Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6765

6765 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ نَشِيطٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ، قَالَ: «أَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أُعَزِّيهَا بِقَتْلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ»

شہر بن حوشب کہتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تعزیت کرنے گیا۔

«أَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أُعَزِّيهَا بِقَتْلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ» ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ نَشِيطٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Mother of the Believers, Umm Salamah, the daughter of Abu Umayya, may God be pleased with her · Hadith 6765

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6766

6766 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ أَبِي عَمْرٍو، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، يُخْبِرُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا لَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَتْهُمْ أَنَّهَا ابْنَةُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَكَذَّبُوهَا وَقَالُوا: مَا أَكْذَبَ الْغَرَائِبَ حَتَّى أَنْشَأَ نَاسٌ إِلَى الْحَجِّ، فَقِيلَ لَهَا: تَكْتُبِينَ إِلَى أَهْلِكِ، فَكَتَبَتْ مَعَهُمْ فَرَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ فَصَدَّقُوهَا وَازْدَادُوا لَهَا كَرَامَةً، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: «فَلَمَّا وَضَعْتُ زَيْنَبَ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6766 - حذفه الذهبي من التلخيص

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : جب وہ مدینہ منورہ آئیں ، تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ ابی امیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہیں ، تو لوگوں نے ان کی بات کو تسلیم نہ کیا اور اس بات کو سرا ر جھوٹ سمجھے ، حتیٰ کہ حج کے لئے قافلے جانا شروع ہو گئے ، لوگوں نے ان سے کہا: تم اپنے گھر والوں کی طرف خط لکھو ، انہوں نے خط لکھ کر ان لوگوں کے حوالے کر دیا ، جب حاجیوں کے قافلے واپس آئے تو انہوں نے ان کی تصدیق کی ، حاجیوں کی اس تصدیق کے بعد ان لوگوں کے دلوں میں ان کی عزت بہت بڑھ گئی ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : زینب کی پیدائش کے بعد میری شادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہوئی ۔

حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← عبد الرزاق أنبأ ابن جريج ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Mother of the Believers, Umm Salamah, the daughter of Abu Umayya, may God be pleased with her · Hadith 6766

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6767

6767 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْعَفْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا خَالِدٌ، وَجَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا مَعَ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي ابْنٌ لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، «أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، أَوْصَتْ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ خَشْيَةَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهَا مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6767 - حذفه الذهبي من التلخيص

سعید بن زید کے ایک صاحبزادے روایت کرتے ہیں کہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ ان کی نماز جنازہ سعید بن زید پڑھائے ، اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کو خدشہ تھا کہ ان کا جنازہ کہیں مروان بن حکم نہ پڑھا دے ۔

كُنَّا قُعُودًا مَعَ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← خَالِدٌ، وَجَرِيرٌ، ← يحيى بن عبد الحميد ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْعَفْصِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Mother of the Believers, Umm Salamah, the daughter of Abu Umayya, may God be pleased with her · Hadith 6767

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6768

6768 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: «فَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ الْأَسَدِيِّ أَسَدِ خُزَيْمَةَ، فَمَاتَ عَنْهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ وَكَانَ خَرَجَ بِهَا مِنْ مَكَّةَ مُهَاجِرًا، ثُمَّ افْتُتِنَ وَتَنَصَّرَ، فَمَاتَ وَهُوَ نَصْرَانِيٌّ، وَأَثْبَتَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ لِأُمِّ حَبِيبَةَ وَالْهِجْرَةَ، ثُمَّ تَنَصَّرَ زَوْجُهَا وَمَاتَ وَهُوَ نَصْرَانِيٌّ وَأَبَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أَنْ تَتَنَصَّرَ، وَأَتَمَّ اللَّهُ تَعَالَى لَهَا الْإِسْلَامَ وَالْهِجْرَةَ حَتَّى قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ» . قَالَ الزُّهْرِيُّ: «وَقَدْ زَعَمُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ وَسَاقَ عَنْهُ أَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً»

زہری کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان کے ساتھ نکاح کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عقد میں آنے سے پہلے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا خزیمہ کے شیر عبید اللہ بن حجش الاسدی کے نکاح میں تھیں ۔ عبید اللہ بن حجش حبشہ میں مر گیا تھا، ام حبیبہ اس کے ہمراہ ہجرت پر روانہ ہوئی تھیں، وہاں جا کر یہ فتنہ میں مبتلا ہو گیا اور اس نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا اور اسی حالت میں وہ مر گیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو اسلام اور ہجرت پر استقامت عطا فرمائی ، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عیسائی مذہب اختیار کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اسلام اور ہجرت کو مکمل فرمایا ، پھر یہ مدینہ منورہ آ گئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو پیغام نکاح بھیجا ( انہوں نے قبول کر لیا ) حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ان کے ساتھ نکاح کر وا دیا ۔ زہری کہتے ہیں : کچھ مؤرخین کا گمان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجاشی کو خط لکھا تھا ، تو نجاشی نے ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کر دیا تھا اور چالیس اوقیہ چاندی بھی ان کو دی تھی ۔

الزُّهْرِيِّ، ← جَدِّهِ، ← حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ← عبد الله بن أبي أسامة الحلبي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of Habibah's daughter Abi Sufyan, may God be pleased with her · Hadith 6768

