز کے لئے اذان دی ، کلمہ شہادت پڑھا، قبیلہ ثقیف کے ایک آدمی نے ان کو تیر مارا جس کی وجہ سے آپ شہید ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عروہ کی مثال صاحب یاسین کی سی ہے، انہوں نے بھی اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی جانب دعوت دی اورلوگوں نے ان کو شہید کر دیا۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Urwa bin Masoud al-Thaqafi, may God be pleased with him · Hadith 6579

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6580

6580 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا، ثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، قَالَ: «مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ وَهْبِ بْنِ عَائِذٍ، يُكَنَّى أَبَا سُلَيْمَانَ، وَأُمُّهُ وَأُمُّ أَخِيهِ مُجَالِدٍ مُلَيْكَةُ بِنْتُ سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ لَبِيدِ بْنِ خُزَيْمَةَ قُتِلَ مُجَاشِعٌ يَوْمَ الْجَمَلِ الْأَصْغَرِ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ وَدُفِنَ فِي دَارِهِ فِي بَنِي سُلَيْمٍ حَضْرَةَ بَنِي سَدُوسٍ وَلَهُ بِالْبَصْرَةِ غَيْرُ دَارٍ فَمِنْهَا دَارُهُ بِحَضْرَةِ مَسْجِدِ الْجَامِعِ»

خلیفہ بن خیاط ان کا نسب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں" مجاشع بن مسعود بن ثعلبہ بن وہب بن عائذ" ان کی کنیت "ابو سلیمان" ہے ان کی والدہ ان کے بھائی کی والدہ "ملیکہ بنت سفیان بن حارث بن لبید بن خزیمہ" ہیں۔ حضرت مجاشع رضی اللہ تعالیٰ عنہ 36 ہجری کو جنگ جمل اصغر میں شہید ہوئے، بنی سدوس کے سامنے بنی سلیم میں اپنی حویلی میں دفن ہوئے بصرہ میں بھی ان کا ایک گھر تھا جو کہ جامع مسجد بصرہ کے سامنے تھا۔

خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ ← مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا ← أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Musaud bin Masoud al-Salami, may God be pleased with him · Hadith 6580

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6581

6581 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثَنَا أَبُو غَسَّانَ، ثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثَنَا عَاصِمُ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، ثَنَا مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخِي مُجَالِدٍ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُكَ بِأَخِي مُجَالِدٍ لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: «ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا» فَقُلْتُ: فَعَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ وَالْجِهَادِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6581 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت مجاشع بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: فتح مکہ کے بعد میں اپنے بھائی مجالد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنے بھائی مجالد کو آپ کی خدمت میں لایاہوں تاکہ آپ ہجرت پر اس کی بیعت لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت کا ثواب تو مہاجرین لے گئے ہیں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو آپ کس بات پر اس کی بیعت لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام، ایمان اور جہاد پر میں اس کی بیعت لوں گا۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِأَخِي مُجَالِدٍ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ: ← مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أبو غسان، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Musaud bin Masoud al-Salami, may God be pleased with him · Hadith 6581

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6582

6582 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثَنَا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، قَالَ: «عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ بْنِ عَامِرِ بْنِ خَالِدِ بْنِ غَاضِرَةَ بْنِ عَتَّابِ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ أُمُّهُ رَمْلَةُ بِنْتُ الْوَقِيعَةَ مِنْ بَنِي حِزَامٍ وَهُوَ أَخُو أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لِأُمِّهِ مِنْ سَاكِنِي الشَّامِ يُكَنَّى أَبَا يَحْيَى»

خلیفہ بن خیاطنے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " عمرو بن عبسہ بن عامر بن خالد بن غاضرہ بن عتاب بن امری القیس" ان کی والدہ "رملہ بنت وقیعہ " ہیں۔ ان کا تعلق بنی حزام سے ہے۔ آپ حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ماں شریک بھائی ہیں۔ شام کے رہنے والے ہیں، ان کی کنیت "ابو یحییٰ " ہے۔

خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ ← موسى بن زكريا التستري، ← أحمد بن يعقوب الثقفي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amr bin Abbas al-Salami, may God be pleased with him · Hadith 6582

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6583

6583 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زُهْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ الْأَسْوَدَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَغْنَمِ فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ، فَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِي مِنْ هَذَا الْمَغْنَمِ مِثْلُ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسَ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ»

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال غنیمت کے اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھائی، جب سلام پھیرا تو اونٹ کی اون ہاتھ میں پکڑ کر فرمایا: اس غنیمت میں سے میرے لئے صرف اتنا پانچواں حصہ ہی حلال ہے، اور پانچواں حصہ تم پر لوٹا یا جائے گا۔

عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ← أبا سلام الأسود ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زُهْرٍ، أَنَّهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amr bin Abbas al-Salami, may God be pleased with him · Hadith 6583

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6584

6584 - أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ الْحَلَبِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ مَا بُعِثَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُسْتَخْفٍ فَقُلْتُ: أَنْتَ مَا أَنْتَ، قَالَ: «أَنَا نَبِيٌّ» قُلْتٌ: وَمَا نَبِيٌّ؟ قَالَ: «رَسُولُ اللَّهِ» قُلْتُ: آللَّهُ أَرْسَلَكَ، قَالَ: «نَعَمْ» ، قُلْتُ: بِمَا أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: «بِأَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ، وَيُكَسِّرُوا الْأَوْثَانَ، وَيَصِلُوا الْأَرْحَامَ» قُلْتُ: نِعِمَّا أَرْسَلَكَ، فَمَنِ اتَّبَعَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ: «حُرٌّ وَعَبْدٌ» يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ وَبِلَالًا فَكَانَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ، يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا رُبْعُ الْإِسْلَامِ فَأَسْلَمْتُ ثُمَّ قُلْتُ أَتَّبِعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «لَا، وَلَكِنِ الْحَقْ بِأَرْضِ قَوْمِكَ فَإِذَا ظَهَرْتَ فَأْتِنِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَخْرُجَا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6584 - صحيح

حضرت عروہ بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعلان نبوت کے اوائل میں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دنوں چھپ کر تبلیغ کرتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ کا تعارف پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نبی ہوں۔ میں نے پوچھا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا رسول۔ میں نے کہا: کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیا دے کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، بتوں کو توڑدیں، اور رشتہ داروں سے حسن سلوک کریں۔ میں نے کہا: آپ کتنا اچھا پیغام لائے ہیں، آپ کے پیغام پر کتنے لوگ آپ پر ایمان لائے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آزاد اورایک غلام یعنی ابوبکر اور بلال۔ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے " میرا خیال ہے کہ میں چوتھے نمبر اسلام لانے والا شخص ہوں۔ پھر میں نے اسلام قبول کر لیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں آپ کے ہمراہ رہ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ ابھی تم اپنے قبیلے میں چلے جاؤ، جب میں ظاہر ہو جاؤں تو چلے آنا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← أَبِي سَلَّامٍ ← الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، ← أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ الْحَلَبِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amr bin Abbas al-Salami, may God be pleased with him · Hadith 6584

chevron_left Previous
1…662663664…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section