Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ صَعْصَعَةَ بْنِ نَاجِيَةَ الْمُجَاشِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6561

6561 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ثَنَا مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: «صَعْصَعَةُ بْنُ نَاجِيَةَ بْنِ عِقَالِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ بْنِ مُجَاشِعِ بْنِ دَارِمٍ جَدُّ الْفَرَزْدَقِ بْنِ غَالِبٍ وَفَدَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

معمر بن مثنیٰ فرماتے ہیں: "صعصعہ بن ناجیہ بن عقال بن محمد بن سفیان بن مجاشع بن دارم " فرزق بن غالب کے دادا ہیں، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تھے۔

مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ← أبو خليفة القاضي ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Sa`a’a ibn Nagiyat al-Mujami’i, may God be pleased with him · Hadith 6561

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ صَعْصَعَةَ بْنِ نَاجِيَةَ الْمُجَاشِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6562

6562 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَفِيدُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغَلَابِيُّ، ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ الْمِنْقَرِيُّ، ثَنَا عُبَادَةُ بْنُ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنِي الطُّفَيْلُ بْنُ عُمَرَ الرَّبْعِيُّ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ نَاجِيَةَ الْمُجَاشِعِيِّ، وَهُوَ جَدُّ الْفَرَزْدَقِ بْنِ غَالِبٍ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ، فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَمِلْتُ أَعْمَالًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهَلْ لِي فِيهَا مِنْ أَجْرٍ، قَالَ: «وَمَا عَمِلْتَ» فَقُلْتُ: ضَلَّتْ نَاقَتَانِ لِي عَشْرَاوَانِ، فَخَرَجْتُ أَتْبَعُهُمَا عَلَى جَمَلٍ لِي فَرُفِعَ لِي بَيْتَانَ فِي فَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ فَقَصَدْتُ قَصْدَهُمَا فَوَجَدْتُ فِي أَحَدِهِمَا شَيْخًا كَبِيرًا فَقُلْتُ: أَحْسَسْتُمْ نَاقَتَيْنِ عَشْرَاوَيْنِ فَأُنَادِيهِمَا، فَقَالَ: مِقْسَمُ بْنُ دَارِمٍ قَدْ أَصَبْنَا نَاقَتَيْكَ وَبِعْنَاهُمَا وَقَدْ نَعَشَ اللَّهُ بِهِمَا أَهْلَ بَيْتَيْنِ مِنْ قَوْمِكَ مِنَ الْعَرَبِ مِنْ مُضَرَ فَبَيْنَمَا هُوَ يُخَاطِبُنِي إِذْ نَادَتْهُ امْرَأَةٌ مِنَ الْبَيْتِ الْآخَرِ وَلَدَتْ وَلَدَتْ، قَالَ: وَمَا وَلَدَتْ إِنْ كَانَ غُلَامًا فَقَدْ شَرِكْنَا فِي قَوْمِنَا، وَإِنْ كَانَتْ جَارِيَةً فَادْفِنِيهَا فَقَالَتْ جَارِيَةٌ فَقُلْتُ: وَمَا هَذِهِ الْمَوْلُودَةُ؟ قَالَ: ابْنَةٌ لِي فَقُلْتُ: إِنِّي أَشْتَرِيهَا مِنْكَ، فَقَالَ: يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ أَتَبِيعُ ابْنَتَكَ، وَإِنِّي رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ مِنْ مُضَرَ فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَشْتَرِي مِنْكَ رَقَبَتَهَا بَلْ إِنَّمَا أَشْتَرِي مِنْكَ رُوحَهَا أَنْ لَا تَقْتُلَهَا، قَالَ: بِمَ تَشْتَرِيهَا فَقُلْتُ: بِنَاقَتَيَّ هَاتَيْنِ وَوَلَدِهِمَا، قَالَ: وَتَزِيدُنِي بَعِيرَكَ هَذَا قُلْتُ: نَعَمْ عَلَى أَنْ تُرْسِلَ مَعِي رَسُولًا، فَإِذَا بَلَغْتُ إِلَى أَهْلِي رَدَدْتُ إِلَيْهِ الْبَعِيرَ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ فَكَّرْتُ فِي نَفْسِي أَنَّ هَذِهِ مَكْرُمَةٌ مَا سَبَقَنِي إِلَيْهَا أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ، وَظَهَرَ الْإِسْلَامُ وَقَدْ أَحْيَيْتُ بِثَلَاثِمِائَةٍ وَسِتِّينَ مِنَ الَمَوْءُودَةِ اشْتَرَىَ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ بِنَاقَتَيْنِ عَشْرَاوَيْنِ وَجَمَلٍ فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَمَّ لَكَ أَجْرُهُ إِذْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ بِالْإِسْلَامِ» ، قَالَ عَبَّادٌ: وَمِصْدَاقُ قَوْلِ صَعْصَعَةَ قَوْلُ الْفَرَزْدَقِ: [البحر المتقارب] وَجَدِّي الَّذِي مَنَعَ الْوَائِدَاتِ ... فَأَحْيَا الْوَئِيدَ فَلَمْ يُوئَدِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6562 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

