Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4806

4806 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ الْأَقْمَرِ، رَجُلٍ مِنْ بَنِي بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عَلِيٌّ قَامَ الْحَسَنُ يَخْطُبُ النَّاسَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعَهُ فِي حَبْوَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ: «مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّهُ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ» ، وَلَوْلَا كَرَامَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَدَّثْتُ بِهِ أَبَدًا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4806 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

زہیر بن اقمر جو کہ بنی بکر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہے بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا ، تو " از دشنوء ۃ " ( علاقے) کا ایک شخص اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کو اپنی گود میں بٹھائے ہوئے یہ فرما رہے تھے: جو مجھ سے محبت کرتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ اس سے محبت کرے ، اور جو لوگ یہاں موجود ہیں ان کو چاہیے کہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ ( پھر اس نے کہا) اگر رسول اللہ ﷺ کی کرم نوازی نہ ہوتی تو میں یہ بات کبھی بیان نہ کرتا۔

«مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّهُ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ» وَلَوْلَا كَرَامَةُ رَسُولِ اللَّهِ مَا ← أَشْهَدُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَاضِعَهُ فِي حَبْوَتِهِ وَهُوَ ← لَمَّا قُتِلَ عَلِيٌّ قَامَ الْحَسَنُ يَخْطُبُ النَّاسَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، ← زُهَيْرِ بْنِ الْأَقْمَرِ، رَجُلٍ مِنْ بَنِي بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4806

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4807

4807 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي مِخْنَفٍ قَالَ: «لَمَّا وَقَعَتِ الْبَيْعَةُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ جَدَّ فِي مُكَاشَفَةِ مُعَاوِيَةَ وَالتَّوَجُّهِ نَحْوَهُ، فَجَعَلَ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ الطَّيَّارِ فِي عَشْرَةِ آلَافٍ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ بِقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ فِي جَيْشٍ عَظِيمٍ، فَرَاسَلَ مُعَاوِيَةُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، وَضَمِنَ لَهُ أَلْفَ أَلْفَ دِرْهَمٍ إِذَا صَارَ إِلَى الْحِجَازِ، فَأَجَابَهُ إِلَى ذَلِكَ وَخَلَّى مَسِيرَهُ، وَتَوَجَّهَ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَوَفَّى لَهُ، وَتَفَرَّقَ الْعَسْكَرُ وَأَقَامَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَلَى حِدَةٍ، وَانْضَمَّ إِلَيْهِ كَثِيرٌ، فَمَنْ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَاسَلَهُ مُعَاوِيَةُ وَأَرْغَبَهُ فَلَمْ يَفِهِ ذَلِكَ إِلَى أَنْ صَالَحَ الْحَسَنُ مُعَاوِيَةَ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ الْأَمْرَ وَتَوَجَّهَ الْحَسَنُ وَأَصْحَابُهُ لِلِقَاءِ مُعَاوِيَةَ وَقَدْ جُرِحَ الْحَسَنُ غِيلَةً فِي مَطْلَعِ سَابَاطَ جَرَحَهُ سِنَانُ بْنُ الْجَرَّاحِ الْأَسَدِيُّ أَخُو بَنِي نَصْرٍ، فَطَعَنَهُ فِي فَخِذِهِ بِمِعْوَلٍ طَعْنَةً مُنْكَرَةً، وَكَانَ يَرَى رَأْيَ الْخَوَارِجِ، فَاعْتَنَقَهُ الْحَسَنُ فِي يَدِهِ وَصَارَ مَعَهُ فِي الْأَرْضِ، وَوَثَبَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ظَبْيَانَ بْنِ عُمَارَةَ التَّمِيمِيُّ فَعَضَّ وَجْهَهُ حَتَّى قَطَعَ أَنْفَهُ وَشَدَخَ رَأْسَهُ بِحَجَرٍ، فَمَاتَ مِنْ وَقْتِهِ فَسُحْقًا لِأَصْحَابِ السَّعِيرِ، وَحُمِلَ الْحَسَنُ عَلَى السَّرِيرِ إِلَى الْمَدَائِنِ، فَنَزَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيِّ عَمِّ الْمُخْتَارِ، وَكَانَ عَامِلَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمَدَائِنِ فَجَاءَهُ بِطَبِيبٍ فَعَالَجَهُ حَتَّى صَلُحَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ»

