Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 985

وعن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: يا رسول الله عندي دينار؟ قال: «‏‏‏‏انفقه على نفسك» ‏‏‏‏ قال: عندي آخر؟ قال: «‏‏‏‏انفقه على ولدك» ‏‏‏‏ قال: عندي آخر؟ قال: «‏‏‏‏انفقه على اهلك» ‏‏‏‏ قال: عندي آخر؟ قال: «‏‏‏‏انفقه على خادمك» ‏‏‏‏ قال: عندي آخر؟ قال: «‏‏‏‏انت اعلم» .‏‏‏‏ اخرجه الشافعي وابو داود واللفظ له واخرجه النسائي والحاكم بتقديم الزوجة على الولد.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے آپ پر خرچ کرو۔“ اس نے عرض کیا میرے پاس ایک اور ہے؟ فرمایا ”اپنی اولاد پر خرچ کرو۔“ وہ پھر بولا میرے پاس ایک اور ہے۔ فرمایا ”اپنی بیوی پر خرچ کرو۔“ اس نے عرض کیا میرے پاس اور ہے فرمایا ”اپنے خادم پر خرچ کرو۔“ وہ بولا میرے پاس اور ہے۔ فرمایا ”تجھے خوب علم ہے کہ تو اسے کہاں خرچ کرے۔“ اس کی شافعی اور ابوداؤد نے تخریج کی ہے اور یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں اور نسائی اور حاکم نے بھی اس کی تخریج کی ہے۔ اس میں ولد سے پہلے زوجہ کا ذکر ہے۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: ← وعن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 985

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 986

وعن بهز بن حكيم عن ابيه عن جده رضي الله عنهم قال: قلت: يا رسول الله من ابر؟ قال: «‏‏‏‏امك» ‏‏‏‏ قلت: ثم من؟ قال: «‏‏‏‏امك» ‏‏‏‏ قلت: ثم من؟ قال: «‏‏‏‏امك» قلت: ثم من؟ قال: «‏‏‏‏اباك ثم الاقرب فالاقرب» ‏‏‏‏ اخرجه ابو داود والترمذي وحسنه.

سیدنا بھز بن حکیم رحمہ اللہ نے اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میں حسن سلوک اور بھلائی کس کے ساتھ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنی والدہ کے ساتھ۔“ میں نے پھر عرض کیا۔ پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”اپنی والدہ سے۔“ میں نے پھر عرض کیا پھر کس سے؟ فرمایا ”اپنی والدہ سے۔“ میں نے پھر عرض کیا۔ پھر کس سے؟ فرمایا ”اپنے والد سے۔“ اس کے بعد پھر درجہ بدرجہ زیادہ قریبی رشتہ دار سے۔ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے تخریج کیا اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

قُلْتُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← وعن بهز بن حكيم

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 986

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 987

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما ان امراة قالت: يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وثديي له سقاء وحجري له حواء وإن اباه طلقني واراد ان ينزعه مني؟ فقال لها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏انت احق به ما لم تنكحي» ‏‏‏‏ رواه احمد وابو داود وصححه الحاكم.

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول! یہ جو میرا لخت جگر ہے میرا پیٹ اس کے لیے برتن تھا۔ میری چھاتی (پستان) اس کے لیے مشکیزہ اور میری آغوش اس کے لیے ٹھکانہ تھی۔ اس کے والد نے مجھے طلاق دی ہے اور اب وہ مجھ سے اس بچہ کو بھی چھین لینا چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جب تک تو دوسرا نکاح نہیں کرتی اس وقت تک تو ہی اس کی زیادہ حقدار ہے۔“ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

عبد الله بن عمرو أَن امرأَة

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 987

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 988

وعن ابي هريرة ان امراة قالت: يا رسول الله إن زوجي يريد ان يذهب بابني وقد نفعني وسقاني من بئر ابي عنبة؟ فجاء زوجها فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏يا غلام هذا ابوك وهذه امك فخذ بيد ايهما شئت» ‏‏‏‏ فاخذ بيد امه فانطلقت به. رواه احمد والاربعة وصححه الترمذي.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت آئی اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میرا شوہر مجھ سے میرا بچہ چھیننا چاہتا ہے اور یہ بچہ میرے کام کاج میں مددگار ہے اور میرے لئے ابوعنبہ کے کنوئیں سے پانی لا کر دیتا ہے۔ اسی اثنا میں اس کا شوہر بھی آ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے لڑکے! یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری والدہ ان دونوں میں سے جس کا چاہے ہاتھ پکڑ لے۔ اس بچہ نے ماں کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ اسے لے کر چلتی بنی۔“ اسے احمد اور چاروں نے بیان کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔

أَبي هريرة أَن امرأة

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 988

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 989

وعن رافع بن سنان رضي الله عنه انه اسلم وابت امراته ان تسلم فاقعد النبي صلى الله عليه وآله وسلم الام ناحية والاب ناحية واقعد الصبي بينهما فمال إلى امه فقال: «‏‏‏‏اللهم اهده» ‏‏‏‏ فمال إلى ابيه فاخذه. اخرجه ابو داود والنسائي وصححه الحاكم.

