المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ قُتِلَ بِمُؤْتَةَ شَهِيدًا فِي سَنَةِ ثَمَانٍ مِنَ الْهِجْرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 4945
4945 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَامِرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَالِمٍ الْعِجْلِيُّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَأَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ قَرِيبَةٌ مِنْهُ إِذْ رَدَّ السَّلَامَ فَأَشَارَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: «يَا أَسْمَاءَ، هَذَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مَعَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَمِيكَائِيلَ مَرُّوا فَسَلَّمُوا عَلَيْنَا فَرُدِّي عَلَيْهِمُ السَّلَامَ» وَقَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ لَقِيَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ مَمَرِّهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ، فَقَالَ: لَقِيتُ الْمُشْرِكِينَ فَأُصِبْتُ فِي جَسَدِي مِنْ مَقَادِيمِي ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ بَيْنَ طَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ فَأَخَذْتُ اللِّوَاءَ بِيَدِي الْيُمْنَى فَقُطِعَتْ، ثُمَّ أَخَذْتُهُ بِيَدِي الْيُسْرَى فَقُطِعَتْ، فَعَوَّضَنِي اللَّهُ مِنْ يَدِي جَنَاحَيْنِ أَطِيرُ بِهِمَا فِي الْجَنَّةِ مَعَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا، فَآكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا مَا شِئْتُ، فَقَالَتْ أَسْمَاءُ هَنِيئًا لِجَعْفَرٍ مَا رَزَقَهُ اللَّهُ مِنَ الْخَيْرِ، قَالَ: ثُمَّ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَأَخْبَرَ بِهِ النَّاسَ، قَالَ: فَاسْتَبَانَ لِلنَّاسِ بَعْدَ ذَلِكَ مَا أَخْبَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسُمِّيَ جَعْفَرٌ الطَّيَّارُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4945 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت اسماء بن عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور ﷺ کے بالکل قریب بیٹھی ہوئی تھیں، حضور ﷺ نے ہاتھ کا اشارہ کرتےہوئے سلام کا جواب دیا پھر فرمایا: اے اسماء! یہ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جو کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام کے ہمراہ جا رہے تھے انہوں نے ہمیں سلام کہا ہے، اس لئے ان کے سلام کا جواب دو، اور یہاں سے گزرنے کے تین یا چار دن پہلے کی مشرکین کے ساتھ جنگ کی صورت حال بھی مجھے بتائی ہے،(جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے بتایا کہ) میری مشرکین کے ساتھ مڈ بھیڑ ہو گئی میرے جسم کی اگلی جانب تلواروں ، نیزوں اور تیروں کے ستر سے زیادہ زخم لگے ہیں۔ میں نے اپنے دائیں ہاتھ میں علم بلند کیا ہوا تھا، میرا یہ ہاتھ کٹ گیا، پھر میں نے بائیں ہاتھ میں علم اٹھا لیا، پھر یہ ہاتھ بھی کٹ گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے میرے ان دونوں ہاتھوں کے بدلے دو پر عطا فرمائے ہیں، میں ان کی مدد سے جنت میں حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام کے ہمراہ جہاں چاہوں اڑ کر چلا جاتا ہوں اور جہاں سے چاہوں ،جنت کے پھل کھاتا ہوں۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: اللہ تعالیٰ نے حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہ ان کو مبارک ہوں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر شریف پر رونق افروز ہو کر لوگوں کو بھی اس بات کی اطلاع عطا فرمائی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان کر دینے کے بعد لوگوں کو اس بات کا پتا چلا۔ اسی وجہ سے ان کو جعفر "طیار" (اڑنے والے)" کہا جاتا ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← سَعْدَانُ بْنُ يَحْيَی ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَالِمٍ الْعِجْلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَامِرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The male relative of Ja`far ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem was killed with a martyr in a year of eight years. · Hadith 4945
