Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2081

2081 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، بِمِصْرَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ؟» قَالُوا: وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» . «رُوَاةُ هَذَا الْحَدِيثِ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَعُقْبَةُ هَذَا غَيْرُ مَشْهُورٍ»

حضرت ( عبداللہ) ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص روزانہ ایک ہزار آیتیں تلاوت کر نے کی استطاعت نہیں رکھتا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اور کون اس کی استطاعت رکھتا ہے؟ (یعنی کوئی بھی اس کی استطاعت نہیں رکھتا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی الهاكم التکاثر پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتا ؟ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ عقبہ غیرمشہور ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، بِمِصْرَ، ← أبو جعفر محمد بن عبد الله البغدادي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2081

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي حُذَيْفَةَ · حديث 4989

4989 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنُ صَالِحٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ عَلَى أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ فَوَجَدَهُ يَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ أَوَجَعٌ أَوْ حِرْصٌ عَلَى الدُّنْيَا؟ فَقَالَ: كَلَّا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، فَقُلْتُ: مَا هُوَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَلَّكَ يُدْرَكَكُ زَمَانٌ وَيَجْمَعُونَ جَمْعًا وَأَنْتَ فِيهِ» وَإِنِّي قَدْ جَمَعْتُ كَمَا قَالَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فِي الْحَدِيثِ وَهُمْ فَاحِشٌ، وَهُوَ أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ اسْتُشْهِدَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ مُعَاوِيَةُ، وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ هَذَا الْقَوْلَ لِعَمِّهِ أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ يَوْمَ صِفِّينَ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اس وقت حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ رو رہے تھے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کیوں رو رہے ہو؟ کوئی درد ہے یا دنیا کی حرص کی وجہ سے رو رہے ہو؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، ہر گز یہ بات نہیں ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا میں اس کی وجہ سے رو رہا ہوں، میں نے پوچھا: وہ کیا عہد تھا؟ تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "ہو سکتا ہے کہ تم وہ زمانہ پاؤ جب لوگ مال جمع کر رہے ہوں گے ہو سکتا ہے کہ تم بھی ان میں سے ہو" بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق میں نے وہ زمانہ پا لیا ہے۔امام حاکم کہتے ہیں: اس حدیث میں ایک بہت بڑی غلطی ہے ، وہ یہ کہ حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے پہلے شہید ہو گئے تھے۔ یہ بات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا ابو ہاشم بن عتبہ بن ربیعہ سے جنگ صفین میں کہی تھی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ← أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the niqab of Abu Hudayfah · Hadith 4989

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي حُذَيْفَةَ · حديث 4990

4990 - حَدَّثَنَا بِصِحَّةِ مَا ذَكَرْتُهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ بِنْتِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو، ثنا جَدِّي، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى أَبِي هَاشِمٍ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ بِمِثْلِهِ، " قَدِ اخْتَلَفُوا فِي اسْمِ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَقَالَ: اسْمُهُ هُشَيْمٌ "

حضرت ابو وائل فرماتے ہیں: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ابو ہاشم کے پاس گئے (پھر اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح تفصیلی حدیث بیان کی ) حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے نام میں اختلاف ہے، بعض لوگوں نے ان کا نام "ہشیم " بیان کیا ہے۔

اسْمُهُ هُشَيْمٌ ← الْقِصَّةَ بِمِثْلِهِ، قَدِ اخْتَلَفُوا فِي اسْمِ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، ← دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى أَبِي هَاشِمٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← جَدِّي، ← أَبُو بَكْرِ بن بِنْتِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← بِصِحَّةِ مَا ذَكَرْتُهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the niqab of Abu Hudayfah · Hadith 4990

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي حُذَيْفَةَ · حديث 4991

4991 - كَمَا أَخْبَرْنَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو يُونُسَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ: " أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ اسْمُهُ هُشَيْمٌ وَقِيلَ: اسْمُ أَبِي حُذَيْفَةَ حِسْلٌ "

ابراہیم بن المنذر فرماتے ہیں ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا نام ہشیم ہے ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کا نام "حسل" ہے۔

إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← أَبُو يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو إِسْحَاقَ بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ يَعْقُوبَ، ← كَمَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the niqab of Abu Hudayfah · Hadith 4991

