Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2083

2083 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ، قَالَ: «فَأَمَّنَا بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معوذتین کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کی جماعت میں انہی دونوں سورتوں کی تلاوت کی ۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

الْمُعَوِّذَتَيْنِ ← عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أبو جعفر أحمد بن عبد الحميد الحارثي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2083

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2084

2084 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ شَقِيقٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «بَعَثَ مُعَاذًا، وَأَبَا مُوسَى إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَهُمَا أَنْ يُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا»

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اورابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کویمن کا گورنر بنا کربھیجا تو ان کو حکم دیا کہ لوگوں کو قرآن کی تعلیم دینا۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبُو بُرْدَةَ ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الحسن بن شقيق ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2084

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2085

2085 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي إِمْلَاءً، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ السَّنْجَانِيُّ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ، وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ وَالِدُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَاجًا ضَوْءُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا وَكَانَتْ فِيهِ، فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت معاذ بن انس جھنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوشخص قرآن پاک پڑھے اور اس پرعمل کرے، اس کے والد کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی دنیا میں سورج کی روشنی سے تیز ہوگی ۔ تو تمہا را کیا خیال ہے اس شخص کے بارے میں جس نے خوداس پرعمل کیا ہوگا۔ (اس کی عزت و تکریم کس قد رزیادہ ہوگی ) یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ← أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ السَّنْجَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي إِمْلَاءً،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2085

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2086

2086 - أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَتَعَلَّمَهُ وَعَمِلَ بِهِ أُلْبِسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَاجًا مِنْ نُورٍ ضَوْءُهُ مِثْلُ ضَوْءِ الشَّمْسِ، وَيُكْسَى وَالِدَيْهِ حُلَّتَانِ لَا يَقُومُ بِهِمَا الدُّنْيَا فَيَقُولَانِ: بِمَا كُسِينَا؟ فَيُقَالُ: بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن برید واسلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جس شخص نے قرآن پڑھا اور اس کو سیکھا اور اس پرعمل کیا، اس کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی کی طرح ہو گی اور اس کے والد ین کوایسالباس پہنایا جائے گا جس کی قیمت پوری دنیا بھی نہیں ہوسکتی،وہ پوچھیں گے ہمیں یہ لباس کیوں پہنایا گیا ؟ ان کو جواب دیا جائے گا اس لئے کہ تمہارا بچہ قرآن کریم کا حافظ ، عالم اور عامل تھا ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، ← بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2086

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2087

2087 - وَأَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اعْمَلُوا بِالْقُرْآنِ، وَأَحِلُّوا حَلَالَهُ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ، وَاقْتَدُوا بِهِ، وَلَا تَكْفُرُوا بِشَيْءٍ مِنْهُ وَمَا تَشَابَهَ عَلَيْكُمْ مِنْهُ فَرَدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِي كَيْمَا يُخْبِرُوكُمْ، وَآمِنُوا بِالتَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ، وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ وَلْيَسَعْكُمُ الْقُرْآنُ وَمَا فِيهِ مِنَ الْبَيَانِ، فَإِنَّهُ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ، وَمَا حَلَّ مُصَدِّقٌ إِلَّا وَلِكُلِّ آيَةٍ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ مِنَ الذِّكْرِ الْأَوَّلِ، وَأُعْطِيتُ طَهَ، وَطَوَاسِينَ، وَالْحَوَامِيمَ، مِنْ أَلْوَاحِ مُوسَى، وَأُعْطِيتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: قرآن پرعمل کرو، اس کے حلال کو حلال جانو،اوراس کے حرام کر دہ کوحرام جانو ،اس کی اقتداء کرو،اس میں سے کسی بھی چیز کا انکار مت کرو اور جو چیز اس میں سے تم پر متشابہ ہو جائے اس کواللہ اور میرے بعد اولو الامر کی طرف لوٹادوتا کہ وہ تمہیں اس کے بارے میں کوئی خبر د یں ۔اور تو را ۃ ، زبور ،انجیل اور ان تمام کتب وصحائف پرایمان رکھو جواللہ تعالی کی طرف سے انبیاء کرام کو دیئے گئے ۔ اور قیامت کے دن ہر آیت کا نور ہو گا اور مجھے گذشتہ لوگوں کے ذکر کے طور پر’’ سورۃ بقرہ‘‘ دی گئی ۔ اور مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تختیوں میں طہٰ، ۲ طس اورحم دیئے گئے ۔اور عرش کے تحت سے سورۂ فاتحہ دی گئی ہے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← وَأَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2087

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2088

2088 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبِ بْنِ حَيَّانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثنا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ؟ قَالَ: «يَضْرِبُ مِنْ أَوَّلِ الْقُرْآنِ، إِلَى آخِرِهِ، وَمِنْ آخِرِهِ إِلَى أَوَّلِهِ»