ابو مخنف کابیان ہے کہ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی بیعت ہوچکی تو آپ نے سب سے پہلے حضرت معاویہ والامعاملہ سلجھانےکی طرف توجہ دی ، چنانچہ دس ہزار افراد پر مشتمل ایک دستہ تیار کیا جس کی سربراہی حضرت عبداللہ بن جعفر طیار کے سپرد کی ، پھر اس قیس بن سعد کو ان کے پیچھے ایک بڑے لشکر کی ہمراہی میں روانہ کردیا، جب عبداللہ بن جعفر حجاز کے قریب پہنچے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی جانب خط بھیجا کہ تم ہمارا راستہ چھوڑ دو، تم حجاز پہنچ جاؤ گے تو میں تمہیں ایک لاکھ درہم ضمان کے طور پر پیش کروں گا۔ چنانچہ عبداللہ بن جعفر نے ان کی بات مان لی اور جنگ کا ارادہ ترک کرکے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاپہنچے ، حضرت معایہ رضی اللہ عنہ نے ان کو انکا زر ضمانت ادا کردیا تو ان کا لشکر وہاں سے ہٹ گیا۔ ادھر قیس بن سعد رضی اللہ عنہ الگ ایک مقام پر پڑاؤ کئے ہوئے تھے ان کے ساتھ اور بھی بہت سارے لوگ آ آ کر شامل ہورہے تھے، حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ لوگوں کو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطوط لکھے اور ان کی ذہن سازی کی ۔ ابھی یہ سلسلہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی اور امور خلافت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کردئیے ، ادھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی غرض سے روانہ ہوئے تو ساباط کے علاقے میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے زخمی کر دیا گیا ۔سنان بن جرح اسدی جو کہ بنی نصر کا بھائی تھا اس نے کدال کےساتھ آپ کی ران پر بہت بری طرح نیزہ مارا۔ وہ خوارج کےنظریات رکھتا تھا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ نےاس کو گرفتار کروا کے اپنے ساتھ ساتھ رکھا اور اپنے ہمراہ لے گئے ، اور حضرت عبداللہ بن ظبیان بن عمارہ تمیمی کو اس پر مسلط کر دیا ، انہوں نے اس کی شکل بگاڑ کے رکھ دی ، اس کا ناک کان وغیرہ کاٹ ڈالے اور ایک پتھر مارکر اس کا سر کچل دیا، جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ تو پھٹکار ہو دوزخیوں کو ، پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو ایک چارپائی پر ڈال کر مدائن پہنچایا گیا۔اور مختار کے چچا سعد بن مسعود ثقفی کے ہاں آپ کو ٹھہرایا گیا۔ یہ سعد بن مسعود ،حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورخلافت سے مدائن کے گورنر تھے۔ اس نے ایک طبیب کا انتظام کیا جس نے آپ کا علاج معالجہ کیا، اور آپ صحت یاب ہوگئے۔

أَبِي مِخْنَفٍ، ← هِشَامِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْكَلْبِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4807