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي حُذَيْفَةَ · حديث 4992

4992 - سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ، سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: " أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ اسْمُهُ حِسْلٌ أَنَا أَخْشَى أَنَّهُ وَهِمَ فِيهِ، فَإِنَّ الْيَمَانَ وَالِدُ حُذَيْفَةَ يُلَقَّبُ بِحِسْلٍ وَقِيلَ: إِنَّ اسْمُهُ عِسْلٌ "

یحییٰ بن معین کا کہنا ہے کہ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا نام "حسل" ہے۔ (امام حاکم کہتے ہیں) مجھے لگتا ہے کہ یہ غلط ہے۔ کیونکہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد یمان کا لقب "حسل رحمۃ اللہ علیہ" تھا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا نام "عسل" تھا۔

أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ اسْمُهُ حِسْلٌ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the niqab of Abu Hudayfah · Hadith 4992

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي حُذَيْفَةَ · حديث 4993

4993 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا يُونُسُ، أَنَا عِكْرِمَةُ، " أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ كَانَ يُقَالُ لَهُ: حِسْلٌ أَوْ عِسْلٌ وَقِيلَ إِنَّ اسْمَهُ مِقْسَمٌ "

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ابو حذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کو "حسل" یا "عسل" کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا نام "مقسم " تھا۔

يُونُسَ ← هُشَيْمٌ ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو إِسْحَاقَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the niqab of Abu Hudayfah · Hadith 4993

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي حُذَيْفَةَ · حديث 4994

4994 - أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُصَيْرٍ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: " يُقَالُ أَنَّ اسْمَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ، هُشَيْمٌ وَيُقَالُ: مِقْسَمٌ "

محمد بن سعد کہتے ہیں : کہا جاتا ہے کہ حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کا نام "ہشیم " تھا۔ اور ان کو " مقسم" کہا جاتا تھا۔

يُقَالُ أَنَّ اسْمَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ، هُشَيْمٌ وَيُقَالُ: مِقْسَمٌ ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ نُصَيْرٍ بِإِسْنَادِهِ، ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the niqab of Abu Hudayfah · Hadith 4994

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي حُذَيْفَةَ · حديث 4995

4995 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْقَلِيبِ فَطُرِحُوا فِيهِ، فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا» فَقَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُكَلِّمُ أَقْوَامًا مَوْتَى؟ فَقَالَ: «لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقٌّ» ، فَلَمَّا أَمَرَ بِهِمْ فَسُحِبُوا عُرِفَ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ الْكَرَاهِيَةُ وَأَبُوهُ يُسْحَبُ إِلَى الْقَلِيبِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا حُذَيْفَةَ، وَاللَّهِ لَكَأَنَّهُ سَاءَكَ مَا كَانَ فِي أَبِيكَ» فَقَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَكَكْتُ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِ اللَّهِ، وَلَكِنْ إِنْ كَانَ حَلِيمًا سَدِيدًا ذَا رَأْيٍ، فَكُنْتُ أَرْجُو أَنْ لَا يَمُوتَ حَتَّى يَهْدِيَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ أَنْ قَدْ فَاتَ ذَلِكَ وَوَقَعَ حَيْثُ وَقَعَ أَحْزَنَنِي ذَلِكَ، قَالَ: فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْرٍ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4995 - على شرط مسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (کافروں کی لاشوں کو) قلیب (کنویں میں پھینکنے کا) حکم دیا۔ آپ کے حکم کے مطابق ان کو کنویں میں پھینک دیا گیا، پھر حضور ﷺ نے اس کنویں پر کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا: اے کنویں والو! کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ بے شک میرے ساتھ میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اس کوسچ پایا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ مرے ہوؤں سے گفتگو فرما رہے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: بے شک انہوں نے جان لیا ہے کہ جو ان کے رب نے وعدہ کیا تھا وہ برحق ہے۔ پھر جب حضور ﷺ نے حکم کے مطابق ان کو گھسیٹ کر کنویں میں پھینکا جا رہا تھا تو جب حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے باپ کو پھینکا جا رہا تھا تو ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار بالکل نمایاں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ خدا کی قسم! تیرے باپ کے ساتھ جو معاملہ ہوا ہے اس نے تجھے پریشان کیا ہے۔ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ بولے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کی قسم ! میں نے کبھی بھی اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں شک نہیں کیا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ میرا باپ برد بار ، سیدھا سادھا ، اور سمجھ بوجھ والا تھا، میری یہ آرزو تھی کہ اللہ تعالیٰ اس کو اسلام کی ہدایت عطا فرما دیتا۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ فوت ہو گیا ہے تو اس وجہ سے مجھے شدید غم لاحق ہوا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان (ابو حذیفہ) کے لئے دعائے خیر فرمائی۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the niqab of Abu Hudayfah · Hadith 4995

