بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1009
عن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن ابيه عن جده رضي الله عنهم ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم كتب إلى اهل اليمن فذكر الحديث وفيه: «إن من اعتبط مؤمنا قتلا عن بينة فإنه قود إلا ان يرضى اولياء المقتول وإن في النفس الدية مائة من الإبل وفي الانف إذا اوعب جدعه الدية وفي العينين الدية وفي اللسان الدية وفي الشفتين الدية وفي الذكر الدية وفي البيضتين الدية وفي الصلب الدية وفي الرجل الواحدة نصف الدية وفي المامومة ثلث الدية وفي الجائفة ثلث الدية وفي المنقلة خمس عشرة من الإبل وفي كل إصبع من اصابع اليد والرجل عشر من الإبل وفي السن خمس من الإبل وفي الموضحة خمس من الإبل وإن الرجل يقتل بالمراة وعلى اهل الذهب الف دينار» . اخرجه ابو داود في المراسيل والنسائي وابن خزيمة وابن الجارود وابن حبان واحمد واختلفوا في صحته.
سیدنا ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے اپنے باپ کے حوالہ سے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو لکھا، پھر حدیث بیان کی جس میں یہ تحریر تھا جس کسی نے ایک بےگناہ مسلمان کو قتل کیا اور اس قتل کے گواہ ہوں تو اس پر قصاص لازم ہے۔ الایہ کہ مقتول کے ورثاء راضی ہوں تو ایک جان کے قتل کی دیت سو اونٹ ہے اور ناک میں بھی پوری دیت ہے جبکہ اسے جڑ سے کاٹ دے اور دونوں آنکھوں اور زبان اور دونوں ہونٹوں کے عوض بھی پوری دیت ہے۔ اسی طرح عضو مخصوص اور دو خصیہ میں پوری دیت ہے اور پشت میں بھی پوری دیت ہے اور ایک پاؤں کی صورت میں آدھی دیت ہے اور دماغ کے زخم اور پیٹ کے زخم میں تہائی دیت ہے اور وہ زخم جس سے ہڈی ٹوٹ جائے اس میں پندرہ اونٹ اور ہاتھ اور پاؤں کی ہر ایک انگلی میں دس دس اونٹ دیت ہے اور ایک دانت کی دیت پانچ اونٹ اور ایسے زخم میں جس سے ہڈی نظر آنے لگے پانچ اونٹ دیت ہے اور مرد کو عورت کے بدلہ قتل کیا جائے گا اور جن کے پاس اونٹ نہ ہوں اور سونا ہو تو ان سے ایک ہزار دینار وصول کئے جائیں گے۔ ابوداؤد نے اسے اپنی مراسیل میں لکھا ہے اور نسائی، ابن خزیمہ، ابن جارود، ابن حبان اور احمد نے روایت کیا ہے اور اس کی صحت میں انہوں نے اختلاف کیا ہے۔
جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ
Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1009
