حضرت قیس بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کو ( ایک ) طلاق دے دی ، اس کے بعد حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے دو ماموں قدامہ بن مظعون اور عثمان بن مظعون انے کے پاس آئے ، حضرت حفصہ ان کے پاس بہت روئیں ۔ اور کہنے لگی : اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے طلاق نہیں دی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تشریف لائے اور فرمایا : مجھے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے کہا ہے : حفصہ رضی اللہ عنہا سے رجوع کر لو کینوکہ وہ نماز و روزہ کی پابند ہے اور وہ جنت میں بھی آپ کی زوجہ ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers Hafsa, daughter Omar bin al-Khattab, may God be pleased with them · Hadith 6753
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی ، حضرت جبرائیل امین علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! آپ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی ہے ، حالانکہ وہ تو نماز روزہ کی پابند ہے ، اور وہ جنت میں بھی آپ کی زوجہ ہے ۔ اس لئے آپ ان سے رجوع فرما لیجیے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the believers Hafsa, daughter Omar bin al-Khattab, may God be pleased with them · Hadith 6754
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Mother of the Believers, Umm Salamah, the daughter of Abu Umayya, may God be pleased with her · Hadith 6755
ابن شہاب کہتے ہیں وہ لوگ جو حبشہ کی جانب پہلی ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس مکہ میں آئے تھے اور پھر مدینہ منورہ کی جانب بھی ہجرت کی تھی ، ان میں " أبو سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد " اور ان کی زوجہ " ام سلمہ بنت ابی امیہ " ہیں ۔
ابْنِ شِهَابٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Mother of the Believers, Umm Salamah, the daughter of Abu Umayya, may God be pleased with her · Hadith 6756
مصعب بن عبداللہ زبیری فرماتے ہیں : حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا اصل نام " رملہ " ہے ، آپ پہلی مہاجرہ ہیں جو ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئیں۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پہلے " ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم " کے نکاح میں تھیں۔ ابو سلمہ حبشہ کی جانب سب سے پہلے ہجرت کرنے والی شخصیت ہیں اور آپ نے غزوہ بدر میں بھی شرکت کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دور میں ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ ام سلمہ کے بطن سے ابوسلمہ کے چار بچے سلمہ ، عمر ، درہ اور زینب پیدا ہوئے ۔ ان کی والدہ ام سلمہ ہیں جنہوں نے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نکاح کیا ۔ ام سلمہ کے بیٹے عمر بن ابی سلمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی متعدد احادیث روایت کی ہیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Mother of the Believers, Umm Salamah, the daughter of Abu Umayya, may God be pleased with her · Hadith 6757
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : جب تم میت یا مریض کے پاس جاؤ تو اس کے بارے میں ہمیشہ اچھی بات کہو، کینوکہ تم جو کچھ کہتے ہو، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ۔ جب حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور میں نے پوچھا : اس موقع پر میں کیا دعا مانگو؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : یہ دعا مانگو " اے اللہ ! ہماری اور اس ( ابو سلمہ ) مغفرت فرما ،اور مجھے اس کا اچھا بدل عطا فرما" میں نے وہی دعا مانگی اور اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صورت میں واقعی اچھا بدل عطا فرما دیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Mother of the Believers, Umm Salamah, the daughter of Abu Umayya, may God be pleased with her · Hadith 6758
