ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کلابیہ سے نکاح فرمایا : جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے پاس گئے ، اور ان کے قریب ہوئے تو وہ کہنے لگی : میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں ( نعوذ باللہ من ذالک ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : تمہیں بہت بڑی پناہ مل گئی ہے ، تم اپنے گھر والون کے پاس چلی جاؤ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mention of Calebean or Canadian · Hadith 6813
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ الْكِلَابِيَّةِ أَوِ الْكِنْدِيَّةِ · حديث 6814
اوزاعی کہتے ہیں : میں نے زہری سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کون سی بیوی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پناہ مانگی تھی ( نعوذ باللہ من ذالک ) انہوں نے کہا: عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کی ہے کہ " ابی الجون کی بیٹی کے ساتھ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم داخل ہوئے اور اس کے قریب ہوئے ، اس نے کہا : " میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں " ( نعوذ باللہ من ذالک ) حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : تجھے بہت بڑی پناہ دے دی گئی ہے ، تو اپنے ماں باپ کے ہاں چلی جا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mention of Calebean or Canadian · Hadith 6814
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ الْكِلَابِيَّةِ أَوِ الْكِنْدِيَّةِ · حديث 6815
عبداللہ بن محمد بن عقیل فرماتےہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کندہ کی ایک خاتون کے ساتھ نکاح کیا، یہ وہی " بد نصیب " ہے ، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کو طلاق دے کر ان کے میکے بھیج دیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کو ایک انصاری صحابی ( ابواسید ساعدی ) کے ہمراہ اس کو ان کے گھر بھیج دیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mention of Calebean or Canadian · Hadith 6815
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ الْكِلَابِيَّةِ أَوِ الْكِنْدِيَّةِ · حديث 6816
عبدالواحد بن ابی عون دوسی فرماتے ہیں : نعمان بن ابی جون کندی اور اس کے بہن بھائی شربہ کے قریب مقام نجد میں رہتے تھے ، نعمان بن ابی جون کندی مسلمان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا میں آپ کا نکاح عرب کی سب سے حسین ترین بیوہ خاتون سے نہ کرا دوں ؟ وہ آپ کے چچا زاد بھائی کے نکاح میں تھی، اب اس کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے ، اور وہ بیوہ ہو چکی ہے ۔ وہ آپ کی شخصیت میں دلچسپی رکھتی ہے اور اس نے آپ کے لئے پیغام نکاح بھی بھیجا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ نکاح فرما لیا، اور حق مہر 12 اوقیہ اور ایک نش چاندی رکھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا مہر کم مت رکھئے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میں نے اپنی کسی بیوی کا حق مہر اس سے زیادہ نہیں رکھا، اور نہ ہی اپنی کسی بیٹی کا حق مہر اس سے زیادہ لیا ہے ۔ نعمان بن ابی جون نے کہا: ہماری ہمدردیاں تو آپ کے ساتھ ہیں ۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کسی کو بھیج دیجئے جو ان کو اپنے ساتھ آپ تک لے آئے ، میں آپ کے سفیر کو ساتھ لے جاؤں گا اور وہاں جا کر ان کو آپ کے سفیر کے ہمراہ بھیج دوں گا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ کو نعمان کے ساتھ بھیجا، جب یہ دونوں ان کے پاس پہنچے تو وہ اپنے گھر میں بیٹھی ہوئی تھیں ، اور ان کو اندر آنے کی اجازت دی ، حضرت ابو اسید نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات مردوں سے پردہ کرتی ہیں ، یہ بات پردہ کے احکام نازل ہونے کے بعد کی ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں پیغام بھیجا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لئے نرمی فرما دی تھی ، نعمان نے کہا: تم جن مردوں کے ساتھ گفتگو کرتی ہو، تمہارے اور ان کے درمیان پردہ ہونا چاہیے ، البتہ اگر وہ آپ کا محرم ہو ( تو اس کے سامنے آنے میں کوئی حرج نہیں ہے ) انہوں نے پردہ کے یہ احکام قبول کر لئے ، میں وہاں پر تین دن ٹھہرا ، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سفیر کے ہمراہ ایک اونٹ پر ان کو سوار کرا دیا، میں ان کو لے کر مدینہ منورہ میں آ گیا ، ان کو بنی ساعدہ میں ٹھہرایا ، محلے کی خواتین ان کے پاس اکٹھی ہوئیں ، ان کو مبارک بادیاں دیں ، پھر جب وہ باہر نکلیں تو سب ان کے حسن و جمال کی تعریفیں کر رہی تھیں ، مدینہ منورہ میں یہ بات عام ہو گئی اور ان کی مدینہ منورہ میں آمد زباں زد عام ہو گئی ۔ ابواسید ساعدی فرماتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف آیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت بنی عمرو بن عوف میں موجود تھے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا ۔ ادھر مدینہ کی خواتین میں ان کے حسن و جمال کا چرچا سن کر ایک عورت ان کے پاس آئی وہ واقعی سب سے زیادہ حسین و جمیل تھیں ، اس عورت نے کہا : تو بادشاہ زادی ہے ، اگر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو ان سے توبہ کرو ، کیونکہ ( اس طرح ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیری طرف متوجہ ہوں گے اور تو صاحب نصیب ہو گی۔ ابن ابی عون فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماہ ربیع الاول سن 9 ہجری کو کندیہ کے ساتھ نکاح کیا تھا۔ ولید بن عبدالملک نے حضرت عروہ کی طرف خط لکھ کر پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اشعث بن قیس کی بہت کے ساتھ نکاح کیا تھا؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر گز اس سے نکاح نہیں کیا اور نہ ہی کسی کندیہ سے نکاح کیا ہے ، ہاں البتہ بنی الجون کی بہن آ پ ملکیت میں آئی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے ساتھ نکاح کیا تھا لیکن جب وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ میں آئی ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو اس کو طلاق دے دی تھی ، اس کے ساتھ ہمبستری نہیں کی تھی ۔ ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ بدری صحابی ہیں ، آپ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسماء بنت نعمان جونیہ کے ساتھ نکاح کیا، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو لینے کے لئے مجھے بھیجا تھا، میں جا کر ان کو لے آیا، ( جب وہ آ گئیں تو ) ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : میں اس کو خضاب لگاؤں گی اور تو اس کو کنگھی کرنا ، پھر ان دونوں نے یہ کام کیا ، اس کے بعد ان میں سے ایک ( اسماء سے ) کہنے لگی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات پسند ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نئی بیوی ان کے پاس جائے تو وہ کہے " اعوذ باللہ منک " ۔ ( میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں ) ۔ جب اسماء رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حجرہ میں داخل ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دروازہ بند کیا ، اور پردے لٹکا دیئے ، اور اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑھایا تو اس نے کہہ دیا " اعوذ باللہ منک " ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی آستین کے ساتھ اپنا چہرہ چھپایا، اس سے پردہ کر لیا اور اس سے فرمایا : تجھے پناہ دے دی گئی ہے ، یہ الفاظ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائے ۔ حضرت ابواسید فرماتے ہیں : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اے ابواسید تم اس کو اس کے گھر والوں تک پہنچا دو، اور اس کو دورازقین یعنی دو کرباس حق مہر دے دو۔ اسماء بنت نعمان کہا کرتی تھیں : مجھے " شقیہ " ( بد بخت ) کہہ کر پکارا کرو۔ زہیر بن معاویہ جعفی کہتے ہیں : وہ دل کی بیماری کی وجہ سے فوت ہوئی تھیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مہاجر بن ابی امیہ نے حضرت اسماء بنت نعمان پر الزام لگایاتھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسماء کو سزا دینے کا ارادہ کیا، تو انہوں نے کہا: نہ تو مجھ پر پرہ فرض کیا گیا تھا اور نہ ہی مجھے : " ام المومنین " کا رتبہ ملا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو چھوڑ دیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mention of Calebean or Canadian · Hadith 6816
ابو عبیدہ معمر بن مثنیٰ فرماتے ہیں : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جب کندہ کا وفد آیا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اشعث بن قیس کی بہن قتیلہ بنت قیس کے ساتھ نکاح کیا، یہ سن 10 ہجری کی بات ہے ،پر ماہ صفر کے درمیان حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیمار ہو گئے ، اور اسی سال 12 ربیع الاول سوموار کے دن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال مبارک ہو گیا، قتیلہ نہ تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور نہ ہی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے ہمبستری فرمائی ۔ بعض محدثین نے ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نکاح کا وقت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک مہینہ پہلے اس سے نکاح کیا تھا۔ دیگر محدثین کا کہنا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیماری کی حالت میں اس سے نکاح کیا تھا۔ کچھ محدثین کا یہ موقف ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ قتیلہ کو اختیار دیا جائے ، اگر وہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو اس کو کرنے دیا جائے ، چنانچہ حضرت عکرمہ بن ابی جہل نے حضرموت میں اس سے نکاح کیا۔ اس بات کی اطلاع حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا : میرا تو ارادہ ہے کہ ان دونوں کو جلاڈالوں، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: وہ امہات المومنین میں سے تو نہیں ہے، نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ہمبستری کی ہے ۔ نہ اس پر پردے کےاحکام نافذ فرمائے ہیں ۔ بعض محدثین تو کہتے ہیں کہ وہ مرتد ہو گئی تھی ۔ ( العیاذ باللہ )
مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مخلد بن جعفر الباقرحي،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mention of the murdered daughter of Qais, sister of Al-Sha'ath bin Qais · Hadith 6817
ابن شہاب زہری کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدہ ماریہ قبطیہ کو کنیز کے طور پر رکھا تھا، ان کے ہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning my concubines is the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him. The first of them was the Mariya of the Coptic, the mother of Abraham · Hadith 6818
مصعب بن عبید اللہ زبیری فرماتے ہیں : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماریہ بنت شمعون کے ساتھ نکاح کیا، یہ وہی خاتون جو اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تحفے کے طور پر دی تھی ، اس کے ہمراہ اس کی بہن سیرین او رخصی بھی دی تھی ، اس کو " مابور" کے نام سے پکار جاتا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے" سیرین " حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ہدیہ کر دی تھی ۔ اور مقوقس قبطی تھا اور نصاریٰ میں سے تھا ۔ سیدہ ماریہ کے بطن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی ولادت ذی الحجہ سن 8 ہجری کو ہوئی تھی ،حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا وصال 18 ماہ کی عمر میں مدینہ منورہ میں ہوا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning my concubines is the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him. The first of them was the Mariya of the Coptic, the mother of Abraham · Hadith 6819
