حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہتر ین عبادت’’دعا‘‘ ہے اور آپ نے یہ آیت پڑھی وقال ربكم ادعوني أتجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين(المومن: 60 ) ’’اورتمہارے رب نے فرمایا: مجھے سے دعا کرو میں قبول کرو نگا بے شک وہ جومیری عبادت سے اونچے کھچتے ہیں عنقر یب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر‘‘ ( تر جمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا رحمتہ اللہ)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:جوشخص اللہ تعالٰی سے دعانہیں مانگتا، اللہ تعالی اس سے ناراض ہوتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : جوشخص اللہ تعالی سے دعانہیں مانگتا اللہ تعالی اس پر ناراض ہوتا ہے ۔ اور اللہ تعالی اس شخص پر ناراض نہیں ہوتا ہے جو دعا مانگتا ہے اور ( دعاما نگنے میں )صرف اللہ تعالی ہی خوش ہوتا ہے ۔( اللہ تعالی سے نہ مانگوتو وہ ناراض ہوتا ہے اورمخلوق سے ما نگ لوتو یہ ناراض ہو جاتے ہیں )۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے کیونکہ ابوصالح خوزی اور ابوالملیح فارسی کا جرح میں کہیں تذکرہ نہیں کیا گیا تا ہم کم احادیث روایت کرنے کی وجہ سے ان کا نام مجہول راویوں میں شمار ہوتا ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جولوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اس میں اللہ تعالی کا ذکر کیے بغیر اٹھ جائیں تو ایسا ہے جیسے وہ کسی مرے ہوئے گدھے پر جمع ہوئے ہوں اور اٹھ کر چلے گئے ہوں اور قیامت کے دن ان کو اس بات پر حسرت ہوگی ۔ ( کہ ہم اس وقت ذکر اللہ سے غافل کیوں رہے ) یہ حدیث سہیل بن ابی صالح سے روایت کر نے میں عبدالعزیز ابوحازم نے بلال کی متابعت کی ہے( ان کی روایت کر دہ حدیث درج ذیل ہے )۔
حضرت عبد العزیز بن ابوحازم رضی اللہ عنہ کی سند کے ہمراہ بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی جیسا فرمان منقول ہے۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔اور میرا خیال یہ ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1809
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1810
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جولوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور پھر اس میں اللہ تعالی کے ذکر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے بغیر اٹھ کر چلے جائیں ، قیامت کے دن ان کو اس پر حسرت ہوگی ۔ یہ حدیث سہیل کی حدیث کو معلل نہیں کرتی کیونکہ یہ زیادتی سلیمان بن بلال اورا بن حازم کی جانب سے ہے اور ان کی زیادتی مقبول ہے اور اس کو سعید المقبری نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مسنداً بھی روایت کیا ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جولوگ اکٹھے ہوں اور اللہ کا ذکر کئے بغیر متفرق ہو جائیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے کسی مرداد گد ھے پر جمع ہوکر متفرق ہوئے ہوں ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو المثنى
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1811
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1812
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: دعاء مؤمن کا ہتھیار ہے، دین کا ستون ہے اور زمین اورا سمانوں کا نور ہے۔یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ یہ محمد بن حسن ( وہ ہیں جن کا نام) ’’تل‘‘ ہے یاوہ صدوق ہیں کو فیوں میں سے ہیں ۔
اُم المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : تقدیر سے ڈرتے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور دعا تجھے فائدہ دیگی ۔ جو نازل ہو چکی اور جوابھی نازل ہو نے والی ہیں (سب کے متعلق دعافائد ہ دے گی) کیونکہ مصیبت کی دعا کے ساتھ مڈ بھیڑ ہو جاتی ہے تو یہ دونوں قیامت تک ایک دوسری کے ساتھ لڑتی رہتی ہیں ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعاء کے سوا کوئی چیز تقد یر کورد نہیں کرسکتی اور نیکی کے علاوہ کوئی چیز عمر میں اضافہ نہیں کرتی اور انسان گناہوں کے ارتکاب کے سبب رزق سے محروم ہو جا تا ہے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: دعا ءان آزمائشوں سے فائدہ دیتی ہے جو نازل ہو چکی ہیں اوران آزمائشوں سے بھی جوابھی تک نازل نہیں ہوئیں ۔اس لئے اے اللہ کے بندو! تم پر لازم ہے کہ دعاء مانگا کرو۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : کوئی مسلمان جب اللہ سے دعا کرتا ہے، اس میں گناہ اورقطع رمی کی طلب نہ ہوتو اللہ تعالی اس کو تین فائدوں میں سے ایک ضرور دیتا ہے۔( ۱) اس کی خواہش کو پورا کر دیا جا تا ہے ۔( ۲ ) اس سے اس جیسی کوئی تکلیف دور کر دی جاتی ہے ۔( ۳ ) اس کی دعا کی مثل اس کے لئے ثواب کا ذخیرہ کر دیا جا تا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے تا ہم امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس حدیث کوعلی بن علی الرفاعی کے حوالے سےروایت نہیں کیا ہے ۔
اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ ← مُحَمَّد بن يزيد أبو هشام ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← علي بن علي الرفاعي ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببخارى،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1816