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4808

4808 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو مُوسَى، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: " اسْتَقْبَلَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ مُعَاوِيَةَ بِكَتَائِبَ أَمْثَالِ الْجِبَالِ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى كَتَائِبَ لَا تَوَلَّى أَوْ تُقْتَلُ أَقْرَانُهَا، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ وَكَانَ خَيْرَ الرَّجُلَيْنِ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَ هَؤُلَاءِ هَؤُلَاءِ؟ مَنْ لِي بِدِمَائِهِمْ؟ مَنْ لِي بِأُمُورِهِمْ؟ مَنْ لِي بِنِسَائِهِمْ؟ قَالَ: فَبَعَثَ مُعَاوِيَةُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ - قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - فَصَالَحَ الْحَسَنُ مُعَاوِيَةَ وَسَلَّمَ الْأَمْرَ لَهُ وَبَايَعَهُ بِالْخِلَافَةِ عَلَى شُرُوطٍ وَوَثَائِقَ، وَحَمَلَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْحَسَنِ مَالًا عَظِيمًا يُقَالُ: خَمْسُ مِائَةِ أَلْفِ أَلْفٍ دِرْهَمٍ وَذَلِكَ فِي جُمَادَى الْأُولَى سَنَةَ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ، وَإِنَّمَا كَانَ وَلِيَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ الْأَمْرَ لِمُعَاوِيَةَ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ وَأَحَدَ عَشَرَ يَوْمًا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4808 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب پہاڑوں کے برابر لشکر کے ہمراہ پیش قدمی شروع کی، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا : خدا کی قسم ! میں ایسے لشکر کو دیکھ رہا ہوں جو موت کو تو گلے لگالیں گے لیکن پیٹھ پھیر کر بھاگنے والےنہیں ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور یہ خیر الرجلین ( دو آدمیوں میں سے بہتر ) تھے، تمہارا کیا خیال ہے میں ان لوگوں کو قتل ہونےدوں گا جن کے خون ، جن کی عورتوں اور جملہ امور کی ذمہ داری میری ہے؟ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ بن حبیب بن عبد شمس کو قاصد کےطور پر بھیجا۔حضرت سفیان ( صحابی ہیں) فرماتے ہیں : حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرلی اور امور سلطنت ان کے سپرد کرکے ان کے ہاتھ پر کچھ شرائط پر خلافت کی بیعت کر لی ۔ اور حضرت معاویہ پرضی اللہ عنہ نے آپ کو بہت مال و دولت پیش کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ پانچ لاکھ درہم پیش کیے تھے۔یہ واقعہ 41 ہجری جمادی الاول کا ہے ۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو امور خلافت سونپنے سے سات ماہ اور گیارہ دن پہلے آپ نے خلافت سنبھالی تھی۔

عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى كَتَائِبَ لَا تَوَلَّى أَوْ تُقْتَلُ أَقْرَانُهَا، ← اسْتَقْبَلَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ مُعَاوِيَةَ بِكَتَائِبَ أَمْثَالِ الْجِبَالِ، ← الْحَسَنِ، ← أَبُو مُوسَى، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4808

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4809

4809 - فَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ»

حضرت ابوبکر ہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا : میرا یہ بیٹا سردار ہے ، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کےدرمیان صلح کروائے گا۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← فَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4809

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4810

4810 - وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَفَّانُ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَصَعِدَ إِلَيْهِ فَضَمَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «أَلَا إِنِ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَعَلَّهُ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4810 - أخرجهما البخاري من طريق أبي موسى إسرائيل عن الحسن

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آگئے، آپ ﷺ نے ان کو اپنے ساتھ چپکا لیا اور فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کروائے گا۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّان وسليمان بن حرب ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هَانِئٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4810

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4811

4811 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا قُرَادُ أَبُو نُوحٍ، أَنْبَأَ الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ، قَالَ: عَرَضَ رَجُلٌ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ بَايَعَ مُعَاوِيَةَ فَأَنَّبَهُ، وَقَالَ: سَوَّدْتَ وُجُوهَ الْمُؤْمِنِينَ، وَفَعَلْتَ وَفَعَلْتَ، فَقَالَ: «لَا تُؤَنِّبْنِي، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بَنِي أُمَيَّةَ يَتَوَاثَبُونَ عَلَى مِنْبَرِهِ رَجُلًا رَجُلًا، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَاهْتَمَّ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ يَقْضُونَ بَعْدَكَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4811 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