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہیں کوئی مصیبت آئے تو یوں دعا مانگو : " ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی جانب ہمیں لوٹ کر جانا ہے، اے اللہ میں اپنی مصیبت کا معاملہ تیری بارگاہ میں پیش کرتا ہوں تو مجھے اس میں اجر عطا فرما " ام المومنین فرماتی ہیں (اس دعا میں اس سے آگے یہ الفاظ ہیں ، یا اللہ ! مجھے اس کا اچھا بدل عطا فرما، چنانچہ )میں جب اگلے لفظ بولنے گئی تو میں سوچتی کہ ابوسلمہ سے بہتر مجھے کونسا شو ہر مل سکتا ہے لیکن میں یہ دعاسلسل مانگتی رہی ، حتیٰ کہ جب میری عدت پوری ہوگئی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے پیغام نکاح بھیجا، میں نے انکار کر دیا، پھر حضرت عمر نے پیغام بھیجا، میں نے ان کو بھی انکار کر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پیغام نکاح دے کر ایک خاتون کو بطورنمائندہ بھیجا، ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالی کے رسول کو خوش آمدید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سفیر کوبھی خوش آمدید۔ (پھر اس خاتون سے کہا ) تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو. میرا سلام کہنا اور آپ کو بتا دینا کہ مجھ میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے اور میں بہت زیادہ غیرت مند بھی ہوں ۔ اور یہ کہ میرے قریبی رشتہ داروں میں کوئی بھی اس وقت میرے پاس نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جواباً پیغام بھیجا کہ بچوں کے معاملہ میں الله تعالی تیرے بچوں کو تیرے لئے سلامت رکھے (میری طرف سے اس بات کی پرواہ نہ کرو ) اور جہاں تک غیرت کا معاملہ ہے تو میں دعا کروں گا کہ اللہ تعالی تمہاری اس کیفیت میں نرمی عطافرمائے ۔ اور جہاں تک اولیاء کا ہے تو تمہارے جتنے بھی اولیاء ہیں چاہے یہاں حاضر ہیں یا غائب ہیں سب کو راضی کرنا میری ذمہ داری ہے۔ ام المومنین نے اپنے بیٹے سے کہا: اے بیٹے عمر جاؤ اور رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ میرا نکاح کر دو، ان کے بیٹے نے ان کا نکاح رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ کر دیا ۔ اور ان سے کہا: میں نے جتنا سامان تمہاری فلاں بہن کو دیا تھا اتنا ہی آپ کوبھی دونگا، اس میں کچھ بھی کمی نہیں کروں گا۔ چنانچہ دو مٹکے، دوچکیاں اور ایک تکیہ جس میں لیف بکھرا ہوا تھا ان کو جہیز میں دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کے پاس تشریف لاتے تھے۔ ان ایام میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی " زینب" دودھ پیتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب بھی تشریف لاتے توام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی بیٹی زینب کو گود میں لٹا کر دودھ پلانے لگ جاتی تھیں۔ آپ فرماتی ہیں: رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بہت نرم مزاج اور حیا دار تھے، آپ غصہ کئے بغیر واپس تشریف لے جاتے تھے، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی ہیں ، وہ معاملہ سمجھ گئے ۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو حضرت عمار بن یاسر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان کی گود سے زینب کو چھین لیا اور کہا: اس گندی بچی کو چھوڑ دوتو نے اس کے سبب رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تکلیف دی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تشریف لے آئے ، آپ نے حجرے کے چاروں طرف نظر دوڑائی اور پوچھا: زینب کہاں ہے؟ کیا بات ہے آج زینب نظرنہیں آرہی ؟ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: عمار آیا تھا وہ اس کو اپنے ساتھ لے گیا، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی اس بیوی کے ساتھ سلسلہ ازدواج شروع کیا۔ اور ان سے فرمایا: اگرتم چاہوتو میں ساتوں دن تمہارے پاس آیا کروں اور اس صورت میں دیگر ) ازواج کے پاس بھی ساتوں دن جایا کروں گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ابن عمر بن ابی سلمہ کہتے ہیں: اس حدیث میں حماد بن سلمہ نے جس راوی کا نام ذکر نہیں کیا ہے، ایک اور محدث نے ان کا نام ذکر کر دیا ہے۔ وہ " سعید بن عمر بن ابی سلمہ" ہیں ۔
أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← ابن عمر بن أبي سلمة ← حماد بن سلمة أنبأ ثابت ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Mother of the Believers, Umm Salamah, the daughter of Abu Umayya, may God be pleased with her · Hadith 6759
عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو انہوں نے اپنا کپڑا اپنے اوپر لیا جو کہ ان کو ان کے حجرے سے نکلنے سے مانع تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اگر تم چاہو تو میں تمہاری باری میں اضافہ کر دیتا ہوں ، ( ویسے میرا طریقہ یہ ہے کہ کنواریوں کو ( ایک ہفتے میں ) سات باریاں دیتا ہوں ، اور ثیبات ( جو پہلے کسی شوہر کے پاس رہ چکی ہیں ) کو ( ہفتے میں ) تین دن ملتے ہیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Mother of the Believers, Umm Salamah, the daughter of Abu Umayya, may God be pleased with her · Hadith 6760