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6769

6769 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ رَحِمَهُ اللَّهُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: " أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ اسْمُهَا رَمْلَةُ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، وَيُقَالُ: اسْمُهَا هِنْدٌ وَالْمَشْهُورُ رَمْلَةُ، وَأُمُّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَيُقَالُ: آمِنَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ حَرْبَانَ بْنِ عَوْفِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُوَيْجِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ وَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ مُعَاوِيَةَ بِسَنَةٍ "

مصعب بن عبداللہ زبیری نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " ام حبیبہ بنت ابی سفیان بن حرب " ان کا اصل نام " رملہ بنت ابی سفیان " ہے ۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ ان کا نام " ہند " ہے جبکہ مشہور " رملہ " ہے ۔ ان کی والدہ " صفیہ بنت ابی العاص بن امیہ " ہیں ۔ بعض دیگر مؤرخین کے مطابق ان کی والدہ " آمنہ بنت عبدالعزیٰ بن حربان بن عوف بن عبید بن ویج بن عدی بن کعب " ہیں ۔ حضرت معاویہ سے ایک سال پہلے ان کا انتقال ہوا۔

مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of Habibah's daughter Abi Sufyan, may God be pleased with her · Hadith 6769

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6770

6770 - فَحَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مَصْقَلَةَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: «وَأُمُّ حَبِيبَةَ اسْمُهَا رَمْلَةُ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأُمُّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، عَمَّةُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ تَزَوَّجَهَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشِ بْنِ رَبَابٍ حَلِيفُ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ، فَوَلَدَتْ لَهُ حَبِيبَةَ فَكُنِّيَتْ بِهَا، وَتَزَوَّجَ حَبِيبَةَ دَاودُ بْنُ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ» قَالَ ابْنُ عُمَرَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ جَحْشٍ زَوْجِي بِأَسْوَإِ صُورَةٍ وَأَشْوَهِهِ فَفَزِعْتُ، فَقُلْتُ: تَغَيَّرَتْ وَاللَّهِ حَالُهُ، فَإِذَا هُوَ يَقُولُ حِينَ أَصْبَحَ: يَا أُمَّ حَبِيبَةَ، إِنِّي نَظَرْتُ فِي الدِّينِ فَلَمْ أَرَ دِينًا خَيْرًا مِنَ النَّصْرَانِيَّةِ وَكُنْتُ قَدْ دِنْتُ بِهَا، ثُمَّ دَخَلْتُ فِي دِينِ مُحَمَّدٍ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى النَّصْرَانِيَّةِ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا خَيْرٌ لَكَ وَأَخْبَرْتُهُ بِالرُّؤْيَا الَّتِي رَأَيْتُ لَهُ، فَلَمْ يَحْفَلْ بِهَا وَأَكَبَّ عَلَى الْخَمْرِ حَتَّى مَاتَ، فَأُرِيَ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ آتِيًا يَقُولُ لِي: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَفَزِعْتُ وَأَوَّلْتُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَزَوَّجُنِي، قَالَتْ: فَمَا هُوَ إِلَّا أَنِ انْقَضَتْ عِدَّتِي، فَمَا شَعَرْتُ إِلَّا بِرَسُولِ النَّجَاشِيِّ عَلَى بَابِي يَسْتَأْذِنُ، فَإِذَا جَارِيَةٌ لَهُ يُقَالُ لَهَا: أَبْرَهَةَ كَانَتْ تَقُومُ عَلَى ثِيَابِهِ وَدَهْنِهِ، فَدَخَلَتْ عَلَيَّ فَقَالَتْ: إِنَّ الْمَلِكَ يَقُولُ لَكِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيَّ أَنْ أُزَوِّجَكِ، فَقُلْتُ: بَشَّرَكِ اللَّهُ بِخَيْرٍ، وَقَالَتْ: يَقُولُ لَكِ الْمَلِكُ: وَكِّلِي مَنْ يُزَوِّجُكِ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فَوَكَّلَتْهُ وَأَعْطَتْ أَبْرَهَةَ سِوَارَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ وَخَدَمَتَيْنِ كَانَتَا فِي رِجْلَيْهَا وَخَوَاتِيمَ فِضَّةً كَانَتْ فِي أَصَابِعِ رِجْلَيْهَا سُرُورًا بِمَا بَشَّرَتْهَا بِهِ، فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ أَمَرَ النَّجَاشِيُّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَمَنْ هُنَاكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَحَضَرُوا فَخَطَبَ النَّجَاشِيُّ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ السَّلَامِ الْمُؤْمِنِ الْمُهَيْمِنِ الْعَزِيزِ الْجَبَّارِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ حَقَّ حَمْدِهِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيَّ أَنْ أُزَوِّجَهُ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سُفْيَانَ فَأَجَبْتُ إِلَى مَا دَعَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَصْدَقْتُهَا أَرْبَعمِائَةِ دِينَارٍ، ثُمَّ سَكَبَ الدَّنَانِيرَ بَيْنَ يَدَيِ الْقَوْمِ، فَتَكَلَّمَ خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ أَحْمَدُهُ وَأَسْتَعِينُهُ وَأَسْتَنْصِرُهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَرْسَلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ، أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ أَجَبْتُ إِلَى مَا دَعَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَوَّجْتُهُ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ فَبَارَكَ اللَّهُ لِرَسُولِهِ، وَدَفَعَ الدَّنَانِيرَ إِلَى خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ فَقَبَضَهَا، ثُمَّ أَرَادُوا أَنْ يَقُومُوا، فَقَالَ: اجْلِسُوا فَإِنَّ سُنَّةَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِذَا تَزَوَّجُوا أَنْ يُؤْكَلَ الطَّعَامُ عَلَى التَّزْوِيجِ فَدَعَا بِطَعَامٍ فَأَكَلُوا، ثُمَّ تَفَرَّقُوا، قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: فَلَمَّا وَصَلَ إِلَيَّ الْمَالُ أَرْسَلْتُ إِلَى أَبْرَهَةَ الَّتِي بَشَّرَتْنِي فَقُلْتُ لَهَا: إِنِّي كُنْتُ أَعْطَيْتُكِ مَا أَعْطَيْتُكِ يَوْمَئِذٍ وَلَا مَالَ بِيَدِي وَهَذِهِ خَمْسُونَ مِثْقَالًا فَخُذِيهَا فَاسْتَعِينِي بِهَا، فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ حِقَّةً فِيهَا جَمِيعُ مَا أَعْطَيتُهَا فَرَدَّتْهُ إِلَيَّ وَقَالَتْ: عَزَمَ عَلَيَّ الْمَلِكُ أَنْ لَا أَرْزَأَكِ شَيْئًا وَأَنَا الَّتِي أَقُومُ عَلَى ثِيَابِهِ وَدَهْنِهِ وَقَدِ اتَّبَعْتُ دِينَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْلَمْتُ لِلَّهِ، وَقَدْ أَمَرَ الْمَلِكُ نِسَاءَهُ أَنْ يَبْعَثْنَ إِلَيْكِ بِكَلِّ مَا عِنْدَهُنَّ مِنَ الْعِطْرِ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ جَاءَتْنِي بِعُودٍ وَوَرْسٍ وَعَنْبَرٍ وزَبَادٍ كَثِيرٍ، وَقَدِمْتُ بِذَلِكَ كُلِّهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَرَاهُ عَلَيَّ وَعِنْدِي فَلَا يُنْكِرُ، ثُمَّ قَالَتْ أَبْرَهَةُ: فَحَاجَتِي إِلَيْكِ أَنْ تُقْرِئِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي السَّلَامَ وَتُعْلِمِيهِ أَنِّي قَدِ اتَّبَعْتُ دِينَهُ، قَالَتْ: ثُمَّ لَطَفَتْ بِي وَكَانَتْ هِيَ الَّتِي جَهَّزَتْنِي، وَكَانَتْ كُلَّمَا دَخَلَتْ عَلَيَّ تَقُولُ: لَا تَنْسَيْ حَاجَتِي إِلَيْكِ، قَالَتْ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ كَيْفَ كَانَتِ الْخِطْبَةُ وَمَا فَعَلَتْ بِي أَبْرَهَةُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْرَأْتُهُ مِنْهَا السَّلَامَ، فَقَالَ: «وَعَلَيْهَا السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ»