صعصعہ بن ناجیہ مجاشعی فرزدق بن غالب کے دادا ہیں، آپ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اسلام کی دعوت پیش کی، میں نے اسلام قبول کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قرآن کریم کی چند آیات کی تعلیم دی، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے زمانہ جاہلیت میں بہت سارے نیکی کے کام کئے ہیں، کیا مجھے ان پر ثواب ملے گا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : تم نے کیا عمل کیا ہے؟ میں نے کہا : میری دو اونٹنیاں گم ہو گئی تھی ،میں اپنے اونٹ پر سوار ہو کر ان کو ڈھونڈنے نکلا ، میں نے دیکھا کہ میرے سامنے زمین سے اوپر فضا میں دو مکان بنے ہوئے ہیں، میں ان میں گیا، ان میں سے ایک میں ایک بوڑھا آدمی بیٹھا ہوا تھا میں نے اس سے پوچھا: تم نے دو اونٹنیوں کو کہیں دیکھا ہے؟ مقسم بن دارم نے کہا: تمہاری وہ اونٹنیاں ہمیں ملی تھیں ہم نے وہ بیچ دی ہیں ، اور اللہ تعالیٰ ان دونوں اونٹنیوں کے بدلے تیری قوم اور قبیلے عرب میں سے قبیلہ مضر سے انتقام لے گا، ابھی وہ ہم سے باتیں ہی کررہا تھا کہ دوسرے گھر سے ایک عورت نے اس کو آواز دی" پیدا ہو گئی پیدا ہو گئی"۔ اس نے پوچھا : کیا پیدا ہو گئی؟ اگر وہ لڑکا ہے تو اس کو ہماری قوم میں شریک کر دو، اور اگر لڑکی ہے تو اس کو زندہ دفن کر دو، ا س نے کہا: لڑکی ہے، میں نے کہا: یہ نومولود کس کی بچی ہے؟ اس نے کہا: میری بیٹی ہے، میں نےکہا: میں وہ لڑکی تم سے خریدتا ہوں، اس نے کہا: اے بنی تمیم کے آدمی! کیا تم اپنی بیٹی بیچ سکتے ہو؟ میں عرب کا رہنے والا قبیلہ مضر کاآدمی ہوں۔ میں نے کہا: میں تم سے اس لڑکی کا جسم نہیں خرید رہا بلکہ میں اس کی روح خرید رہا ہوں تاکہ تو اس کو قتل نہ کرے، اس نے پوچھا: تم کتنے میں خرید رہے ہو؟ میں نے کہا: ان دونوں اونٹنیوں اور ان کے بچو ں کے عوض ۔اس نے کہا: جس اونٹ پر سوار ہو کر آئے ہو، یہ بھی مجھے دے دو ، میں نے کہا : ٹھیک ہے ، شرط یہ ہے کہ تم اپنے کسی آدمی کو میرے ہمراہ بھیج دو، وہ مجھے میرے گھر تک چھوڑ آئے،جب میں گھر پہنچ جاؤں گا تو یہ اونٹ اس کے حوالے کر دوں گا۔ ہم وہاں سے چل دیئے، ابھی ہم راستے ہی میں تھے، میں نے سوچا کہ میں جو کام کرنا چاہتا ہوں، کسی عربی شخص نے آج سے پہلے ایسا کام نہیں کیا، اب اسلام ظاہر ہو چکا ہے، میں 320 بچیوں کو خرید کر زندہ درگور ہونے سے بچا چکا ہوں، ان میں سے ہر بچی کی قیمت میں نے دو اونٹنیاں اور ایک اونٹ لگائی، کیا اس نیکی کا مجھے کوئی ثواب ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لئے اس کا ثواب کامل ہو چکا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تجھے اسلام کی توفیق دی ہے۔ عباد نامی راوی کہتے ہیں: صعصعہ کے قول کا مصداق فرزدق کا یہ قول ہے۔ " وجدی الذی منع الوائدات ، فا حیا الوئید فلم یوئد "۔ اور میرے والد نے بے شمار ایسی بچیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا ہے جن کو ان کے والدین زندہ دفن کرنا چاہتے تھے۔

قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ فَعَرَضَ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ، فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَقُلْتُ: ← صَعْصَعَةَ بْنِ نَاجِيَةَ الْمُجَاشِعِيِّ، وَهُوَ جَدُّ الْفَرَزْدَقِ بْنِ غَالِبٍ، ← الطُّفَيْلُ بْنُ عُمَرَ الرَّبْعِيُّ، ← عُبَادَةُ بْنُ كُرَيْبٍ، ← الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ الْمِنْقَرِيُّ، ← محمد بن زكريا الغلابي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَفِيدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Sa`a’a ibn Nagiyat al-Mujami’i, may God be pleased with him · Hadith 6562

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ صَعْصَعَةَ بْنِ نَاجِيَةَ الْمُجَاشِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6563

6563 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَرْبٍ اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَسْعَدَ، حَدَّثَنِي عِقَالُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عِقَالِ بْنِ صَعْصَعَةَ بْنِ نَاجِيَةَ الْمُجَاشِعِيِّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَبِيهِ صَعْصَعَةَ بْنِ نَاجِيَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رُبَّمَا فَضَلَتْ لِي الْفَضْلَةُ خَبَّأْتُهَا لِلنَّائِيَةِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمَّكَ وَأَبَاكَ، أُخْتَكَ وَأَخَاكَ، أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ»

حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی کبھار میرا کچھ کھانا بچ جاتا ہے، میں وہ راہ گیر وں اور مسافروں کے لئے رکھ لیتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری ماں، تیرا باپ، تیری بہن، تیرا بھائی اس کے مستحق ہیں اس کے بعد سب سے قریبی رشتہ دار اس کے مستحق ہیں۔

دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← أَبِيهِ صَعْصَعَةَ بْنِ نَاجِيَةَ، ← جَدِّي، ← أَبِي ← عِقَالُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عِقَالِ بْنِ صَعْصَعَةَ بْنِ نَاجِيَةَ الْمُجَاشِعِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَسْعَدَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَرْبٍ اللَّيْثِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Sa`a’a ibn Nagiyat al-Mujami’i, may God be pleased with him · Hadith 6563

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ الْمِنْقَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6564

6564 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَيْسُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ سِنَانِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مِنْقَرِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ مُقَاعِسِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زَيْدِ مَنَاةَ بْنِ تَمِيمٍ، وَقَدْ وَفَدَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَذَا سَيِّدُ أَهْلِ الْوَبَرِ»

ابوعبیدہ نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " قیس بن عاصم بن سنان بن خالد بن منقر بن عبید بن مقاعس بن عمرو بن کعب بن سعد بن زید مناۃ بن تمیم " یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: یہ دیہاتیوں کاسردار ہے۔

أَبُو عُبَيْدَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ← أبو خليفة القاضي ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Qais bin Asim al-Maqqari, may God be pleased with him · Hadith 6564

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ الْمِنْقَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6565

