Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2045

2045 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَا: ثنا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ، أَوِ ابْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

مذکور ہ سند کے ہمراہ بھی ابوامامہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس جیسا فرمان منقول ہے ۔

النَّبِيِّ نَحْوَهُ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي الْجَعْدِ، أَوِ ابْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ، ← عمرو بن علي وأحمد بن المقدام ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2045

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2046

2046 - أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ» قَالُوا: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَهْلُ الْقُرْآنِ هُمْ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ» . «وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ عَنْ أَنَسٍ هَذَا أَمِثْلُهَا»

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: لوگوں میں کچھ اہل اللہ بھی ہوتے ہیں ،صحا بہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل قرآن ہی تو اہل اللہ اور اس کے خاص لوگ ہیں۔ یہی حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ سے تین سندوں کے ہمراہ منقول ہے ۔ان تینوں میں سے زیادہ جامع یہی ہے۔

أَنَسٍ، ← أَبِيهِ ← عبد الرحمن بن بديل ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2046

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2047

2047 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا شَاذَانُ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كُنَّا إِذَا تَعَلَّمْنَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ، لَمْ نَتَعَلَّمْ مِنَ الْعَشْرِ الَّذِي نَزَلَتْ بَعْدَهَا حَتَّى نَعْلَمَ مَا فِيهِ» . قِيلَ لِشَرِيكٍ مِنَ الْعَمَلِ؟، قَالَ: «نَعَمْ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کریم کی دس آیتیں سیکھ لیتے تو اس کے بعد نازل ہونے والی دس آیات سیکھنے سے پہلے ہم جان لیتے تھے کہ ان آیات میں کیا ہے؟ شریک سے پوچھا گیا: (یعنی یہ جان لیتے کہ ان میں کسی چیز پر) عمل ( کاحکم دیا گیا ہے)؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← شَرِيکٍ ← شَاذَانُ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2047

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2048

2048 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَةً مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْقُرْآنِ مِثْلُهَا؟» قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ حَتَّى تَعْلَمَهَا» فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُمْتُ مَعَهُ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي وَيَدِي فِي يَدِهِ فَجَعَلْتُ أَتَبَاطَأُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَخْرُجَ قَبْلَ أَنْ يُخْبِرُنِي بِهَا، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْبَابِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ السُّورَةُ الَّتِي وَعَدْتَنِي، فَقَالَ: «كَيْفَ تَقْرَأُ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ؟» فَقَرَأْتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ، فَقَالَ: " هِيَ، هِيَ، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ} [الحجر: 87] الَّذِي أُعْطِيتُ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَى الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِيهِ ". فَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كَرِيزٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ

حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: کیا میں تجھے ایسی سورۃ سکھاؤں جس جیسی سورت تو رات ، انجیل ، زبور میں نہیں ہے اور نہ ہی قرآن میں ( کوئی دوسری سورۃ ) اس کی مثل ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں کہ تو یہ سورت سیکھے بغیر اس دروازے سے باہر نہیں نکلے گا (یعنی یہاں سے جانے سے پہلے میں تمہیں یہ سورت سکھادوں گا )۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھٹرے ہوئے ، آپ کے ہمراہ میں بھی کھڑا ہو گیا ، آپ نے میرے ساتھ با تیں کر نا شروع کیں اور میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا ، میں ٹال مٹول کر تے ست ست قدم اٹھار ہا تھا کیونکہ میں رسول پاک سے وہ سور ۃ پوچھے بغیر باہرنہیں نکلنا چاہتا تھا۔ پھر جب میں دروازے کے قریب پہنچا تو عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! و ہ سورت ( تو سکھا دیجئے )جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز شروع کر تے ہوتو قرآت کیسے کر تے ہو؟ میں نے سور ۃ فاتحہ پڑھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی ، یہی ۔ یہی وہ سبع مثانی ہے، جس کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا ہے’’ ولقد اتيناك سبعا من المثاني والقران العظیم‘‘ جو مجھے دی گئی ہے ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔اس کی سند میں علاء بن عبدالرحمن ٰپراختلاف ہے ۔ چنانچہ اس حدیث کو مالک بن انس نے علاء بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے عامر بن کر یز کے غلام ابوسعید کے ذریعے حضرت ابی بن کعب سے روایت کیا ہے جبکہ شعبہ نے اس کو علاء بن عبد الرحمٰن کے واسطے سے ان کے والد کے ذریعے حضرت ابی بن کعب سے روایت کیا ہے ۔مالک بن انس کی حد یث :

