حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: کوئی بھی بندہ جواللہ تعالی کی بارگاہ میں متوجہ ہوکر سوال کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کوضر ور عطا کرتا ہے ۔یا تو دنیا میں ہی دے دیتا ہے یا ( آخرت کے لئے) اس کو ذ خیرہ کر لیتا ہے ۔ یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالی اس بات سے حیاءفر ما تا ہے کہ بندہ بھلائی کی طلب میں اللہ تعالی کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے اور وہ اس کو نامراد واپس لوٹا دے۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔اور اس کی سند کو جعفر بن میمون نے ابوعثمان نہدی سے موصولاً بیان کیا ہے۔
سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← يزيد بن هارون أنبأ سليمان التيمي ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ التَّاجِرُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1830
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1831
حضرت سلیمان رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: بے شک اللہ تعالیٰ زندہ ہے، کریم ہے اپنے بندے سے اس بات سے حیاء کرتا ہے کہ بندہ اس کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے اور وہ ان کو خالی واپس لوٹا دے۔ سند صحیح کے ہمراہ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حد یث بھی موجود ہے جو کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ( وہ حدیث درج ذیل ہے)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ تعالی رحیم ہے۔حیی ہے کریم ہے، وہ اپنے بندے سے اس بات سے حیاءفر ما تا ہے کہ بندہ اس کی طرف ہاتھ پھیلائے اور وہ ان میں بھلائی نہ ڈالے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا تم میں سے جوشخص دعا کے لیے منہ کھولتا ہے،اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ۔اور اللہ تعالی کوسب سے زیادہ پسند یدہ بات ہے کہ اس سے عافیت کا سوال جائے۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: سب سے افضل ذکر لا الہ الا اللہ اورسب سے افضل دعا الحمد للہ ہے۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، ← مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ كَثِيرٍ الْحِزَامِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1834
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1835
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا کو سبحان ربى العلي، الأعلى الوهاب کے الفاظ سے شروع فرمایا کرتے تھے ۔ یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت ربیعہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: ’یا ذا الجلال والإكرام ‘‘(کے وظیفے )کے ساتھ چمٹے رہو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: اے لوگو! کیا تم یہ بات پسند کر تے ہو کہ تم دعا میں کوشش کرو؟ صحا بہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا مانگا کرو: اللهم اعني على ذكرك وشكرك، وحسن عبادتك’’ اے اللہ تو اپنے ذکر ،شکر اورحسن عبادت پر میری مد دفر ما‘‘یہ حد یث صحیح الاسناد ہے کیونکہ خارجہ پر صرف یہ اعتراض ہے کہ مجہولین سے روایت کرتے ہیں ۔اور جب یہ ثقہ ثبت راویوں سے روایت لیں تو ان کی روایت مقبول ہے ۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : اللہ کا ذکراتنی کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں پاگل سمجھیں ۔یہ مصریوں کاصحیفہ ہے اس کی سند صحیح ہے اورابوالہیثم سلیمان بن عتبہ العتواری ثقہ ، اہل مصر میں سے ہیں ۔
ا ُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خوش کن معاملہ پیش آ تا تو اس پر یوں دعا مانگتےالحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کی نعمتوں کے صدقے نیکیاں مکمل ہوتی ہیں‘‘ اور جب کوئی پریشان کن معاملہ پیش آ تا تو یوں دعا مانگتے :’’الحمد لله على كل حال ’’ ہر حال میں اللہ کاشکر ہے‘‘ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