6565 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأَسَدِيُّ الْحَافِظُ بِهَمْدَانَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغَلَابِيُّ، ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ الْمِنْقَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ الْمِنْقَرِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ عِنْدَ وَفَاتِهِ وَهُوَ يُوصِي فَجَمَعَ بَنِيهِ وَهُمُ اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ ذَكَرًا، فَقَالَ: يَا بَنِيَّ إِذَا أَنَا مُتُّ فَسَوِّدُوا أَكْبَرَكُمْ تَخْلُفُوا آبَاءَكُمْ، وَلَا تُسَوِّدُوا أَصْغَرَكُمْ فَيَزْرِي بِكُمْ ذَاكَ عِنْدَ أَكْفَائِكُمْ وَلَا تُقِيمُوا عَلَيَّ نَائِحَةً، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنِ النِّيَاحَةِ» ، وَعَلَيْكُمْ بِإْصْلَاحِ الْمَالِ، فَإِنَّهُ مَنْبَهَةٌ لِلْكَرِيمِ وَيُسْتَغْنَى بِهِ عَنِ اللَّئِيمِ، وَلَا تُعْطُوا رِقَابَ الْإِبِلِ فِي غَيْرِ حَقِّهَا، وَلَا تَمْنَعُوهَا مِنْ حَقِّهَا، وَإِيَّاكُمْ وَكُلَّ عِرْقِ سُوءٍ فَمَهْمَا يَسُرُّكُمْ يَوْمًا، فَمَا يَسُوءُكُمْ أَكْبَرُ وَاحْذَرُوا أَبْنَاءَ أَعْدَائِكُمْ، فَإِنَّهُمْ لَكُمْ أَعْدَاءٌ عَلَى مِنْهَاجِ آبَائِهِمْ، وَإِذَا أَنَا مُتُّ فَادْفِنُونِي فِي مَوْضِعٍ لَا يَطَّلِعُ عَلَى هَذَا الْحَيِّ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ فَإِنَّهَا كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ خَمَاشَاتٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَخَافُ أَنْ يَنْبِشُونِي مِنْ قَبْرِي فَتُفْسِدُوا عَلَيْهِمْ دُنْيَاهُمْ وَيَفْسِدُوا عَلَيْكُمْ آخِرَتَكُمْ، ثُمَّ دَعَا بِكِنَانَتِهِ فَأَمَرَ ابْنَهُ الْأَكْبَرَ، وَكَانَ يُسَمَّى عَلِيًّا، فَقَالَ: أَخْرِجْ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِي فَأَخْرَجَهُ، فَقَالَ: اكْسَرْهُ فَكَسَرَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَخْرِجْ سَهْمَيْنِ فَأَخْرَجَهُمَا، فَقَالَ: اكْسَرْهُمَا فَكَسَرَهُمَا فَلَمْ يَسْتَطِعْ كَسْرَهُمَا، فَقَالَ: «يَا بُنَيَّ هَكَذَا أَنْتُمْ فِي الِاجْتِمَاعِ، وَكَذَلِكَ أَنْتُمْ فِي الْفُرْقَةِ» ، ثُمَّ أَنْشَأَ، يَقُولُ: [البحر الخفيف] إِنَّمَا الْمَجْدُ مَا بَنَي وَالِدِ الصِّدْ ... قِ وَأَحْيَا فِعَالَهُ الْمَوْلُودُ وَكَفَى الْمَجْدَ وَالشَّجَاعَةَ وَالْحِلْمَ ... إِذَا زَانَهُ عَفَافٌ وَجُودٌ وَثَلَاثُونَ يَا بَنِيَّ إِذَا مَا ... عَقَدْتُمْ لِنَائِبَاتِ الْعُهُودِ كَثَلَاثِينَ مِنْ قِدَاحٍ إِذَا مَا ... شَدَّهَا لِلزَّمَانِ عَقْدٌ شَدِيدُ لَمْ تُكْسَرْ وَإِنْ تَقَطَّعَتِ الْأَسْهُمِ ... أَوْدَى بِجَمْعِهَا التَّبْدِيدُ وَذُوو السِّنِّ وَالْمَرْوَةِ أَوْلَى ... وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ لَهُمْ تَسْوِيدُ وَعَلَيْكُمْ حَفِظَ الْأَصَاغِرِ حَتَّى ... يَبْلُغَ الْحِنْثَ الْأَصْغَرَ الْمَجْهُودُ" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6565 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

عبدالملک بن ابی سویہ المنقری بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفا ت کے وقت ان کے پاس گیا، اس وقت وہ اپنے 32 بیٹوں کو اپنے پاس بٹھا کر انہیں وصیت کر رہے تھے، وہ کہہ رہے تھے : اے میرے بیٹو! میرے مرنے کے بعد اپنے سب سے بڑے بھائی کو سردار بنانا، اور اسی کو اپنے باپ دادا کا قائم مقام بنانا، کسی کمسن کو سردار نہ بنا لینا، کہ وہ تمہارے لئے بدنامی کا باعث بنے گا۔ میری میت پر رونے والیوں کو مت بلانا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نوحہ سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، مال کا خاص خیال رکھنا، کیونکہ یہ سخی کے لئے ذریعہ یاد داشت ہے اور اسے کے ذریعے کمینوں سے بچا جا سکتا ہے، اونٹوں کی ذمہ داری کسی نا اہل کومت دینا ، اور ان کا حق ان کو دینا ، برے دوستوں کی صحبت سےبچنا، کیونکہ اگر وہ ایک دن تمہیں خوشی دے گا تو اگلے دن اس سے زیادہ پریشانی دے گا اپنے دشمنوں کی اولاد وں سے بھی بچ کر رہنا، کیونکہ اپنے آباء و اجداد کی طرح وہ بھی تمہارے دشمن ہی ہوں گے۔ جب میری روح نکل جائے تو مجھے کسی ایسے مقام پر دفن کرنا جہاں سے بکر بن وائل کے اس قبیلے کو اطلاع نہ ہو، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں میرے اور ان کے درمیان بہت شدید دشمنی چلتی رہی ہے، مجھے خدشہ ہے کہ وہ میری قبر کھود ڈالیں گے، جس کے نتیجے میں تم ان پر ان کی دنیا تنگ کر دو گے اور وہ لوگ تمہاری آخرت برباد کرنے کا سبب بن جائیں گے۔ پھر انہوں نے اپنا ترکش منگوایا، اور اپنے سب سے بڑے بیٹے علی کو کہا: میرے ترکش میں سے ایک تیر نکالو، اس نے تیر نکالا، انہوں نے کہا: اس کو توڑ دو، اس نے تور دیا، پھر انہوں نے کہا: اب 2 تیر نکالو، اس نے 2 تیر نکالے، انہوں نے کہا: ان کو توڑ دو، اس نے توڑنا چاہے ، لیکن نہ توڑ سکا، انہوں نےکہا: اے میرے بیٹو! اگر تم اتفاق سےرہو گے تو تمہاری اندر اس طرح طاقت ہو گی، اور اگر الگ الگ ہو گئے تو اس (اکیلے تیر کی طرح) کمزور ہو جاؤ گے۔ اس کے بعد انہوں نے درج ذیل اشعار پڑھے:۔ " انما المجد مابنی والد الصد ، ق واحیا فعالہ المولود، وکفی المجد والشجاعۃ والحلم ، اذا زانہ عفاق وجود ، وثلاثون یا بنی اذا ما ، عقد تم لنائبات العھود ، کثلا ثین من قداح اذا ما ، شد ھا للزمان عقد شدید ، لم تکسرو ان تقطعت الاسھم ، اودی بجمعھاالتبدید ، وذوو السن المر و ۃ اولیٰ ، وان یکن منکم لھم تسوید ، وعلیکم حفظ الا صاغر حتیٰ ، یبلغ الحنت الاصغر المجھود"

