بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 63
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: جاءت فاطمة بنت ابي حبيش إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقالت: يا رسول الله! إني امراة استحاض فلا اطهر، افادع الصلاة؟ قال: «لا، إنما ذلك عرق وليس بحيض، فإذا اقبلت حيضتك فدعي الصلاة، وإذا ادبرت فاغسلي عنك الدم ثم صلي» . متفق عليه. وللبخاري: «ثم توضاي لكل صلاة» . واشار مسلم إلى انه حذفها عمدا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں ایسی عورت ہوں جو ہمیشہ استخاضہ کے خون میں مبتلا رہتی ہوں، پاک ہوتی ہی نہیں۔ کیا ایسی حالت میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں، یہ تو ایک رگ ہے (جو پھٹ جاتی ہے اور خون بہتا رہتا ہے) حیض کا خون نہیں ہے۔ ہاں جب ایام حیض شروع ہوں تو نماز کو چھوڑ دو اور جب یہ ایام پورے ہو جائیں تو خون دھو کر نماز پڑھو۔“ (بخاری و مسلم) اور بخاری میں مزید یہ الفاظ ہیں ”پھر ہر نماز کے لئے وضو کرو“۔ مسلم نے اشارہ کیا ہے کہ اسے انہوں نے عمداً چھوڑا ہے۔
جاءت فاطمة بنت ابي حبيش إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← عَائِشَةَ
Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 63
