حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بنی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے میرا ہاتھ پکڑا ، میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ ان کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اس وقت ان پر نزع کا عالم طاری تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو اپنی گود میں لیا ، حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی روح قفس غصری سے پرواز کر گئی، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو گود سے رک دیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رو دیئے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ آپ تو خود دوسروں کو رونے سے منع فرماتے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : میں نے رونے سے تو منع نہیں کیا، میں نے تو دو احمق اور فاجروں کی آوازیں نکالنے سے منع کیا ہے ۔ ایک وہ آواز جو لہو و لعب مار مار کر نکالی جاتی ہے ، یہ رونا تو رحمت ہے اور جو شخص دوسروں پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ اور اگر سچا وعدہ اور حق بات پیش نظر نہ ہوتی اور یہ کہ ہم اپنے پہلوں کو پچھلوں کے ساتھ ملاتے ہیں ( یہ نہ ہوتا) تو ہم تم پر اس سے بھی زیادہ دکھ کا اظہار کرتے ، اور اے ابراہیم ہم تجھ پر غمزدہ ہیں ، آنکھیں نم ہیں اور دل پریشان ہے ۔ اور ہم ایسی بات نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث بنے ۔
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← أحمد بن مهران الاصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning my concubines is the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him. The first of them was the Mariya of the Coptic, the mother of Abraham · Hadith 6825
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning my concubines is the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him. The first of them was the Mariya of the Coptic, the mother of Abraham · Hadith 6826
مصعب بن عبداللہ زبیری فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ " ماریہ " مدینہ منوری میں سن 17 ہجری کو فوت ہوئیں ، امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ، ان کو جت البقیع میں دفن کیا گیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning my concubines is the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him. The first of them was the Mariya of the Coptic, the mother of Abraham · Hadith 6827
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آزاد کردہ لونڈی اور آپ کی خادمہ حضرت سلمیٰ فرماتی ہیں : بہت شاذو نادر ہی ایسا ہوا ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس کسی شخص نے آ کر اپنے درد کی شکایت کی ہو تو آپ نے اس کو حجامت کا مشورہ نہ دیا ہو ، اور جب کبھی کسی نے پاؤں میں درد کا بتایا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کوپاؤں میں مہندی لگانے کا مشورہ دیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The remembrance of Peace of God, the loyalty of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6828
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی لونڈی حضرت میومنہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے حرامی بچے کا حکم پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : میرے نزدیک وہ دو جوتیاں جنہیں پہن کر میں جہاد کروں ، حرامی غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے ۔
وَلَدِ الزِّنَا ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي يَزِيدَ الضَّبِّيِّ ← زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Maymona, the daughter of Saad, the loyalty of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6829
