Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1009

عن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن ابيه عن جده رضي الله عنهم ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم كتب إلى اهل اليمن فذكر الحديث وفيه: «‏‏‏‏إن من اعتبط مؤمنا قتلا عن بينة فإنه قود إلا ان يرضى اولياء المقتول وإن في النفس الدية مائة من الإبل وفي الانف إذا اوعب جدعه الدية وفي العينين الدية وفي اللسان الدية وفي الشفتين الدية وفي الذكر الدية وفي البيضتين الدية وفي الصلب الدية وفي الرجل الواحدة نصف الدية وفي المامومة ثلث الدية وفي الجائفة ثلث الدية وفي المنقلة خمس عشرة من الإبل وفي كل إصبع من اصابع اليد والرجل عشر من الإبل وفي السن خمس من الإبل وفي الموضحة خمس من الإبل وإن الرجل يقتل بالمراة وعلى اهل الذهب الف دينار» .‏‏‏‏ اخرجه ابو داود في المراسيل والنسائي وابن خزيمة وابن الجارود وابن حبان واحمد واختلفوا في صحته.

سیدنا ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے اپنے باپ کے حوالہ سے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو لکھا، پھر حدیث بیان کی جس میں یہ تحریر تھا جس کسی نے ایک بےگناہ مسلمان کو قتل کیا اور اس قتل کے گواہ ہوں تو اس پر قصاص لازم ہے۔ الایہ کہ مقتول کے ورثاء راضی ہوں تو ایک جان کے قتل کی دیت سو اونٹ ہے اور ناک میں بھی پوری دیت ہے جبکہ اسے جڑ سے کاٹ دے اور دونوں آنکھوں اور زبان اور دونوں ہونٹوں کے عوض بھی پوری دیت ہے۔ اسی طرح عضو مخصوص اور دو خصیہ میں پوری دیت ہے اور پشت میں بھی پوری دیت ہے اور ایک پاؤں کی صورت میں آدھی دیت ہے اور دماغ کے زخم اور پیٹ کے زخم میں تہائی دیت ہے اور وہ زخم جس سے ہڈی ٹوٹ جائے اس میں پندرہ اونٹ اور ہاتھ اور پاؤں کی ہر ایک انگلی میں دس دس اونٹ دیت ہے اور ایک دانت کی دیت پانچ اونٹ اور ایسے زخم میں جس سے ہڈی نظر آنے لگے پانچ اونٹ دیت ہے اور مرد کو عورت کے بدلہ قتل کیا جائے گا اور جن کے پاس اونٹ نہ ہوں اور سونا ہو تو ان سے ایک ہزار دینار وصول کئے جائیں گے۔ ابوداؤد نے اسے اپنی مراسیل میں لکھا ہے اور نسائی، ابن خزیمہ، ابن جارود، ابن حبان اور احمد نے روایت کیا ہے اور اس کی صحت میں انہوں نے اختلاف کیا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1009

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1010

وعن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏دية الخطا اخماسا: عشرون حقة وعشرون جذعة وعشرون بنات مخاض وعشرون بنات لبون وعشرون بني لبون» اخرجه الدارقطني واخرجه الاربعة بلفظ: «‏‏‏‏وعشرون بنو مخاض» ‏‏‏‏ بدل «‏‏‏‏لبون» ‏‏‏‏ وإسناد الاول اقوى واخرجه ابن ابي شيبة من وجه آخر موقوفا وهو اصح من المرفوع واخرجه ابو داود والترمذي من طريق عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده رضي الله عنهما رفعه: «‏‏‏‏الدية ثلاثون حقة وثلاثون جذعة واربعون خلفة في بطونها اولادها» .‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قتل خطا کی صورت میں پانچ قسم کے اونٹ دیت میں وصول کئے جائیں گے۔ بیس ایسے اونٹ جن کی عمر تین سال ہو اور بیس اونٹ جن کی عمر چار سال ہو اور بیس مادہ اونٹ جن کی عمر دو سال ہو اور بیس مادہ اونٹ جن کی عمر ایک ایک سال ہو اور بیس نر اونٹ جن کی عمر ایک سال ہو۔“ (سنن دارقطنی) اور چاروں نے ان الفاظ سے ذکر کیا ہے کہ بیس نر اونٹ ایک سال عمر کے بدلے دو سال عمر کے اور پہلی کی سند قوی ہے اور ابن ابی شیبہ نے ایک اور طریق سے موقوفاً روایت کیا ہے اور اس کی سند اس مرفوع سے زیادہ صحیح ہے۔ ابوداؤد اور ترمذی نے «عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنهما» کے طریق سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ دیت میں تیس تین سالہ اور تیس چار سالہ اور چالیس حاملہ اونٹنیاں وصول کی جائیں گی۔

ابْنِ مَسْعُودٍ،

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1010

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1011

وعن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إن اعتى الناس على الله ثلاثة: من قتل في حرم الله او قتل غير قاتله او لذحل الجاهلية» ‏‏‏‏ اخرجه ابن حبان في حديث صححه.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ سرکشی کرنے والے لوگ تین قسم کے ہیں (ایک) جو اللہ کے حرم میں قتل کرے (دوسرا) جو اپنے غیر قاتل کو قتل کرے (تیسرا) وہ جو جاہلیت کی عداوت و دشمنی کی بنا پر قتل کرے۔“ ابن حبان نے اس کی تخریج ایک حدیث کے ضمن میں کی ہے۔ جسے انہوں نے صحیح قرار دیا ہے۔

النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1011

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1012

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏الا إن دية الخطا وشبه العمد ما كان بالسوط والعصا مائة من الإبل منها اربعون في بطونها اولادها» .‏‏‏‏ اخرجه ابو داود والنسائي وابن ماجه وصححه ابن حبان.