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ قُطْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 4996

4996 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: " وَقُطْبَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ حَدِيدَةَ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا وَهُوَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ: {لَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا} [البقرة: 189] وَأَخُوهُ يَزِيدُ بْنُ عَامِرِ بْنِ حَدِيدَةَ، وَيَزِيدُ يُكَنَّى أَبَا الْمُنْذِرِ "

حضرت عروہ فرماتے ہیں: حضرت قطبہ بن عامر بن حدیدہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ "لیس البر بان تاتوا البیوت من ظہورھا" اور یہ کچھ بھلائی نہیں کہ گھروں میں پچھیت توڑ کر آؤ"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ان کے بھائی حضرت یزید بن عامر بن حدیدہ رضی اللہ عنہ ہیں، یزید کی کنیت ابو المنذر ہے۔

عُرْوَةَ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Qutbah bin Amer al-Ansari, may God be pleased with him · Hadith 4996

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ قُطْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 4997

4997 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَشْيَاخٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالُوا: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَوْسِمِ الَّذِي لَقِيَهُ فِيهِ النَّفَرَ مِنَ الْأَنْصَارِ فَعَرَضَ نَفْسَهُ عَلَى قَبَائِلِ الْعَرَبِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعِينَ إِلَى بِلَادِهِمْ قَدْ آمَنُوا وَصَدَّقُوا مِنْهُمْ قُطْبَةَ بْنَ عَامِرِ بْنِ حَدِيدَةَ»

عاصم بن عمر بن قتادہ اپنے اساتذہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حج کے موقع پر نکلے جس میں انصاریوں کے ایک وفد نے آپ ﷺ سے ملاقات کی تھی، اور نبی اکرم ﷺ نے اپنے آپ کو عرب کے قبائل کے لئے پیش فرمایا تھا پھر یہ لوگ ایمان قبول کر کے اپنے اپنے قبیلوں کی طرف واپس لوٹ گئے تھے۔ ان میں حضرت قطبہ بن عامر بن حدیدہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔

أَشْيَاخٍ مِنْ قَوْمِهِ، ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Qutbah bin Amer al-Ansari, may God be pleased with him · Hadith 4997

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ قُطْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 4998

4998 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ قُطْبَةَ بْنَ عَامِرِ بْنِ حَدِيدَةَ فِي عِشْرِينَ رَجُلًا إِلَى حَيٍّ مِنْ خَثْعَمَ فِي صَفَرٍ سَنَةَ سَبْعٍ»

ابن کعب بن مالک فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساتویں سن ہجری صفر المظفر میں حضرت قطبہ بن عامر بن حدیدہ رضی اللہ عنہ کو بیس آدمیوں کی معیت میں خثعم کے ایک قبیلے کی جانب بھیجا۔

ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← بن أبي سبرة ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Qutbah bin Amer al-Ansari, may God be pleased with him · Hadith 4998

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2082

2082 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ عُمَيْرٍ مَوْلَى نَوْفَلِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَنَامَنَّ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَسْتَطِيعُ أَحَدُنَا أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، قَالَ: «أَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقْرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت نہ سوئے جب تک ایک تہائی قرآن کی تلاوت نہ کر لے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص ایک تہائی قرآن کیسے پڑھ سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: کياقل هو الله أحد، قل أعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس نہیں پڑھ سکتا؟یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ عُمَيْرٍ مَوْلَى نَوْفَلِ بْنِ عَدِيٍّ، ← يَحْيَى بْنُ عُمَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ ← عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهمدان

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2082

chevron_left Previous
1…113114115…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section