حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: قبولیت کا یقین رکھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرو اور جان لوکہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی دعا قبول نہیں کرتا جو بے تو جہی سے دعا مانگتا ہے۔اس حدیث کی سندمستقیم ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ حدیث روایت کر نے میں صالح المری متفرد ہیں اور اہل بصرہ کے زاہدلوگوں میں سے ہیں ۔
النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← صالح المري ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← عبدان بن يزيد الدقاق بهمدان
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1817
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1818
حضرت انس بن ما لک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: دعاء میں سستی مت کرو کیونکہ کوئی شخص مانگتے مانگتے ہلاک نہیں ہوتا ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ تعالٰی قیامت کے دن مومن کو بلا کر اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور فرمائے گا: اے بندے! میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ مجھ سے دعا مانگواور میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں تیری دعا کو قبول کرونگا ،تو کیا تو نے مجھ سے دعا کی تھی؟ بندہ کہے گا : جی ہاں میرے رب ۔ اللہ تعالی فرمائے گا: کیا میں تیری ہر دعا کو قبول نہیں کرتارہا؟ کیا تو نے فلاں دن ایک مصیبت سے چھٹکارا پانے کی دعائیں نہیں مانگی تھیں اور میں نے تجھے اس مصیبت سے چھٹکارادے دیا تھا؟ ۔وہ کہے گا: جی ہاں اے میرے رب ۔ اللہ تعالی فرمائے گا : میں نے دنیا میں تیری دعا کوقبول کرلیا تھا۔ اور تو ایک دن ایک مصیت میں گرفتار تھا اور اس سے چھٹکارا پانے کی دعائیں مانگ رہا تھا لیکن تم دیکھ رہے تھے کہ مصیبت سے نجات نہیں ملی ۔ وہ کہے گا: جی ہاں اے میرے رب ۔ اللہ تعالی فرمائے گا : میں نے اس دعا کے بد لے تیرے لیے جنت میں فلاں فلاں ذخیرہ کر رکھا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: بندہ مؤمن اللہ تعالی سے جو بھی دعا مانگتا ہے ، وہ تمام اس دن اس کے سامنے بیان کرے گا کہ یا تو وہ دنیا میں پوری کر دی گئی ہے یا اس کو آخرت کے لئے ذخیرہ کر لیا گیا ہے ۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )فرماتے ہیں : اس مقام پربندہ سوچے گا کاش میری کوئی بھی دعا د نیا میں پوری نہ ہوئی ہوتی ۔اس حدیث کومحمد بن المنکد رسے روایت کرنے میں فضل بن عیسٰی متفر د ہیں ۔اور فضل بن عیسٰی کے متعلق وضع حدیث کا وہم نہیں ہے۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← الفضل بن عيسى ← أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْعَدْلُ ← أبو سعيد أحمد بن يعقوب
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1819
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1820
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فر مایا: اے لوگو! اللہ کے ملائکہ کی کچھ جماعتیں ہیں جو ( آسمان سے) روانہ ہوتی ہیں اور زمین میں ذکر کی مجالس میں ٹھہر تی ہیں ، اس لیے تم لوگ جنت کی کیاریوں میں سے چرلیا کرو،صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) جنت کی کیاریاں کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذکر کی محفلیں ( ہی جنت کی کیاریاں ہیں) اس لیے صبح شام اللہ کا ذکر کیا کر واوراپنے دلوں میں اس کو یاد کیا کرو ۔ جوشخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنا مقام جاننا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ اس بات پر غور کرے کہ اس کے دل میں اللہ کا مقام کیا ہے؟ کیونکہ اللہ تعالی بندے کوہی مقام دیتا ہے جومقام بندہ اللہ تعالی کو اپنے دل میں دیتا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:اللہ تعالی کے کچھ صاحب فضیلت چلنے پھرنے والے ملائکہ ہیں جو زمین میں ذکر کی محفلیں تلاش کرتے ہیں ۔ اور جب وہ کسی ذکر کی محفل میں آتے ہیں تو ان کو اپنے پروں کے ساتھ آسمانوں تک ڈھانپ لیتے ہیں ( جب وہ لوٹ کر اللہ تعالی کی بارگاہ میں جاتے ہیں تو) اللہ تعالی ان سے پوچھتا ہے :تم کہاں سے آئے ہو؟ حالانکہ اس بات کو وہ خود بہتر جانتا ہے، وہ جواب دیتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم تیرے ان بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح وتحمید اور تکبیر وتہلیل میں مصروف ہیں ، جوتجھ سے مانگتے ہیں اور تیری ہی پناہ چاہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ مجھ سے کیا مانگ رہے ہیں؟ حالانکہ اس بات کو وہ خود بہتر جا تا ہے ،فر شتے جواب دیتے ہیں اے ہمارے رب ! وہ تجھ سے جنت ما نگ رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں :نہیں اے ہمارے رب! اللہ تعالی فرماتا ہے اگر انہوں نے اس کود یکھالیا ہوتا ( توان کا شوق کیسا ہوتا ) اللہ تعالی فرماتا ہے :یہ میری کس چیز سے پناہ مانگ رہے ہیں؟ حالانکہ وہ بھی بہتر جانتا ہے ۔ وہ جواب دیتے ہیں: آگ سے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: کیا انہوں نے اس کو دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:اگر انہوں نے جہنم کودیکھا ہوتا( تو ان کوڈرنے کی کیفیت کیا ہوتی ؟) پھر اللہ تعالی فرماتا ہے: تم گواہ ہو جاؤ کہ میں نے انہیں معاف کر دیا ہے اور جو کچھ انہوں نے مجھ سے مانگا ہے ، میں نے انہیں دے دیا ہے اور جس چیز سے انہوں نے میری پناہ مانگی ہے، میں نے ان کو پناہ دے دی ہے ۔فرشتے کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ان کے اندرایک گنہگار بندہ بھی ہے ۔ جوان میں (ایسے ہی) بیٹھا ہوا ہے حلقہ ذکر والوں میں و ہ شامل نہیں تھا، اللہ تعالی فر ما تا ہے: میں نے اسے بھی بخش دیا ہے ۔ کیونکہ ذکر کر نے والوں کی یہ شان ہے کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی بد بخت نہیں ہوسکتا۔ یہ حدیث صحیح ہے، امام مسلم رحمتہ اللہ بن حجاج نے اس کو وہب بن خالد کے حوالے سے سہیل سے روایت کیا ہے۔ یہ روایت مختصر ہے اوراس میں امام مسلم رحمتہ اللہ منفرد ہیں۔
