Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6789

6789 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ بْنِ مَصْقَلَةَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ آمِنَةَ بِنْتِ أَبِي قَيْسٍ الْغِفَارِيَّةِ، قَالَتْ: أَنَا إِحْدَى النِّسَاءِ اللَّاتِي زَفَفْنَ صَفِيَّةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ: «مَا بَلَغْتُ سَبْعَ عَشَرَةَ، وَجَهْدِي أَنْ بَلَغْتُ سَبْعَ عَشْرَةَ سَنَةً لَيْلَةً إِذْ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ: «وَتُوُفِّيَتْ صَفِيَّةُ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَخَمْسِينَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ وَقُبِرَتْ بِالْبَقِيعِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6789 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت آمنہ بنت ابی قیس غفاریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں ان خواتین میں سے ہوں جنہوں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے تیار کیا تھا، میں نے ان کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ " جس رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حجلہ عروسی میں گئی اس وقت تک میری عمر ابھی 17 سال پوری نہیں ہوئی تھی ۔ راسی کہتے ہیں : ام المومنین حضرت صفیہ کا انتقال حضرت معاویہ کے زمانے میں سن 52 ہجری کو ہوا، اور جنت البقیع میں ان کی تدفین ہوئی ۔

آمِنَةَ بِنْتِ أَبِي قَيْسٍ الْغِفَارِيَّةِ، ← عُمَارَةَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ بْنِ مَصْقَلَةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers Sifiyat, a living daughter, may God be pleased with her · Hadith 6789

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6790

6790 - أَخْبَرَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْبَصْرِيُّ، ثنا شَاذُّ بْنُ فَيَّاضٍ أَبُو عُبَيْدَةَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ كِنَانَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: «يَا بِنْتَ حُيَيٍّ مَا يُبْكِيكِ؟» قُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّ حَفْصَةَ وَعَائِشَةَ يَنَالَانِ مِنِّي وَيَقُولَانِ: نَحْنُ خَيْرٌ مِنْهَا، نَحْنُ بَنَاتُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجُهُ قَالَ: " أَلَا قُلْتِ: كَيْفَ تَكُونَانِ خَيْرًا مِنِّي وَأَبِي هَارُونُ وَعَمِّي مُوسَى وَزَوْجِي مُحَمَّدٌ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6790 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے پاس تشریف لائے ، اس وقت میں رو رہی تھی ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے رونے کا سبب پوچھا ، میں نے کہا : مجھے پتا چلا ہے کہ حفصہ اور عائشہ میری وجہ سے پریشان ہیں اور کہتی ہیں کہہ ہم اس سے بہتر ہیں ، ہم رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی چچا زاد بھی ہیں اور ان کی بیویوں بھی ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ تم مجھ سے بہتر کیسے ہو سکتی ہو ؟ میرا باپ ہارون علیہ السلام ہیں، میرا چچا حضرت موسیٰ علیہ السلام اور میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں ۔

أَبْكِي، ← دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← صَفِيَّةَ ← كنانة ← هَاشِمُ بْنُ سَعِيدٍ ← شاذ بن فياض أبو عبيدة ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْبَصْرِيُّ، ← دِعْلِجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers Sifiyat, a living daughter, may God be pleased with her · Hadith 6790

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6791

6791 - حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَهْلٍ الصُّوفِيُّ، بِمَكَّةَ وَكَتَبَهُ لِي بِخَطِّهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا أَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَلْبِيُّ، ثنا أَبُو قَطَنٍ، قَالَ: قَالَ لِي شُعْبَةُ: قَالَ لِي مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ: «حَدَّثَتْنِي زَوْجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنِ بْنِ بُجَيْرِ بْنِ الْهَرِمِ بْنِ رُوَيْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالِ بْنِ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، وَأُمُّهَا هِنْدُ بِنْتُ عَوْفِ بْنِ زُهَيْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ حَمَاطَةَ بْنِ حَارِثٍ مِنْ حِمْيَرَ»

حضرت شعبہ کہتے ہیں : مسعر بن کدام نے مجھے بتایا کہ زوجہ رسول ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث بن حزن بن بجیر بن ہرم بن رویبہ بن عبداللہ بن ہلال بن عامر بن صعصعہ " نے روایت بیان کی ہے ۔ ان کی والدہ " ہند بن عوف بن زہیر بن حارث بن حماط بن حارث بن حمیر " ہیں ۔

