Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ زَيْدٍ الْحَبِّ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى · حديث 4960

4960 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ثنا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ حَارِثَةَ أَخِي زَيْدٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يَغْزُ لَمْ يُعْطِ سِلَاحَهُ إِلَّا عَلِيًّا أَوْ زَيْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4960 - على شرط البخاري

حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی ، حضرت جبلہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب خود کسی جنگ میں شرکت نہ کرتے تو اپنے ہتھیار صرف حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا حضر ت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا فرمایا کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَبَلَةَ بْنِ حَارِثَةَ أَخِي زَيْدٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ← شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَکِيمٍ الْأَوْدِيُّ ← محمد بن إسحاق الإمام، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtue of Zaid al-Hob ibn Haritha ibn Shrahelil ibn Abd al-'Uzzi · Hadith 4960

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ زَيْدٍ الْحَبِّ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى · حديث 4961

4961 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ بِبَرَدَانَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: «غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَمَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ تِسْعَ غَزَوَاتٍ كَانَ يُؤَمَّرُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4961 - هو في البخاري في الثلاثيات

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی ہے اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ 9 جنگیں لڑی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہی (حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو ہی ہمارا امیر مقرر فرماتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ بِبَرَدَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtue of Zaid al-Hob ibn Haritha ibn Shrahelil ibn Abd al-'Uzzi · Hadith 4961

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2051

2051 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمْ يُجِبْهُ، فَقَالَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي يَا أُبَيُّ» فَقَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي، فَقَالَ: " أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ} [الأنفال: 24] لَا تَخْرُجْ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى أُعَلِّمَكَ سُورَةً مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ مِثْلَهَا، وَإِنَّهَا السَّبْعُ الَّذِي أُوتِيتُ الطُّوَلَ، وَإِنَّهَا الْقُرْآنُ الْعَظِيمُ «.» قَدْ أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ فِي الْجَامِعِ الصَّحِيحِ، حَدِيثَ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ، أُمُّ الْقُرْآنِ، وَالسَّبْعُ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ» ، هَذِهِ اللفظةُ فَقَطْ "

حضرت ابو ہر یر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی تو وہ اس وقت نماز میں مشغول تھے، اس لئے جواب نہ دے سکے ۔ ( جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے میری آواز پر جواب کیوں نہیں دیا ؟ انہوں نے کہا ؛ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ تعالی نے نہیں فرمایا:’’استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم ‘‘اللہ اوراس کے رسول کا حکم مانو جب وہ تمہیں بلائے ۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) تیرے مسجد سے نکلنے سے پہلے میں تجھے ایک ایسی سورۃ سکھاؤں گا کہ اللہ تعالی نے نہ تورات میں ایسی سورت نازل فرمائی ہے نہ ہی انجیل اور ز بور میں اور یہ وہ سات سورتیں ہیں جو پورے قرآن میں سب سے لمبی ہیں اور یہ قرآن عظیم ہے۔ امام بخاری رحمتہ اللہ نے اپنی جامع صحیح میں ابن ابی ذئب کے واسطے سے بیان کیا ہے کہ سعید المقبری نے حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ’’الحمد للہ‘‘ اُم القرآن ہے’’سبع مثانی‘‘ ہے اور’’ قرآن عظیم‘‘ہے، اس روایت میں صرف اتنے ہی الفاظ ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بن الحَسَن بن عيسى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2051

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2052

2052 - أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَيْنَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ نَقِيضًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ: " فُتِحَ بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ لَمْ يُفْتَحْ قَبْلَهُ قَطُّ، فَإِذَا مَلَكٌ يَقُولُ: أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ: فَاتِحَةَ الْكِتَابِ، وَخَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَمْ تَقْرَأْ مِنْهَا حَرْفًا إِلَّا أُعْطِيتَهُ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. هَكَذَا إِنَّمَا أَخْرَجَ مُسْلِمٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ مُخْتَصَرًا "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت جبریل امین علیہ السلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھےکہ آسمان سے کسی چیز کی چر چراہٹ کی آواز سنائی دی ، آپ نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا۔ پھر فرمایا: آج آسمان کا ایک ایسا درواز ہ کھولا گیا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا۔ تو وہاں سے ایک فرشتہ بولا: میں تمہیں ان دونوروں کی خوشخبری دیتا ہوں جو صرف تمہیں ہی دیئے گئے ہیں اور تم سے پہلے کبھی کسی نبی کونہیں دیئے گئے ۔ (۱) سورۂ فاتحہ (۲) سورۂ بقرہ کی آخری آیات ۔ تم ان میں سے جوحرف بھی پڑھو گے تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔تا ہم امام مسلم رحمتہ اللہ نے یہ حدیث احمد بن جواس حنفی کی سند کے ہمراہ ابوالاحوص کے واسطے سے عمار بن رزیق سے مختصراً روایت کی ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أَبِي غَرَزَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2052