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2048

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2049

2049 - فَأَخْبَرَنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كَرِيزٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ كَفَّهُ، قَالَ: فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى يَدِي، قَالَ: وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «إِنِّي أَرْجُو أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى تَعْلَمَ سُورَةً مَا أُنْزِلَ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الْقُرْآنِ مِثْلُهَا» ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَتَبَاطَأُ فِي الْمَشْيِ رَجَاءَ ذَلِكَ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ السُّورَةُ الَّتِي وَعَدْتَنِي، قَالَ: «كَيْفَ تَقْرَأُ إِذَا افْتُتِحَتِ الصَّلَاةُ؟» قَالَ: فَقَرَأْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ هَذِهِ السُّورَةُ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ»

حضرت مالک ،علاء بن عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عامر بن کر یز کے غلام ابوسعید فرماتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب نماز پڑھ ر ہے تھے، جب و ہ نماز سے فارغ ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوروک لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑلیا(ابوسعید ) فرماتے ہیں: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مسجد سے باہر جار ہے تھے ( راوی) فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے تم وہ سورۃ سیکھ لو جو نہ تو رات میں نازل ہوئی ہے نہ انجیل میں اور نہ ہی قرآن کریم میں اس جیسی کوئی دوسری سورت ہے ۔ (ابی ) کہتے ہیں اسی امید پر میں بہت ست ست قدم اٹھار ہا تھا، پھر میں نے کہہ ہی دیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ سورت ( کب سکھائیں گے؟ ) جس کا آپ نے مجھ سے وعد ہ فر مایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز شروع کرتا ہے تو کون سی سورت پڑھتا ہے؟ ( ابی ) کہتے ہیں: میں نے الحمد لله رب العالمین سے شروع کیا اور آخر تک پوری سورت پڑھ ڈالی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: یہی وہ سورۃ ہے، یہ سبع مثانی ہے اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے ۔ شعبہ کی حدیث:

الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كَرِيزٍ ← مَالِكٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← فَأَخْبَرَنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2049

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2050

2050 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَايِنِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى خَتَمَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ» . «وَقَدْ وَجَدْتُ لِحَدِيثِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ شَاهِدًا فِي سَمَاعِ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ مِنْ حَدِيثِ الْمَدَنِيِّينَ»

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو الحمد لله رب العالمین سے شروع کر کے سورت کے اختتام تک پڑھ کر سنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی سبع مثانی ہے اور قر آن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ۔ (امام حاکم فرماتے ہیں) عبد الحمیر بن جعفر کی اس حدیث کی مجھے ایک شاہد حد یث بھی ملی ہے جس میں یہ تصریح موجود ہے کہ یہ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے خودسنی ہے ۔اس کی سند میں مدنی راوی ہیں ۔ ( شاہد حدیث درج ذیل ہے)

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← شُعْبَةُ، ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَايِنِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2050

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ زَيْدٍ الْحَبِّ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى · حديث 4954

4954 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلُومُونَا عَلَى حُبِّ زَيْدٍ» يَعْنِي: ابْنَ حَارِثَةَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: وَسَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ: «مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً قَطُّ وَفِيهِمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ إِلَّا أَمَّرَهُ عَلَيْهِمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4954 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت قیس بن حازم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زید پر شفقت کے بارے میں مجھ پر اعتراض مت کیا کرو۔ (راوی کہتے ہیں یہ زید) بن حارثہ ہیں۔ (اگرچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے یہ توقع نہ تھی لیکن پھر بھی احتیاطاً فرما دیا تاکہ کوئی شخص اس طرح کی بات سوچ کر اپنا ایمان برباد نہ کر بیٹھے۔ شفیق) اسماعیل کہتے ہیں: میں نے شعبی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوبھی لشکر روانہ فرمایا اس میں اگر زید بن حارثہ موجود ہوتے تو انہی کو امیر مقرر فرماتے۔

قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtue of Zaid al-Hob ibn Haritha ibn Shrahelil ibn Abd al-'Uzzi · Hadith 4954

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ زَيْدٍ الْحَبِّ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى · حديث 4955

4955 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدِ بْنِ بَطَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي عَائِذُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «خَيْرُ أُمَرَاءِ السَّرَايَا زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ أَقْسَمُهُمْ بِالسَّوِيَّةِ، وَأَعْدَلُهُمْ فِي الرَّعِيَّةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4955 - في سنده الواقدي

حضرت جبیر مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سرایا (جنگی مہموں کے امیروں میں سے بہترین امیر زید بن حارثہ ہے یہ تقسیم کرنے میں سب سے زیادہ مساوات کا خیال رکھتے ہیں اور اپنے ماتحتوں کے معاملات مین سب سے زیادہ انصاف پسند ہیں۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← أَبِی الْحُوَیْرِثِ ← عَائِذُ بْنُ يَحْيَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدِ بْنِ بَطَّةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtue of Zaid al-Hob ibn Haritha ibn Shrahelil ibn Abd al-'Uzzi · Hadith 4955

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ زَيْدٍ الْحَبِّ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى · حديث 4956

4956 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَيَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُرْدِفِي إِلَى نُصُبٍ مِنَ الْأَنْصَابِ، فَذَبَحْنَا لَهُ شَاةً وَوَضَعْنَاهَا فِي التَّنُّورِ، حَتَّى إِذَا نَضِجَتِ اسْتَخْرَجْنَاهَا فَجَعَلْنَاهَا فِي سُفْرَتِنَا، ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ وَهُوَ مُرْدِفِي فِي أَيَّامِ الْحَرِّ مِنْ أَيَّامِ مَكَّةَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَعْلَى الْوَادِي لَقِيَ فِيهِ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، فَحَيَّا أَحَدُهُمَا الْآخَرَ بِتَحِيَّةِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لِي أَرَى قَوْمَكَ قَدْ شَنَفُوكَ؟» قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ إِنَّ ذَلِكَ لِتَغَيُّرِ ثَائِرَةٍ كَانَتْ مِنِّي إِلَيْهِمْ، وَلَكِنِّي أَرَاهُمْ عَلَى ضَلَالَةٍ، قَالَ: فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي هَذَا الدِّينَ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى أَحْبَارِ يَثْرِبَ فَوَجَدْتُهُمْ يَعْبُدُونَ اللَّهَ وَيُشْرِكُونَ بِهِ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا بِالدِّينِ الَّذِي أَبْتَغِي، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَى أَحْبَارِ أَيْلَةَ فَوَجَدْتُهُمْ يَعْبُدُونَ اللَّهَ وَيُشْرِكُونَ بِهِ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا بِالدِّينِ الَّذِي أَبْتَغِي، فَقَالَ لِي حَبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الشَّامِ: إِنَّكَ تَسْأَلُ عَنْ دِينٍ مَا نَعْلَمُ أَحَدًا يَعْبُدُ اللَّهَ بِهِ إِلَّا شَيْخًا بِالْجَزِيرَةِ، فَخَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ إِلَيْهِ، فَأَخْبَرْتُهُ الَّذِي خَرَجْتُ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّ كُلَّ مَنْ رَأَيْتَهُ فِي ضَلَالَةٍ إِنَّكَ تَسْأَلُ عَنْ دِينٍ هُوَ دِينُ اللَّهِ، وَدِينُ مَلَائِكَتِهِ، وَقَدْ خَرَجَ فِي أَرْضِكَ نَبِيٌّ أَوْ هُوَ خَارِجٌ، يَدْعُو إِلَيْهِ، ارْجِعْ إِلَيْهِ وَصَدِّقْهُ وَاتَّبِعْهُ، وَآمِنَ بِمَا جَاءَ بِهِ، فَرَجَعْتُ فَلَمْ أُحْسِنْ شَيْئًا بَعْدُ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَعِيرَ الَّذِي كَانَ تَحْتَهُ، ثُمَّ قَدَّمْنَا إِلَيْهِ السُّفْرَةَ الَّتِي كَانَ فِيهَا الشِّوَاءُ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ فَقُلْنَا: «هَذِهِ شَاةٌ ذَبَحْنَاهَا لِنُصُبِ كَذَا وَكَذَا» ، فَقَالَ: إِنِّي لَا آكُلَ مَا ذُبِحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَكَانَ صَنَمًا مِنْ نُحَاسٍ يُقَالُ لَهُ: إِسَافُ وَنَائِلَةُ يَتَمَسَّحُ بِهِ الْمُشْرِكُونَ إِذَا طَافُوا، فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطُفْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا مَرَرْتُ مَسَحْتُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمَسَّهُ» ، قَالَ زَيْدٌ: فَطُفْنَا، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: لَأَمَسَّنَّهُ حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَقُولُ، فَمَسَحْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَمْ تُنْهَ؟» قَالَ زَيْدٌ: فَوَالَّذِي أَكْرَمَهُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ مَا اسْتَلَمْتُ صَنَمًا حَتَّى أَكْرَمَهُ اللَّهُ بِالَّذِي أَكْرَمَهُ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، وَمَاتَ زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَمَنْ تَأَمَّلَ هَذَا الْحَدِيثَ عَرَفَ فَضْلَ زَيْدِ وَتَقَدُّمَهُ فِي الْإِسْلَامِ قَبْلَ الدَّعْوَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4956 - على شرط مسلم