لي شعبة ← أَبُو قَطَنٍ، ← أَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْکَلْبِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ ← بُكَيْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَهْلٍ الصُّوفِيُّ، بِمَكَّةَ وَكَتَبَهُ لِي بِخَطِّهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers, the daughter of al-Harith, may God be pleased with her. · Hadith 6791

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6792

6792 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: «مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ حَمَاطَةَ بْنِ حَارِثٍ، وَهِيَ خَالَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَأُخْتُ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، كَانَتْ تَزَوَّجَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَسْعُودَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عُمَيْرٍ الثَّقَفِيَّ، ثُمَّ فَارَقَهَا فَخَلَفَ عَلَيْهَا أَبُو رُهْمِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ أَبِي قَيْسٍ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حِسْلِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، زَوَّجَهَا إِيَّاهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَكَانَ يَلِي أَمْرَهَا فَبَنَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفٍ عَلَى عَشَرَةِ أَمْيَالٍ مِنْ مَكَّةَ، وَكَانَتْ آخِرَ امْرَأَةْ تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ سَنَةَ سَبْعٍ فِي عُمْرَةِ الْقَضِيَّةِ» قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «وَتُوُفِّيَتْ مَيْمُونَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ وَهِيَ آخِرُ مَنْ مَاتَ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهَا يَوْمَ تُوُفِّيَتْ ثَمَانُونَ أَوْ إِحْدَى وَثَمَانُونَ سَنَةً عَلَى كِبَرِ سِنِّهَا جَلْدَةٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6792 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

محمد بن عمر کہتے ہیں : حضرت میمونہ بنت حارث بن حماط بن حارث " یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خالہ ہیں ، اور حضرت ام الفضل بن حارث رضی اللہ عنہا " کی بہن ہیں ۔ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں مسعود بن عمیر ثقفی کے ساتھ شادی کی تھی، پھر انہوں نے ان کو طلاق دے دی ، پھر ابورہم بن عبدالعزی بن ابی قیس ( جن کا تعلق بنی مالک بن حسل بن عامر بن لؤی کے ساتھ تھا ) نے ان سے شادی کی ، ابورہم کی موت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے نکاح کیا تھا، حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اس شادی کے محرک تھے ، اور وہی ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی جانب سے تمام أمور کے ذمہ دار تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مقام " سرف " ( جو کہ مکہ سے دس میل کی مسافت پر ہے ) پر ان کے ساتھ میاں بیوی والے تعلقات قائم فرمائے ، جن خواتین کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نکاح کیا، یہ ان میں سے آخری خاتون ہیں ، یہ واقعہ عمرہ قضیہ 7 ہجری کا ہے ۔ محمد بن عمر کہتے ہیں : ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا انتقال 61 ہجری میں ہوا، اور امہات المومنین میں سب سے آخر میں ان کا انتقال ہوا۔ وفات کے وقت ان کی عمر 80 یا 81 برس تھی ۔ بڑھاپے کے باوجود آپ بہت صابرہ و شاکرہ تھیں ۔

مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers, the daughter of al-Harith, may God be pleased with her. · Hadith 6792

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6793

6793 - إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ اسْمُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بَرَّةُ فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ» صَحِيحٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6793 - قال الذهبي صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری خالہ کا نام " میمونہ بنت برہ رضی اللہ عنہا " ہے ۔ یہ حدیث صحیح ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← اِسْرَائِیْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers, the daughter of al-Harith, may God be pleased with her. · Hadith 6793

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6794

6794 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «كَانَ اسْمُ مَيْمُونَةَ بَرَّةَ فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6794 - صحيح

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا اصل نام " برہ " تھا ، رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بدل کر ان کا نام " میمونہ " رکھ دیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers, the daughter of al-Harith, may God be pleased with her. · Hadith 6794

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6795

6795 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ مُعْتَمِرًا فِي ذِي الْقَعْدَةَ سَنَةَ سَبْعٍ وَهُوَ الشَّهْرُ الَّذِي صَدَّهُ فِيهِ الْمُشْرِكُونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ يَأْجَجَ بَعَثَ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ إِلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنٍ الْعَامِرِيَّةِ، فَخَطَبَهَا عَلَيْهِ فَجَعَلَتْ أَمْرَهَا إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَكَانَتْ أُخْتُهَا أُمَّ الْفَضْلِ تَحْتَهُ فَزَوَّجَهَا الْعَبَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِحِينٍ، حَتَّى قَدِمَتْ مَيْمُونَةُ فَبَنَى بِهَا بِسَرِفٍ وَقَدَّرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَكُونَ مَوْتُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بَعْدَ ذَلِكَ بِحِينٍ، فَتُوُفِّيَتْ حَيْثُ بَنَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