حضرت جبیر بن نفیر فرماتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کنیز حضرت امیمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو انہوں نے فرمایا: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو وضو کروا رہی تھی ، اس دوران ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانے کا ارادہ رکھتا ہوں ، آپ مجھے کوئی ایسی نصیحت فرمائیں جس کو میں اچھی طرح یاد کر لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : ٭ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ اگرچہ تمہیں کاٹ ڈالا جائے اور اگرچہ تمہیں زندہ جلا دیا جائے ۔ ٭ ماں باپ کی نافرمانی کسی صورت میں بھی نہ کرنا ، وہ اگر تمہیں گھر خالی کرنے کو کہیں تو کر دو بلکہ اگر تمہیں دنیا چھوڑنے کو کہیں تو دنیا بھی چھوڑ جاؤ۔ ٭ جان بوجھ کر کبھی بھی نماز نہ چھوڑنا کیونکہ جو شخص جان بوجھ کر نماز چھوڑ دیتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ذمہ بری ہو جاتا ہے ۔٭ کبھی بھی شراب مت پینا کیونکہ وہ ہر گناہ کی جڑ ہے ۔ ٭اپنی زمین کی حدود سے آگے مت بڑھو، اگر تو نے ایسا کیا تو تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ تیری گردن میں سات زمینوں کے برابر طوق ہو گا۔ ٭ کبھی بھی جنگ سے نہیں بھاگنا ، کیونکہ شخص جنگ سے بھاگتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق ہو جاتا ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوتا ہے ، اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ۔ ٭ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا رہ اور ان سے اپنا عصا کبھی نہ ہٹانا، اور ان کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں خوف دلاتے رہنا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the women of the loyalty of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6830
زہری کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بنی قریظہ سے تعلق رکھنے والی ریحانہ کو لونڈی بنایا تھا ، اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی گئی تھی ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the spirit of the loyalty of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, after conciliation · Hadith 6831
ابوعبیدہ معمر بن مثنی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی باندیوں میں سے " ریحانہ بنت زید بن سمعون " تھیں ، جن کا تعلق بنی نضیر سے تھا اور بعض مھدثین کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق بنی قریظہ سے تھا۔ آپ باغ میں رہا کرتی تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کبھی کبھار ان کے ہاں قیلولہ فرمایا کرتے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو 4 ہجری کو باندی بنایا تھا۔ ابوعبیدہ فرماتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی 4 باندیاں تھیں۔ (1) ماریہ قبطیہ (2) ریحانہ (3) جمیل ۔ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ وہ ان سب پر غالب آ جائے گی۔ ( 4) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک اور باندی تھی جس کا نام " نفیسہ " تھا ، حضرت زینب بنت حجش نے یہ باندی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تحفہ میں دی تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت صفیہ بنت حیی کے معاملہ میں ، ماہ ذی الحجہ، محرم اور صفر میں ان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی ، جب ربیع الأول کا وہ مہینہ آیا ، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وصال مبارک ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حضرت زینب سے راضی ہو گئے اور ان سے ہمبستری بھی کی ، حضرت زینب نے کہا: مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں آپ کو اس کا کیا بدلہ دوں ، پھر انہوں نے یہ باندی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تحفے میں دی ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the spirit of the loyalty of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, after conciliation · Hadith 6832
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Girls said the Messenger of Allah peace be upon him after Fatima, God bless them, said Zainab girl Khadija, may Allah be pleased with them, the largest daughters of the Messenger of Allah peace be upon him · Hadith 6833