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قتل خطا کی دیت شبہ عمد (کی دیت ہے) جو کوڑے اور لاٹھی سے (مارا گیا) ہو۔ اس کی دیت سو اونٹ ہے۔ ان میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے پرورش پا رہے ہوں گے۔“ اسے ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے نکالا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1012

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1013

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏هذه وهذه سواء» ‏‏‏‏ يعني الخنصر والإبهام. رواه البخاري. ولابي داود والترمذي: «‏‏‏‏دية الاصابع سواء والاسنان سواء الثنية والضرس سواء» .‏‏‏‏ ولابن حبان: «‏‏‏‏دية اصابع اليدين والرجلين سواء: عشرة من الإبل لكل إصبع» .‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہ اور یہ یعنی چھنگلی اور انگوٹھا برابر ہیں۔“ (بخاری) اور ابوداؤد اور ترمذی کی روایت میں ہے ” سب انگلیاں برابر اور سارے دانت برابر، «ثنية» (سامنے اوپر نیچے کے دو دو دانت) اور داڑھ برابر۔“ اور ابن حبان میں روایت ہے ” ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کی دیت برابر ہے۔ ہر انگلی کے بدلہ دس اونٹ دیت ہے۔“

النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1013

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1014

وعن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده رضي الله عنهم رفعه قال: «من تطبب،‏‏‏‏ ولم يكن بالطب معروفا،‏‏‏‏ فاصاب نفسا فما دونها،‏‏‏‏ فهو ضامن» ‏‏‏‏ اخرجه الدارقطني وصححه الحاكم وهو عند ابي داود والنسائي وغيرهما إلا ان من ارسله اقوى ممن وصله.

سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے اور انہوں نے اپنے دادا سے مرفوع روایت بیان کی ہے کہ ” جو شخص اپنے آپ طبیب بن کر کسی کو دوائی دیتا ہے حالانکہ اسے طبابت میں مہارت نہیں اور اس (کے غلط علاج) سے کوئی آدمی قتل ہو جائے یا کوئی نقصان کسی کو پہنچ جائے تو وہ اس کا ضامن ہے۔“ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ ابوداؤد اور نسائی وغیرہ کے ہاں بھی یہ روایت منقول ہے مگر جن راویوں نے اس روایت کو مرسل بیان کیا ہے وہ ان راویوں سے زیادہ قوی ہیں جنہوں نے اسے موصول بیان کیا ہے۔

جده، رفعه، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1014

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1015

وعنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏في المواضح خمس خمس من الإبل» ‏‏‏‏ رواه احمد والاربعة وزاد احمد: «‏‏‏‏والاصابع سواء: كلهن عشر عشر من الإبل» .‏‏‏‏ وصححه ابن خزيمة وابن الجارود.

عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جن زخموں سے ہڈی کھل جائے ان کی دیت پانچ اونٹ ہیں۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور احمد میں اتنا اضافہ ہے ” تمام انگلیوں کی دیت برابر ہے، ہر انگلی کی دیت دس دس اونٹ ہے۔“ اس روایت کو ابن خزیمہ اور ابن جارود نے صحیح قرار دیا ہے۔

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1015

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1016

وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «عقل اهل الذمة نصف عقل المسلمين» .‏‏‏‏ رواه احمد والاربعة ولفظ ابي داود: «‏‏‏‏دية المعاهد نصف دية الحر» ‏‏‏‏ وللنسائي: «‏‏‏‏عقل المراة مثل عقل الرجل حتى يبلغ الثلث من ديتها» ‏‏‏‏ وصححه ابن خزيمة.

یہ روایت بھی انہی (عمرو بن شعیب رحمہ اللہ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ذمیوں کی دیت مسلمانوں کی دیت کا نصف ہے۔ “ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ابوداؤد کے الفاظ اس طرح ہیں کہ ” ذمی کی دیت آزاد کے مقابلہ میں آدھی ہے۔ “ اور نسائی کی روایت میں ہے کہ ” عورت کی دیت مرد کی دیت کی مانند ہے۔ یہاں تک کہ دونوں کی دیت تہائی تک پہنچے۔ “ اسے ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔

وعنه

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1016

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1017

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏عقل شبه العمد مغلظ مثل عقل العمد ولا يقتل صاحبه وذلك ان ينزو الشيطان فتكون دماء بين الناس في غير ضغينة ولا حمل سلاح» .‏‏‏‏ اخرجه الدارقطني وضعفه.

