حضرت عامر فرماتے ہیں : حج زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا کرتی تھی : آپ کی تمام بیویوں سے میرا حق سب سے زیادہ ہے ، کیونکہ مقام نکاح کے لحاظ سے میں سب سے بہتر ہوں ، میں سب سے زیادہ پردے کا اہتمام کرتی ہوں اور آپ کی سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں ۔ پھر آپ فرماتی : اللہ تعالیٰ نے عرش کے اوپر میرا نکاح پڑھایا ، اس چیز کا سفیر حضرت جبرائیل امین علیہ السلام ہیں ۔ میں آپ کی پھوپھی کی بیٹی ہوں۔ اور آپ کی بیویوں میں سے میرے علاوہ اور کوئی بھی آپ کا اتنا قریبی رشتہ دار کوئی نہیں ہے ۔ ( امام حاکم کہتے ہیں ) ہم نے ان کے ترجمہ الباب کے آغاز ہی میں ذکر کر دیا تھا کہ حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کی والدہ " امیمہ بنت عبدالمطلب بن ہازم " ہیں ، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پھوپھی ہیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Zainab a girl of Jahsh, may God be pleased with her · Hadith 6777
مجاہد کہتے ہیں : حضرت جویریہ بنت الحارث نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عرض کی : آپ کی ازواج مجھے یہ بات بہت فخریہ بیان کرتی ہیں اور کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تم سے نکاح نہیں کیا، تم تو ان کی " کنیز " ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : کیا میں نے تمہارا حق مہر سب سے عظیم نہیں کر دیا تھا ؟ کیا تم نے تمہاری قوم کے چالیس افراد کو آزاد نہیں کیا ؟
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Juhariya bint al-Harith, mother of the believers, may God be pleased with her · Hadith 6778
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس بنی مصطلق کی لونڈیاں مال غنیمت کے طور پر آئیں ، تو جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار رضی اللہ عنہا حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ، انہوں نے اپنے آپ کو ان سے مکاتب بنوالیا ، آپ بہت حسین و جمیل تھیں ، جو بھی ان کو ایک نظر دیکھ لیتا وہ دل تھام کر بیٹھ جاتا تھا، آپ اپنی کتابت کے سلسلے میں مدد لینے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں آئیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Juhariya bint al-Harith, mother of the believers, may God be pleased with her · Hadith 6779
محمد بن عمر نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار بن حبیب بن عائذ بن مالک بن جذیمہ بن مصطلق " ان کا تعلق خزاعہ کے ساتھ تھا، مسافع بن صفوان کے نکاح میں تھیں ، جنگ مریسیع میں وہ مارا گیا تھا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Juhariya bint al-Harith, mother of the believers, may God be pleased with her · Hadith 6780
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس بنی مصطلق کی لونڈیاں آئیں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس میں سے پانچواں حصہ نکالا ، باقی لوگوں میں تقسیم کر دیا ، اس تقسیم میں طریقہ یہ تھا کہ گھڑ سوار کو دو حصے اور پیدل کو ایک حصہ عطا فرمایا۔ جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار ، حج ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ یہ اپنے چچا کے بیٹے صفوان بن مالک بن جذیمہ کے نکاح میں تھیں ، وہ قتل ہو گیا تھا، حضرت ثابت بن قیس نے ان کو مکاتب بنا لیا تھا اور بدل کتابت 9 اوقیہ چاندی رکھی ۔ یہ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل عورت تھی ، جو بھی ان کو ایک نظر دیکھ لیتا وہ دل تھام لیتا ۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے پاس موجود تھے کہ اسی اثناء میں جویریہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں اپنے بدل کتابت ادا کروانے کے سلسلے میں مدد لینے آئیں ۔ ام المومنین فرماتی ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے اس کو جیسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آتے دیکھا مجھے بہت ناگوار گزرا ، اور مجھ پکا یقین تھا کہ جو حسن و جمال اس خاتون میں ، میں نے دیکھا ہے ، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی اس میں دیکھ لیں گے ۔ جویریہ کہنے لگی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم می میں اپنی قوم کے سردار حارث کی بیٹی جویریہ ہوں ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جیسا کہ آپ جانتے ہیں ، میں آزمائش میں ہوں ، میں ثابت بن قیس کے حصہ میں آئی ہوں اور اس نے مجھے 9 اوقیہ چاندی پر مکاتب بنا دیا ہے ، اپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : میں تمہیں اس سے بھی اچھی بات نہ بتاؤں ؟ اس نے کہا : وہ کیا بات ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : تمہار بدل کتابت میں ادا کر دیتا ہوں اور تجھ سے نکاح کر لیتا ہوں ، اس نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھے منظور ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : میں نے ایسا کر دیا۔ یہ بات لوگوں میں پھیل گئی ، لوگ کہنے لگے : رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے رشتہ دار قید ہو گئے ہیں ، اس لئے جس جس کے پاس کوئی بنی مصطلق کا قیدی ہے وہ اسے آزاد کر دے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جویریہ کے ساتھ نکاح کر لینے کی برکت سے بنی مصطلق کے سو کے قریب قیدی آزاد ہو گئے ، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں جویرہ سے بڑھ کر ایسی کوئی خاتون نہیں دیکھی جو اپنی قوم کے لئے اس قدر باعث برکت ہو، یہ واقعہ جنگ مریسیع سے واپس آنے کے بعد کا ہے ۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن ابی الابیض بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس بنی مصطلق کی لونڈیاں آئیں ، ان میں جویریہ بھی تھیں ، ان کے والد صاحب آئے اور ان کا فدیہ دے دیا ، اور بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا۔ محمد بن إسحاق کی حدیث کے الفاظ و اقدی کی حدیث سے تقریباً ملتے جلتے ہیں ۔ جبکہ معانی تمام کے ایک ہی جیسے ہیں ۔ عبداللہ بن ابی الابیض اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ( وہ فرماتے ہیں ) ام المومنین حضرت جویریہ بنت حارث کا انتقال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت میں سن 56 ہجری میں ہوا۔ مروان بن حکم ان دنوں مدینہ کا عامل تھا ، اسی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ ام المومنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے نکاح کیا ، اس وقت میری عمر 20 برس تھی ، آپ فرماتی ہیں : اور جویریہ کا انتقال 50 ہجری میں ہوا ، ان کی عمر 65 برس تھی ، مروان بن حکم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ حضرت جویریہ بنت حارث فرماتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آنے سے تین دن پہلے میں نے خواب میں دیکھا جیسے سورج یثرب سے چلا اور میری گود میں آ گیا، میں نے اس بات کا ذکر کسی سے بھی کرنا مناسب نہیں سمجھا ، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تشریف لے آئے ، جب ہم قیدی ہو کر آئیں تو مجھے اپنا خواب پورا ہونے کی امید لگ گئی ، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے آزاد کروا کر خود مجھ سے شادی کر لی ، خدا کی قسم میں نے اپنی قوم کے کسی شخص کے بارے میں بھی کوئی بات نہیں کی ، مسلمانوں نے خود ہی میری قوم کے لوگوں کو آزاد کر دیا ، مجھے تو میرے چچا کی ایک بیٹی نے یہ بات بتائی تو مجھے پتا چلا ، تب میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Juhariya bint al-Harith, mother of the believers, may God be pleased with her · Hadith 6781
ابن إسحاق نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " جویریہ بنت حارث " ان کا اصل نام " برہ بنت حارث بن ابی ضرار بن حبیب بن عائذ بن مالک بن جذیمہ " ہیں ان کا تعلق خزاعہ کے ساتھ ہے ۔ آپ پہلے اپنے چچا کے بیٹے مسافع بن صفوان بن ذی الشفر کے نکاح میں تھیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Juhariya bint al-Harith, mother of the believers, may God be pleased with her · Hadith 6782
ام المو منین حضرت جویریہ بنت حارث بیان کرتی ہیں کہ ان کا اصل نام " برہ " تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بدل کر میرا نام جویریہ رکھ دیا ۔ کیونکہ اپ کو یہ اچھا نہیں لگتا تھا کہ کوئی " میرے پاس سے برہ چلی گئی ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Juhariya bint al-Harith, mother of the believers, may God be pleased with her · Hadith 6783
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کو پردہ کروایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جیسے دیگر امہات المومنین رضی اللہ عنہما کے لئے باری مقرر کرتے تھے اسی طرح حضرت جویریہ کے لئے بھی کرتے تھے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Juhariya bint al-Harith, mother of the believers, may God be pleased with her · Hadith 6784
ام المومنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : کوئی کھانے پینے کی چیز ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کی قسم ! یا رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمارے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں ہے ، صرف بکری کی ایک ہڈی تھی ، وہ بھی صدقہ کی تھی ، اس لئے میں نے وہ اپنی خادمہ کو دے دی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : تم ہی لے آؤ ، کیونکہ صدقہ اپنے مقام تک پہنچ چکا ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Juhariya bint al-Harith, mother of the believers, may God be pleased with her · Hadith 6785
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خیبر فتح کیا تو حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کو اپنے لئے منتخب فرمایا ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو اپنے پیچھے بٹھایا اور سفر شروع کر دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے دیکھا ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے پاؤں کے سہارے سے ان کو سواری پر سوار کرایا ، جب مقام " سد الصہباء " پر پہنچے تو ان کے ساتھ سلسلہ ازدواج قائم فرمایا : آپ نے ایک تھا میں " حیس " ( ایک نوعیت کا کھانا ہے جو اہل عرب کے ہاں مروج تھا ) بنایا ۔ اور مجھے حکم دیا کہ میں اردگرد کے لوگوں کو بلا کر لاؤں ، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ولیمہ تھا۔ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( ان کا نام ) " صفیہ بنت حی بن اخبط بن سعید بن ثعلبہ بن عبید بن خزرج بن ابی حبیب بن نضر بن نحام بن یخوم " ہے ۔ بنی اسرائیل میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں ۔ ان کی والدہ " برہ بنت سموال " ہیں ، حضرت معاویہ کے زمانے میں ہلاک ہوئی ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers Sifiyat, a living daughter, may God be pleased with her · Hadith 6786
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شب زفاف گزاری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دروازے پر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے ، جب صبح ہوئی اور انہوں نے رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا تو اللہ اکبر کہا، اس وقت حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک تلوار تھی ، انہوں نے کہا: یہ ( حضرت صفیہ ) نو بیاہتی دوشیزہ کنیز ہے اس کے باپ ، بھائی اور شوہر کو میں نے قتل کر دیا ہے ، مجھے خدشہ تھا کہ کہیں اس کی طرف سے آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے ( اس لئے میں تمام رات دروزے پر احتیاطاً پہرہ دیتا رہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسکرا کر ان کے لئے یہ کلمات خیر ارشاد فرمائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers Sifiyat, a living daughter, may God be pleased with her · Hadith 6787
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں گوشت روٹی کھلائی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers Sifiyat, a living daughter, may God be pleased with her · Hadith 6788