عبیدا للہ بن محمد بن سلیمان ہاشمی فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادی حضرت زینب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت کے تیس سال بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں ، ان کا وصال مبارک 8 ہجری کو ہوا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Girls said the Messenger of Allah peace be upon him after Fatima, God bless them, said Zainab girl Khadija, may Allah be pleased with them, the largest daughters of the Messenger of Allah peace be upon him · Hadith 6834
حضرت زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتی ہیں : ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں مکہ میں تھی اور اپنے والد محترم کی خدمت میں جانا چاہتی تھی ، میرے پاس ہند بنت عتبہ بن ربیعہ آئی اور کہنے لگی : اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیٹی ، مجھے پتا چلا ہے کہ تم اپنے والد کے پاس جانا چاہتی ہو؟ آپ فرماتی ہیں : میں نے کہا: نہیں میرا تو ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ اس نے کہا: اے میرے چچا کی بیٹی ! ایسا نہ کرنا ، اور اگر ( تو نے لازمی جانا ہی ہو ، تو ) تجھے اپنے والد تک پہنچنے میں سفر کے لئے ، زاد راہ میں سے کسی چیز کی ضرورت ہو تو میں مہیا کر سکتی ہوں، حضرت زینب فرماتی ہیں : اللہ کی قسم ! وہ ساقعی یہ سب کچھ کرنا چاہتی تھی ، لیکن میں نے اس کی بات کو ہلکا جانا، اور کہہ دیا کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے ،پھر میں نے تیاری کر لی ، جب میں تیاری سے فارغ ہوئی تو میرا دیور کنانہ بن ربیع میرے شوہر کا بھائی آیا ، اس نے اونٹ بٹھای، میں اس پر سوار ہو گئی ، اس کا ترکش اور کمان میں نے پکڑ لی ۔ ہم دن کے وقت ہی وہاں سے چل دیئے ، میں اونٹ کے پالان میں بیٹھ گئی ، ہماری روانگی کے بارے میں قریش کے لوگوں کو پتا چل گیا، وہ لوگ ہمارے تعاقب میں نکلے اور مقام ذی طویٰ پر انہوں نے ہمیں آ کر گھیر لیا، ان میں سب سے پہلے جو شخص آ گے بڑھا وہ ہبار بن اسود بن مطلب بن اسد بن عبدالعزی اور نافع بن عبد قیس فہری تھا کیونکہ یہ افریقہ میں بنی ابی عبید کے قریبی تھے ، حضرت زینب ہودج میں تشریف فرما تھیں، اور ہبار نیزے کے ساتھ ان کو چوبھ مارنے لگا، وہ سمجھ رہے تھے کہ یہ عورت حاملہ ہے ، ڈر اور گھبراہٹ کی وجہ سے اس کا حمل ضائع ہو گیا، میرے دیور نے اونٹ بٹھایا، اور اپنی کمان ان پر تان کر بولا : جو شخص بھی میرے قریب آئے گا میں اس کے جسم میں یہ تیر پیوست کر دوں گا۔ لوگ پیچھے ہٹ گئے ، پھر ابو سفیان قریش کی ایک جماعت کے ہمراہ آگے بڑھا اور کہنے لگا : اے آدمی ، تم اپنا تیر کمان نیچے کرو، ہم تجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں ، اس نے تیر نیچے کیا تو ابوسفیان اس کے قریب آ گیا اور کہنے لگا : تو نے اچھا نہیں کیا ، تو علانیہ طور پر دن دیہاڑے ایک عورت کو لے کر جار ہے ہو جب کہ تم ہماری مصیبت اور آزمائش کو اچھی طرح جانتے ہو، اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف سے ہمیں جس پریشانی کا سامنا ہے تم اس کو بھی جانتے ہو۔ ( اگر تم اس لڑکی کو اس طرح لے گئے تو ) لوگ کیا سوچیں گے کہ محمد کی بیٹی کو ایک آدمی دن دیہاڑے ، لوگوں کی موجودگی میں ، ہمارے درمیان سے لے گیا، ایک مصیبت تو پہلے ہی ہمیں پہنچ چکی ہے اوپر سے یہ ذلالت بھی تم ہمارے گلے ڈال دو گے ، یہ ہماری کمزوری اور بزدلی سمجھی جائے گی۔ تم ہماری بات کا یقین کرو، ہمیں نہ تو محمد کی کوئی ضرورت ہے ، نہ اس کی بیٹی کی ۔ تم ابھی اس کو واپس لے آو، جب یہ آواز دب جائے گی ، اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات پختہ ہو جائے گی کہ ہ م اس لڑکی کو واپس لے آئے ہیں پھر تم رات کے وقت اس کو لے کر نکلنا اور اس کے باپ کے سپرد کر دینا، راوی کہتے ہیں : انہوں نے ایسے ہی کیا، وہ واپس آ گئے ، کچھ دن وہیں ٹھہرے ، پھر جب آواز دب گئی تو ایک رات وہ ان کو اپنے ساتھ لے کر نکلے اور جا کر حضرت زید بن حارثہ اور ان کے ساتھی کے سپرد کر دیا ، یہ دونوں ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک لے گئے ۔ امام حاکم کہتے ہیں : اس حدیث میں عبداللہ بن ابی بکر اور زینب کے درمیان ارسال ہے ، اگر اس حدیث میں یہ ارسال نہ ہوتا تو میں کہہ دیتا کہ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ یہی حدیث ایک دوسری سند کے ہمراہ روایت کی گئی ہے ، وہ اسناد شیخین رحمتہ اللہ علیہما کے معیار کے مطابق صحیح ہے ، اور وہ حدیث اس سے کافی مختصر ہے ۔ ( وہ حدیث درج ذیل ہے )
