المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4870
4870 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ جَعْدَةُ بْنُ هُبَيْرَةَ بْنِ أَبِي وَهْبِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَائِذِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ مَخْزُومٍ، وَكَانَتْ أُمُّهُ أُمَّ هَانِئِ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ نَكَحَهَا هُبَيْرَةُ بْنُ أَبِي وَهْبٍ وَلَهَا يَقُولُ هُبَيْرَةُ حِينَ أَسْلَمَتْ: « [البحر الطويل] أَشَاقَتْكِ هِنْدٌ إِنْ أَتَاكِ سُؤَالُهَا ... كَذَاكَ النَّوَى أَسْبَابُهَا وَانْفِتَالُهَا فَإِنْ كُنْتِ قَدْ تَابَعْتِ دَيْنَ مُحَمَّدٍ ... وَقَطَعَتِ الْأَرْحَامَ مِنْكِ حِبَالُهَا وَقَدْ أَرَّقَتْ فِي رَأْسِ حِصْنٍ مُمُرَّدٍ ... بِنَجْرَانَ كِسْرَى بَعْدَ يَوْمٍ خِيَالُهَا فَكُونِي عَلَى أَعْلَى سَحِيقٍ بِهَضَبَةٍ مُمَنَّعَةٍ لَا يُسْتَطَاعُ تِلَالُهَا» قَالَ مُصْعَبٌ: وَجَعْدَةُ الَّذِي يَقُولُ: [البحر الطويل] وَمَنْ ذَا الَّذِي يَأْبَى عَلَيَّ بِخَالِهِ ... وَخَالِي عَلِيٌّ ذُو النَّدَى وَعَقِيلُ" قَالَ مُصْعَبٌ: " وَمَاتَ هُبَيْرَةُ بِنَجْرَانَ مُشْرِكًا، وَأَمَّا جَعْدَةُ فَإِنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةَ خَالِهِ أُمَّ الْحَسَنِ بِنْتِ عَلِيٍّ وَوَلَدَتْ لَهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ الَّذِي قِيلَ فِيهِ بِخُرَاسَانَ: [البحر البسيط] لَوْلَا ابْنُ جَعْدَةَ لَمْ يُفْتَحْ قُهُنْدُزُكُمْ ... وَلَا خُرَاسَانُ حَتَّى يُنْفَخَ الصُّوَرُ" قَالَ مُصْعَبٌ: «وَاسْتَعْمَلَ عَلِيٌّ عَلَى خُرَاسَانَ جَعْدَةَ بْنَ هُبَيْرَةَ الْمَخْزُومِيَّ، وَانْصَرَفَ إِلَى الْعِرَاقِ، ثُمَّ حَجَّ وَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ» وَقَدْ رَوَى عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا بِصِحَّةِ مَا ذَكَرَ مُصْعَبٌ"
حضرت مصعب بن عبداللہ الزبیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کا نسب یوں بیان کیا ہے : جعدہ بن ہبیرہ بن ابی وہب بن عمرو بن عائذ ابن عمران بن مخزوم۔ ان کی والدہ حضرت ابو طالب کی صاحبزادی حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھیں، اور یہ ہبیرہ بن ابی وہب کے نکاح میں تھیں۔ جب یہ مسلمان ہوئیں تو ہبیرہ نے ان کے بارے میں درج ذیل اشعار کہے۔ " اشاقتک ھند ان اتاک سوالہا،کذاک النوی اسبابہا وانفتالھا،فان کنت قد تابعت دین محمد ،وقطعت الارجسام منک حبالہا ،وقد ارقت فی راس حصن ممرد،بنجران کسری بعد یوم حیالہا ،فکونی علیٰ اعلیٰ،سحیق بہضبۃ ممنعۃ لایسطاع تلالہا"۔ کیا تجھے ہند نے شوق دلایا ہے کہ اگر تیرے پاس کا سوال آئے تو تو ایسی جگہ پر قیام کرنا جہاں سے تیرا مال ودولت تجھ سے بہت دور ہو۔ مصعب کہتے ہیں: اور جعدہ کہتے تھے۔ "ومن ذالذی یابی علی بخالہ ،وخالی علی ذوالندی وعقیل "۔ ایساکو ن ہو سکتا ہے جو میرے ماموں کا انکار کر سکے، کیوں کہ میرے ماموں مٹی والے (یعنی جن کا لقب ابو تراب ہے) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ مصعب کہتے ہیں: ہبیرہ نجران میں حالت شرک میں مرا تھا ، اور جعدہ نے اپنے ماموں حضرت علی کی بیٹی ام الحسن کے ساتھ نکاح کیا اور ان میں سے حضرت عبداللہ بن جعدہ بن ہبیرہ پیدا ہوئے ، ان کے بارے میں خراسان میں کہا گیا ہے ۔ " لولا ابن جعدۃ لم یفتح قہندزکم ،ولا خراسان حتی ینفخ الصور"۔ اگر بن جعدہ نہ ہوتے تو قہندز اور خراسان قیامت تک فتح نہ ہو سکتا۔ مصعب کہتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت جعدہ بن ہبیرہ مخزومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خراسان کا گورنر بنایا تھا پھر یہ عراق کی جانب لوٹ کر آگئے، پھر فریضہ حج ادا کیا اور مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث روایت کرتے ہیں اور ان کی مرویات کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کو حضرت مصعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذکر کیاہے۔
مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4870