يَا بَنِيَّ إِذَا ← شَهِدْتُ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ عِنْدَ وَفَاتِهِ وَهُوَ يُوصِي فَجَمَعَ بَنِيهِ وَهُمُ اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ ذَكَرًا، ← أَبِيهِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ الْمِنْقَرِيِّ، ← أَبِي الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ الْمِنْقَرِيُّ، ← محمد بن زكريا الغلابي ← أبو جعفر أحمد بن عبيد بن إبراهيم الأسدي الحافظ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Qais bin Asim al-Maqqari, may God be pleased with him · Hadith 6565

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ الْمِنْقَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6566

6566 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا زِيَادُ الْجَصَّاصُ، عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ الْمِنْقَرِيُّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآنِي سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: «هَذَا سَيِّدُ أَهْلِ الْوَبَرِ» فَلَمَّا نَزَلْتُ أَتَيْتُهُ فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمَالُ الَّذِي لَا يَكُونُ عَلَيَّ فِيهِ تَبِعَةٌ مِنْ ضَيْفٍ ضَافَنِي وَعِيَالٍ كَثُرُوا؟ فَقَالَ: «نِعْمَ الْمَالُ الْأَرْبَعُونَ، وَالْأَكْثَرُ السِّتُّونَ، وَوَيْلٌ لِأَصْحَابِ الْمِئِينَ إِلَّا مَنْ أَعْطَى فِي رِسْلِهَا وَبِجِدَّتِهَا، وَأَفْقَرَ ظَهْرَهَا، وَأَطْعَمَ الْقَانِعَ، وَالْمُعْتَرَّ» قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا أَكْرَمَ هَذِهِ الْأَخْلَاقَ، وَأَحْسَنَهَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا تَحِلَّ بِالْوَادِي الَّذِي أَنَا فِيهِ بِكَثْرَةِ إِبِلِي، قَالَ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ؟ قُلْتُ: تَعُدُّوا الْإِبِلَ وَتَعُدُّوا النَّاسَ فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِرَأْسِ بَعِيرٍ وَذَهَبَ بِهِ، فَقَالَ: «فَمَا تَصْنَعُ بِأَفْقَارِ ظَهْرِهَا؟» قُلْتُ: إِنِّي لَا أَفْقَرُ الصَّغِيرَ وَلَا النَّابَ الْمُدَبَّرَ، قَالَ: «فَمَالُكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ مَالُ مَوَالِيكَ» قُلْتُ: مَالِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَالِ مَوَالِي، قَالَ: «فَإِنَّ لَكَ مِنْ مَالِكَ مَا أَكَلْتَ، فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ أَعْطَيْتَ فَأَمْضَيْتَ، وَإِلَّا فَلِمَوَالِيكَ» فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَوْ بَقِيتُ لَأَفْنِيَنَّ عَدَدَهَا قَالَ الْحَسَنُ: فَفَعَلَ وَاللَّهِ فَلَمَّا حَضَرَتْ قَيْسُ الْوَفَاةَ أَوْصَى بَنِيهِ، قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْمَسْأَلَةَ، فَإِنَّهَا آخِرُ كَسْبِ الْمَرْءِ إِنَّ أَحَدًا لَمْ يَسْأَلْ إِلَّا تَرَكَ كَسْبَهُ