محمد بن عمر کہتے ہیں : ام حبیبہ کا نام " رملہ بنت ابی سفیان بن حرب " ہے ۔ ان کی والدہ " صفیہ بنت ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس " ہے ۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی پھوپھی ہیں ، پہلے حرب بن امیہ کے حلیف عبید اللہ بن حجش بن رباب کے نکاح میں تھیں ۔ ان کے بطن سے حبیبہ پیدا ہوئیں ، اسی کے نام سے ان کنیت " ام حبیبہ " ہوئی ۔ حبیبہ کے ساتھ داود بن عروہ بن مسعود ثقفی نے شادی کی تھی ۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا شوہر عبید الله بن جحش بہت ڈراونی شکل میں ہے، میں اس سے ڈر جاتی ہوں، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! اس کا حال بدل گیا ہے۔ جب صبح ہوئی تو وہ کہنے لگا: اے ام حبیبہ میں نے دین کے بارے میں رات بہت غوروفکر کیا ہے، مجھے نصرانی دین سے بہتر کوئی دین نظر نہیں آرہا، میں پہلے بھی اسی دین پر تھا، پھر میں نے محمد کے دین کو اپنا لیا لیکن اب میں دوبارہ نصرانیت کی طرف لوٹ گیا ہوں، میں نے کہا: اللہ کی قسم اس میں تیرے لئے بہتری نہیں ہے، پھر میں نے اس کو وہ خواب سنایا جو میں نے گزشتہ رات دیکھا تھا لیکن اس نے اس پر کوئی توجہ نہ دی اور شراب نوشی میں مبتلا ہو گیا ، اور اسی عالم میں اس کو موت آگئی ۔ اس کے بعد ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی آنے والا آیا ہے اور مجھے " ام المومنین " کہہ کر پکارتا ہے، میں گھبرا جاتی ہوں، میں نے اس کی تعبیر یہ سوچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھ سے نکاح کریں گے، آپ فرماتی ہیں: میری عدت گزرگئی نجاشی کا ایک قاصد میرے دروازے پر آیا اور اس نے اجازت مانگی ، نجاشی کی ایک ابرہ نامی لونڈی تھی وہ اس کے کپڑے وغیرہ دھویا کرتی تھی، اس کو تیل وغیرہ لگایا کرتی تھی، وہ میرے پاس آئی اور کہنے گی: بادشاہ سلامت کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے خط لکھا ہے کہ میں ان کا نکاح تمہارے ساتھ کردوں ، میں نے کہا: اللہ تعالی تجھے اچھی خوشخبری دے۔ اس لونڈی نے کہا: بادشاہ سلامت کہہ رہے ہیں کہ تم اپنے نکاح کے لئے کسی کو اپناوکیل پنالو، میں نے خالد بن سعید کی جانب پیغام بھیجا اور اس کو اپنا وکیل بنالیا، میں نے ابرہ کو جو دعا دی تھی اس پر خوش ہو کر اس نے چاندی کے دو کنگن مجھے دیئے ، اور اپنے پاؤں میں پہنی ہوئی دو پازیبیں بھی اتار کر مجھے دے دیں اور چاندی کی انگوٹھیاں جو کہ اس نے اپنے پاؤں کی انگلیوں میں پہنی ہوئی تھیں وہ بھی مجھے دے دیں ۔ شام کا وقت ہوا تو نجاشی نے حضرت جعفر بن ابی طالب اور دیگر مسلمان جو وہاں موجود تھے، سب کو بلایا، جب یہ سب لوگ آ گئے تو نجاشی نے خطبہ دیتے ہوئے کہا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو مالک ہے، قدوس ہے، سلام ہے، مومن ہے۔ مہیمن ہے،عزیز ہے، جبار ہے۔ اللہ تعالی کے لئے وہ تمام تعریفیں ہیں جن کا وہ حق رکھتا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور یہ وہی ہیں جن کی آمد کی گواہی حضرت عیسی علیہ السلام نے دی تھی۔ اما بعد بے شک رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے خط لکھا ہے کہ میں ام حبیبہ بنت ابی سفیان کے ساتھ ان کا نکاح کر دوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم پر لبیک کہا ہے اور چار سودینار میں نے اس کا حق مہر رکھا ہے، یہ کہہ کر نجاشی نے لوگوں کے سامنے دینارڈھیر کر دیئے۔ اس کے بعد خالد بن سعید رضی اللہ عنہ بولے: میں حمد کرتا ہوں اللہ تعالی کی اور اسی سے مدد چاہتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اس رسول کو اللہ تعالی نے ہدایت اور حق کے ساتھ بھیجا ہے، وہ اس کو تمام ادیان پر غالب کردے اگر چہ مشرکین کو اچھا نہ لگے۔ اما بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم پر لبیک کہا ہے، اور میں نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان کا نکاح رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ کردیا ہے، اللہ تعالی اپنے رسول کو برکت عطا فرمائے۔ نجاشی نے وہ دینار خالد بن سعید کے حوالے کر دیئے،خالد نے وہ تمام دینار سمیٹ لئے ، پھر جب لوگ اٹھنے لگے تو نجاشی نے کہا: رک جاؤ، کیونکہ انبیاء کرام علیہ السلام کا طریقہ ہے کہ جب وہ شادی کرتے ہیں تو شادی کا کھانا کھلایا جاتا ہے ،نجاشی نے کھانا منگوایا، سب لوگوں نے کھانا کھایا پھر سب لوگ چلے گئے۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب وہ مال میرے پاس پہنچا تو میں نے اس ابره تامی لونڈی کو بلوایا جس نے مجھے خوشخبری دی تھی، میں نے اس سے کہا: اس دن میں نے تمہیں جو دیا تھا، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کوئی مال نہ تھا، اب یہ پچاس مثقال سونا ہے تم یہ لے لو اور اس کو اپنے استعمال میں لاؤ، اس نے ایک تھیلی نکالی، اس کے اندر وہ سب کچھ جمع تھا جو میں نے اس کو موقع بہ موقع دیا تھا، اس نے وہ سب مجھے واپس دیا اور بولی: بادشاہ سلامت نے مجھ سے وعدہ لیا ہے کہ میں تجھے دینے میں کوئی چیز نہیں کروں گی اور میں تو اس کے کپڑے دھوتی ہوں، اس کو تیل لگاتی ہوں اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دین کی پیروکار ہوں، اور میں اللہ کی رضا کے لئے اسلام لائی ہوں۔ ابھی تو بادشاہ سلامت نے اپنی بیویوں کو کہا ہے کہ ان کے پاس جو اچھے سے اچھا عطر ہے وہ آپ کو تحفہ دیں۔ اگلے دن وہ بہت سارا عود، ورس عنبر اور زباد(ایک قسم کی خوشبو ہے جو ایک بلی نما جانور سے حاصل کی جاتی ہے) لے کر آ گئی۔ میں یہ سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس لائی ، رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ سب میرے پاس دیکھتے تھے لیکن کبھی بھی ان سے مجھے منع نہیں فرمایا۔ پھر ابرہ نے مجھے کہا: میرا ایک کام کردینا، اس شہ خوباں کی بارگاہ میں میرا سلام عرض کردینا ۔ اور میرے بارے میں بتانا کہ میں نے ان کا دین اختیار کیا ہوا ہے، اورتم میرا یہ کام ہرگز بھولنا نہیں۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں پہنچ گئے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیغام نکاح پہنچنے اور اس ابرہ کے تعاون کی پوری داستان سنادی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا چہرہ کھل اٹھا۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس کا سلام بھی پیش کیا جضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کے سلام کا یوں جواب دیا: وعليها السلام ورحمة الله وبركاته

مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مَصْقَلَةَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of Habibah's daughter Abi Sufyan, may God be pleased with her · Hadith 6770

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6771

6771 - فَأَخْبَرَنِي مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَاقَرْحِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ إِلَى النَّجَاشِيِّ يَخْطُبُ عَلَيْهِ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ وَأَصْدَقَهَا النَّجَاشِيُّ مِنْ عِنْدِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَمِائَةِ دِينَارٍ» قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ: «فَمَا نَرَى عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ وَقَّتَ صَدَاقَ النِّسَاءِ أَرْبَعَمِائَةِ دِينَارٍ إِلَّا لِذَلِكَ»

حضرت جعفر بن محمد بن علی ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عمر و بن امیہ ضمری کو نجازشی کے پاس ام حبیبہ بنت ابو سفیان کے لئے پیغام نکاح دے کر بھیجا ۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنا پہلے عبید اللہ بن حجش کے نکاح میں تھیں ، نجاشی نے ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ کر دیا، اور اپنی طرف سے چار سو دینار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حق مہر ادا کیا۔ ابو جعفر کہتے ہیں : عبدالملک بن مروان نے اسی وجہ سے عورتوں کا حق مہر چار سو دینار مقرر کیا تھا۔

أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← محمد بن جرير الفقيه، ← مخلد بن جعفر الباقرحي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of Habibah's daughter Abi Sufyan, may God be pleased with her · Hadith 6771

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6772

6772 - فَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ أَصْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْوَاجَهُ، قَالَتْ: «كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنِصْفًا فَذَلِكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ وَإِنَّمَا أَصْدَقَ النَّجَاشِيُّ أُمَّ حَبِيبَةَ أَرْبَعَمِائَةِ دِينَارٍ اسْتِعْمَالًا لِأَخْلَاقِ الْمُلُوكِ فِي الْمُبَالَغَةِ فِي الصَّنَائِعِ لِاسْتِعَانَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ فِي ذَلِكَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6772 - صحيح

ابو سلمہ بن عبدالرحمن کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی ازواج مطہرات کا حق مہر کتنا رکھا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : 12 ساڑھے بارہ اوقیہ ، اس کی مقدار 500 دراہم بنتی ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بكر بن

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of Habibah's daughter Abi Sufyan, may God be pleased with her · Hadith 6772

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6773

6773 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: «جَهَّزَ النَّجَاشِيُّ أُمَّ حَبِيبَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعَثَ بِهَا مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ» قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، نِكَاحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ، قَالَ: «ذَاكَ الْفَحْلُ لَا يُقْرَعُ أَنْفُهُ» قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: دَعَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ، زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهَا فَقَالَتْ: «قَدْ كَانَ بَيْنَنَا مَا يَكُونُ بَيْنَ الضَّرَائِرِ فَغَفَرَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ وَتَجَاوَزَ وَحَلَّلْتُكِ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ» . فَقَالَتْ عَائِشَةُ: سَرَّرْتِنِي سَرَّكِ اللَّهُ، وَأَرْسَلَتْ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ. وَتُوُفِّيَتْ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعِينَ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

زہری کہتے ہیں : نجاشی نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف بھیجنے کے لئے تیار کروایا اور ان کے ہمراہ شرحبیل بن حسنہ کو روانہ فرمایا ۔ عبدالواحد بن ابی عون فرماتے ہیں : جب سفیان بن حرب کو پتا چلا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی بیٹی کے ساتھ نکاح کر لیا ہے ، تو کہنے لگا : اس نوجوان کو جھکایا نہیں جا سکتا ۔ عوف بن حارث کہتے ہیں : ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی وفات کے وقت مجھے اپنے پاس بلوایا ، اور کہنے لگی : ہمارے درمیان وہ ( خلش ) رہی جو عموماً سو تنوں کے درمیان ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ تمام معاف فرمائے ، میں نے ان تمام سے درگزر کر لیا ہے اور میں نے وہ تمام معاف کر دی ہیں ۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو نے مجھے خوش کیا، اللہ تعالیٰ تجھے کوش کرے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی ام المومنین حضرت ام سلمہ سے معافی مانگی ۔ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہا کی امارت میں سن 44 ہجری میں ہوا۔

الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of Habibah's daughter Abi Sufyan, may God be pleased with her · Hadith 6773

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6774

6774 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: «كَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشِ بْنِ رَبَابِ بْنِ يَعْمَرَ بْنِ صَبِرَةَ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ غَنْمِ بْنِ دُودَانَ بْنِ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَأُمُّهَا أُمَيْمَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَكَانَتْ زَيْنَبُ عِنْدَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فَفَارَقَهَا، فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» وَفِيهَا نَزَلَتْ: {فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا} [الأحزاب: 37] قَالَ: " فَكَانَتْ تَفْخَرُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: زَوَّجَنِي اللَّهُ مِنْ رَسُولِهِ وَزَوَّجَكُنَّ آبَاؤُكُنَّ وَأَقَارِبُكُنَّ وَحَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ هِيَ الْمُسْتَحَاضَةُ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَهِيَ أُخْتُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ "

مصعب بن عبید اللہ زبیری نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " زینب بنت حجش بن رباب بن یعمر بن صبرہ بن مرہ بن کثیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ " ۔ ان کی والدہ کا نام " امیمہ بنت عبدالمطلب بن ہاشم بن عمرو بن عبد مناف " ۔ پہلے حضرت زینب رضی اللہ عنہا ، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں تھیں ، انہوں نے ان کے طلاق دینے ( اور عدت گزرنے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے نکاح کیا تھا، انہی کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تھی : " ﴿ فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا٣٧﴾ [الأحزاب: 37] " پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہو جائے اور اللہ کا حکم ہو کر رہنا " ۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) راوی کہتے ہیں : حضرت زینب دیگر امہات المومنین سے فخریہ کہا کرتی تھی : میرا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ خود اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ، جبکہ تمہارا نکاح تمہارے ماں باپ نے ، رشتہ داروں نے کئے ہیں ۔ اور حمنہ بنت حجش مستحاضہ تھیں ، اور حضر عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، یہ حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں ۔

مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Zainab a girl of Jahsh, may God be pleased with her · Hadith 6774

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6775

6775 - فَحَدَّثَنَا بِشَرْحِ هَذِهِ الْقِصَصِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: «وَزَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشِ بْنِ رَبَابٍ أُخْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَحْشٍ» حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْجَحْشِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَكَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ مِمَّنْ هَاجَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتِ امْرَأَةً جَمِيلَةً، فَخَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، فَقَالَتْ: لَا أَرْضَاهُ وَكَانَتْ أَيِّمَ قُرَيْشٍ، قَالَ: «فَإِنِّي قَدْ رَضِيتُهُ لَكِ» فَتَزَوَّجَهَا زَيْدٌ الْحَدِيثَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ يَطْلُبُهُ، وَكَانَ زَيْدٌ إِنَّمَا يُقَالُ لَهُ: زَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَرُبَّمَا فَقْدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّاعَةَ فَيَقُولُ: «أَيْنَ زَيْدٌ؟» فَجَاءَ مَنْزِلَهُ يَطْلُبُهُ فَلَمْ يَجِدْهُ فَتَقُومُ إِلَيْهِ زَيْنَبُ فَتَقُولُ لَهُ: هُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَلَّى فَيُولِّي يُهَمْهِمُ بِشَيْءٍ لَا يَكَادُ يُفْهَمُ عَنْهُ إِلَّا سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ اللَّهِ مُصَرِّفِ الْقُلُوبِ، فَجَاءَ زَيْدٌ إِلَى مَنْزِلِهِ فَأَخْبَرَتْهُ امْرَأَتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مَنْزِلَهُ، فَقَالَ زَيْدٌ: أَلَا قُلْتِ لَهُ: يَدْخُلُ، قَالَتْ: قَدْ عَرَضْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَأَبَى قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: شَيْئًا قَالَتْ: سَمِعْتُهُ حِينَ وَلَّى تَكَلَّمَ بِكَلَامٍ لَا أَفْهَمُهُ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ اللَّهِ مُصَرِّفِ الْقُلُوبِ» قَالَ: فَخَرَجَ زَيْدٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَنِي أَنَّكَ جِئْتَ مَنْزِلِي فَهَلَّا دَخَلْتَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَعَلَّ زَيْنَبَ أَعْجَبَتْكَ فَأُفَارِقُهَا، فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ» فَمَا اسْتَطَاعَ زَيْدٌ إِلَيْهَا سَبِيلًا بَعْدَ ذَلِكَ، وَيَأْتِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُخْبِرُهُ فَيَقُولُ: «أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجُكَ» فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا أُفَارِقُهَا، فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْبِسْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ» فَفَارَقَهَا زَيْدٌ وَاعْتَزَلَهَا وَحَلَّتْ قَالَ: فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ يَتَحَدَّثُ مَعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِذْ أَخَذَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْمَةٌ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ وَهُوَ يَتَبَسَّمُ وَهُوَ يَقُولُ: «مَنْ يَذْهَبُ إِلَى زَيْنَبَ يُبَشِّرُهَا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ زَوَّجَنِيهَا مِنَ السَّمَاءِ» وَتَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: 37] الْقِصَّةَ كُلَّهَا قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: «فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ لِمَا كَانَ بَلَغَنِي مِنْ جَمَالِهَا وَأُخْرَى هِيَ أَعْظَمُ الْأُمُورِ وَأَشْرَفُهَا مَا صَنَعَ اللَّهُ لَهَا زَوَّجَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ السَّمَاءِ» وَقَالَتْ عَائِشَةُ: «هِيَ تَفْخَرُ عَلَيْنَا بِهَذَا» قَالَتْ عَائِشَةُ: «فَخَرَجَتْ سَلْمَى خَادِمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْتَدُّ، فَحَدَّثَتْهَا بِذَلِكَ فَأَعْطَتْهَا أَوْضَاحًا لَهَا» قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، قَالَ: «أَوْصَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، أَنْ تُحْمَلَ عَلَى سَرِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُجْعَلَ عَلَيْهِ نَعْشٌ» وَقِيلَ حُمِلَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " وَمَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى حَفَّارِينَ يَحْفِرُونَ قَبْرَ زَيْنَبَ فِي يَوْمِ صَائِفٍ فَقَالَ: «لَوْ أَنِّي ضَرَبْتُ عَلَيْهِمْ فُسْطَاطًا» وَكَانَ أَوَّلَ فُسْطَاطٍ ضُرِبَ عَلَى قَبْرٍ بِالْبَقِيعِ " قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلِيطٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا أَحْمَدَ بْنَ جَحْشٍ، يَحْمِلُ سَرِيرَ زَيْنَبَ وَهُوَ مَكْفُوفٌ وَهُوَ يَبْكِي، وَأَسْمَعُ عُمَرَ، يَقُولُ: يَا أَبَا أَحْمَدَ، تَنَحَّ عَنِ السَّرِيرِ لَا يُعْنِتْكَ النَّاسُ عَلَى سَرِيرِهَا، فَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ: «هَذِهِ الَّتِي نِلْنَا بِهَا كُلَّ خَيْرٍ وَإِنَّ هَذَا يُبَرِّدُ حَرَّ مَا أَجِدُ» ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْزَمُ الْزَمْ قَالَ: وَحَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْجَحْشِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «مَا تَرَكَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا كَانَتْ تَتَصَدَّقُ بِكُلِّ مَا قَدَرَتْ عَلَيْهِ، وَكَانَتْ مَأْوَى الْمَسَاكِينِ، وَتَرَكَتْ مَنْزِلِهَا فَبَاعُوهُ مِنَ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ حِينَ هُدِمَ الْمَسْجِدُ بِخَمْسِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ» قَالَ: وَحَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْجَحْشِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَتْ أُمُّ عُكَّاشَةَ بِنْتُ مِحْصَنٍ، كَمْ بَلَغَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ يَوْمَ تُوُفِّيَتْ؟ فَقَالَتْ: «قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ لِلْهِجْرَةِ وَهِيَ بِنْتُ بِضْعٍ وَثَلَاثِينَ، وَتُوُفِّيَتْ سَنَةَ عِشْرِينَ» قَالَ عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ: كَانَ أَبِي، يَقُولُ: «تُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ ابْنَةُ ثَلَاثٍ وَخَمْسِينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6775 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