سیدنا عمرو بن شعیب ہی اس کے بھی راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قتل شبہ کی دیت قتل عمد کی طرح دیت مغلظہ ہے۔ اس لئے قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہیں شیطان درمیان میں دخل اندازی کرے اور بغیر کسی دشمنی اور بغیر ہتھیاروں کے کسی اور وجہ سے قتل عام شروع ہو جائے۔“ اس کی دارقطنی نے تخریج کی ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

وعنه

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1017

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1018

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قتل رجل رجلا على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فجعل النبي صلى الله عليه وآله وسلم ديته اثني عشر الفا. رواه الاربعة ورجح النسائي وابو حاتم إرساله.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو قتل کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار (درہم) طے فرمائی۔ اسے چاروں نے روایت کیا ہے، نسائی اور ابوحاتم نے اس روایت کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1018

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1019

وعن ابي رمثة قال: اتيت النبي صلى الله عليه وآله وسلم ومعي ابني فقال: «‏‏‏‏من هذا؟» ‏‏‏‏ فقلت: ابني واشهد به قال: «اما إنه لا يجني عليك ولا تجني عليه» . رواه النسائي وابو داود وصححه ابن خزيمة وابن الجارود.

سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ” یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا۔ میرا بیٹا ہے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر گواہ رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بیشک یہ تیرے گناہ و جرم کا ذمہ دار نہیں اور نہ تو اس کے گناہ و جرم کا ذمہ دار۔“ اسے نسائی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ اور ابن جارود نے اسے صحیح کہا ہے۔

«‏‏‏‏من هذا؟» فقلت: ابني واشهد به ← اتيت النبي صلى الله عليه وآله وسلم ومعي ابني ← أَبِي رِمْثَةَ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1019

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1020

عن سهل بن ابي حثمة رضي الله عنه عن رجال من كبراء قومه ان عبد الله بن سهل ومحيصة بن مسعود خرجا إلى خيبر من جهد اصابهم فاتي محيصة فاخبر ان عبد الله بن سهل قد قتل وطرح في عين فاتى يهود فقال: انتم والله قتلتموه قالوا: والله ما قتلناه فاقبل هو واخوه حويصة وعبد الرحمن بن سهل فذهب محيصة ليتكلم فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏كبر كبر» ‏‏‏‏ يريد السن فتكلم حويصة ثم تكلم محيصة فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إما ان يدوا صاحبكم وإما ان ياذنوا بحرب» ‏‏‏‏ فكتب إليهم في ذلك فكتبوا: إنا والله ما قتلناه فقال لحويصة ومحيصة وعبد الرحمن بن سهل: «‏‏‏‏اتحلفون وتستحقون دم صاحبكم؟» ‏‏‏‏ قالوا: لا قال: «فيحلف لكم يهود؟» ‏‏‏‏ قالوا: ليسوا مسلمين،‏‏‏‏ فوداه رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من عنده فبعث إليهم مائة ناقة قال سهل: فلقد ركضتني منها ناقة حمراء. متفق عليه.

سیدنا سہل بن ابی حثمہ نے اپنی قوم کے بڑے بزرگوں سے روایت بیان کی ہے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اپنی تنگ دستی کی وجہ سے خیبر کی طرف نکلے۔ پس محیصہ نے آ کر اطلاع دی کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اور اسے ایک چشمہ میں پھینک دیا گیا ہے۔ محیصہ رضی اللہ عنہ یہود کے پاس آئے اور کہا کہ خدا کی قسم تم لوگوں نے اسے قتل کیا ہے۔ وہ بولے اللہ کی قسم ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ پھر محیصہ اور اس کا بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہم تینوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پہنچے اور محیصہ نے گفتگو کرنی چاہی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بڑے کو بات کرنے دو بڑے کو“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد تھی جو تم میں عمر میں بڑا ہے (اسے بات کرنی چاہیئے) چنانچہ حویصہ رضی اللہ عنہ نے بیان دیا پھر محیصہ بولا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” وہ لوگ یا تو تمہارے صاحب و ساتھی کی دیت ادا کریں گے یا جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔“ پھر اس سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خط تحریر فرمایا جس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ اللہ کی قسم ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل (رضی اللہ عنہم) سے فرمایا ” کیا تم لوگ قسم کھا کر اپنے صاحب کے خون کے حقدار بنو گے؟“ انہوں نے جواب دیا۔ نہیں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ ” تم کو یہودی قسم دیں؟“ انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو مسلمان نہیں ہیں (اس لئے ان کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں) پس پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت اپنے پاس (بیت المال) سے دی اور ان کو سو اونٹنیاں بھیج دیں۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان میں سے ایک سرخ رنگ کی اونٹنی نے مجھے لات ماری۔ (بخاری و مسلم)

رِجَالٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ ← سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ،

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1020

chevron_left Previous
1…9899100…114
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter