حضرت سعد بن ما لک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: کیا میں تمہیں اللہ تعالی کے اس اسم اعظم کے بارے میں رہنمائی نہ کروں کہ اس کے ساتھ جب دعا مانگی جائے تو قبول کی جاتی ہے، جب اس کے ساتھ سوال کیا جائے تو پورا کیا جا تا ہے۔ یوہ دعا ہے جو حضرت یونس علیہ نے مانگی تھی ، جب انہوں نے اللہ تعالی سے اندھیریوں میں تین مرتبہ یہ دعا مانگی تھی:’’ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ‘‘ایک شخص نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ حضرت یونس علیہ السلام کےساتھ خاص ہے یا تمام مؤمنوں کے لئے ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان نہیں سنا: ’’ونجيناه من الغم، وكذلك ننجى المؤمنين‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص بیماری کی حالت میں چالیس مرتبہ یہ دعا مانگے اور اس بیماری میں اس کا انتقال ہو جائے تو اس کو شہید کے برابر جر دیا جاتا ہے اور اگر اس بیماری سے شفایاب ہو جائے تو اس کے تمام گناہوں کو بخش دیا جا تا ہے ۔
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ تعالی کا اسم اعظم قرآن پاک کی تین آیتوں میں ہے ( ۱) سورۃ بقرہ (۲ ) سورۂ آل عمران (۳) سورۂ طہٰ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے تحقیق کی تو سور ۃ بقرہ میں آیۃ الکرسی پائی جس میں اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ہے۔ اور آل عمران میں’الم اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ہے۔ سورۃ طہ میں’’ وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ ‘ ہے۔
حضرت عمرو بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابن از بر عبد اللہ بن العلاء نے فرمایا : میں نے قاسم ابوعبدالرحمٰن کو یہ فرماتے سناہے کہ میں نے ابوامامہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بیان کر تے سنا ہے کہ اللہ تعالی کا اسم اعظم قر آن پاک کی تین سورتوں میں ہے ۔ان کوعیسیٰ بن موسیٰ نے کہا: اے ابوز بر ! میں نے بھی یہ حدیث سنی ہے۔ میں نے غیلان بن انس کویہ فر ماتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے قاسم ابوعبد الرحمٰن کو ابوامامہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بیان کر تے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم قرآن کریم کی تین سورتوں میں ہے پھر اس کے بعد عمرو بن ابی سلمہ کی طرح حد یث بیان کی ۔یہ حدیث ولید بن مسلم کی حدیث کو معلل نہیں کرتی ۔ کیونکہ ولید بن مسلم اپنے شہر کی احادیث کو دوسروں سے زیادہ یاد رکھنے والے محفوظ رکھنے والے اور زیادہ پہچاننے والے ہیں ۔ لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے قاسم ابوعبد الرحمٰن کی روایات نقل کی ہیں ۔
حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: احد کے دن جب مشرکین واپس پلٹ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صفیں درست کرو، میں اپنے رب کی توصیف وثناء بیان کروں ۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے صف بستہ ہو گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا شروع کی’’ للَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا بَسَطْتَ، وَلَا بَاسِطَ لِمَا قَبَضْتَ، وَلَا هَادِيَ لِمَنْ أَضْلَلْتَ، وَلَا مُضِلَّ لِمَنْ هَدَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ، وَلَا مُبَاعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ، اللَّهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْ بَرَكَاتِكَ وَرَحْمَتِكَ، وَفَضْلِكَ وَرِزْقِكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَالْأَمْنَ يَوْمَ الْخَوْفِ، اللَّهُمَّ عَائِذٌ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَعْطَيْتَنَا، وَشَرِّ مَا مَنَعْتَنَا، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْإِيمَانَ، وَزَيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا، وَكَرِهَ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِينَ، اللَّهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ، وَأَحْيِنَا مُسْلِمِينَ، وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ، غَيْرَ خَزَايَا، وَلَا مَفْتُونِينَ، اللَّهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ إِلَهَ الْحَقِّ‘‘ اے اللہ تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں ۔ اے اللہ! تو جس کے لیے کشادگی کر دے اس کو کوئی روکنے والانہیں ہے اور جس کو روک لے اس کو پھیلانے والا کوئی نہیں ہے ۔ اور جس کوتو بھٹکا دے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ۔ اور جس کو تو ہدایت دے دے اس کو کوئی بھٹکانے والانہیں ہے ۔ جس سے تو روک دے اس کو کوئی دینے والا نہیں ہے اور جس کو تو دے دے، اس سے کوئی روکنے والانہیں ہے ۔ اور جس کوتو دور کر دے اس کو کوئی قریب کر نے والانہیں ہے ۔ اور جس کو تو قریب کر لے اس کو کوئی دور کر نے والانہیں ہے ۔اے اللہ ! ہم پرا پنی برکتیں ، رحمتیں ،اپنافضل اوراپنارزق کھول دے۔ اے اللہ ! میں قیامت کے دن تجھ سے نعمتوں کا اورخوف کے دن امن کا سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جوتو نے ہمیں عطافرمائی اوراس چیز کے شر سے جو تو نے ہم سے روکی ۔اے اللہ! ہمیں ایمان سے محبت عطا فرما۔اور ہمارے دلوں میں ایمان کو مزین فرما: (اے اللہ ! ) ہمیں کفر فسق اور گناہوں سے نفرت عطا کر ۔ اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما۔اے اللہ! ہمیں وفات دے تو اس حال میں کہ ہم مسلمان ہوں اور زندہ رکھ تو اس حال میں کہ ہم مسلمان ہوں اور ہمیں نیک لوگوں میں شمارفرما ہمیں رسوا نہ کر اور ہمیں آزمائش میں نہ ڈال ۔ اے اللہ ! کافروں کو ہلاک فرما جو تیرے رسول کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے راستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں ۔اے میرے معبود برحق ان پر اپنا عذاب نازل فرما۔ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کر تے ہیں تم پرایک وقت ایساآئے گا کہ اس میں نجات صرف اس شخص کو ملے گی جو حضرت یونس علیہ السلام والی دعا مانگے گا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔
حُذَيْفَةَ رَفَعَهُ، ← أَبِي عَمَّارٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَكَمِ الْحَبْرِيُّ ← علي بن عبد الرحمن بن ماتى بالكوفة
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1869
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1870
حضرت سہل بن معاذ بن انس رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوکھانا کھا چکے وہ یوں دعا مانگے :’’الحمد لله الذي أطعمني هذا، ورزقنيه من غير حول منى ولا قوة ’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں ، جس نے مجھے کھلایا حالانکہ اس کی مجھ میں کوئی طاقت اور ہمت نہیں ہے‘‘ اس کے گذشتہ تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں او جوشخص لباس پہننے کے بعد یہ دعا پڑھے:الحمد لله الذی کساني هذا من غير حول منى، ولا قوة ’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ لباس پہنایا حالانکہ اس کی مجھ میں کوئی طاقت اور ہمت نہیں ہے۔‘‘اس کے سابقہ تمام گناہوں کو بخش دیا جا تا ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔
أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، ← أبو مرحوم عبد الرحيم بن ميمون ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقري ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ← بكر بن محمد بن حمدان الصيرفي بمرو،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1870
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1871
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جب اللہ تعالی اپنے کسی بندے کو کوئی نعمت عطا فرمائے اور وہ اس پر’الحمد للہ‘ کہے تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا۔اگر دوسری مرتبہ پھر الحمد للہ کہے تو اللہ تعالی اس کو نیا ثواب عطا کرتاہے پھراگر تیسری مرتبہ پھر الحمد للہ کہے تو اس کے سابقہ تمام گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس نقل نہیں کیا مگر یہ کہ امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے ابومعاویہ کی روایات نقل نہیں کی ہیں ۔
جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← محمد بن أبي حميد ← أبو معاوية عبد الرحمن بن قيس، ← أَبِي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1871