یوسف بن مازن روایت کرتے ہیں کہ حضرت بن علی رضی اللہ عنہ نےحضرت معاویہ کی بیعت کی تو ایک آدمی نے ان کو ملامت کرتے ہوئے کہا: تم نے مومنین کا منہ کالا کروادیا، تم نے یہ کیا ، تم نے وہ کیا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بے شک رسول اللہ ﷺ نے بنی امیہ کو ( خواب میں ) ایک ایک کرکے اپنے منبر پر چڑھتے دیکھا تو ان کی یہ حرکت آپ ﷺ کو بری لگی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی ۔﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ١﴾ [الكوثر: 1]" کوثر جنت میں ایک نہر ہے۔ اور یہ آیت نازل ہوئی ۔﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ١ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ٢ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ٣﴾ [القدر: 1-3]"یہ لوگ آپ کے بعد حکومت کریں گے۔

عَرَضَ رَجُلٌ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ بَايَعَ مُعَاوِيَةَ فَأَنَّبَهُ، ← يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ ← قُرَادُ أَبُو نُوحٍ، أَنْبَأَ الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4811

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4812

4812 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو رَوْقٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا أَبُو الْعَرِيفِ، قَالَ: كُنَّا فِي مُقَدِّمَةِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا تَقْطُرُ أَسْيَافُنَا مِنَ الْحِدَّةِ عَلَى قِتَالِ أَهْلِ الشَّامِ، وَعَلَيْنَا أَبُو الْعُمُرِ طَهْ، فَلَمَّا أَتَانَا صُلْحُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ كَأَنَّمَا كُسِرَتْ ظُهُورُنَا مِنَ الْحَرَدِ وَالْغَيْظِ، فَلَمَّا قَدِمَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْكُوفَةَ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا يُكَنَّى أَبَا عَامِرٍ سُفْيَانُ بْنُ اللَّيْلِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُذِلَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ الْحَسَنُ: «لَا تَقُلْ ذَاكَ يَا أَبَا عَامِرٍ، لَمْ أَذِلَّ الْمُؤْمِنِينَ، وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُمْ فِي طَلَبِ الْمُلْكِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4812 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابوالعریف فرماتے ہیں : ہم حضرت حسن بن یلی رضی اللہ عنہ کے لشکر کے ہر اول دستے میں تھے اور یہ بارہ ہزار افراد پر مشتمل تھا، ہماری تلواریں اہل شام کے خلاف جنگ کے لئے آگ اگل رہی تھیں ۔ ابو یعمر ہمارے کمانڈر تھے ، جب ہمیں حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ کی صلح کی اطلاع ملی تو غیظ و غضب سے یو ں لگ رہا تھا گوایا ہماری کمر ٹوٹ گئی ہے۔ پھر جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ واپس تشریف لائے تو ابو عامر سفیان بن اللیل کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے مومنوں کو ذلیل کرنے والے ! السلام علیکم ۔ تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ بولے : اے ابو عامر ! ایسا مت کہو۔ میں نے مسلمانوں کو ذلیل نہیں کیا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ حصول اقتدار کے لئے مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنا مجھے اچھا نہیں لگا۔

أبو العريف ← أَبُو رَوْقٍ الْهَمْدَانِيُّ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرِ شَاذَانُ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4812

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4813

4813 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ بِالنَّخْلَةِ حِينَ صَالَحَ مُعَاوِيَةَ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ أَكْيَسَ الْكَيْسِ التُّقَى، وَإِنَّ أَعْجَزَ الْعَجْزِ الْفُجُورُ، وَإِنَّ هَذَا الْأَمْرَ الَّذِي اخْتَلَفَتْ فِيهِ أَنَا وَمُعَاوِيَةُ حَقٌّ لِامْرِئٍ، وَكَانَ أَحَقَّ بِحَقَّهِ مِنِّي أَوْ حَقٌّ لِي فَتَرَكْتُهُ لِمُعَاوِيَةَ إِرَادَةَ اسْتِضْلَاعِ الْمُسْلِمِينَ وَحَقْنَ دِمَائِهِمْ، وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ، وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ، أَقُولُ قُولِي هَذَا وَاسْتَغْفَرُ اللَّهَ لِي وَلَكُمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4813 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