حضرت این عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حال اور مرتحل ( سفر سے آ کر دوبارہ سفر پر جانا) صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی : حال اور مرتحل کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قر آن کے اول سے آخر کی طرف سفر کیا جائے اور آخر سے اول کی طرف ۔ (یعنی قرآن ختم ہوتے ہی دوبارہ شروع کر لیا جائے )۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← صالح المري ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ ← أحمد بن ملاعب بن حيان ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2088

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2089

2089 - وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ قُرَيْشٍ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا صَالِحٌ الْمُرِّيٌّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى الْعَامِرِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْحَالُّ، الْمُرْتَحِلُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ؟ قَالَ: «صَاحِبُ الْقُرْآنِ يَضْرِبُ مِنْ أَوَّلِهِ حَتَّى يَبْلُغَ آخِرَهُ، وَمِنْ آخِرِهِ حَتَّى يَبْلُغَ أَوَّلَهُ كُلَّمَا حَلَّ ارْتَحَلَ» . «تَفَرَّدَ بِهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ وَهُوَ مِنْ زُهَّادِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ، لَمْ يُخَرِّجَاهُ» . وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ایک شخص نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون ساعمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حال اور مرتحل ۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حال اور مرتحل کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کا قاری اول سے آخر کی طرف سفر کرتے کرتے آخر تک پہنچ جا تا ہے پھر وہاں سے سفر کر تے ہوئے اول تک پہنچ جا تا ہے ۔ جیسے ہی سفرختم کرے،فورا ً دو بارہ سفر شروع کر لے۔ یہ حدیث روایت کرنے میں صالح المری متفرد ہیں اور اہل بصرہ کے عبادت گزارلوگوں میں سے ہیں ۔ مگرشیخین رحمتہ اللہ نے ان کی روایات نقل نہیں کی ہیں ۔ اور ایک حدیث اس کی شاہد ہے جو کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ ( وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے)

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى الْعَامِرِيِّ ← قَتَادَةَ ← صالح المري ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ قُرَيْشٍ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2089

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَالِمِ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 4999

4999 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَمَنْ مُعَاذٍ، وَمَنْ أُبَيٍّ، وَمَنْ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4999 - ضعيف

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چار آدمیوں سے قرآن حاصل کیا کرو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے۔ حضرت ابی (بن کعب) رضی اللہ عنہ ۔ اور ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ سے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the relative of Salem, the freed slave of Abu Hudhaifa, may God be pleased with him · Hadith 4999

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَالِمِ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5000

5000 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بَطَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُسْتَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ شُيُوخِهِ قَالَ: " سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ كَانَ مَوْلَى لِثُبَيْتَةَ بِنْتِ يَعَارٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، وَكَانَتْ تَحْتَ أَبِي حُذَيْفَةَ فَتَبَّنَاهُ، وَكَانَ يُقَالُ سَالِمُ بْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ} [الأحزاب: 5] قِيلَ لِسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، قُتِلَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ شَهِيدًا سَنَةَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ، وَوُجِدَ رَأْسُهُ عِنْدَ رِجْلِ أَبِي حُذَيْفَةَ، أَوْ رِجْلُ أَبِي حُذَيْفَةَ عِنْدَ رَأْسِهِ " وَقَالَ مُوسَى بْنُ عُتْبَةَ: «هُوَ سَالِمُ بْنُ مَعْقِلٍ مِنْ أَهْلِ إِصْطَخْرَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5000 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

محمد بن عمر اپنے شیوخ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ابو حذیفہ بن عتبہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ ثبیتہ بنت یعار انصاریہ کے غلام تھے اور شبیتہ انصاریہ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، تو حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا۔ اس لئے ان کو سالم بن ابی حذیفہ کہہ کر ہی بلایا جاتا تھا۔ پھر جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی ۔ "ادعوھم لآبائھم (الاحزاب:5) "انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ تو ان کو سالم مولی ابی حذیفہ کہا جانے لگا۔ آپ بارہویں سن ہجری میں جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ان کا سر حضرت ابو حذیفہ کے پاؤں کے قریب پڑا ہوا ملا تھا ، یا (شاہد یہ الفاظ ہیں کہ) ابو حذیفہ کے پاؤں ، ان کے سر کے پاس تھے۔ اور موسیٰ بن عتبہ کا کہنا ہے کہ وہ سالم بن معقل ہے اہل اصطخر میں سے ہیں۔

شيوخه ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رُسْتَةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بَطَّةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the relative of Salem, the freed slave of Abu Hudhaifa, may God be pleased with him · Hadith 5000

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَالِمِ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5001