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1872
حضرت ابوعمار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بدری صحابی ہیں ، آپ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ یہ لوگ سفر میں تھے کہ اہل قافلہ ناشتہ کر نے کے لئے دستر خوان پر جمع ہوئے ( جب کھانا کھا چکے) تو شداد کہنے لگے : یہ دسترخوان سمیٹو! ( کچھ دیر) گپ شب کر لیں ، پھر بولے : میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں ۔ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں اس وقت سے آج تک کبھی بھی کوئی بات بغیر سوچے سمجھے نہیں کی سوائے آج کی اس بات کے ۔ ( اس لئے میری اس بات کو محفوظ نہ رکھنا بلکہ جس بات کے بارے میں یہ وضاحت کر دوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا ہے اس کو محفوظ کرلیا کرو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں نہیں فرمایا بلکہ آپ علیہ السلام نے یوں فرمایا ہے : اے شداد! جب تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ سونا اور چاندی جمع کر رہے ہیں تو تم ان کلمات کا خزانہ جمع کرنا۔ ’’اے اللہ میں تمام امور میں ثابت قدمی کا سوال کرتا ہوں اور ہدایت کی درخواست کرتا ہوں ۔ اور میں تجھ سے نعمتوں کا شکر کر نے اور حسن عبادت ( کی توفیق )مانگتا ہوں ۔ اور میں تجھ سے سلامتی والا دل اور سچ بو لنے والی زبان اور حسن خلق مانگتا ہوں ۔ اور میں تجھ سے ان تمام چیزوں کی معافی مانگتا ہوں تو جانتا ہے اور میں تجھ سے اس چیز کی بھلائی مانگتا ہوں جس کوتو جانتا ہے اور میں اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کو تو جانتا ہے اور اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کو تو جا نتا ہے بے شک تو ہی ’’علام الغیوب ‘‘ ہے۔
حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کی تعلیم دی ہے کہ جب میں کسی آزمائش میں مبتلا ہوں تو یہ دعا مانگا کروں۔لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله، وتبارك الله رب العرش العظيم، والحمد لله رب العالمين’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، وہ حلیم ہے،کریم ہے،اللہ کے لئے پا کی ہے اور اسی کی ذات برکت والی ہے اورتمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جوتمام جہانوں کا پالنے والا ہے‘‘۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کو اس لیے نقل نہیں کیا ہے کیونکہ اس میں ناقلین پر اختلاف ہے اور یونہی اس کی سند کوشند بن عجلان نے محمد بن کعب کے واسطے سے قائم رکھا ہے۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے)۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کلمات کی تلقین فرمائی کہ جب میں کسی مصیبت یا آزمائش میں مبتلا ہوں تو یہ پڑھا کروں’’ لا إله إلا الله الحليم الکریم، سبحانه وتعالى، تبارك الله رب العرش العظيم، والحمد لله رب العالمین‘‘( عبداللہ بن شداد) فر ماتے ہیں : عبداللہ بن جعفر کی یہ عادت تھی کہ وہ میت کوانہی کلمات کی تلقین فرمایا کرتے تھے اور بیماروں کو یہی کلمات پڑھ کر دم کیا کر تے تھے ۔ اس حدیث کو امام بخار نے نقل کیا ہے ۔ اور یہ حدیث ، اس حدیث سے مختصر ہے جوقتادہ نے ابوالعالیہ کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی پریشان ہوتے یہ پڑھا کر تے تھےيا حي، يا قيوم، برحمتك أستغيث اے حی ،اے قیوم ! میں تیری رحمت سے مد د چاہتا ہوں‘‘یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : مجھے جب بھی کوئی پریشانی آتی ہے تو جبریل امین علیہ السلام میرے سامنے انسانی شکل میں آ کرفر ماتے ہیں اے محمد پڑھئے توكلت على الحي الذي لا يموت، والحمد لله الذي لم يتخذ ولذا، ولم يكن له شريك في الملك،ولم يكن له ولى من الذل وكبره تكبيرا”میں نے اس زندہ پر توکل کیا ہے جس کو موت نہیں ہے اور سب خوبیاں اس اللہ کو ہیں جس نے اپنے لئے بچہ اختیارنہ فرمایا اور بادشاہی میں اس کا کوئی شریک نہیں اور کمزوری سے اس کا کوئی حمایتی نہیں اوراس کی بڑائی بولنے کو تکبیرکہو ( ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا رحمتہ اللہ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا