المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1877
1877 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَصَابَ مُسْلِمًا قَطُّ هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي فِي يَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِي قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ هَمَّهُ، وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَحًا " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَتَعَلَّمُ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ؟ قَالَ: «بَلَى يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهُنَّ أَنْ يَتَعَلَّمَهُنَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ إِنْ سَلِمَ مِنْ إِرْسَالِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ فَإِنَّهُ مُخْتَلَفٌ فِي سَمَاعِهِ عَنْ أَبِيهِ "
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا کسی مسلمان کو کوئی تکلیف اور پریشانی آئےتو وہ یہ دعا پڑھے’’ اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي فِي يَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِي قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي ‘‘۔’’اے اللہ ! میں تیرابندہ ہوں اور تیری بندی کا بچہ ہوں ، میری باگ ڈور تیرے ہاتھ میں ہے، میرے بارے میں تیرا حکم گز رچکا ہے اور میرے بارے میں تیرا فیصلہ عدل پر مبنی ہے ۔ میں تجھ سے ہراس نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو تیرا ہے ( خواہ ) تو نے و ہ خود نام بتایا ہے۔ یا اپنی کسی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ سکھایا ہے یا اپنے پاس اپنے علم غیب میں ہی اس کورکھا ہوا ہے ۔ یہ کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار بنادے،میرے غم کا آسرا بنادے اور میرے غم غلط ہونے کا ذریعہ بنادے‘‘ اللہ تعالی اس کی پریشانی اور تکلیف کوختم فرمادیتا ہے اور اس کی پریشانی کوخوشی اور فرحت میں تبد یل فرما دیتا ہے ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم یہ کلمات سیکھ لیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔ جوان کلمات کو سنے اس کو چاہئے کہ انہیں یادکر لے۔ اگر اس حدیث کی سند عبد الرحمن بن عبداللہ کی ان کے والد سے ارسال سے محفوظ ہے تو یہ امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق’’ حدیث صحیح ‘‘ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عبدالرحمٰن کے ان کے والد سے سماع میں اختلاف پایا جا تا ہے ۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ، ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1877