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2053

2053 - أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُعْطِيتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ، وَالْمُفَصَّلَ النَّافِلَةَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: مجھے عرش کے نیچے سے’فاتحہ الا کتاب‘‘ اور’’المفصل‘‘ تحفے کے طور پر عطاء کی گئی ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2053

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2054

2054 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، أَوْ سَرِيَّةٍ فَمَرَرْنَا عَلَى أَهْلِ أَبْيَاتٍ فَاسْتَضَفْنَاهُمْ فَلَمْ يُضَيِّفُونَا، فَنَزَلْنَا بِأُخْرَى وَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ، فَأَتَوْنَا فَقَالُوا: هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَرْقِي فَقُلْتُ: أَنَا رَاقٍ، قَالَ: فَارْقِ صَاحِبَنَا، قُلْتُ: لَا، قَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَلَمْ تُضَيِّفُونَا، قَالُوا: فَإِنَّا نُجَعِّلُ لَكُمْ فَجَعَلُوا لَنَا ثَلَاثِينَ شَاةً، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ وَأَقْرَأُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَأُرَدِّدُهَا حَتَّى بَرَأَ فَأَخَذْنَا الشِّيَاهَ فَقُلْنَا: أَخَذْنَاهُ وَنَحْنُ لَا نُحْسِنُ أَنْ نَرْقِيَ مَا نَحْنُ بِالَّذِي نَأْكُلُهَا حَتَّى نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَاهُ فَذَكَرْنَا لَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ: «وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا دَرَيْتُ أَنَّهَا رُقْيَةٌ، وَلَكِنْ شَيْءٌ أَلْقَى اللَّهُ فِي نَفْسِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ إِنَّمَا أَخْرَجَهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مُخْتَصَرًا، وَأَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ أَيْضًا مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ»

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک غزوہ یا سر یہ میں بھیجا۔ ہمارا گز رایک بستی سے ہوا۔ ہم نے ان سے مہمان نوازی طلب کی ۔ انہوں نے ہماری مہمان نوازی نہ کی ۔تو ہم نے دوسری بستی میں پڑاؤ ڈال لیا۔ (اسی اثنا میں) ان کے سردار کوکسی چیز نے ڈس لیا۔ تو وہ لوگ ہمارے پاس آ کر کہنے لگے : تم میں سے کوئی شخص دم کر لیتا ہے؟ (ابوسعید ) فرماتے ہیں : میں نے کہا: جی ہاں ، میں دم کر لیتا ہوں ۔ انہوں نے کہا: تو ہمارے اس ساتھی کو دم کر دو ۔ میں نے انکار کر تے ہوئے کہا: ہم نے تم سے ضیافت طلب کی تھی مگر تم نے ہماری ضیافت نہ کی ۔انہوں نے کہا: ہم آپ کی خدمت کر دیں گے، چنانچہ انہوں نے تیس بکریوں کا وعدہ کرلیا۔ میں نے اس کے پاس آ کرسورۃ فاتحہ پڑھ پڑھ اس پر ہاتھ پھیر نا شروع کر دیا۔ میں یہ عمل دھرا تا رہا حتی کہ اللہ تعالی نے اس کو شفا دے دی ۔ تو ہم نے ان سے تیس بکریاں وصول کر لیں ۔لیکن ہم نے سوچ لیا کہ ہمیں اچھے طریقے سے دم تو کرنا آتانہیں ہے، اس لئے جب تک ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ نہیں پوچھ لیتے اس وقت تک ہم ان کونہیں کھائیں گے ۔ پھر جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس معاملہ کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیے پتہ تھا کہ یہ دم ہے؟ میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ یہ دم ہے لیکن بس اللہ تعالی نے میرے دل میں یہ بات القاءکر دی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو کھاؤ اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی رکھنا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔امام مسلم رحمتہ اللہ نے یحیٰ بن یحیٰ کے واسطے سے ہیشم سے ،انہوں نے متوکل سے اور انہوں نے ابوسعید سے مختصراً روایت کی ہے ۔اورامام بخاری رحمتہ اللہ نے اس حدیث کو مختصراً روایت کیا ہے ۔ جس کی سند ہشام بن حسان پھر محمد بن سیر ین پھران کے بھائی معبد سے ہوتی ہوئی ابوسعید تک پہنچتی ہے ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← الْاَعْمَشِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← الحسين بن محمد القباني ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2054