5001 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ، أَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ الْبُرْدِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَابِطٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَبْطَأْتُ لَيْلَةً عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعِشَاءِ ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ لِي: «أَيْنَ كُنْتَ؟» قُلْتُ: كُنَّا نَسْمَعُ قِرَاءَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِكَ فِي الْمَسْجِدِ لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَ صَوْتِهِ، وَلَا قِرَاءَةً مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِكَ، فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ حَتَّى اسْتَمَعَ إِلَيْهِ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: «هَذَا سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَ هَذَا» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا " إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ الْمُهَاجِرِينَ لَمَّا أَقْبَلُوا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ لِأَنَّهُ كَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5001 - على شرط البخاري ومسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : میں ایک رات عشاء کے بعض حضور ﷺ کی خدمت میں تاخیر سے حاضر ہوئی، آپ ﷺ نے مجھ سے تاخیر کی وجہ دریافت فرمائی، میں نے عرض کی: میں مسجد میں آپ کے صحابی سے قرآن کریم کی تلاوت سن رہی تھیں، میں نے آپ کے صحابہ میں سے کبھی بھی اس جیسی آواز اور ایسی قراءت نہیں سنی ، حضور ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے، میں بھی آپ ﷺ کے ہمراہ کھڑی ہو گئی، اور قراءت سننے لگی، پھر حضور ﷺ میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے: یہ ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام"سالم"ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے اس امت میں ایسے لوگ پیدا فرمائے ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو اس طرح نقل نہیں کیا۔ تاہم دونوں نے عبید اللہ کی نافع کے حوالے سے ابن عمر سے روایت کردہ یہ حدیث نقل کی ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو ان کی امامت سالم مولی ابی حذیفہ کرواتے تھے، کیونکہ یہ سب سے اچھا قرآن پڑھا کرتے تھے۔

حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← موسى بن هارون البردي ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the relative of Salem, the freed slave of Abu Hudhaifa, may God be pleased with him · Hadith 5001

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَالِمِ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5002

5002 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ تُحَدِّثُ، أَنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ، ذَكَرَتْ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُخُولَ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ» فَأَرْضَعَتْهُ بَعْدَ أَنْ شَهِدَ بَدْرًا فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5002 - على شرط مسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا کہ ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کاآزاد کردہ غلام "سالم" ان کے پاس آتا ہے (اور وہ ان سے پردہ نہیں کرتی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کو دودھ پلا دے، چنانچہ انہوں نے سالم کو دودھ پلا دیا ( یہ غزوہ بدر کے بعد کی بات ہے) اس کے بعد سالم ان کے پاس آ جایا کرتے تھے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عمرة بنت عبد الرحمن تحدث ← يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ تُحَدِّثُ، أَنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ، ذَكَرَتْ، ← يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the relative of Salem, the freed slave of Abu Hudhaifa, may God be pleased with him · Hadith 5002

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَالِمِ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5003

5003 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَكْرٍ الْعَدْلُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ قَالَ: " جَعَلَتْ أُمُّ سَالِمٍ الْأَنْصَارِيَّةُ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ سَائِبَةً لِلَّهِ، وَأَنَّهُ قُتِلَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ وَوَرِثَتْ سِلَاحًا وَفَرَسًا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَنْ خُذِيهِ فَأَنْتِ أَحَقُّ النَّاسِ بِهِ، فَقَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، إِنِّي كُنْتُ جَعَلْتُهُ لِلَّهِ تَعَالَى حِينَ أَعْتَقْتُهُ، فَأَخَذَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَعَلَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5003 - لم يصح ذا

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ام سالم انصاریہ رضی اللہ عنہ نے سالم مولی ابی حذیفہ کو اللہ کی راہ میں سائبہ بنایا تھا۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے تھے، اور کافی ہتھیاروں اور گھوڑوں کے مالک بنے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ تمام مال حضرت ام سالم رضی اللہ عنہ کے ہاں بھیج دیا ( اور پیغام دیا) کہ تم اپنے پاس رکھ لو، کیونکہ تم ہی اس مال کی سب سے زیادہ حقدار ہو۔ انہوں نے جواباً کہا: مجھے اس مال کی ضرورت نہیں ہے، میں نے جب اس کو آزاد کیا تھا تو اس کو اللہ کی راہ میں کر دیا تھا۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ مال واپس لے کر فی سبیل اللہ مال میں شامل کر دیا۔

جَعَلَتْ أُمُّ سَالِمٍ الْأَنْصَارِيَّةُ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ سَائِبَةً لِلَّهِ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← أبي بكر بن عبد الله بن أبي الجهم ← أَبِي الْعُمَيْسِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَكْرٍ، الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the relative of Salem, the freed slave of Abu Hudhaifa, may God be pleased with him · Hadith 5003

chevron_left Previous
1…114115116…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section