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اپنے پیچھے بٹھایا کرتے تھے، ہم نے آپ ﷺ کے لئے ایک بکری ذبح کی ، اور اس کو تنور میں ڈال دیا ، جب وہ بھن گئی تو ہم نے اس کو نکال لیا اور اس کو اپنے کھانے پینے کے سامان میں رکھ لیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر شروع فرمایا، گرمی کے دنوں میں حج کے موقع پر آپ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا جب ہم وادی کی بلندی پر پہنچے تو وہاں حضور ﷺ کی زید بن عمرو بن نفیل سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے ( زید بن حارثہ اور زید بن عمرو) نے دور جاہلیت کے طریقے سے ایک دوسرے کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید بن عمرو بن نفیل سے فرمایا: کیا وجہ ہے؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری قوم تمہارے ساتھ بغض رکھتی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے جواباً کہا: نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، خدا کی قسم ! بغض کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے ، البتہ اتنا ضرور ہے کہ میں انہیں گمراہ سمجھتا تھا۔ حضرت زید بن عمرو بن نفیل فرماتے ہیں : پھر میں اس دین کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا، اس سلسلے میں، یثرب کے کئی راہیوں کے پاس گیا، میں نے ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے ساتھ ساتھ شرک میں مبتلا بھی پایا، میں نے سوچا کہ یہ وہ دین نہیں ہے جس کی تلاش میں، میں نکلا ہوں پھر میں مقام ایلہ کے راہبوں کے پاس گیا، ان لوگوں کا بھی یہی حال تھا، میں نے سوچا یہ بھی وہ دین نہیں ہے میں جس کی تلاش میں ہوں۔ البتہ شام کے ایک راہب نے مجھے کہا: تم جس دین کے بارے میں پوچھ رہے ہو، ہم صرف ایک شخص کو جانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے، وہ فلاں جزیرے میں رہتا ہے۔ میں ان بزرگوں کے پاس گیا اور ان کو اپنے آنے کا مقصد بتایا، انہوں نے کہا: تم نے جس کو بھی دیکھا، گمراہی پر ہی دیکھا ہے، جبکہ تم جس دین کی طلب میں ہو وہ دین، اللہ تعالیٰ کا اور اس کے ملائکہ کا دین ہے۔ اور تمہارے علاقے میں ایک نبی ظاہر ہو چکا ہے یا وہ عنقریب ظاہر ہونے والا ہے، وہ اسی دین کی دعوت دے گا، تم اسی کی طرف لوٹ جاؤ، اس کی تصدیق کرو اور اس کی اتباع کرو، اور ہو جو کچھ لے کر آئے، اس پر ایمان لاؤ ۔ چنانچہ میں وہیں سے واپس لوٹ آیا، پھر اس کے بعد میں نے کبھی بھی کچھ جاننے کی کوشش نہیں کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ اونٹ بٹھایا جس پر آپ ﷺ سوار تھے، پھر ہم نے وہ کھانا حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا جس میں بھنی ہوئی بکری تھی ۔ آپ ﷺ نے پوچھا : یہ کیاہے ؟ ہم نے کہا: یہ بکری ہے، ہم نے اس کو فلاں بت کے نام پر ذبح کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں غیر اللہ کے نام پر ذبح کی ہوا جانور نہیں کھاتا۔یہ کانسی کا بنا ہوا ایک بت تھا، اس کو اساف یا نائلہ کہا جاتا تھا، مشرکین دوران طواف اس کو چھوا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کیا، میں نے بھی آپ ﷺ کے ہمراہ طواف کیا، میں جب بھی اس بت کے پاس سے گزرتا تواس کو ہاتھ لگاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے سے فرماتے: اس کو ہاتھ مت لگاؤ۔ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم طواف کرتے رہے، میں نے اپنے دل میں سوچ رکھا تھا کہ میں اس بت کو لازمی ہاتھ لگاؤں گا اور دیکھوں گا کہ حضور ﷺ کیا فرماتے ہیں۔ چنانچہ میں نے پھر ہاتھ لگایا تو حضور ﷺ نے فرمایا: میں نے تجھے منع نہیں کیا تھا؟ تو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت سے نوازا ہے اور آپ ﷺ پر کتاب نازل فرمائی ہے میں نے کبھی کسی بت کو استلام نہیں کیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو نبوت سے نواز دیا، اور آپ ﷺ پر کتاب اتاری۔ زید بن نفیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعثت سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ قیامت کے دن ایک ہی امت میں اٹھائے جائیں گے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ کو شخص اس حدیث پر ذرا سا بھی غور کر لے اس کو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جت فضائل بھی سمجھ آ جائیں گے اور یہ بھی پتا چل جائے گا کہ وہ اعلان نبوت سے بھی پہلے اسلام میں دلچسپی رکھتے تھے۔

زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي سَلَمَةَ، وَيَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ: ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtue of Zaid al-Hob ibn Haritha ibn Shrahelil ibn Abd al-'Uzzi · Hadith 4956

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ زَيْدٍ الْحَبِّ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى · حديث 4957

4957 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ إِمْلَاءً، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ الرَّازِيُّ بِمِصْرَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: اجْتَمَعَ جَعْفَرٌ وَعَلِيٌّ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَقَالَ جَعْفَرٌ: أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ زَيْدٌ: أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَانْطَلِقُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَخَرَجْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ، فَقُلْتُ: هَذَا جَعْفَرٌ، وَعَلِيٌّ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَسْتَأْذِنُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُمْ» فَدَخَلُوا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «فَاطِمَةُ» قَالُوا: نَسْأَلُكَ عَنِ الرِّجَالِ، قَالَ: «أَمَا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ، فَيُشْبِهُ خَلْقَكَ خَلْقِي، وَيُشْبِهُ خُلُقَكَ خُلُقِي، وَأَنْتَ إِلَيَّ وَمِنْ شَجَرَتِي، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ فَأَخِي وَأَبُو وَلَدَيَّ، وَمِنِّي وَإِلَيَّ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا زَيْدُ فَمَوْلَايَ وَمِنِّي وَإِلَيَّ وَأَحَبُّ الْقَوْمِ إِلَيَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4957 - على شرط مسلم

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جگہ اکٹھے ہوئے حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتے ہیں، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: حضور ﷺ تم سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے۔(انہوں نے دروازے پر دستک دی) میں باہر آیا، (ان کو دیکھ کر) واپس گھر گیا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعفر، علی اور زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے ہیں۔ اور اندر آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان کو اجازت دے دو، یہ لوگ اندر آگئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ کی خدمت میں یہ دریافت کرنے کے لئے آئے ہیں کہ آپ سب سے زیادہ کس سے محبت کرتے ہیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے۔ انہوں نے کہا: ہم نے مردوں کے بارے میں پوچھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! تم صورت اور سیرت میں میرے جیسے اور تیرا اور میرا شجرہ نسب ایک ہی ہے۔ اور اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! تم میرے بھائی ہو، اور میری اولاد (نواسے) کے والد ہو ، تو مجھ سے ہے ۔ اور میری ہی طرح ہو، اور اے زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ! تم میرے آزاد کردہ ہو، مجھ سے ہو ، میری طرف ہو، اور تمام لوگوں سے مجھے زیادہ محبوب ہو۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