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں : ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا نام " ہند بنت ابی امیہ " ہے ۔ اور ابو امیہ کا نام " سہیل بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم " ہے ۔ ان کی والدہ " عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ بن مالک بن خزیمہ بن علقمہ بن فراس بن غنم بن مالک بن کنانہ " ہیں ۔ پہلے ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال نے ان سے نکاح کیا تھا۔ اور ان کو ساتھ لے کر حبشہ کی دونوں ہجرتوں میں ہجرت کی ، وہاں پر ابو سلمہ کے ہاں زینب پیدا ہوئی ، اور اس کے بعد ام سلمہ کے ہاں ابو سلمہ کے تین بیٹے سلمہ ،عمر اور درہ پیدا ہوئے ۔ عمر بن ابی سلمہ بن عبدالاسد بیان کرتے ہیں کہ میرے والد محترم جنگ احد میں گئے ، ابو اسامہ جشمی نے ان کے بازو میں تیری مارا، اس کے بعد ایک مہینہ تک والد صاحب نے اس زخم کا علاج کروایا، زخم بالکل ٹھیک ہو گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے 35 مہینے بعد محرام الحرام میں ان کو قطن کی جانب بھیجا، آپ 29 راتیں غائب رہے ، پھر واپس آ گئے ، 4 ہجری 8 صفر المظفر کو آپ واپس آ گئے ، ان کا زخم دوبارہ خراب ہو گیا تھا، اسی زخم کی وجہ سے 4 ہجری 8 جمادی الآخر کو وصال فرما گئے ۔ پھر میری والدہ نے عدت گزاری ۔ 4 ہجری کے شوال کی 20 تاریخ کو میری والدہ کی عدت پوری ہو گئی ۔ سن 4 ہجری کے شوال کے ابھی دس دن رہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کر لیا۔ پھر اہل مدینہ کہا کرتے تھے عرب کی " ایک خاتون " اسلام اور مسلمانوں کے سردار کے پاس رات کے اول حصہ میں دلہن بن کر داخل ہوئی اور رات کے آخری حصہ میں وہ چکی پر دانے پیس رہی تھی ۔ یہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔ عبداللہ بن نافع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وصیت کی کہ مدینہ کا والی ان کی نماز جنازہ نہ پڑھائے ، ان دنوں ولید بن عتبہ بن ابی سفیان مدینہ کا والی تھا۔ سن 59 ہجری کے اوائل میں آپ کا انتقال ہوا۔ اور ان کے بھتیجے حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن ابی امیہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Mother of the Believers, Umm Salamah, the daughter of Abu Umayya, may God be pleased with her · Hadith 6761
زہری کہتے ہیں : ہند بنت حارث فراسیہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : عائشہ کا میرے دل میں ایک مقام ہے ، اس سے آگے کوئی نہیں بڑھ سکا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا تو کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدہ عائشہ والے مقام کا کیا بنا ؟ رسول اللہ نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس مقام پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فائز ہو چکی تھیں۔
هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني بمكة
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Mother of the Believers, Umm Salamah, the daughter of Abu Umayya, may God be pleased with her · Hadith 6762
ابو عبیدہ معمر بن مثنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہجرت کے دورے سال جنگ بدر سے پہلے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا اصل نام " ہند بنت ابی امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم " ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سب سے پہلے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا اور سب سے آخر میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا وصال مبارک ہوا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Mother of the Believers, Umm Salamah, the daughter of Abu Umayya, may God be pleased with her · Hadith 6763
سلمیٰ فرماتی ہیں : میں ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی ، آپ زارو قطار رو رہی تھیں۔ میں نے رونے کی وجہ پوچھی تو فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے ، آپ کا چہرہ انور اور داڑھی مبارک غبار آلود ہے اور آپ رو رہے ہیں ، میں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ابھی ابھی میرے نواسے حسین کو شہید کر دیا گیا ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Mother of the Believers, Umm Salamah, the daughter of Abu Umayya, may God be pleased with her · Hadith 6764