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Girls said the Messenger of Allah peace be upon him after Fatima, God bless them, said Zainab girl Khadija, may Allah be pleased with them, the largest daughters of the Messenger of Allah peace be upon him · Hadith 6835
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادی حضرت زینب کنانہ کے ہمراہ یا ( شاید ) کنانہ کے بیٹے کے ہمراہ وہاں سے نکلیں ، وہاں کے لوگ ان کے تعاقتب میں نکلے ہبار بن اسود ان تک پہنچ گیا، وہ اپنے نیزے کے ساتھ اونٹنی کو مسلسل چوب مارتا رہا حتیٰ کہ اس کو ہلاک کر دیا حج زینب نیچے گر گئیں جس کی وجہ سے ان کا حم ضائع ہو گیا اور خون بہنے لگ گیا۔ پھر اس کو اٹھایا گیا، اس موقع پر بنو ہاشم اور بنو امیہ میں اختلاف ہو گیا، بنو امیہ کا کہنا تھا کہ ہم اس کے زیادہ حقدار ہیں ، کیونکہ یہ ان کے چچا کے بیٹے ابوالعاص کے نکاح میں تھی پھر یہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ کے پاس رہی ، ہند کہا کرتی تھی : یہ تیرے باپ کی وجہ سے ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا تم جا کر زینب کو لا نہیں سکتے ؟ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیوں نہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : میری یہ انگوٹھی لے جاؤ، یہ اس کو ( نشانی کے طور پر ) دینا ۔ حضرت زید وہاں سے چل پڑے ، اپنا اونٹ وہیں چھوڑ دیا۔ آپ چلتے چلتے ایک چرواہے کے پاس پہنچے ، اس سے پوچھا : تم کس کے چرواہے ہو؟ اس نے کہا: ابوالعاص کا حضرت زید رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہ بکریاں کس کی ہیں ؟ اس نے بتایا کہ " زینب بنت محمد " کی ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ کچھ دیر اس کے ساتھ بات چیت کی پھر فرمایا : اگر میں تجھے کوئی چیز دوں تو کیا تم راز داری کے ساتھ وہ زینب تک پہنچا سکتے ہو ؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ حضرت زید نے وہ انگوٹھی اس چرواہے کو دی ، چرواہا گھر واپس آیا ، بکریاں ریوڑ میں داخل کیں ۔ اور حج زینب رضی اللہ عنہا کو وہ انگوٹھی دے دی ۔ حضرت زینب سارا ماجرا سمجھ گئیں ، انہوں نے چرواہے سے پوچھا : تمہیں یہ انگوٹھی ک کس نے دی ہے ؟ اس نے بتایا کہ کی آدمی نے دی ہے ۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے پوچھا : تم نے اس کو کہاں چھوڑا ہے ؟ اس نے بتایا کہ فلاں فلاں جگہ پر ۔ راوی کہتے ہیں : یہ بات سن کر حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے خاموشی اختیار کر لی ، جب رات کا وقت ہوا تو حضرت زینب اس مقام کی جانب نکل گئیں، جب حضرت زید کے پاس پہنچ گئیں ، تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اونٹ بٹھایا اور سوار ہونے کے لئے عرض کی ۔ حضرت زینب نے فرمایا : اگلی جانب آپ سوار ہو جائیے ، میں آپ کے پیچھے بیٹھوں گی، چنانچہ حضرت زید آگے بیٹھ گئے ، اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا ان کے پیچھے سوار ہو گئیں ، اور یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک پہنچ گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اکثر فرمایا کرتے تھے " یہ میری سب سے اچھی بیٹی ہے اور میری وجہ سے اس پر بہت آزمائشیں آئیں " ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس ارشاد کی اطلاع حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو وہ حضرت عروہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور کہا: مجھے پتا چلا ہے کہ تم کوئی حدیث بیان کرتے ہو، جس میں تم حضرت فاطمہ کی شان کم کرتے ہو؟ حضرت عروہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر مجھے مشرق و مغرب کی دولت بھی مل جائے تب بھی میں حضرت فاطمہ کی شان میں کمی نہیں کر سکتا ۔ جو ان کی شان ہے وہ انہی کا حصہ ہے ، میں آج کے بعد یہ روایت بیان نہیں کروں گا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Girls said the Messenger of Allah peace be upon him after Fatima, God bless them, said Zainab girl Khadija, may Allah be pleased with them, the largest daughters of the Messenger of Allah peace be upon him · Hadith 6836