ابن شہاب کہتے ہیں : رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اگلے سال سن 7 ہجری میں ذی قعدہ کے مہینے میں عمرہ کی نیت سے روانہ ہوئے ، یہ وہی مہینہ تھا جس میں مشرکین نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مسجد حرام میں داخلے سے روک دیا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مقام " یاجج " میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت جعفر ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ حضرت میمونہ بنت حارث بن حزن عامر یہ " کے لئے پیغام نکاح بھیجا ، انہوں نے اپنا معاملہ اپنے ( بہنوئی ) حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا۔ ان کی بہن ام الفضل حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ کر دیا، اس کے بعد کچھ دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مقام " سرف " میں ٹھہرے ، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا وہیں پر ا گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وہیں مقام " سرف " میں ان کے ساتھ شب زفاف گزاری ، اللہ تعالیٰ نے حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی وفات ان کی شب عروسی کے فوراً بعد لکھی تھی ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سات پہلی رات کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers, the daughter of al-Harith, may God be pleased with her. · Hadith 6795

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6796

6796 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَلَاثًا، فَأَتَاهُ حُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ، فَقَالُوا لَهُ: إِنَّهُ قَدِ انْقَضَى أَجَلُكَ فَاخْرُجْ عَنَّا قَالَ: «وَمَا عَلَيْكُمْ لَوْ تَرَكْتُمُونِي فَأَعْرَسْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ فَصَنَعْتُ لَكُمْ طَعَامًا فَحَضَرْتُمُوهُ؟» قَالُوا: لَا حَاجَةَ لَنَا فِي طَعَامِكَ فَاخْرُجْ عَنَّا، فَخَرَجَ بِمَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَتَّى أَعْرَسَ بِهَا بِسَرِفٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَمِمَّا يُتَعَجَّبُ مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ وَقَدَرِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنَى بِمَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بِسَرِفٍ وَرَدَّهَا إِلَى الْمَدِينَةِ عِنْدَ مُنْصَرَفِهِ مِنْ عُمْرَةِ الْقَضَاءِ، وَبَقِيَتْ عِنْدَهُ إِلَى أَنْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَتْحِ مَكَّةَ، وَقَدْ أَخْرَجَهَا مَعَهُ إِلَى أَنْ فَتَحَ الطَّائِفَ، وَانْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَاتَتْ مَيْمُونَةُ بِسَرِفٍ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي بَنَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ تَزْوِيجِهَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6796 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، اور تین دن مکہ میں قیام فرمایا ، تیسرے دن حویطب بن عبدالعزی قریش کے ایک گروہ کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس ایا ، ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا: تمہاری میعاد پوری ہو چکی ہے لہذا آپ مکہ سے نکل جائیے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اگر تم مجھے کچھ مہلت دے دو، میرے نئے نکاح کے کچھ معاملات ابھی باقی ہیں ، میں وہ ادا کرلوں ، میں تمہارے لئے کھانا تیار کرواتا ہوں ، کیا تم آؤ گے ؟ انہوں نے کہا: ہمیں تمہارے کھانے کی کوئی حاجت نہیں ہے ، بس تم یہاں سے نکل جاؤ، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حضرت میمونہ کو ہمراہ لے کر مکہ سے روانہ ہو گئے اور راستے میں مقام " سرف " میں حضرت میمونہ کے ساتھ شب عروسی گزاری۔ یہ حدیث امام رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا حیران کن فیصلہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مقام " سرف " میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شب عروسی گزاری ، پھر جب آپ عمرۃ القجاء سے واپس لوتے تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کو مدینہ منورہ بھیج دیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فتح مکہ تک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ رہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فتح طائف کے لئے ان کو بھی ساتھ لے گئے تھے ، پھر وہاں سے لوٹ کر مدینہ شریف کی طرف آ رہے تھے کہ مقام " سرف " جہاں پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے ساتھ شب عروسی گزاری تھی ، عین اسی مقام پر ان کا انتقال ہو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُجَاهِدٍ، ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers, the daughter of al-Harith, may God be pleased with her. · Hadith 6796

