المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1957
1957 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا حَاتِمٌ الرَّازِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنَ الْجُوعِ، فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَمِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ، وَمِنَ الْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَمِنَ الْهَرَمِ، وَمِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ قُلُوبًا أَوَّاهَةً مُخْبِتَةً مُنِيبَةً فِي سَبِيلِكَ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ عَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَمُنْجِيَاتِ أَمْرِكَ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالْفَوْزَ بِالْجَنَّةِ، وَالنَّجَاةَ مِنَ النَّارِ» وَكَانَ إِذَا سَجَدَ قَالَ: «اللَّهُمَّ سَجَدَ لَكَ سِوَادِي وَخَيَالِي، وَبِكَ آمَنَ فُؤَادِي، أَبُوءُ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَهَذَا مَا جَنَيْتُ عَلَى نَفْسِي، يَا عَظِيمُ، يَا عَظِيمُ، اغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ الْعَظِيمَةَ إِلَّا الرَّبُّ الْعَظِيمُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يُخَرِّجَا عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ الْكُوفِيِّ إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَعْرَجِ الْمَكِّيِّ فَأَمَّا أَوَّلُ الْحَدِيثِ فِي الِاسْتِعَاذَةِ مِنَ الْأَرْبَعِ: فَقَدْ رُوِيَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو "
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء میں یہ بھی تھا’’اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جونفع نہ دے،اورایسے دل سے جس میں تیرا خوف نہ ہواورایسی دعا سے جو قبول نہ ہواورایسے نفس سے جوسیر نہ ہو اور بھوک سے، کیونکہ یہ برا ساتھی ہے، اور خیانت سے کیونکہ یہ بُرا راز دار ہے ، اور کا ہلی سے اور بخل سے اور بزدلی سے اور شدید بڑھاپے سے ،اور عذاب قبر سے ، اور زندگی وموت کے فتنہ سے ، اے اللہ ! ہمیں اپنی راہ میں آہ وزاری ، عاجزی ، اور ر جوع کر نے والا دل عطافرما،اے اللہ ! ہم تیری مغفرت کے عزائم اور تیرے امر سے نجات دہندگی کا سوال کر تے ہیں ۔ ہر گناہ سے سلامتی اور ہر نیکی سے کمائی اور جنت کی کامیابی اور دوزخ سے نجات کا سوال کر تے ہیں ۔ اور جب آپ سجدہ کرتے تو یہ دعا مانگا کرے تھے۔ ”اے اللہ میرادل اور خیال تجھے سجدہ کرتے ہیں اور تیرے ہی ذریعے میرے دل کوسکون ملے گا۔ میں اپنے اوپر تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور یہ جو میں نے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں ۔اےعظیم !اے عظیم ! میری مغفرت فرما ، کیونکہ گناہ عظیم ، رب عظیم کے سوا اورکوئی نہیں بخش سکتا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے حمید الاعرج الکوفی سے یہ حدیث نقل نہیں کی ہے۔ جبکہ دونوں نے حمید بن قیس الاعرج المکی کی روایات نقل کی ہیں ۔ چار چیزوں سے پناہ مانگنے کے متعلق حدیثوں میں سے پہلی حدیث حضرت ابو ہر یرہ رحمتہ اللہ اورعبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث یہ ہے:
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ← حَاتِمٌ الرَّازِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1957