حضرت شعبی فرماتے ہیں : جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کی تو انہوں نے نخلہ کے مقام پر خطبہ دیا ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا : سب سے بڑھ کر عقلمند وہ ہے جو تقویٰ والا ہے اور سب سے بڑا بے وقوف فاسق و فاجر ہے۔ جس معاملہ میں میرا اور معاویہ کا اختلاف تھا ، وہ ایک انسانی حق تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس کا مجھ سے زیادہ مستحق ہیں ، اس لئے مسلمانوں میں خون خرابے سے بچنے اور ان کا شیرازہ بکھرنے سے بچانے کے لئے میں نے یہ امور ان کے سپرد کردئیے ہیں۔ اور شائد کہ یہ معاملہ تمہارے لئے کوئی آزمائش ہو اور ایک مدت تک منافع ہو۔ میں تو یہی تم سے کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے اور تمہارے لئے بخشش کی دعا کرتا ہوں۔

الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حمشاذ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4813

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4814

4814 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْهَاشِمِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا عِيسَى بْنُ مِهْرَانَ الْقَيْسِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الْعَبْسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ وَاصِلٍ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يَقُولُ لِلْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «خَالِعٌ سِرْبَالَهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4814 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

فاطمہ بنت حارث اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو کہا کرتے تھے : اپنا یہ لباس اتار دو۔

لِلْحَسَنِ «خَالِعٌ سِرْبَالَهُ» [التعليق من تلخيص الذهبي] حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه ← أَبِيهَا، أَنَّ عَلِيًّا كَانَ ← حَمَّادُ بْنُ وَاصِلٍ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الْعَبْسِيُّ، ← عِيسَى بْنُ مِهْرَانَ الْقَيْسِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْهَاشِمِيُّ بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4814

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4815

4815 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ السَّدُوسِيُّ قَالَ: «سَمَّتِ ابْنَةُ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَكَانَتْ تَحْتَهُ وَرُشِيَتْ عَلَى ذَلِكَ مَالًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4815 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت قتادہ بن دعامہ السدوسی سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس کی بیٹی نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو زہر دیا تھا حالانکہ ہو آپ کے نکاح میں تھی، اور اس سلسلہ میں اس نےبہت سارا مال رشوت لیا ہوا تھا۔

قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ السَّدُوسِيِّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← زهير بن العلاء ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← محمد بن يعقوب الحافظ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4815

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4816

4816 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ غَسَّانَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، وَأَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ قَالَ: «لَقَدْ بُلْتُ طَائِفَةً مِنْ كَبِدِي، وَلَقَدْ سُقِيتُ السُّمُّ مِرَارًا، فَمَا سُقِيتُ مِثْلَ هَذَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4816 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عمیر بن اسحاق سےروایت ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے ، میرے جگر کو کوئی چیز کاٹ رہی ہے۔ مجھے کئی مرتبہ زہر دیا گیا لیکن اس جیسا زہر پہلے کبھی نہیں دیا گیا۔

عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، وَأَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ غَسَّانَ الْأَنْصَارِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4816

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4817

4817 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: رَأَى الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبًا {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] فَقَصَّهَا عَلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَقَالَ: «إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكَ فَقَدْ حَضَرَ أَجَلُكَ» ، قَالَ: فَسُمَّ فِي تِلْكَ السَّنَةِ وَمَاتَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4817 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

حضرت عمران بن عبداللہ فرماتے ہیں : حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ ان کی آنکھوں کےدرمیان " ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ١﴾ [الإخلاص: 1] لکھا ہوا ہے ۔ انہوں نے یہ خواب حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کو سنایا تو انہوں نے یہ تعبیر بیان کی اگر تمہاری خواب سچی ہے تو تمہاری موت کا وقت قریب ہے۔راوی کہتے ہیں اسی سال ان کو زہر دیا گیا اور وہ اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔

عِمْرَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4817

chevron_left Previous
1…454647…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section