Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَالِمِ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5004

5004 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " لَمَّا قُتِلَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، قَالُوا: ذَهَبَ رُبْعُ الْقُرْآنِ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت زید بن سالم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم کو شہید کیا گیا تو لوگ کہتے تھے"قرآن کا چوتھا حصہ ختم ہو گیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

ذَهَبَ رُبْعُ الْقُرْآنِ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» ← لَمَّا قُتِلَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the relative of Salem, the freed slave of Abu Hudhaifa, may God be pleased with him · Hadith 5004

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَالِمِ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5005

5005 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِي، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «تَمَنَّوْا» ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَتَمَنَّى لَوْ أَنَّ هَذِهِ الدَّارَ مَمْلُوءَةٌ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَتَصَدَّقُ، وَقَالَ رَجُلُ: أَتَمَنَّى لَوْ أَنَّهَا مَمْلُوءَةٌ زَبَرْجَدًا وَجَوْهَرًا فَأُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَتَصَدَّقُ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: «تَمَنَّوْا» فَقَالُوا: مَا نَدْرِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ عُمَرُ: «أَتَمَنَّى لَوْ أَنَّهَا مَمْلُوءَةٌ رِجَالًا مِثْلَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5005 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم لوگ کسی چیز کی خواہش کرو، ایک نے کہا:میری خواہش یہ ہے کہ یہ گھر سونے سے بھرا ہوا اور میں اس کی راہ میں صدقہ کر دوں، ایک اور نے یوں کہا: میری خواہش یہ ہے کہ یہ مکان ہیرے، جواہرات سے بھر جائے اور میں اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کر دوں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا: تم اور کوئی خواہش کرو! انہوں نے کہا: مزید ہمیں سمجھ آ رہی کہ ہم کیا خواہش کریں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری یہ خواہش ہے کہ یہ گھر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ، سالم مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ ن یمان رضی اللہ عنہ جیسے لوگوں سے بھرا ہوا ہو۔

أَبُو صَخْرٍ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the relative of Salem, the freed slave of Abu Hudhaifa, may God be pleased with him · Hadith 5005

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ بْنِ نُفَيْلٍ · حديث 5006

5006 - حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بَطَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، أَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْجَحَّافُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مِنْ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ يَحْمِلُ رَايَةَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ وَقَدِ انْكَشَفَ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى ظَهَرَتْ حَنِيفَةُ عَلَى الرِّجَالِ، فَجَعَلَ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ: «أَمَّا الرِّجَالُ فَلَا رِجَالَ، وَأَمَّا الرِّجَالُ فَلَا رِجَالَ» ، ثُمَّ جَعَلَ يَصِيحُ بِأَعْلَى صَوْتِهِ، «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِنْ فِرَارِ أَصْحَابِي، وَأَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ مُسَيْلِمَةُ وَمُحْكَمُ بْنُ الطُّفَيْلِ» ، وَجَعَلَ يَشُدُّ بِالرَّايَةِ يَتَقَدَّمُ بِهَا فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، ثُمَّ ضَارَبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى قُتِلَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَوَقَعَتِ الرَّايَةُ، فَأَخَذَهَا سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: يَا سَالِمُ، إِنَّا نَخَافُ أَنْ نُؤْتَى مِنْ قِبَلِكَ، فَقَالَ: بِئْسَ حَامِلُ الْقُرْآنِ أَنَا إِنْ أُتِيتُمْ مِنْ قِبَلِي، وَقُتِلَ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ سَنَةَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ مِنَ الْهِجْرَةِ