حضرت عبداللہ بن بصر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ ! میرے او پر اسلام کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہو چکی ہیں ، اس لیے آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جس کو میں پابندی سے کرتا رہوں ۔ آپ نے فرمایا اپنی زبان کو ہمیشہ اللہ کے ذکر کے ساتھ تر رکھ ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ← لا يَزالُ لِسَانُك رَطبًا من ← لِرَسُولِ اللَّهِ إِنَّ شَرَائِعَ الإِسْلاَمِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ فَأَنْبِئْنِي بِشَىْءٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا ← عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ السَّكُونِيُّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1822
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1823
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:’’مفر دون سبقت لے گئے‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مفر دون کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( مفر دون ان لوگوں کو کہتے ہیں) جو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے بوڑھے ہو جاتے ہیں۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔
أَبَا هُرَيْرَةَ ← عبد الرحمن بن يعقوب مولى الحرقة ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1823
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1824
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: اللہ تعالیٰ ارشادفر ما تا ہے: میں اپنے بندوں کے ہمراہ ہوتا ہوں جب وہ میراذکر کرتا ہے اور میرے نام کی وجہ سے اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
إن الله ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ1 اللَّهِ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1824
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1825
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: کیا میں تمہیں ایسے عمل کی خبر نہ دوں؟ جوتمہارے تمام اعمال سے بہتر ہے اور تمہارے مالک کے ہاں سب سے زیادہ پسند یدہ ہے اور سب سے زیادہ ثواب والا ہے۔ اور تمہارے لیے سونا اور چاندی خیرات کر نے اور جہاد فی سبیل اللہ سے بہتر ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون ساعمل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کا ذکر‘‘ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آدمی کا کوئی عمل اللہ تعالی کے ذکر سے بڑھ کر اس کو اللہ کے عذاب سے بچانے والانہیں ہے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ، وَأَبِي بَحْرِيَّةَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھنْدٍ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ← بكر بن محمد بن حمدان الصيرفي بمرو،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1825
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1826
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جولوگ کسی مجلس میں بیٹھے ہوں اور کافی دیر اس میں بیٹھے رہیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے بغیر اٹھ کر چلے جائیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حسرت زدہ اور شرمندہ ہونگے ۔ ( آگے اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے،اگر چا ہے تو ان کو عذاب دے اور چا ہے تو ان کو معاف کر دے۔ یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اور صالح ساقط راوی نہیں ہیں ۔
حضرت ام المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ آپ کسی بھی مجلس سے اٹھنے سے پہلے یوں کہتے : سبحانك اللهم ربى وبحمدك، لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك میں نے آپ سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی آپ اٹھنے لگتے ہیں تو ا کثر طور پر یہی الفاظ ادا کر تے ہیں ، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جوشخص کسی بھی مجلس سے اٹھنے سے قبل یہ کلمات پڑھتا ہے اس کے اس مجلس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتےہیں ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندے! تو میرے بارے میں جو گمان رکھتا ہے، میں اسی طرح ہوں اور جب تو میراذکر کرتا ہے تو میں تیرے ساتھ ہوتا ہوں ۔ ظن کے الفاظ صحیح ہیں ،منقول ہیں اور دعا کا ذکر غر یب صحیح ہے کیونکہ محمد بن قاسم ثقہ راوی ہیں ۔اور اس اسناد میں صالح جز رہ نامی راوی موجود ہیں ۔