حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے ایک قوم کی جانب اللہ تعالیٰ کے دین اور شریعت مطہرہ کے احکام کی تبلیغ کے لئے بھیجا، میں ان کے پاس آیا ، انہوں نے اپنے اونٹوں کو پانی سے سیراب کیا، ان کا دودھ دوہا اور پیا، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو مجھے خوش آمدید کہا، پھر کہنے لگے: ہمیں پتا چلا ہے کہ تم اس آدمی کے پیچھے لگ کر صابی ہو چکے ہو؟ میں نے کہا: نہیں ، بلکہ میں تو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان لایا ہوں ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے تمہارے پاس اللہ تعالی کا دین اور اس کی شریعت کے احکام سکھانے کے لئے بھیجا ہے، اسی دوران وہ لوگ خون کا بھرا ہوا پیالہ لائے، اور اپنے سامنے رکھ لیا، سب لوگ اس پر جمع ہوگئے اور کھانے لگے۔ انہوں نے مجھے بھی صلح ماری، میں نے کہا: تم ہلاک ہو جاؤ ، میں ایسی ہستی کی طرف سے تمہارے پاس آیا ہوں جو خون کو حرام قرار دیتے ہیں اور یہ حکم ان کو اس چیز میں ملا ہے جوان پر اللہ تعالی کی طرف اتاری گئی ہے۔ انہوں نے کہا: وہ کیا حکم ہے؟ میں نے کہا: ان پر یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ : " ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ ٣﴾ [المائدة: 3]" تم پر حرام ہے مر دار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا اور وہ جو گلہ گھونٹنے سے مرے اور بے دھار کی چیز سے مارا ہوا اور جو گر کر مرا اور جسے کسی جانور نے سینگ مارا اور جسے کوئی درندہ کھا گیا مگر جنہیں تم ذبح کرلو ((ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ) میں ان کو اسلام کی دعوت دینے لگا لیکن وہ مسلسل انکار کرتے رہے، میں نے ان سے کہا: تمہارے لئے ہلاکت ہو تم مجھے کوئی پانی وغیرہ پلاؤ، مجھے بہت سخت پیاس لگی ہے، انہوں نے کہا: جی نہیں ۔ بلکہ ہم تمہیں چھوڑ دیتے ہیں تو پیاس سے مر جائے گا۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے عمامہ باندھا اور اپنا پورا سر عمامے میں چھپا کر سخت گرمی میں دھوپ میں سونے کے لئے لیٹ گیا خواب میں کوئی شخص آیا، اس کے ہاتھ میں شیشے کا پیالہ تھا بھی کسی نے اس سے زیادہ خوبصورت پیالہ نہیں دیکھا ہوگا، اس پیالے میں شربت تھا، کبھی کسی نے اس سے زیادہ لذیذ مشروب نہیں چکھا ہو گا ، اس نے وہ پیالہ مجھے دیا، میں نے وہ پی لیا، جب میں پینے سے فارغ ہوا تو میری آنکھ کھل گئی، اللہ کی قسم !اب مجھے ذرا بھی پیاس کا احساس نہیں تھا، اور اس کے بعد بھی کبھی مجھے پیاس نہیں لگی ۔ میں نے ان کو باتیں کرتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے تمہارے پاس تمہاری قوم کا ایک مسافر آیا ہے اورتم نے اس کو پینے کے لئے کچھ نہیں دیا کم از کم اس کو پانی ملا دودھ تو پلا دو، میں نے کہا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بے شک اللہ تبارک وتعالی نے مجھے کھلا بھی دیا ہے اور پلا بھی دیا ہے، میں نے ان کو اپنا پیٹ دکھایا۔ یہ دیکھتے ہی سب کے سب مسلمان ہو گئے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Abu Imamat al-Bahili, may God be pleased with him · Hadith 6705
خلیفہ بن خیاط نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " معاویہ بن حیدہ بن معاویہ بن قشیر بن کعب بن ربیعہ بن عامر " انہوں نے ان کو عبداللہ بن جارود سے منسوب کیا ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Mu’awiyah ibn Haydah al-Qushayri, may God be pleased with him · Hadith 6706
حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تیری والدہ ۔ اس کے بعد پوری حدیث بیان کی ۔ میں نے ابن عون کی بہز سے روایت کردہ حدیث فقط ان کے والد حکیم کے حوالے سے ہی بیان کی ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Mu’awiyah ibn Haydah al-Qushayri, may God be pleased with him · Hadith 6707