عمر بن عبدالرحمٰن جو کہ حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اولادوں میں سے ہیں، اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ میں مسلمانوں کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے، مسلمان منتشر ہو گئے ،حتی کہ بنو حنیفہ ان پر غالب آ گئے، تو حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کہنے لگے: مردوں میں کوئی مرد نہیں ہے، مردوں میں کوئی مرد نہیں ہے۔ پھر آپ بآواز بلند کہنے لگے: اے اللہ ! میں اپنے ساتھیوں کے بھاگ جانے سے تیری بارگاہ میں معافی مانگتا ہوں، اور تیری بارگاہ میں ان تمام نظریات سے براءت کا اظہار کرتا ہوں جو مسیلمہ اور محکم بن طفیل نے پیش کئے ہیں۔ آپ جھنڈے کو مضبوطی سے تھامے دشمن کی جانب پیش قدمی کرنے لگے، پھر اپنی تلوار کے ساتھ لڑائی شروع کر دی، حتی کہ آپ کو شہید کر دیا گیا، اور جھنڈا آپ کے ہاتھ سے چھوٹ گیا، پھر یہ جھنڈا حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ نے سنبھالا، تو مسلمان مجاہدین نے کہا: اے سالم ہمیں خدشہ ہے کہ تیری طرف سے ہمیں نقصان ہو گا، تو انہوں نے فرمایا : اگر میری جانب سے تمہیں کوئی نقصان پہنچ جائے تو مجھ سے زیادہ کوئی برا حامل قرآن نہیں ہو گا۔ حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ بارہویں سن ہجری میں شہید ہوئے۔

أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مِنْ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، ← الجَحَّاف ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بَطَّةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the niqab of Zaid ibn al-Khattab ibn Nufayl · Hadith 5006

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2090

2090 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَكْرٍ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ تَلِيدٍ الرُّعَيْنِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ أَوْ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: «الْحَالُّ، الْمُرْتَحِلُ الَّذِي يَفْتَحُ الْقُرْآنَ وَيَخْتِمُهُ، صَاحِبُ الْقُرْآنِ يَضْرِبُ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ، وَمِنْ آخِرِهِ إِلَى أَوَّلِهِ، كُلَّمَا حَلَّ ارْتَحَلَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون ساعمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حال اور مرتحل ۔اس نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حال اور مرتحل کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کا قاری قرآن کریم شروع کرے اوراس کے آخر تک پہنچے ۔ قرآن پڑھنے والا اول سے آخر کی طرف سفر کرتے کرتے آخر تک پہنچ جا تا ہے پھر وہاں سے سفر کرتے ہوئے اول تک پہنچ جا تا ہے ۔ جیسے ہی سفرختم کرے،فورا ً دو بارہ سفر پر نکل جائے ۔

قامَ رَجُلٌ إلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالک بن أنس ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ تَلِيدٍ الرُّعَيْنِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَكْرٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2090

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2091

2091 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُهُ فَسَأَلَنِي مَنْ أَنْتَ فَأَخْبَرْتُهُ عَنْ نَسَبِي، فَقَالَ سَعْدٌ: تُجَّارٌ كَسَبَةٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ» . قَالَ سُفْيَانُ: «يَعْنِي يَسْتَغْنِي بِهِ» . «وَعِنْدَ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ فِيهِ إِسْنَادٌ آخَرُ»

عبداللہ ابن ابی نہیک فرماتے ہیں: میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ،انہوں مجھ سے میرا تعارف پوچھا ، میں نے ان کواپنا تعارف کروایا، (وہ مجھے پہچان گئے اور کہنے لگے )تم تو کمائی کرنے والے تاجر ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفر ماتے سنا ہے’’ و ہ شخص ہم میں سے نہیں جوقر آن کو اچھی آواز کے ساتھ نہیں پڑھتا‘‘ حضرت سفیان فرماتے ہیں : اس کا مطلب ہے ( جوقر آن کو اچھی آواز کے ساتھ پڑھنے کی کوشش نہیں کرتا ) اسی حدیث کی سفیان بن عیینہ کی ایک اور بھی سند ہے ۔ ( جو کہ درج ذیل ہے )

سُفْيَانُ: «يَعْنِي يَسْتَغْنِي بِهِ» «وَعِنْدَ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ فِيهِ إِسْنَادٌ آخَرُ» ← لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآن۔ ← رَسُولِ اللَّهِ ← نَسَبِي، فَقَالَ سَعْدٌ: تُجَّارٌ كَسَبَةٌ ← أَتَيْتُهُ فَسَأَلَنِي مَنْ أَنْتَ فَأَخْبَرْتُهُ ← سَعْدٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2091