رَسُولُ اللَّهِ «ائْذَنْ لَهُمْ» فَدَخَلُوا، ← فَخَرَجْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ، فَقُلْتُ: هَذَا جَعْفَرٌ، وَعَلِيٌّ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَسْتَأْذِنُونَ، ← فَانْطَلِقُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← زيد1 ← أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عَلِيٍّ، ← أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← جَعْفَرٌ، ← اجْتَمَعَ جَعْفَرٌ وَعَلِيٌّ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ← أَبِيهِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← محمد بن أسامة بن زيد ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ الرَّازِيُّ، بِمِصْرَ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ إِمْلَاءً،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtue of Zaid al-Hob ibn Haritha ibn Shrahelil ibn Abd al-'Uzzi · Hadith 4957

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ زَيْدٍ الْحَبِّ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى · حديث 4958

4958 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّاجِرُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَقِيلٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ «أَتَاهُ فِي أَوَّلِ مَا أُوحِيَ إِلَيْهِ فَأَرَاهُ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ وَعَلَّمَهُ الْإِسْلَامَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4958 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : وحی کے بالکل ابتدائی دنوں میں نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے، ان کو وضو کا طریقہ سکھایا، نماز سکھائی اور اسلام کی تعلیم دی۔

زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ← أُسَامَةُ، ← عُرْوَةَ ← عقيلُ، أنَّ ابنَ شهابٍ: ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ← أبو جعفر محمد بن عبد الله التاجر

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtue of Zaid al-Hob ibn Haritha ibn Shrahelil ibn Abd al-'Uzzi · Hadith 4958

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ زَيْدٍ الْحَبِّ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى · حديث 4959

4959 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حِزَامٍ، وَصَالِحِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَدْرٍ بَعَثَ بَشِيرَيْنِ إِلَى أَهْلِ مَدِينَةٍ: بَعَثَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَى أَهْلِ السَّافِلَةِ، وَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ إِلَى أَهْلِ الْعَالِيَةِ يُبَشِّرُونَهُمْ بِفَتْحِ اللَّهِ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَافَقَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ابْنَهُ أُسَامَةَ حِينَ سَوَّى التُّرَابَ عَلَى رُقْيَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: ذَاكَ أَبُوكَ حِينَ قَدِمَ، قَالَ أُسَامَةُ: فَجِئْتُ وَهُوَ وَاقِفٌ لِلنَّاسِ، يَقُولُ: قُتِلَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَأَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ، وَنَبِيُّهُ وَمُنَبِّهٌ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ، أَحَقٌّ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَاللَّهِ يَا بُنَيَّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4959 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

ابو امامہ بن سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو دو آدمیوں کو بھیجا تاکہ وہ اہل مدینہ کو فتح کی خوشخبری سنا دیں، ان میں زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ زیریں علاقے کے لوگوں کی جانب بھیجا اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ کے بالائی علاقے والوں کے لئے خوشخبری سنانے کے واسطے بھیجا۔ چنانچہ زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موافقت کی، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تدفین میں مصروف تھے (نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت رقیہ کی تیمار داری کے لئے جنگ بدر میں شرکت سے روک دیا تھا۔ شفیق) جب حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں آئے تو حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ وہ تمہارے والد آ رہے ہیں، اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں آیا تو وہ لوگوں کے سامنے کھڑے تھے اور کہہ رہے تھے عتبہ بن ربیعہ بن خلف بھی قتل ہو گیا۔ میں کہا: ابا جان! کیا یہ واقعی سچ ہے؟ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے میرے بیٹے ! یہ سچ ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← صَالِحِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حِزَامٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtue of Zaid al-Hob ibn Haritha ibn Shrahelil ibn Abd al-'Uzzi · Hadith 4959

chevron_left Previous
1…107108109…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section