حضرت رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خود مسلمان ہو گیا اور اس کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کو ایک طرف اور باپ کو دوسرے گوشے میں بٹھا دیا اور بچے کو دونوں کے درمیان بٹھا دیا۔ تو بچہ ماں کی جانب مائل ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی الٰہی اس بچہ کو ہدایت دے۔ اس پر وہ بچہ باپ کی جانب مائل ہو گیا تو باپ نے بچے کو پکڑ لیا۔ اس کی تخریج ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

النسائي وصححه الحاكم. ← «‏‏‏‏اللهم اهده» فمال إلى ابيه فاخذه. اخرجه ابو داود ← آله وسلم الام ناحية والاب ناحية واقعد الصبي بينهما فمال إلى امه ← ابت امراته ان تسلم فاقعد النبي صلى الله عليه ← رافع بن سنان انه اسلم

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 989

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 990

وعن البراء بن عازب رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قضى في ابنة حمزة لخالتها وقال: «‏‏‏‏الخالة بمنزلة الام» ‏‏‏‏ اخرجه البخاري واخرجه احمد من حديث علي رضي الله عنه فقال: «‏‏‏‏والجارية عند خالتها فإن الخالة والدة» .‏‏‏‏

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ کی بیٹی کا فیصلہ اس کی خالہ کے حق میں فرمایا کہ ”خالہ «بمنزلة» ماں کے ہے۔“ (بخاری) اور احمد نے اس کی تخریج سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے کی ہے اور کہا ہے کہ ”لڑکی اپنی خالہ کے پاس ہو گی کیونکہ خالہ ماں ہے۔“

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 990

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 991

وعن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا اتى احدكم خادمه بطعامه فإن لم يجلسه معه فليناوله لقمة او لقمتين» . متفق عليه واللفظ للبخاري.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پیش کرے تو اگر وہ اس خادم کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا نہ کھلائے تو پھر ایک یا دو لقمے اسے دے۔“ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 991

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 992

وعن ابن عمر رضي الله عنهماعن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏عذبت امراة في هرة سجنتها حتى ماتت فدخلت النار فيها: لا هي اطعمتها وسقتها إذ هي حبستها ولا هي تركتها تاكل من خشاش الارض» .‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک عورت کو بلی کے قید کرنے میں عذاب دیا گیا جس نے بلی کو اتنی دیر تک باندھے رکھا کہ وہ مر گئی۔ اس عورت کو جہنم میں ڈال دیا گیا کہ نہ تو اس عورت نے بلی کو کچھ کھلایا اور نہ پلایا بلکہ باندھ رکھا اور نہ اسے آزاد چھوڑا کہ وہ زمین کے جانور کھا لیتی۔“ (بخاری و مسلم)

ابن عمر رضي الله عنهماعن النبي صلى الله عليه وآله وسلم

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 992

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 993

عن ابن مسعود رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يحل دم امرىء مسلم يشهد ان لا إله إلا الله واني رسول الله إلا بإحدى ثلاث: الثيب الزاني والنفس بالنفس والتارك لدينه المفارق للجماعة» .‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے جو شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں مگر تین شخص اس سے مستثنیٰ ہیں۔ شادی شدہ زانی اور جان کے بدلہ میں جان اور اپنے دین کو چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہونے والا۔“ (بخاری و مسلم)

ابن مسعود رضي الله تعالى عنه

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 993

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 994

وعن عائشة رضي الله عنها عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا يحل قتل مسلم إلا بإحدى ثلاث خصال: زان محصن فيرجم ورجل يقتل مسلما متعمدا فيقتل ورجل يخرج من الإسلام فيحارب الله ورسوله فيقتل او يصلب او ينفى من الارض» ‏‏‏‏ رواه ابو داود والنسائي وصححه الحاكم.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلمان آدمی کا قتل حلال نہیں بجز تین صورتوں میں سے کسی ایک کے۔ شادی شدہ زانی، پس اسے سنگسار کیا جائے اور وہ آدمی جو دیدہ دانستہ کسی مسلمان بھائی کو قتل کرے پس اسے قتل کیا جائے گا اور ایک وہ آدمی جو دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے اور اللہ اور اس کے رسول سے (لڑائی) شروع کر دے۔ پس اسے قتل کیا جائے گا یا سولی دی جائے گی یا اسے جلا وطن کیا جائے گا۔“ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 994

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 995

وعن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏اول ما يقضى بين الناس يوم القيامة في الدماء» .‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے روز لوگوں کے درمیان سب سے پہلے جن مقدمات کا فیصلہ کیا جائے گا وہ خون کے مقدمات ہوں گے۔“ (بخاری و مسلم)

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 995

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 996

وعن سمرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من قتل عبده قتلناه ومن جدع عبده جدعناه» ‏‏‏‏ رواه احمد والاربعة وحسنه الترمذي وهو من رواية الحسن البصري عن سمرة وقد اختلف في سماعه منه وفي رواية ابي داود والنسائي بزيادة: «‏‏‏‏ومن خصى عبده خصيناه» ‏‏‏‏ وصحح الحاكم هذه الزيادة.

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس مالک نے اپنے غلام کو قتل کیا ہم اسے قتل کریں گے اور جس نے اس کا ناک، کان کاٹا ہم اس کا ناک، کان کاٹ دیں گے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔ یہ سمرہ سے حسن بصری کی روایت ہے اور سمرہ سے حسن بصری کے سماع میں اختلاف ہے اور ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں ہے کہ ”جس مالک نے اپنے غلام کو خصی کیا ہم اسے خصی کر دیں گے۔“ اس اضافہ کو حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔

سمرة رضي الله تعالى عنه

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 996

chevron_left Previous
1…969798…114
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter