حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: اس روئے زمین پرکوئی شخص "لا إله إلا الله، والله أكبر، وسبحان الله، والحمد لله، ولا حول ولا قوة إلا باللہ‘‘ پڑھے تو اس کے گناہ مٹادیئے جاتے ہیں اگر چہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔ اس حدیث کو شعبہ نے ابوبلج یحیٰ بن ابی سلیم سے روایت کیا ہے لیکن اس کوموقوف رکھا ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس نے ”لا إله إلا الله والله اكبر والحمد لله وسبحان الله كثيرا ولا حول ولا قوة إلا باللہ ‘‘پڑھا، اس کے گناہ مٹادیئے جاتے ہیں اگر چہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ،حاتم بن ابی صغیر ہ کی حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے کیونکہ ان جیسے راویوں کی زیادتی مقبول ہوتی ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ کے جلال میں سے وہ تسبیح ،تحمید اور تعلیل بھی ہے جس کا تم ذکر کر تے ہو، یہ اللہ کے عرش کے گر دجمع ہوکر جھکی رہتی ہیں ، ان کی گنگنا ہٹ شہد کی مکھی کی سی ہوتی ہے، وہ اپنے پڑھنے والے کو یادکرتی ہیں کہ کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس کی کوئی ایسی نشانی موجو در ہے جس کے باعث اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کو یادفر ما تا ر ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار پر ہے کیونکہ انہوں نے موسٰی القاری کی روایات نقل کی ہے اور وہ اس عیسٰی کا بیٹا ہے۔
حضرت انس بن ما لک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک حلقہ میں تھے اور ایک شخص کھڑ انماز پڑھ رہا تھا ، جب اس نے رکوع اورسجودکر لئے تو تشہد کیا اور دعامانگی ،اس نے اپنی دعا میں کہا: اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت، بديع السماوات والأرض، يا ذا الجلال والإكرام، ياحي يا قيوم ’’اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اس طرح کہ تیرے لئے حمد ہے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،تو زمین وآسمان کوایجادکر نے والا ہے،اے ذو الجلال والاكرام يا حی یا قیوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ کے اس اسم اعظم کے ساتھ دعا مانگی ہے کہ جب بھی اس کے ساتھ دعا مانگی جائے ،قبو ل ہوتی ہے اور جب بھی اس کے ساتھ کوئی دعامانگی جائے ، قبول ہوتی ہے اور جب بھی اس کے ساتھ کچھ مانگا جائے تو عطا کیا جا تا ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ یہی حدیث حضرت انس بن مالی رضی اللہ عنہ سے ایک دوسرے انداز میں منقول ہے( جیسا کہ درج ذیل ہے)
حضرت انس بن ما لک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یوں دعا مانگتے سنا:’’ اللهم إني أسألك بأن لك الحمد، لا إله إلا أنت، أنت المنان بديع السماوات والأرض، ذو الجلال والإكرام، أسألك الجنة، وأعوذ بك من النار ‘‘تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: ا س شخص نے اللہ تعالی کے اس نام کے ساتھ دعا مانگی ہے کہ جب بھی اس کے ساتھ دعا مانگی جائے تو قبول کی جاتی ہے اور جب اس نام کے ساتھ مانگا جائے تو عطا کیا جا تا ہے ۔
حضرت عبداللہ بن بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یوں دعا مانگتے سنا۔’’ اللهم انى اسالك بأنك انت لا إله إلا انت، الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد، ولم يكن له كفوًااحد‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ تعالیٰ سے اس کے اس اسم اعظم کے ساتھ دعامانگی ہے کہ جب بھی اس کے ساتھ دعا مانگوقبول ہوتی ہے اور جب بھی اس کے ساتھ سوال کر وتو پورا کیا جا تا ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔اور اس حدیث کی ایک شاہد حد یث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے)
أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ← محمد بن عبد الله بن سليمان ← مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1858
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1859
حضرت ابن بر ید ہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کر تے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یوں دعا مانگتے سنا’اللھم إني أسالك بأنك أحد صمد، لم يلد، ولم يولد، ولم يكن له كفواً أحد، “ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے اللہ تعالیٰ سے اس کے اس اسم اعظم کے ساتھ دعا مانگی ہے کہ جب اس سے ساتھ دعا مانگی جائے تو قبول ہوتی ہے اور جب اس کے ساتھ مانگا جائے تو عطا کیا جا تا ہے۔
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کا اسم اعظم قرآن پاک کی تین صورتوں میں ہے (۱ ) سورۃ البقره (۲)سوره آل عمران (۳)سورة طه قاسم فرماتے ہیں : میں نے اس کو ڈھونڈا تو وہ’’ الْحَيُّ الْقَيُّوم ‘‘ ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں دعامانگی تھی وہ یہ ہے "لا الہ الا انت سبحانك إني كنت من الظالمین“ آپ نے فرمایا مسلمان کسی بھی معاملے میں ان لفظوں کے ساتھ دعا مانگے تو اللہ تعالی اس کو قبول کرتا ہے ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ، اور یہ حدیث فریابی کے واسطے سے سفیان ثوری کے ذریعے یونس بن اسحاق سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ (امام حاکم فرماتے ہیں) کہ یہ راوی کی غلطی ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے )
جَدِّهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← أَبِيهِ ← إبراهيم بن محمد بن سعد ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← علي بن ميمون الرقي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1862
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1863
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں یہ دعا مانگی تھی:لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين مسلمان کوئی بھی دعا ان الفاظ میں مانگے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔
حضرت ابراہیم بن محمد بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کر تے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ موجود تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز کی خبر نہ دوں کہ اگرتم کسی دنیاوی آزمائش میں مبتلا ہواور وہ دعا مانگوتو اللہ تعالی تمہاری آزمائش ختم فرمادے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:’’ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ‘‘ ہے۔
كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إبراهيم بن محمد بن سعد ← مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْقُرَشِيُّ، ← عُبَيْدُِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1864