حضرت قیس بن عاصم المنقری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا: یہ دیہاتیوں کا سردار ہے ۔ میں اتر کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کرنےلگ گیا، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کونسا مال ہے جس میں میرے اوپر کسی مہمان اور بچوں کی جانب سے تاوان نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین مال وہ ہے جو چالیس تک ہو ، ساتھ ہو تو یہ زیادہ ہے، اور 100 والے ہلاکت میں ہیں، سوائے ان لوگوں کے جو آسودگی اور تنگی دونوں حالتوں میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اور خود کو مفلس بنا لیتے ہیں۔ اور ان کو بھی دیتے ہیں جو بخشش کے لئے آتے ہیں اور سوال کرتے ہیں اور ان کو بھی دیتے ہیں جو بخشش کے لئے تو آتے ہیں لیکن سوال نہیں کرتے، میں نے کہا: اے اللہ کے نبی ! یہ کتنے ہی اچھے اخلاق ہیں۔ اے اللہ کے نبی! آپ کبھی اس وادی میں بھی قدم رنجہ فرمائیں جہاں پر میں کثیر اونٹوں کے ساتھ رہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : تو تم کیا کرو گے؟ انہوں نے کہا: اونٹ بھی گن لئے جائیں اور لوگوں کو بھی گن لیا جائے، ان میں سے جس کا دل چاہے وہ جو اونٹ چاہے لے سکتا ہے،

«هَذَا سَيِّدُ أَهْلِ الْوَبَرِ» فَلَمَّا نَزَلْتُ أَتَيْتُهُ فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُ فَقُلْتُ: ← قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَلَمَّا رَآنِي ← قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ الْمِنْقَرِيُّ، ← الْحَسَنِ، ← زِيَادٍ الْجَصَّاصِ، ← محمد بن يزيد الواسطي ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Qais bin Asim al-Maqqari, may God be pleased with him · Hadith 6566

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ عَمْرِو بْنِ الْأَهْتَمِ الْمِنْقَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6567

6567 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعُسَيِلِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ مَعْمَرِ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: «عَمْرُو بْنُ الْأَهْتَمِ بْنِ سُمَيِّ بْنِ سِنَانِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مِنْقَرِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ مُقَاعِسِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زَيْدِ مَنَاةَ بْنِ تَمِيمٍ وَاسْمُ الْأَهْتَمِ سِنَانُ هَتَمَتْ ثَنِيَّتَاهُ يَوْمَ الْكِلَابِ»

ابو عبیدہ معمر بن مثنیٰ نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " عمرو بن اہتم بن سمی بن سنان بن خالد بن منقر بن عبید بن مقاعس بن عمرو بن کعب بن سعد بن زید بن مناۃ بن تمیم "۔ اہتم کا نام "سنان " ہے۔ کلاب کے دن ان کے سامنے کے دو دانت ٹوٹ گئے تھے۔

أبي عبيدة معمر بن المثنى ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعُسَيْلِيُّ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amr ibn al-Atam al-Maqqari, may God be pleased with him · Hadith 6567

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ عَمْرِو بْنِ الْأَهْتَمِ الْمِنْقَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6568