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6797

6797 - حَدَّثَنَا بِصِحَّةِ مَا ذَكَرْتُهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا فَزَارَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا حَلَالًا، وَبَنَى بِهَا حَلَالًا، بَنَى بِهَا بِسَرِفٍ، وَمَاتَتْ بِسَرِفٍ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي بَنَى فِيهَا، وَكَانَتْ خَالَتِي فَنَزَلْتُ فِي قَبْرِهَا أَنَا وَابْنُ عَبَّاسٍ فَلَمَّا وَضَعْنَاهَا فِي اللَّحْدِ مَالَ رَأْسُهَا، فَأَخَذْتُ رِدَائِي فَجَمَعْتُهُ فَوَضَعْتُهُ عِنْدَ رَأْسِهَا، فَأَخَذَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَرَمَى بِهِ وَوَضَعَ عِنْدَ رَأْسِهَا كَذَّانَةً» قَالَ: «وَكَانَتْ حَلَقَتْ فِي الْحَجِّ وَكَانَ رَأْسُهَا مُجَمَّمًا وَبَيْنَ سَرِفٍ وَمَكَّةَ اثْنَا عَشَرَ مِيلًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَقَدِ انْطَلَقَ هَذَا الْإِسْنَادُ الصَّحِيحُ بِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا حَلَالًا فَأَمَّا أَخْبَارُ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَإِنَّهَا نَاطِقَةٌ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ»

ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے غیر محرم حالت میں نکاح کیا اور غیر محرم حالت میں ہی شب عروسی گزاری ، مقام " سرف " میں ان کے ساتھ شب عروسی گزاری اور مقام " سرف " میں جس مقام پر شب عروسی گزاری تھی ، اسی مقام پر ان کا انتقال ہوا۔ آپ رشتے میں میری خالہ لگتی ہیں ، ان کو لحد میں ، میں نے اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اتارا تھا، جب ہم ان کو لحد میں رکھنے لگے تو ان کا سر جھک گیا ، میں نے اپنی چادر اکٹھی کر کے ان کے سر کے نیچے رکھ دی ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ دچادر پکڑ کر باہر پھینک دی اور ان کے سر کے نیچے کچی اینٹ رکھ دی ۔ راوی کہتے ہیں : حج کے دوران انہوں نے حلق کروایا تھا اور ان کے سر کے بال بہت گھنے تھے ۔ مکہ اور " سرف " کے درمیان بارہ میل کی مسافت ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہ ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ البتہ ( ایک دوسری ) سند صحیح کے ہمراہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غیر احرام حالت میں ان سے شادی کی تھی ، جبکہ عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ ؛ سے جو روایات بیان کی ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حالت احرام میں شادی کی ۔

مَيْمُونَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← أَبَا فَزَارَةَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← بِصِحَّةِ مَا ذَكَرْتُهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers, the daughter of al-Harith, may God be pleased with her. · Hadith 6797

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6798

6798 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، قَالَا: أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ وَهُوَ مُحْرِمٌ» قَالَ عَمْرٌو: قَدْ ذَكَرْتُهُ لِلزُّهْرِيِّ، ثُمَّ قَالَ: يَا عَمْرُو، مَنْ تُرَاهَا؟ قُلْتُ: يَقُولُونَ: مَيْمُونَةَ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ» فَقَالَ عَمْرٌو لِابْنِ شِهَابٍ: «تَجْعَلُ أَعْرَابِيًّا يَبُولُ عَلَى عَقِبَيْهِ مِثْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ» فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: هِيَ خَالَتُهُ، فَقَالَ عَمْرٌو: «هِيَ خَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6798 - صحيح على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حالت احرام میں نکاح کیا۔ عمرو کہتے ہیں : میں نے اس روایت کا ذکر زہری سے کیا تو ، انہوں نے کہا : اے عمرو ! تمہارا کیا خیال ہے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وہ نکاح کس سے کیا تھا؟ میں نے کہا : لوگ تو یہی کہتے ہیں کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا تھا۔ ابن شہاب نے کہا: مجھے یزید بن اصم نے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جب نکاح کیا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حالت احرام میں نہیں تھے ۔ عمرو نے شہاب سے کہا: تم اپنی ایڑھیوں پر پیشاب کرنے ولاے بدو کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے برابر قرار دے رہے ہو؟ ابن شہاب نے کہا: وہ ان کی خالہ ہیں ، حضرت عمرو نے کہا: وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی بھی خالہ ہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو الشَّعْثَاءِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers, the daughter of al-Harith, may God be pleased with her. · Hadith 6798

