حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جولوگ اللہ کا ذکر کر تے ہیں یعنی اس کہ بزرگی اور جلال کا اورتسبیح کر تے ہیں اور تکبیر کہتے ہیں اور تہلیل کہتے ہیں ،( ان کی یہ تسبیح وتمجید، تکبیرو تہلیل ) عرش کے گردگھومتی ہیں، ان کی گنگناہٹ شہد کی مکھی کی سی ہوتی ہے ، وہ اپنے پڑھنے والے سے کہتی ہیں: کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے لئے اللہ کی بارگاہ میں کوئی ایسی چیز ہوجس کے سبب اللہ اس کا ذکر کرے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جس شخص کی زندگی کا آخری کلام لا إله الّا اللہ ہواوہ جنتی ہے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔ اور انہوں نے ابوزرعہ کا ایک قصہ بھی بیان کیا ہے جس کو میں نے کتاب المعرفۃ میں نقل کیا ہے ۔
مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أَبُو بكر بن ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو قِلاَبَةَ الرَّقَاشِيُّ ← أبو الحسن محمد بن أحمد بن تميم القنطري ← أحمد بن مهدي بن رستم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1842
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1843
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:جو شخص ایک دن میں ۱۰۰ مرتبہ لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شيء قدير پڑھے، نہ تو سابقہ لوگوں میں سے کوئی اس سے زیادہ ثواب حاصل کر سکتا ہے اور نہ بعد میں آنے والوں میں سے کوئی اس کے ثواب کو پہنچ سکتا ہے البتہ جو آ دمی اس سے بھی افضل عمل کرے( وہ اس سے آگے نکل سکتا ہے ) ۔ امام حاکم اپنی سند کے ہمراہ اسحاق بن ابراہیم کا بیان نقل کر تے ہیں کہ’’ جب عمرو بن شعیب سے روایت کر نے والا راوی ثقہ ہوتو یہ سند’’ ایوب عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ عنہ کے درجے کی سند قرار پاتی ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں : میں نے کتاب کے شروع سے لے کر اس مقام تک عمر و بن شعیب کی کوئی حدیث نقل نہیں کی ہے ۔اور کتاب الدعاءوالتسبیح کے آغاز میں ، میں نے امام ابوسعید عبدالرحمٰن بن مہدی کا یہ مذ ہب بیان کر دیا تھا کہ فضائل اعمال سے متعلق احادیث کی سند کے معاملے میں قدرے نرم انداز اپنایا جا تا تھا۔
حضرت یعلیٰ بن شداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد شداد بن اوس نے مجھے حدیث بیان کی اور اس وقت عبادہ بن صامت وہاں موجود تھے،انہوں نے ان کی تصدیق کی ہے۔( میرے والد ) فرماتے ہیں : ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں کوئی اجنبی (یعنی اہل کتاب )ہے؟ ہم نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دروازہ بند کر نے کاحکم دیا، پرفر مایا: اپنے ہاتھوں کواٹھاؤ اور پڑھو’لا اله الا اللہ‘‘ تو ہم نے ایک لمحے کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ نیچے کر لیے پھر یوں دعا مانگی: الحمد لله، اللهم إنك بعثتني بهذه الكلمة، وأمرتني بها، ووعدتني عليها الجنة، إنك لا تخلف الميعاد’’تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ،اے اللہ ! تو نے مجھے یہ کلمہ دے کر بھیجا ہے اور اسی کا تو نے مجھے حکم دیا ہے اور اس پرتو نے میرے ساتھ جنت کا وعدہ کیا ہے، بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں خوشخبری ہو کہ اللہ تعالی نے تمہیں بخش دیا ہے ۔ امام حاکم فرماتے ہیں: اسماعیل بن عیاش کا حال اس سے قبل بھی حدیث کے قریب ہے کیونکہ یہ اہل شام کے آئمہ میں سے ہیں اور ان کوسوء حفظ کی جانب منسوب کیا گیا ہے اور میں اس طرح کی حدیث روایت کرنے میں اپنے معیار پر قائم ہوں ۔
«هَلْ فِيكُمْ غَرِيبٌ؟» يَعْنِي أَهْلَ الْكِتَابِ، قُلْنَا: لَا ← لَعِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ إِذْ ← أَبِي شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ حَاضِرٌ يُصَدِّقُهُ ← يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ، ← رَاشِدُ بْنُ دَاوُدَ، ← يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ إسماعيل بن قتيبة
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1844
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1845
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جو دس مرتبہ لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شيء قدير پڑھے، اس کو ایک غلام آزادکر نے کے برابر ثواب ملے گا۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ و امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں اللہ تعالیٰ کوکون سی بات سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :وہ بات جو اس نے اپنے ملائکہ کے لئے منتخب فرمائی ہے ( وہ یہ ہے) سبحان ربي وبحمده، سبحان ربي وبحمده یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جس نے (ایک مرتبہ ) سبحان الله العظیم کہا ، اس کے لئے جنت میں ایک درخت لگا دیا جا تا ہے ۔یہ حد یث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔
جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← جعفر بن محمد بن نصر الخلدي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1847
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1848
حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’سبحان اللہ‘‘ کی تفسیر پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر برائی سے اللہ تعالی کی پاکی بیان کرنا ۔ؤ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
كُلِّ سُوءٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ← هُوَ تَنْزِيهُ اللَّهِ ← تَفْسِيرِ سُبْحَانَ اللهِ ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللہِ ← أَبِيهِ ← طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، ← حفص بن سليمان ← عبد الرحمن بن حماد، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ التَّيْمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← محمد بن أيوب البجلي ← زياد بن الخليل التستري ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1848
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1849
حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر طور پر سبحانك اللهم وبحمدك، اللهم اغفر لي”اے اللہ ! تو پاک ہے اور تیری حمد کے ساتھ ، اے اللہ !میری مغفرت فرما‘‘پڑھا کرتے تھے، پھر جب’’اذا جاء نصر الله والفتح‘‘ نازل ہوئی تو ( اس کے بعد یوں دعا مانگا کرتے تھے ) سبحانك اللهم، اللهم اغفر لي إنك أنت الوهاب ’’اے اللہ ! تیرے لئے پا کی ہے،اے اللہ !میری مغفرت فرما، بے شک تو وھاب ہے‘‘۔اگر ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ان کے والد سے سماع ثابت ہوتو یہ سند صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جوشخص’’سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا باللہ‘‘ پڑھتا ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: میرا بندہ اسلام لایا اور اس نےاطاعت کی ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
مَنْ ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← مُوسَى بن طَلْحَة بن عبيد الله، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1850
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1851
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : سب سے پہلے جن لوگوں کو جنت کی طرف بلا یا جائے گا یہ وہ لوگ ہونگے جوتنگی اور کشادگی دونوں حالتوں میں اللہ کی حمد اوراس کا شکر کر تے رہتے ہیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: سب سے افضل ذکر ’’لا إله إلا الله ہے اورسب سے افضل دعا ’الحمد للہ‘‘ ہے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