6568 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدَةَ الْوَبَرِيُّ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الْمَعْقَلِيُّ، قَالَا: ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثَنَا أَبُو سَعْدٍ الْهَيْثَمُ بْنُ مَحْفُوظٍ، عَنْ أَبِي الْمُقَوِّمِ الْأَنْصَارِيِّ يَحْيَى بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ وَالزِّبْرِقَانُ بْنُ بَدْرٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَهْتَمِ التَّمِيمِيُّونَ فَفَخَرَ الزِّبْرِقَانُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا سَيِّدُ تَمِيمٍ، وَالْمُطَاعُ فِيهِمْ، وَالْمُجَابُ فِيهِمْ، أَمْتَعُهُمْ مِنَ الظُّلْمِ فَآخُذُ لَهُمْ بِحُقُوقِهِمْ، وَهَذَا يَعْلَمُ ذَاكَ يَعْنِي عَمْرَو بْنَ الْأَهْتَمِ، فَقَالَ: عَمْرُو بْنُ الْأَهْتَمِ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَشَدِيدُ الْعَارِضَةِ، مَانِعٌ لِجَانِبِهِ، مُطَاعٌ فِي نَادِيهِ، قَالَ الزِّبْرِقَانُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ عَلِمَ مِنِّي غَيْرَ مَا قَالَ، وَمَا مَنَعَهُ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ إِلَّا الْحَسَدُ، قَالَ عَمْرٌو: أَنَا أَحْسُدُكَ فَوَاللَّهِ إِنَّكَ لَئِيمُ الْخَالِ، حَدِيثُ الْمَالِ، أَحْمَقُ الْمَوَالِدِ، مُضَيِّعٌ فِي الْعَشِيرَةِ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ صَدَقْتَ فِيمَا قُلْتَ أَوَّلًا، وَمَا كَذَبْتَ فِيمَا قُلْتَ آخِرًا، لَكِنِّي رَجُلٌ رَضِيتُ فَقُلْتُ أَحْسَنَ مَا عَلِمْتَ، وَغَضِبْتُ فَقُلْتُ أَقْبَحَ مَا وَجَدْتَ، وَوَاللَّهِ لَقَدْ صَدَقْتَ فِي الْأَمْرِيْنِ جَمِيعًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا» وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ حَضَرَ هَذَا الْمَجْلِسَ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: قیس بن عاصم ، زبرقان بن بدر اور عمرو بن اہتم تمیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول الل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ، زبرقان نے فخریہ انداز میں کہا: میں تمیم قبیلے کا سردار ہوں، وہ لوگ میری اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہیں، میں ان پر ظلم نہیں ہونے دیتا، ان کو ان کے حقوق دلواتا ہوں، ان باتوں کو یہ عمرو بن اہتم بھی جانتا ہے، عمرو بن اہتم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی قسم ! یہ بہادر آدمی ہے، اپنی جانب کا دفاع کرنے والا ہے ، صرف اس کی اپنی مجلس میں ا س کی بات مانی جاتی ہے۔ زبر قان نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! صرف حسد کی وجہ سے اس نے یہ باتیں بولی ہیں۔ عمرو نے کہا: میں تجھ سے حسد کرو ں گا؟اللہ کی قسم ! تو کمینہ شخص ہے۔ مال کا حریص ہے ، جدی پشتی احمق ہے ، خاندان میں بدنام ہے۔ خدا کی قسم! میں نے پہلی بات سچ بولی تھی اور بعد والی بھی جھوٹ نہیں کہی۔ لیکن میں نے رضا مندی کی کیفیت میں وہ اچھی صفات بیان کر دیں جو میں جانتا تھا اور ناراضگی کے عالم میں، میں نے وہ قبا حتیں بیان کر دیں جو میں نے اس میں پائیں۔ اللہ کی قسم! میں نے دونوں باتیں ہی سچ کہی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بعض بیان بھی جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ حضرت ابو بکر ہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بھی مروی ہے کہ اس مجلس میں وہ بھی موجود تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الحكم بن عتبة ← أَبِي الْمُقَوِّمِ الْأَنْصَارِيِّ يَحْيَى بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ← أَبُو سَعْدٍ الْهَيْثَمُ بْنُ مَحْفُوظٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمُوصِلِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الْمَعْقَلِيُّ، ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّيُّ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدَةَ الْوَبْرِيُّ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amr ibn al-Atam al-Maqqari, may God be pleased with him · Hadith 6568

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ عَمْرِو بْنِ الْأَهْتَمِ الْمِنْقَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6569

6569 - أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَارِسِيُّ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ،، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُسَيْطِيُّ، ثَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ فِيهِمْ قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ وَعَمْرُو بْنُ الْأَهْتَمِ وَالزِّبْرِقَانُ بْنُ بَدْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ الْأَهْتَمِ: مَا تَقُولُ فِي الزِّبْرِقَانِ بْنِ بَدْرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُطَاعٌ فِي نَادِيهِ، شَدِيدُ الْعَارِضَةِ، مَانِعٌ لِمَا وَرَاءَ ظَهْرِهِ، فَقَالَ الزِّبْرِقَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّهُ لِيَعْلَمُ مِنِّي أَكْثَرَ مِمَّا وَصَفَنِي بِهِ وَلَكِنَّهُ حَسَدَنِي، فَقَالَ عَمْرٌو: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ ذَامِرُ الْمُرُوءَةِ، ضَيِّقُ الْعَطَنِ، لَئِيمُ الْخَالِ، أَحْمَقُ الْمَوَالِدِ، وَاللَّهِ مَا كَذَبْتَ أَوَّلًا، وَلَقَدْ صَدَقْتَ آخِرًا، وَلَكِنِّي رَضِيتُ فَقُلْتُ أَحْسَنَ مَا عَلِمْتَ، وَغَضِبْتُ فَقُلْتُ أَقْبَحَ مَا عَلِمْتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِكَمًا»