محمد بن عمر فرماتے ہیں : زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا حضرت عبدالرحمن بن حجش رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں۔ عمر بن عثمان حجش اپنے والد کیا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ " نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ ہجرت کر کے مدینہ شریف آنے والی خواتین میں حضرت زینب بنت حجش بھی شامل تھیں ، آپ بہت حسین و جمیل خاتون تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت زید بن حارثہ کے لئے ان کا رشتہ مانگا تھا، انہوں نے انکار کر دیا، آپ بیوہ تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : میں نے تو تمہیں اس کے لئے پسند کر لیا ہے ، تب انہوں نے حضرت زید سے نکاح کر لیا ۔ ( حدیث اس سے آگے بھی ہے ) محمد بن یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں: حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو عموماً لوگ ’’زید بن محمد " کہتے تھے کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ اگر حضرت زید رضی اللہ عنہ کچھ دیر کے لئے کہیں چلے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بار بار ان کے بارے میں پوچھتے ۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کو ڈھونڈتے ہوئے ان کے گھر تشریف لے گئے ، حضرت زید رضی اللہ عنہ اپنے گھر پر نہ تھے، حضرت زینب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ فلاں جگہ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وہاں سے واپس تشریف لے آئے، واپس آتے ہوئے آپ کچھ بول رہے تھے لیکن آپ کی زبان سے صرف سبحان الله العظيم سبحان اللہ مصرف القلوب کے الفاظ پتا چل رہے تھے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ گھر آئے توان کی زوج محترمہ نے ان کو بتایا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گھر آئے تھے، حضرت زید نے پوچھا: کیا تم نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اندر آنے کانہیں کہا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں نے کہا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انکارفرمادیا تھا۔ لیکن رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب واپس تشریف لے گئے تو آپ کچھ ارشادفرمارہے تھے ، مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا البتہ اتنے الفاظ مجھے سمجھ میں آئے تھے آپ کہہ رہے تھے" سبحان الله العظیم ، سبحان الله مصرف القلوب‘‘۔ راوی کہتے ہیں: حضرت زید رضی اللہ عنہ اسی وقت گھر سے نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے ، اور عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھے پتا چلا ہے کہ آپ میرے غریب خانے پر تشریف لائے تھے، یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں، آپ اندر تشریف کیوں نہیں لے گئے؟ شاید کہ آپ کو زیب پسند آ گئی ہے کیا میں اس کوعلیحدگی دے دوں؟ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: (نہیں اس کو علیحدگی نہیں دی بلکہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو۔ لیکن اس کے بعد حضرت زید نے اپنی بیوی سے قربت نہ کی ، اس لئے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آئے اور اپنی تمام صورت حال کہہ سنائی ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پھر بھی یہی فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو، حضرت زید نے کہا: یا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں اس کو علیحدگی دے دوں گا۔ لیکن رسول اللہ نے فرمایا: تم اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو، لیکن حضرت زید رضی اللہ عنہ نے ان کو علیحدگی اختیار کر لی ، خود ان سے دور ہو گئے ، اور ان کی عدت بھی گزرگئی۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بیٹھے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے باتیں کررہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر غشی کی سی کیفیت طاری ہوگئی، جب وہ کیفیت ختم ہوئی تو رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چہرہ انور پر مسکراہٹ تھی، اور آپ فرمارہے تھے کون شخص زینب کو یہ خوشخبری سنانے جائے گا کہ الله تعالی نے آسمان پر اس کا میرے ساتھ نکاح کردیا ہے" ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ ٣٧﴾ [الأحزاب: 37]” اور اے محبوب یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اللہ نے نعمت دی اور تم نے اسے نعمت دی کہ اپنی بی بی اپنے پاس رہنے دے " (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : مجھے تو قریب و بعید ہر طرف سے ان پر رشک آنے لگا ، کیونکہ اس کے حسن و جمال کے بارے میں پہلے ہی مجھے بہت کچھ معلوم تھا لیکن سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ آسمانوں پر کر دیا تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : اس بناء پر زینب ہم پر بہت فخر جتلایا کرتی تھی ۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خادمہ حضرت سلمیٰ دوڑتی ہوئی گئیں اور جا کر حضرت زینب کو یہ خوشخبری سنائی ، یہ خوشخبری سن کر حضرت زینب نے اس کو اپنا زیور تحفہ دے دیا۔محمد بن ابراہیم تیمی فرماتے ہیں : حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا نے یہ وصیت کی تھی کہ ان کی میت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی چارپائی پر رکھی جاے اور اسی چار پائی پر ان کا جنازہ اٹھایا جائے ۔ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ اسی چار پائی پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا بھی جنازہ اٹھایا گیا تھا۔ حضرت عثمان بن خطاب رضی اللہ عنہ قبر کھودنے والوں کے پاس گئے ، وہ لوگ سخت گرمی کے دن حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی قبر کھود رہے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس پر روضہ بناؤں گا ، چنانچہ وہ پہلی قبر تھی جس پر جنت البقیع میں روضہ بنایا گیا۔ عبداللہ ابن ابی سلیط فرماتے ہیں : میں نے ابواحمد بن حجش کو دیکھا وہ حضرت زینب کے جنازے کو کندھائیے ہوئے تھے ، اور رو رہے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابواحمد ! آپ جنازہ سے ہٹ جائیے گے ، لوگ آپ جو جنازے کی چارپائی پر تھکا دیں گے ۔ ابو احمد نے کہا : ہم نے اس خاتون سے ہر بھلائی پائی ، اور بے شک یہ اس چیز کی گرمی کو ختم کرے گی جو گرمی میں پاتا ہوں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ( درمیان سے ہٹ گئے اور ) بولے : پکڑ لو، پکڑ لو، عمر بن عثمان حجش اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ( آپ فرماتے ہیں ) حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا نے کوئی درہم اور دینار وغیرہ وراثت نہیں چھوڑی ، بلکہ جو چیز ان کے ہاتھ آتی ، آپ وہ سب خیرات کر دیا کرتی تھیں ۔ آپ مساکین کا ماویٰ و ہلجا تھیں ۔ انہوں نے اپنا ایک مکان چھوڑا تھا، جب مسجد کی توسیع کا کام شروع ہو تو اس کو ولید بن عبدالملک کے ہاتھوں 50،000 ، پچاس ہزار دراہم کے عوض بیچ دیا گیا۔ عمر بن عثمان حجشی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت ام عکاشہ بنت محصن سے پوچھا گیا : وفات کے وقت حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کی عمر کتنی تھی ؟ انہوں نے کہا: جب ہم ہجرت کر کے مدینہ شریف آئے تو اس وقت ان کی عمر تیس برس سے کچھ زائد تھی ، اور آپ کا انتقال سن 20 ہجری میں ہوا۔ حضرت عمر بن عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میرے والد صاحب کہا کرتے تھے : زینب حجش رضی اللہ عنہ کا انتقال 53 برس کی عمر میں ہوا۔

جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ بَيْتَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ يَطْلُبُهُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ الأَسْلَمِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← «فَإِنِّي قَدْ رَضِيتُهُ لَكِ» فَتَزَوَّجَهَا زَيْدٌ الْحَدِيثَ ← لَا أَرْضَاهُ وَكَانَتْ أَيِّمَ قُرَيْشٍ، ← كَانَتِ امْرَأَةً جَمِيلَةً، فَخَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ عَلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، ← كَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ مِمَّنْ هَاجَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← قدم النبي المدينة ← أَبِيهِ ← عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْجَحْشِيُّ، ← «وَزَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشِ بْنِ رَبَابٍ أُخْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَحْشٍ» ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← بِشَرْحِ هَذِهِ الْقِصَصِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Zainab a girl of Jahsh, may God be pleased with her · Hadith 6775

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6776

6776 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْخُرَاسَانِيُّ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَىِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ: «أَسْرَعُكُنَّ لُحُوقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكُنَّا إِذَا اجْتَمَعْنَا فِي بَيْتِ إِحْدَانَا بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَمُدُّ أَيْدِيَنَا فِي الْجِدَارِ نَتَطَاوَلُ، فَلَمْ نَزَلْ نَفْعَلُ ذَلِكَ حَتَّى تُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتِ امْرَأَةً قَصِيرَةً وَلَمْ تَكُنْ أَطْوَلَنَا، فَعَرَفْنَا حِينَئِذٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِطُولِ الْيَدِ الصَّدَقَةَ قَالَ: «وَكَانَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةٌ صَنَّاعَةَ الْيَدِ فَكَانَتْ تَدْبُغُ وَتَخْرُزُ وَتَصَدَّقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6776 - على شرط مسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی ازواج سے کہا : تم سب سے پہلے میرے پاس وہ آئے گی جس کے ہاتھ سب سے زیادہ لمبے ہیں ۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے انتقال کے بعد ایک دفعہ ہم ایک گھر میں اکٹھی ہوئیں اور ایک دیوار کے ساتھ اپنے ہاتھ ناپنے لگیں، ہم یونہی اپنے ہاتھ ناپا کرتی تھی کہ حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا، ان کا قد سب سے چھوٹا تھا ، یہ ہم میں سے کسی سے بھی لمبی نہیں تھیں ، تب ہم سمجھیں کہ ہاتھ لمبے ہونے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مراد " صدقہ و خیرات کرنا " تھی ، راوی کہتے ہیں : حضرت زینت کو دستکاری کے بہت کام آتے تھے ، آپ چمڑے کو دباغت دیتی تھی ، پودے لگاتی تھی اور جو رقم آتی ، اس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کر دیا کرتی تھی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ الْمَدَنِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْخُرَاسَانِيُّ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Zainab a girl of Jahsh, may God be pleased with her · Hadith 6776

chevron_left Previous
1…585960…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section