حکیم بن معاویہ بن حیدہ نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بھائی مالک بن حیدہ سے کہا: تم میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلو ، کیونکہ وہ تمہیں پہچانتے ہیں ، مجھے نہیں پہچانتے ، انہوں نے میرے کچھ پڑوسیوں کو گرفتار کر لیا ہوا ہے ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلے آئے ، مالک بن حیدہ نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں بھی اسلام لا چکا ہوں اور میرے پڑوسی بھی مسلمان ہو چکے ہیں ، اس لئے آپ ان کو رہا کر دیجئے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو کوئی جواب نہ دیا، مالک نے دوبارہ کہا: حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر کوئی جواب ہ دیا، وہ غصے میں بپھر کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اگر تم اسی طرح کرو گے تو وہ سمجھیں گے کہ تم جس چیز کا دوسروں کا حکم دیتے ہو ، خود اسی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہو، میں اس کو ڈانٹنے لگ گیا ، اور اس کو ایسی باتیں کرنے سے روکنے لگ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : یہ کہا کہہ رہے ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ فلاں فلاں باتیں کر رہا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میں جو کچھ کر رہا ہوں ، اس کا وبال میرے اوپر ہو گا، اس سے ان کا تو کوئی نقصان نہیں ہے ، اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Malik bin Haida my brother Mu'awiyah, may God be pleased with him · Hadith 6708
حضرت مخمر بن حیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں کئی کئی مہینے پانی والے علاقے سے بہت دور رہتا ہوں جبکہ میری بیوی میرے ہمراہ ہوتی ہے ، کیا میں اس سے ہمبستری کر سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ۔ اگرچہ تم 60 سال پانی سے دور رہو ۔ ( تب بھی ہمبستری کر سکتے ہو اور غسل کے لئے تیمم کر لیا کرو ) اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج مطہرات کا بیان ہوگا۔ ( جس کے ضمن میں درج ذیل موضوع زیر بحث آئیں گے ) ٭ قبل اسلام کتنی اور کون کون سی ازواج تھیں اور بعد اسلام کتنی اور کون کون تھیں؟ ، ٭ کنواری کتنی اور کون کون سی تھیں اور دوسری شادی والی کتنی اور کون کون سی تھیں؟ ، ٭ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج کی کل تعداد کتنی تھی ؟ ، ٭ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج مطہرات کے اسماء گرامی کیا کیا تھے ؟ ، ٭ کس کس زوجہ کے بطن سے کتنی اولادیں ہوئیں ؟ ، ٭ کن کن ازواج سے مدینہ منورہ میں شادی ہوئی اور کن کن سے دیگر علاقوں میں ہوئی ؟ ، ٭ قریش خاندان سے کتنی ازواج کا تعلق تھا ؟ ، قریس کے حلیف قبائل سے کتنی ازواج کا تعلق تھا ؟ ، ٭ دیگر عرب سے تعلق رکھنے والی کون کون سی ازواج تھیں ؟ ، ٭ بنی اسرائیل میں سے کون کون تھیں ؟ ، ٭ عرب کنیزوں میں سے کون تھیں ؟ ، ٭ کون کون سے عورتیں ایسی ہیں جا کو پیغام نکاح تو بھیجا تھا مگر نکاح کی نوبت نہیں آئی ؟ ، ٭ ان ازواج کے ساتھ نکاح کے اوقات کیا کیا تھے ؟ ، ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ظاہری وصال تک آپ کے ساتھ کون کون رہیں ؟ ، ٭ عجمی کنیزوں میں سے کون کون تھیں ؟ ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Mukhmar ibn Haydah, their third brother, may God be pleased with him · Hadith 6709
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ تسمیۃ أزواج رسول اللہﷺ · حديث 6710
زہری کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عرب کی دس ایسی خواتین سے شادی کی جن کی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ دوسری شادی تھی ۔ عبداللہ بن محمد بن عقیل سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Naming the spouses of the Messenger of God · Hadith 6710
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ تسمیۃ أزواج رسول اللہﷺ · حديث 6711
عبداللہ بن محمد بن عقیل فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دس عورتوں سے شادی کی ۔ اس عدد میں قتادہ اور دیگر کئی ائمہ نے مذکورہ دونوں راویوں کی مخالفت کی ہے ۔ قتادہ کا قول یہ ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Naming the spouses of the Messenger of God · Hadith 6711
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ تسمیۃ أزواج رسول اللہﷺ · حديث 6712
حضرت قتادہ فرماتے ہیں : رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے 15 عورتوں سے شادی کی ہے ۔ ان میں سے 6 کا تعلق قریش سے ہے ، ایک قریش کے حلیف قبیلے سے ہے ، اور 7 خواتین دیگر اہل عرب سے ہیں ، اور ایک بنی اسرائیل تعلق رکھتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جاہلیت میں صرف ایک ہی شادی کی تھی ۔ ابو عبیدہ معمر بن مثنی نے ان کی مخالفت کی ( مصنف کے نزدیک ) ان کا قول زیادہ بہتر اور درستگی کے زیادہ قریب ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Naming the spouses of the Messenger of God · Hadith 6712
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ تسمیۃ أزواج رسول اللہﷺ · حديث 6713
ابو عبید القاسم بن سلام فرماتے ہیں : یہ بات ثابت ہے اور ہمارے نزدیک صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم 18 عورتوں سے نکاح کیا۔ ان میں سے 7 عورتیں قریش کے قبیلوں سے ہیں، ایک قریش کے حلیف قبیلے سے ہیں ، 7 ازواج دیگر اہل عرب سے ہیں ، ایک کا تعلق بنی اسرائیل سے ہے ، وہ حضرت موسیٰ بن ہارون علیہ السلام کے بھائی حضرت ہارون بن عمران علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔ حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جاہلیت میں سب سے پہلے جس خاتون سے شادی کی وہ " حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا " ہیں ۔ ان کے بعد زمانہ اسلام میں مکہ مکرمہ میں حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی ہجرت سے دو سال قبال ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا، جنگ بدر کے بعد سن 2 ہجری کو مدینہ منورہ میں ام المومنین حج ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا۔ اسی سال ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا۔ یہ پانچ خواتین اہل عرب سے تھیں ۔ 5 ہجری کو ام المومنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کیا۔ 6 ہجری کو حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا۔ 7 ہجری کو حضرت صفیہ بنت حییی رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا۔ ان کے بعد حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا۔ ان کے بعد حضرت فاطمہ بنت شریح رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا، ان کے بعد حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا۔ ان کے بعد حضرت ہند بنت یزید رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا ، ان کے بعد حضرت اسماء بنت نعمان رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا۔ ان کے بعد حضرت قتیلہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو کہ اشعث کی بہن ہیں کے ساتھ نکاح کیا۔ ان کے بعد حضرت سناء بنت صلت سلمیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Naming the spouses of the Messenger of God · Hadith 6713
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کیا، اس وقت المومنین کی عمر مبارک 7 برس تھی ، اور جب رخصتی ہوئی تو اس وقت ان کی عمر 9 سال تھی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وصال مبارک ہوا، اس وقت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر 18 برس تھی ۔ 87 سال کی عمر میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں آپ کا وصال ہوا۔
أَبِيهِ ← عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأَسَدِيُّ الْحَافِظُ، بِهَمْدَانَ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Male Sahaabiyaat of the Messenger of Allah pairs peace be upon him, and others may Allah be pleased about them, the first of them to begin friendly girl friend Aisha girl Abu Bakr, may Allah be pleased · Hadith 6714
مصعب بن عبداللہ زبیری عبداللہ بن معاویہ کے واسطے سے ہشام بن عروہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت عروہ نے ولید بن عبدالملک بن مروان کو ایک مکتوب لکھا جس کے مندر جات میں سے یہ بھی تھا " اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے وصال کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خوب میں تین مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دکھائی گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بتایا گیا کہ یہ تمہاری بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا ہے ۔ جس دن رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر 9 سال تھی ۔ آپ کا وصال منگل کی رات کو نماز وتر کے بعد ہو ا اسی رات آپ کو 16 رمضان المبارک کو جنت البقیع میں دفن کر دیا گیا۔ ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی ، اس دن مروان وہاں پر موجود نہ تھا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے نائب ہوا کرتے تھے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Male Sahaabiyaat of the Messenger of Allah pairs peace be upon him, and others may Allah be pleased about them, the first of them to begin friendly girl friend Aisha girl Abu Bakr, may Allah be pleased · Hadith 6715