حضرت ابو بکر ہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے، بنی تمیم کا ایک وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، ان میں قیس بن عاصم ، عمرو بن اہتم اور زبرقان بن بدر بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرو بن اہتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: زبرقان بن بدر کے بارے میں تمہارے کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے قبیلے میں اس کی بات مانی جاتی ہے ، بہادر آدمی ہے، اپنے قبیلے کے علاوہ دیگر لوگوں کو کچھ نہیں دیتا۔ زبرقان نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نے میرے بارے میں جو کچھ بیان کیا ہے ، یہ اس سے بھی زیادہ جانتا ہے لیکن حسد کی وجہ سے بیان نہیں کر رہا۔ عمرو نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اللہ کی قسم ! یہ شخص بے مروت ہے ، کنجوس ہے، کمینہ ہے، خاندانی احمق ہے۔ اللہ کی قسم! میں نے پہلے بھی جھوٹ نہیں کہاتھا اور دوسری بار بھی سچ بولا ہے، لیکن (اصل بات یہ ہے کہ) میں اس کے ساتھ رضا مند ی کی کیفیت میں تھا میں نے اس کی وہ اچھائیاں بیان کیں جو میں جانتا تھا، اور ناراضگی کے عالم میں ، میں نے وہ برائیاں بیان کر دی ہیں جو میں جانتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بےشک بیان میں جادو کا سا اثر بھی ہوتا ہے اور بے شک شعر میں بڑی دانائی کی باتیں بھی ہوتی ہیں۔

الزِّبْرِقَانُ بْنُ بَدْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْأَهْتَمِ ← كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ فِيهِمْ قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ ← أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِيهِ ← عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُسَيْطِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَارِسِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amr ibn al-Atam al-Maqqari, may God be pleased with him · Hadith 6569

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 6570

6570 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو خَلِيفَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: «صَعْصَعَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُصَيْنِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ النَّزَّالِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ مُقَاعِسِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زَيْدِ مَنَاةَ بْنِ تَمِيمٍ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ»

ابو عبیدہ معمر بن مثنیٰ نے ان کا نسب یو ں بیان کیا ہے " صعصعہ بن معاویہ بن حصین بن عمیر بن عبادہ بن نزال بن مرہ بن عبید بن مقاعس بن عمرو بن کعب بن سعد بن زید مناۃ بن تمیم " جو کہ حضرت احنف بن قیس کے چچا ہیں۔

أَبُو عُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو خَلِيفَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Sa`a’a ibn Ma’awiyah from al-Hanaf ibn Qais, may God be pleased with them · Hadith 6570

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 6571

6571 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الشَّهِيدُ، ثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَمِّ الْأَحْنَفِ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: " {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: 8] فَقُلْتُ: لَا أُبَالِي أَنْ لَا أَسْمَعَ غَيْرَهَا حَسْبِي حَسْبِي "

احنف کے چچا حضرت صعصعہ بن قیس فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ آیات پڑھتے ہوئے سنا ۔ "﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَوَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾" (الزلزلۃ :8) تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) میں نے کہا: مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ میں اس آیت کے سوا اور کوئی آیت نہ سنو، بس مجھے یہی آیت کافی ہے ، یہی کافی ہے۔

قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ ← صعصعة بن معاوية عم الأحنف ← الْحَسَنِ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أبو زكريا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Sa`a’a ibn Ma’awiyah from al-Hanaf ibn Qais, may God be pleased with them · Hadith 6571

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6572

6572 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: وَالْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسِ بْنِ حُصَيْنِ بْنِ النَّزَّالِ بْنِ عُبَيْدَةَ مُخَضْرَمٌ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَجَّهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «وَاسْمُ الْأَحْنَفِ الضَّحَّاكُ وَيُقَالُ صَخْرُ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُصَيْنٍ وُلِدَ وَهُوَ أَحْنَفُ» فَقَالَتْ أُمُّهُ: وَاللَّهِ لَوْلَا حْنَفٌ فِي رِجْلِهِ مَا كَانَ فِي الْحَيِّ غُلَامٌ مِثْلَهُ وَكَانَ أَحْلَمَ الْعَرَبِ

مصعب بن عبداللہ فرماتے ہیں: احنف بن قیس بن حصین بن نزال بن عبیدہ "مخضرم ہے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ پایا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے لئے سفر بھی کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لئے دعا بھی فرمائی تھی۔ احنف کا اصل نام "ضحاک " تھا اور بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ ان کا اصلی نام "صخر بن قیس بن معاویہ بن حصین" ہے۔ آپ پیدائشی احنف ہیں۔ ان کی والدہ کہا کرتی تھیں : اللہ کی قسم! اگر اس کے پاؤں میں "حنف"(لنگڑاہٹ) نہ ہوتا تو پورے قبیلے میں اس جیسا بچہ کوئی نہ تھا۔ آپ بہت خوبصورت نوجوان تھے۔

مصعب بن عبد الله ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Hanaf ibn Qais, may God be pleased with him · Hadith 6572

chevron_left Previous
1…661662663…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section