المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4818
4818 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ حُلْمًا مُنْكَرًا اللَّيْلَةَ، قَالَ: «مَا هُوَ؟» قَالَتْ: إِنَّهُ شَدِيدٌ، قَالَ: «مَا هُوَ؟» قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ قِطْعَةً مِنْ جَسَدِكَ قُطِعَتْ وَوُضِعَتْ فِي حِجْرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتِ خَيْرًا، تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غُلَامًا، فَيَكُونُ فِي حِجْرِكِ» فَوَلَدَتْ فَاطِمَةُ الْحُسَيْنَ فَكَانَ فِي حِجْرِي كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ يَوْمًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ، ثُمَّ حَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ، فَإِذَا عَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُهْرِيقَانِ مِنَ الدُّمُوعِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا لَكَ؟ قَالَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّتِي سَتَقْتُلُ ابْنِي هَذَا» فَقُلْتُ: هَذَا؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، وَأَتَانِي بِتُرْبَةٍ مِنْ تُرْبَتِهِ حَمْرَاءَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4818 - بل منقطع ضعيف
ابو عمار شداد بن عبداللہ سےمروی ہے کہ حضرت ام الفضل بنت الحارث ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں نے گزشتہ رات ایک خطر ناک خواب دیکھا ہے۔ آپ ﷺ نےپوچھا وہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی : وہ بہت خطرناک ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا : وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نےدیکھا ہے کہ آپ کے جسم کا ایک ٹکرا کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم نے یہ اچھا خواب دیکھا ہے( اس کی تعبیر یہ ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے ہاں بچہ پیدا ہوگا ان شاء اللہ اور وہ تمہاری گود میں دیا جائے گا۔ چنانچہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے ہاں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ میری گود میں دئیے گئے۔ ایک دن میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو آپ کی گود میں دے دیا ۔ کچھ دیر بعد جب میں نے توجہ کی تو رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، میں نے پوچھا : یانبی اللہ ﷺ : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں کیا وجہ ہے؟ ( آپ رو کیوں رہے ہیں ؟) آپ ﷺ نے فرمایا : میرے پاس حضرت جبریل امین علیہ السلام تشریف لائے تھے، انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت اس کو شہید کر دے گی ۔ میں نے ( بڑے تعجب خیز لہجے میں ) پوچھا : اس کو؟ آپ ﷺ نے فرمایا جی ہاں ۔ اور وہ اس کے مقام شہادت کی سرخ مٹی بھی میرے پاس لائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔
أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَتْ: ← أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ← أبو عبد الله محمد بن علي الجوهري ببغداد
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4818