محمد بن عمر فرماتے ہیں: عائشہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا کی والدہ ’’ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبد شمس بن عتاب بن اذینہ بن سبیع بن دہمنا بن حارث بن غنم بن مالک بن کنانہ " ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہجرت سے تین سال پہلے نبوت کے 10 ویں سال شوال المکرم میں ان سے نکاح کیا، اور ہجرت کے 8 ماہ بعد شوال المکرم میں ان کی رخصتی عمل میں آئی، اور رخصتی کے وقت ان کی عمر 9 سال تھی۔ ابن عمر اپنی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاں آپ کی رخصتی کب ہوئی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مدینہ منورہ ہجرت کر گئے تو آپ کی صاحبزادیوں کو اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادیوں اور اہل وعیال کو مکہ ہی میں چھوڑ گئے تھے، جب آپ مدینہ منورہ پہنچ گئے تب آپ نے ہماری طرف حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کے ہمراہ اپنے آزاد کردہ غلام حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجا ، ان لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دو اونٹ اور ۵۰۰ درہم دیئے، تا کہ اس سے وہ اپنی ضرورت کی سواری خرید لیں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ سب مد ینہ منورہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ لئے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن اریقط دیلی رضی اللہ عنہ کو دو یا تین اونٹ دے کر بھیجا اور حضرت عبداللہ بن ابی ابکر رضی اللہ عنہا کی جانب خط لکھ کر حکم دیا کہ وہ ان کی بیوی " ام رومان‘‘ کو ، مجھے اور میری بہن اسماء زوجہ ز بیر کو ساتھ لے کر مدینہ شریف آجائیں، یہ لوگ صبح سویرے وہاں سے نکل پڑے، مقام قدید میں پہنچ کر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے ان ۵۰۰ درہموں کے تین اونٹ خریدے، پھر سب لوگ مکہ میں آگئے، ادھر طلحہ بن عبیداللہ بھی ہجرت کے ارادے سے آل ابو بکر کے پاس آگئے، چنانچہ ہم سب اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ تیار ہو گئے ، حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہااور حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لیا ، حضرت زید رضی اللہ عنہ نے ’’ام ایمن‘‘ کو اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیا، حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے ’’ام رومان اور اپنی دونوں بہنوں کو ساتھ لیا۔ اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ بھی ساتھ ہی روانہ ہو گئے ، جب ہم منی سے مقام بیض میں پہنچے تو میرا اونٹ بھاگ گیا اور میں پالکی میں موجود تھی میرے ساتھ میری والدہ بھی تھی، میری والدہ’’ وابنتاہ " اور "واعر وساہ " کی آوازیں لگانے لگی ، پھر ہمارا اونٹ مل گیا وہ لفت پہاڑی سے نیچے گر گیا تھا لیکن (کسی چوٹ وغیرہ سے ) سلامت رہا۔ پھر ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے ، میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اہل وعیال کے ہمراہ ٹھہری ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان دنوں مسجد اور اس کے ساتھ حجرے تعمیر فرما رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی ازواج کو ان میں ٹھہرایا ، ہم تھوڑا عرصہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاں ہی ٹھہرے ۔ ایک دفعہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں ابھی تک رخصتی نہ لینے کی وجہ دریافت کی ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: حق مہر ( نہ ہونے ) کی وجہ سے میں رخصتی نہیں لے رہا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو 12 اوقیہ اور ایک نش (ایک نش نصف اوقیہ کا ہوتا ہے، اس کی مالیت ۵۰۰ درہم ہوتی ہے۔ شفیق) بطور تحفہ دے دیئے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وہ سب ہماری طرف (بطورت حق مہر ) بھیجا ، اور رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے میرے ساتھ اس حجرے میں سلسلہ ازدواج شروع فرمایا۔ یہ وہی حجرہ ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا انتقال ہوا اور اسی میں آپ کی تدفین بھی ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے سامنے مسجد میں دروازہ رکھا، آپ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے پہلو میں جو تین حجرے ہیں، ان میں سے ایک میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ازدواج کیا۔ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اکثر انہی (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کے پاس ہوا کرتے تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا وصال رمضان المبارک میں سن 58ہجری کو ہوا۔ . محمد بن عمر اپنی سند کے ہمراہ حبیب جو کہ عروہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کا یہ بیان نقل کیا ہے جب ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو رسول اللہ بہت شدید پریشان ہوئے تو حضرت جبرائیل امین علیہ السلام ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک پنگھوڑے میں لے کر حاضر ہوئے ، اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ آپ غم کافی حد تک ختم کردے گی ، اس میں (آپ کو) خدیجہ رضی اللہ عنہا جیسا سکون ملے گا، پھر ان کو واپس لے گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اکثر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے اور (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ سے ) کہتے : اے ام رومان !عا ئشہ کا خیال رکھا کرو اور اس کے حوالے سے میری بھی حفاظت کیا کرو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ان کی بہت عزت تھی، اور ان کے بارے میں ان کو اللہ تعالی کے حکم کا کچھ پتا نہ تھا۔ جب سے حضرت ابوبکر نے اسلام قبول کیا اس وقت سے ہجرت تک حضورم بالا ناغہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے ، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کے گھر تشریف لائے ہوئے تھے، آپ نے دیکھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دروازے کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں، بہت غمگین ہیں اور رورہی ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے پریشان اور رونے کا سبب پوچھا تو انہوں نے اپنی والدہ کی شکایت کی ، اور بتایا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے بہت محبت کرتی ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آنکھ سے آنسو نکل پڑے، آپ ام رومان کے پاس گئے اور فرمایا: اے ام رومان ! میں نے تمہیں تا کید نہیں کی تھی کہ اس کے سلسلے میں تم میری حفاظت کرنا ، انہوں نے بتایا: یا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس نے ابوبکر صدیق کو ہماری شکایت کی ہے جس کی وجہ سے وہ ہم سے خفا ہو گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کہا: اس نے اگرچہ یہ کیا ہے ( لیکن آپ کو نہیں چاہئے تھا کہ اس کو پریشان کرتی)ام رومان نے کہا: آج کے بعد آپ کو پھر کبھی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاختم نبوت کے چوتھے سال پیدا ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نبوت کے دسویں سال ان سے نکاح کیا ، نکاح کے وقت ان کی عمر 6 سال تھی، حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے ایک ماہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے نکاح کیا۔ محمد بن عمر اپنی سند کے ہمراہ سالم بن سبلان کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا 17 رمضان کی رات کو وتر کے بعد فوت ہوئیں۔ آپ نے وصیت کی تھی کہ مجھے رات ہی میں دفن کرنا، اکثر انصار جمع ہو گئے تھے، کبھی کسی رات میں اتنے لوگ جمع نہیں ہوئے تھے جتنے اس رات جمع ہوئے تھے، دور دراز کے گاؤں دیہاتوں کے لوگ بھی آ گئے تھے، آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ محمد بن عمر اپنی سند کے ساتھ حضرت نافع سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جنت البقیع میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جنازہ پڑھایا ، ابن عمر نے اس کو برا نہیں سمجھا، مروان اس سال عمرے پر گیا ہوا تھا، اس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کیا تھا۔
مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بطة الأصبهاني،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Male Sahaabiyaat of the Messenger of Allah pairs peace be upon him, and others may Allah be pleased about them, the first of them to begin friendly girl friend Aisha girl Abu Bakr, may Allah be pleased · Hadith 6716