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2092

2092 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ، قَالَ: قَالَ لَهُ سَعْدٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تُجَّارٌ كَسَبَةٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ» . وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ حَسَّانَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ. «وَقَدْ خَالَفَهُمَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» . وَقَدِ اتَّفَقَتْ رِوَايَةُ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، وَسَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ. " وَقَدْ خَالَفَهُمَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، فَقَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ "

حضرت سفیان بن عیینہ رضی اللہ عنہ اپنی اس سند کے ہمراہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن ابی نہیک سے حضرت سعد نے کہا تم کمائی کر نے والے تا جر ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ’’وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جوقر آن کواچھی آواز کے ساتھ نہیں پڑھتا‘‘۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کو اس سند کے ہمرا نقل نہیں کیا ہے۔ اور سعيد بن حسان المخزومی نے عبد الله ابن ابی نھیک کے حوالے سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔اور عمرو بن دینار ، ابن جریج اور سعید بن حسان کی ابن ابی ملیکہ کے واسطے سے عبد اللہ ابن ابی نہیك سے روایات متفق ہیں ، جبکہ لیث بن سعد نے ان کی مخالفت کر تے ہوئے یوں سند بیان کی :’’ عن عبد الله بن أبي مليكة، عن عبد الله بن أبي نهيک‘‘ ۔ (لیث کی روایت درج ذیل ہے )

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2092

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2093

2093 - أَخْبَرْنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، ثنا قَيْسُ بْنُ أُنَيْفٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ» . «لَيْسَ يَدْفَعُ رِوَايَةَ اللَّيْثِ تِلْكَ الرِّوَايَاتُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ، فَإِنَّهُمَا أَخَوَانِ تَابِعِيَّانِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ الرِّوَايَتَيْنِ رِوَايَةُ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ أَحَدُ الْحُفَّاظِ الْأَثْبَاتِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ»

حضرت لیث بن سعد ، ابن ابی ملکیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ ابن ابی نہیک نے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ فر مان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا :وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جوقر آن کو خوبصورت آواز کے ساتھ نہیں پڑھتا۔ لیث کی یہ روایت ، عبد اللہ ابن ابی نہيك سے مروی دیگر روایات کومخدوش نہیں کرتی کیونکہ وہ دونوں بھائی ہیں ، تابعی ہیں اور دونوں روایتوں کی صحت پر دلیل عمر و بن حارث کی روایت ہے ۔ (اور وہ ثبت ،حفاظ میں سے ہیں) جوانہوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی ہے ۔( وہ حدیث درج ذیل ہے )

سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← قيس بن أنيف ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2093

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2094

2094 - حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السِّرَاجِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ نَاسٍ دَخَلُوا عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الْقُرْآنِ فَقَالَ سَعْدٌ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ» . «فَهَذِهِ الرِّوَايَةُ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ رَاوٍ وَاحِدٍ إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ رُوَاةٍ لِسَعْدٍ، وَقَدْ تَرَكَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ وَعِسْلُ بْنُ سُفْيَانَ الطَّرِيقَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ وَأَتَيَا بِهِ فِيهِ بِإِسْنَادَيْنِ شَاذَّيْنِ» .

حضرت ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کچھ لوگ جو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تھے ،انہوں نے یہ بات بتائی کہ انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے قرآن کے متعلق پوچھا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ بولے: بہر حال میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ و ہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جوقر آن کوسُر کے ساتھ نہیں پڑھتا۔ یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے صرف ایک راوی سے یہ حدیث نہیں سنی بلکہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے متعد د راویوں سے انہوں نے یہ حد یث سنی ہے ۔جبکہ عبید اللہ بن اخنس اور عسل بن سفیان نے ابن ابی ملیکہ کی سندترک کی اوراس میں دوشاذ سند یں استعمال کی ہیں ۔عبیداللہ بن اخنس کی حد یث:

ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السِّرَاجِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2094

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2095

2095 - فَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ أَبُو نُوحٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ» . وَرَوَاهُ الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ الثَّقَفِيُّ الْبَصْرِيُّ، عَنْ عِسْلِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَى الْحَارِثُ بِهَذَا السَّنَدِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ

حضرت عبید اللہ بن اخنس رضی اللہ عنہ ، عبید اللہ بن عبد اللہ بن ابی ملیکہ کے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جوقر آن کوسُر کے ساتھ نہیں پڑھتا۔اسی حدیث کو حارث بن مرة ثقفی بصری نے عسل بن سفیان کے واسطے سے ابن ابی ملیکہ سے روایت کیا ہے کہ ام المومنین سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتی ہیں ۔اور حسارث نے اسی سند کے ہمراہ یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ أَبُو نُوحٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← فَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2095

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2096

2096 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ، ثنا عِسْلُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ» . " لَيْسَ مُسْتَبْعَدًا مِنْ عِسْلِ بْنِ سُفْيَانَ الْوَهْمُ وَالْحَدِيثُ رَاجِعٌ إِلَى حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِهِ فِي الصَّحِيحَيْنِ فَغَيْرُ هَذَا الْمَتْنِ اتَّفَقَا عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ»

حضرت حارث بن مرہ رضی اللہ عنہ عسل بن سفیان کے واسطے سے ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان نقل کیا ہے: و ہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جوقرآن کوسُر کے ساتھ نہیں پڑھتا۔ عسل بن سفیان سے غلطی ہو جانا کوئی امر بعید نہیں ہے ۔ اور یہ حدیث حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث کی جانب راجع ہے ۔ واللہ اعلم۔ بہر حال وہ حدیث جوامام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں نے اپنی اپنی صحیح میں نقل کی ہے ،اس کامتن اس حدیث سے قدرے مختلف ہے ۔ ان دونوں نے زھری کے واسطے سے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ تعالی نے ایسا اجر کسی چیز پرنہیں دیا جیسا اجر کسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کواچھی آواز میں قرآن پڑھنے پر دیا ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عِسْلِ بْنِ سُفْيَانَ، ← الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← أبو علي الحسين بن علي الحافظ أنبأ عبدان الأهوازي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2096

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2097

2097 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، وَحَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، بِمَكَّةَ وَكَتَبَهُ لِي بِخَطِّهِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَلَّهُ أَشَدُّ أُذُنًا إِلَى الرَّجُلِ الْحَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ، مِنْ صَاحِبِ الْقَيْنَةِ إِلَى قَيْنَتِهِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: گا نا سنانے والی کو گانا سننے والے جس شدت کے ساتھ ( مال و دولت سے) نوازتے ہیں ، اس سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ اللہ تعالی اس شخص کوا جر وثواب سےنواز تا ہے جوا چھی آواز کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہو ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ: ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، ← أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دُحَيْمٌ، ← سَعِيدُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، ← الْأَوْزَاعِيُّ، وَحَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، بِمَكَّةَ وَكَتَبَهُ لِي بِخَطِّهِ، ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2097

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ بْنِ نُفَيْلٍ · حديث 5007

5007 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقَ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " خَامِسَ خَمْسَةٍ رُفْقَةٍ فِي غَزَاةِ مُسَيْلِمَةَ فَقَتَلُوا غَيْرَهُ، قِيلَ: زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَخْرَمَةَ وَاثْنَانِ آخَرَانِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5007 - حذفه الذهبي من التلخيص

عبدالمالک بن نوفل بن مساحق فرماتے ہیں: جن پانچ ساتھیوں نے مسیلمہ کو قتل کیا تھا ان میں ایک تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ تھے اور باقی چار کے بارے میں یہ قول ہے کہ زید بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تھے اوردو آدمی ان کے علاوہ بھی تھے۔

عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the niqab of Zaid ibn al-Khattab ibn Nufayl · Hadith 5007

chevron_left Previous
1…115116117…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section