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6799

6799 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ، ثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، ابْنُ أُخْتِ مَيْمُونَةَ قَالَ: تَلَقَّيْتُ عَائِشَةَ، وَهِيَ مُقْبِلَةٌ مِنْ مَكَّةَ أَنَا وَابْنٌ لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أُخْتِهَا وَقَدْ كُنَّا وَقَعْنَا فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَأَصَبْنَا مِنْهُ، فَبَلَغَهَا ذَلِكَ، فَأَقْبَلَتْ عَلَى ابْنِ أُخْتِهَا تَلُومُهُ وَتُعْذِلُهُ، وَأَقْبَلَتْ عَلَيَّ فَوَعَظَتْنِي مَوْعِظَةً بَلِيغَةً، ثُمَّ قَالَتْ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَاقَكَ حَتَّى جَعَلَكَ فِي أَهْلِ بَيْتِ نَبِيِّهِ، ذَهَبَتْ وَاللَّهِ مَيْمُونَةُ وَرُمِيَ بِرَسَنِكَ عَلَى غَارِبِكَ، أَمَا أَنَّهَا كَانَتْ مِنْ أَتْقَانَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَوْصَلَنَا لِلرَّحِمِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6799 - على شرط مسلم

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ ا کے بھتیجے ، حضرت زید بن اصم فرماتے ہیں : ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مکہ سے واپس آ رہی تھیں ، راستے میں ان کے ساتھ میری اور طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ( جو کہ ان کے بھانجے ہیں ) کی ملاقات ہو گئی ، ہم لوگ مدینہ کے ایک باغ میں ٹھہرے ہوئے تھے ، ہم نے اس باغ سے کچھ پھل وغیرہ بھی کھائے ، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی اطلاع مل گئی ، آپ اپنے بھانجھے سے متوجہ ہوئیں اور ان کو بہت ملامت کی اور بہت سخت سست کہا اور پھر میری طرف متوجہ ہوئیں اور مجھے بہت بلیغ و عظ و نصیحت کی ، پھر فرمایا : کیا تم نہیں جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنے نبی کے گھر والوں میں شامل کیا ہے ، اللہ کی قسم ! میمونہ چلی گئی اور تجھے خود مختار بنا دیا گیا ، کیا وہ ہم میں سب سے زیادہ متقی اور پرہیز گار نہیں تھیں ؟ اور ہم سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والی نہیں تھیں ؟ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

وَابْنٌ لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أُخْتِهَا وَقَدْ كُنَّا ← تلقيت عَائِشَةُ وهي مقبلة من مكة ← يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ابْنِ أُخْتِ مَيْمُونَةَ، ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامِ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers, the daughter of al-Harith, may God be pleased with her. · Hadith 6799

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6800

6800 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، مَوْلَى خُزَاعَةَ عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ دُرَّةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ عِنْدِي فَأَغْلَقْتُ دُونَهُ فَجَاءَهُ يَسْتَفْتِحُ فَأَبَيْتُ أَنْ أَفْتَحَ، فَقَالَ: «أَقْسَمْتُ أَلَّا فَتَحْتِ لِي» فَقُلْتُ لَهُ: تَذْهَبُ إِلَى أَزْوَاجِكَ فِي لَيْلَتِي فَقَالَ: «مَا فَعَلْتُ، وَلَكِنْ وَجَدْتُ حَقْنًا مِنْ بَوْلٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6800 - حذفه الذهبي من التلخيص

ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ایک دفعہ رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے پاس سے نکلے ، آپ تشریف لے گئے تو میں نے دروازہ بند کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب واپس آئے تو دروازہ بجایا ، میں نے دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : کیا تم نے دروازہ نہ کھولنے کی قسم کھا لی ہے ؟ میں نے کہا: آپ میری باری کی رات میں دیگر ازواج کے پاس کیوں تشریف لے گئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : میں نے تو ایسا کچھ نہیں کیا ، میں تو پیشاب کی وجہ سے حقنہ ( دوائی ) استعمال کرنے گیا تھا۔

مَيْمُونَةَ، ← أُمِّ دُرَّةَ ← صالح بن محمدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ مَوْلَى خُزَاعَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers, the daughter of al-Harith, may God be pleased with her. · Hadith 6800

chevron_left Previous
1…606162…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section