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2055

2055 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ عَبْدُ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ وَعِنْدَهُمْ مَجْنُونٌ مُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُهُمْ أَعِنْدَكَ شَيْءٌ يُدَاوَى بِهِ هَذَا، فَإِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ، فَبَرَأَ فَأَعْطَاهُ مِائَةَ شَاةٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «كُلْ فَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ فَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت خارجہ بن صلت تمیمی رضی اللہ عنہ اپنے چچا کا واقعہ بیان کر تے ہیں کہ ان کا گز رایک ایسے قبیلے کے پاس سے ہوا جن میں ایک پاگل شخص تھا ،جس کولو ہے کی زنجیروں کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔ ان میں سے ایک شخص نے ان سے کہا تمہارے پاس اس کو دواء دینے کے لیے کوئی چیز ہے؟ کیونکہ تمہارا ساتھی تو خیر لے کر آیا ہے ( خارجہ کے چچا) فرماتے ہیں: میں نے تین دن اس پر سورۂ فاتحہ پڑھی (اس طرح کہ )روزانہ ۲ مرتبہ سورۃ پڑھتا تو وہ شخص شفایاب ہو گیا ،تو انہوں نے ایک سو بکریاں دیں تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا معاملہ آپ کو کہہ سنایا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو کھاؤ کیونکہ جس نے دم کے عوض کھایا اس نے حق ( حلال ) کھایا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

عَمِّہٖ ← خارجة بن الصلت} التميمي، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← إِبْرَاهِيمُ عَبْدُ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2055

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2056

2056 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَعْنِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَنَزَلَ وَنَزَلَ رَجُلٌ إِلَى جَانِبِهِ، قَالَ: فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَتَلَا عَلَيْهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفرایک مقام پر پڑاؤ ڈالا ۔ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جانب بیٹھ گیا ۔ ( حضرت انس رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا : کیا میں تمہیں قرآن کے سب سے افضل مقام کی خبر نہ دوں؟ ( انس رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کوسور ۃ فاتحہ پڑھ کر سنائی ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَلا أخْبرك بِأَفْضَل الْقُرْآن ← فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ ← كَانَ النَّبِيُّ فِي مَسِيرٍ فَنَزَلَ وَنَزَلَ رَجُلٌ إِلَى جَانِبِهِ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَعْنِيُّ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2056

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 2057

2057 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «تَعَلَّمُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ، وَآلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ يُظِلَّانِ صَاحِبَهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ غَيَايَتَانِ، أَوْ فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عبداللہ بن مرثد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سورۃ بقرہ اور سور ۃال عمران سیکھو کیونکہ قیامت کے دن یہ بادل بن کر یا گردوغبار بن کر یا پرندے کے پھیلے ہوئے پروں کی طرح چھتری بن کر اپنے پڑھنے والے پر سایہ فگن ہوں گی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← معاذ بن نجدة القرشي ← أحمد بن محمد بن سلمة العنزي ← بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News on the merits of Surat Al-Baqarah · Hadith 2057

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 2058

2058 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامًا، وَسَنَامُ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ» . رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ بِزِيَادَةٍ فِيهِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: ہر چیز کی کوہان ( کی طرح بلندی) ہوتی ہے اور قرآن کی کو مان سور البقر ہ ہے۔ اس حدیث کوسفیان عیینہ نے حکیم بن جبیر سے کچھ الفاظ کے اضافہ کے ہمرانقل کیا ہے ۔ ( جو کہ درج ذیل ہے )

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← حكيم بن جبير ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News on the merits of Surat Al-Baqarah · Hadith 2058

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ زَيْدٍ الْحَبِّ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى · حديث 4962

4962 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، بِبُخَارَى، ثنا سَهْلُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، ثنا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «مَا بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فِي سَرِيَّةٍ إِلَّا أَمَّرَهُ عَلَيْهِمْ» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس لشکر ے ساتھ بھی حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجتے، ان کا امیر انہی (حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو ہی بناتے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ← سَهْلُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، بِبُخَارَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtue of Zaid al-Hob ibn Haritha ibn Shrahelil ibn Abd al-'Uzzi · Hadith 4962

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ زَيْدٍ الْحَبِّ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى · حديث 4963

4963 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ التَّمِيمِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ حَارِثَةَ أَخِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، قَالَ: «أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّتَانِ فَأَخَذَ إِحْدَاهُمَا، وَأَعْطَى زَيْدًا الْأُخْرَى» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4963 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی ، حضرت جبلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کو دو جبے تحفہ میں دئیے گئے آپ ﷺ نے ان میں سے ایک خود رکھ لیا اور دوسرا حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا فرما دیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَبَلَةَ بْنِ حَارِثَةَ أَخِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ، ← الْعَلَاءُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ التَّمِيمِيُّ بِالْكُوفَةِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ بِالْكُوفَةِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtue of Zaid al-Hob ibn Haritha ibn Shrahelil ibn Abd al-'Uzzi · Hadith 4963

chevron_left Previous
1…108109110…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section