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اس کو دودھ پلانے والی جنت میں ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning my concubines is the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him. The first of them was the Mariya of the Coptic, the mother of Abraham · Hadith 6820
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : ماریہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تحفہ کے طور پر دی گئی تھیں ۔ ان کے ہمراہ ان کا چچا زاد بھائی بھی تھا ( ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ) فرماتی ہیں ؟ ان کے چچا زاد نے ان کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کئے جس کی بناء پر وہ حاملہ وہ گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کو اس کے چچا زاد کے ساتھ علیحدہ کر دیا، آپ فرماتی ہیں : الزام تراشی اور طعن بازی کرنے والوں نے کہا اس کو أولاد چاہئے تھی تو اس نے کسی دوسرے کے بچے پا اپنا دعویٰ کر دیا۔ ان کی والدہ کا دودھ بہت کم آتا تھا، انہوں نے اپنے بیٹے کے لئے دودھ دینے والی ایک بکری خریدی ، وہ اس بکری کا دودھ پیا کرتے تھے جس کی بناء پر ان کی صحت بہت اچھی ہو گئی تھی ۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : ایک دن ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس کو پیش کیاگیا، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : تم کیسے دیکھ رہی ہو؟ میں نے عرض کی : جس بچے کی پرورش بکری کے گوشت سے ہوئی ہو، اس کی صحت اچھی ہو ہی جاتی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : کیا مشابہت بھی نہیں ہے ۔ آپ فرماتی ہیں : جیسے عورتوں کی غیرت ان کو ابھارتی ہے ایسے ہی میری غیرت نے بھی اس بات پر ابھارا کہ میں کہوں کہ مجھے تو اس میں ( آپ کے ساتھ کوئی ) مشابہت نظر نہیں آ رہی ۔ آپ فرماتی ہیں : لوگ جو باتیں بنار رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک وہ باتیں بھی پہنچ گئیں، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : یہ تلوار پکڑو اور ماریہ کا چچا زاد تمہیں جہاں بھی ملے اس کو قتل کر دو۔ ام المومنین فرماتی ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ چل پڑے ، اس کو ایک باغ میں دیکھا وہ کھجور کے درخت پر چڑھ کر کھجوریں اتار رہا تھا، جب اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور ان کے پاس تلوار بھی دیکھی تو اس پر لرزہ طاری ہو گیا، اس کی دھوتی کھل کر نیچے گر گئی ، جب اس کو دیکھا تو اس کے پاس مردوں والی کوئی چیز ہی نہ تھی ۔ یعنی اس کا آلہ تناسل کٹا ہوا تھا)
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning my concubines is the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him. The first of them was the Mariya of the Coptic, the mother of Abraham · Hadith 6821
موسی بن محمد بن ابراہیم تیمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام عمر، حضرت ماریہ پر بہت خرچ کرتے رہے ، پھر ان کا انتقال ہو گیا تو ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان پر خرچ کرنے لگ گئے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی کے دور خلافت میں حضرت ماریہ کا انتقال ہو گیا۔ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں : ابراہیم بن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی والدہ ماریہ کا انتقال محرم سن 16 ہجری کو ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا گیا کہ وہ لوگوں کو ان کے جنازہ کے لئے جمع کر رہے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ، ان کی قبر جنت البقیع میں ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning my concubines is the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him. The first of them was the Mariya of the Coptic, the mother of Abraham · Hadith 6822
عباس بن محمد دوری فرماتے ہیں : یحییٰ بن معین نے حضرت ثابت انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بیان کی ؟ ابراہیم بن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی والدہ پر ایک آدمی کے حوالے سے الزام لگایا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس آدمی کے قتل کا حکم دے دیا تھا ۔ جب لوگوں نے اسے دیکھا تو وہ محبوب ( کٹے ہوئے آلہ تناسل والا ) تھا۔ ( عباس بن محمد دوری کہتے ہیں ) میں نے یحییٰ بن معین سے پوچھا : تمہیں یہ بات کس نے بتائی ؟ انہوں نے کہا: حماد بن سلمہ نے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning my concubines is the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him. The first of them was the Mariya of the Coptic, the mother of Abraham · Hadith 6823
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک آدمی پر تہمت تھی کہ اس کے ابراہیم بن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی والدہ کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جاؤ اور اس کو قتل کر دو ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے ، وہ اس وقت پانی کے ایک حوض میں نہا رہا تھا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : باہر نکلو ، پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر نکالا ، جب وہ باہر نکلا تو ( پتا چلا کہ ) محبوب تھا ( یعنی اس کا آلہ تناسل کٹا ہوا ہے ) یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning my concubines is the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him. The first of them was the Mariya of the Coptic, the mother of Abraham · Hadith 6824